ترا ملنا بچھڑنا لکھ رہا ہوں
گئے وقتوں کا قصہ لکھ رہا ہوں
جو آنے والے دن ہیں تیرے بن ہیں
جو پہنچے گا وہ صدمہ لکھ رہا ہوں
جو حصہ زندگی کا جی چکے ہم
وہی بے کار حصہ لکھ رہا ہوں
زمانہ جھوٹ کو سچ مانتا ہے
سو میں سچوں کو جھوٹا لکھ رہا ہوں
قلم کا ٹوٹنا بنتا ہے جاذل
وہ آنکھیں اور وہ چہرہ لکھ رہا ہوں
اَب تک جنوں ہی اپنا اثاثہ رہا مگر
تُجھ سے ملے تو صاحب ِ اِدراک ہو گئے
_____
شہر ِ جمال کے خس و خاشاک ہوگئے
اب آئے ہو جب آگ سے ہم خاک ہوگئے
ہم سے فروغ ِ خاک نہ زیبائی آب کی
کائی کی طرح تہمت ِ پوشاک ہو گئے
پیراہن ِ صبا تو کسی طور سِل گیا
دامان ِ صد بہار مگر چاک ہو گئے
اے ابر ِخاص! ہم پہ برسنے کا اَب خیال
جل کر ترے فِراق میں جَب راکھ ہو گئے
قائم تھے اپنے عہد پہ یہ دیدہ ہائے غم
کیا یاد آگیا ہے کہ نمناک ہو گئے
اَب تک جنوں ہی اپنا اثاثہ رہا مگر
تُجھ سے ملے تو صاحب ِ اِدراک ہو گئے
خوشبو تو بن نہ پائے سو کچھ ہم سے بےہنر
اے موجہء صبا ترے پیچاک ہو گئے
__
شاعرہ : پروین شاکر
کوئی فال نکال !! کرشمہ کر !!!
میری راه میں پھول گلاب آئیں
کوئی پانی پھونک کے دے ایسا
وه پیئے تو میرے خواب آئیں..!🍂
کوئی ایسا , کالا جادو کر
جو, جگمگ کر دے میرے دن
وه کہے کہ مجھ سے جلدی آ !
اب جیا نہ جائے تیرے بن..!!!!!!!!🍁
کوئی ایسی راه پہ ڈال مجهے!
جس ، راه سے وه دلدار ملے !
کوئی تسبیح ، دم ، درود ، بتا
جسے پڑهوں تو میرا یار ملے..!!!!🍂
کوئی قابو کر !! بے قابو جن !
کوئی سانپ نکال پٹاری سے..
کوئی دهاگا ، کھینچ پراندے کا !
کوئی منکا , اکشا دهاری سے...!!!🍁
کوئی ایسا بول سکھا دے ناں !
وه سمجھے, خوش گفتار ہوں میں
کوئی ایسا عمل کرا دے ناں !
وه جانے، جان نثار ہوں میں..!
مُجھے وہ زخم مت دینا...!!
دوا جِس کی مُحبت ھو...!!
مُجھے وہ خواب مت دینا...!!
حقیقت جِس کی وحشت ھو...!!
مُجھے وہ نام مت دینا...!!
جِسے لینا قیامت ھو...!!
مُجھے وہ ھجر مت دینا...!!
جو مانند رفاقت ھو...!!
مُجھے وہ نیند مت دینا...!!
جِسے اڑنے کی عادت ھو...!!
میرے بارے میں جب سوچو...!!
توجہ خاص رکھنا تُم...!!
مُجھے تُم سے مُحبت ھے...!!
بس اِس کا پاس رکھنا تُم...!!
♥️🌹
ہمیشہ ساتھ رہنے کی
عادت کچھ نہیں ہوتی
جو لمحے مل گئے جی لو
ریاضت کچھ نہیں ہوتی ۔۔
تعلق ٹوٹ جاتے ہیں
سفینے ڈوب جاتے ہیں
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
حقیقت کچھ نہیں ہوتی ۔۔
کسی نے چھوڑ کر جانا ہو
تو پھر چھوڑ جاتا ہے ۔۔
بچھڑنا ہو تو صدیوں کی
رفاقت کچھ نہیں ہوتی ۔۔
جسے محرومیاں ملی ہوں
وہی بس جان سکتا ہے ۔۔
زبانی حوصلہ ، جھوٹی مروت
کچھ نہیں ہوتی
دل میرا ترسدا اے دن رات مدینےلئی
ہنجواں دی برسدی اے برسات مدینےلئی
جد قسم خدا کھائی، اس شہر محمد دی
جنت دے سہکدے نیں باغات مدینے لئی
وس جائے جدوں دل وچ ایہہ شوق زیارت دا
قابو چہ نئیں رہندے جذبات مدینے لئی
کعبے چہ بلا کے تے سن عرض میری مولا
لِخ عمر اخیری دے لمحات مدینے لئی
حج عمرے زیارت دا ہے شوق بڑا مینوں
پر ہور ودھیرے نیں جذبات مدینے لئی
نہ عمل میرے پلے، نہ شکل میری چج دی
نئیں کوئی میرے ہتھ وچ سوغات مدینےلئی
قُدسی تے پیغمبر وی، آوندے نیں سلامی نوں
ڈُھکدی اے ملائک دی بارات مدینے لئی
گجرے نیں دروداں دے، ہِن ہار سلاماں دے
عاشق دے لباں تے نیں نغمات مدینے لئی
جد تیک حیاتی اے لخدا میں رہواں نعتاں
بُلیاں تے رہوے میرے گل بات مدینے لئی
جبریل جہدے درباں، منگتے نے جہدے سلطاں
نئیں تیری رضا کوئی اوقات مدینے لئی
مَوت سے گہرا دُکھ بھی سہنا ہوتا یے
کتنا مُشکل زندہ رہنا ہوتا ہے
لوگ نہ جانے کیا کچھ کہتے رہتے ہیں
لیکن ہم نے شعر ہی کہنا ہوتا ہے
گِر جائے تو مٹی میں مل جاتا ہے
آنسو ورنہ آنکھ کا گہنا ہوتا ہے
کیا دیکھے گا جس نے اپنی آنکھوں پر
بینائی کا پردہ پہنا ہوتا یے
رونے والے ہر حالت میں روتے ہیں
اشک نہ ہو تو آنکھ نے بہنا ہوتا ہے
حسنِ یوسف نہ تمنائے زلیخا دیکھوں
دل کی چاہت ہے محمدﷺ کا ہی چہرہ دیکھوں
راس آئے نہ مجھے کوئی بھی دلکش منظر
آخری سانس تلک گنبدِ خضریٰ دیکھوں
جب نکیرین کریں قبر میں پرسش مجھ سے
ہر گھڑی میرے نبیﷺ آپ کا جلوہ دیکھوں
ماں کے قدموں کو اگر چوم کے نکلوں گھر سے
سر پہ اللّٰہ کی رحمت کا میں سایہ دیکھوں
نفسی نفسی کی صدا آتی ہے روزِ محشر
ٹکٹکی باندھ کے ہر پل رخِ زیبا دیکھوں
میرے حالات پریشاں ہیں نظر کن مولیٰ!
آپ کی ذات سے ہر دکھ کا مداوا دیکھوں
سر جھکا کر کے عقیدت سے یہ بولے جابر
چاند سے خوبرو سرکار ﷺ کا چہرہ دیکھوں
آرزو دل کی تصدق ہے فقط اتنی سی
کاش ان آنکھوں سے اک بار مدینہ دیکھوں
توں نہ آئے نظر تو لگتا ہے..!!
میری آنکھیں فضول ہوں جیسے..!! 🖤.
قِصّہ ٴاہلِ جنُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
جیسے ہم لِکھتے ہیں، یُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
وَحشتِ قلبِ تپاں کیسے لکھی جائے گی!
حالتِ سُوزِ دَرُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کیسے ڈھہ جاتا ہے دل، بُجھتی ہیں آنکھیں کیسے؟؟
سَر نوِشتِ رگِ خُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کوئی لِکّھے گا نہیں ، کیوں بڑھی، کیسے بڑھی بات؟؟
کیوں ہُوا درد فزُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
خلقتِ شہر سَر آنکھوں پہ بِٹھاتی تھی جنہیں
کیوں ہُوئے خوار و زبُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
عرضیاں ساری نظر میں ہیں رَجَز خوانوں کی
سب خبر ہے ہمیں، کیُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
شہر آشُوب کے لکھنے کو جگر چاہیے ہے
مَیں ہی لِکُّھوں تو لکُھوں، کوئی نہیں لِکّھے گا!
بے اثر ہوتے ہُوئے حرف کے اِس موسِم میں
کیا کہُوں،کس سے کہُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
اُسے کہنا۔۔۔۔۔!
محبت میں کسی کو
اپنی عادت ڈال کر،
یوں چھوڑ دینے پر،
اچانک سے تعلق توڑ دینے پر،
یہاں قانون، قاضی اور عدالت،
کچھ نہیں کہتے،
مگر یہ قتل ہوتا ہے،
اُسے کہنا میرے قاتل۔۔۔۔!
جُدائی کی کدالوں سے،
جو تم نے قبر کھودی تھی،
وہاں میں خاک کے نیچے،
اُسے کہنا!
اگر وہ لوٹ کر واپس کبھی آئے،
تو میری خاک کے ذرّوں پہ،
اک احسان تم کرنا،
دوبارہ پھر کسی انسان کی،
ہنستی ہوئی دُنیا کو،
نہ ویران تم کرنا،
اُسے کہنا!
تیرے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ستم ہو کہ ہو وعدئہ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
یہ جنت مُبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
ذرا سا تو دِل ہوں، مگر شوخ اِتنا
وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہون
کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہلِ محفل
چراغِ سحر ہوں، بجھا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں، سزا چاہتا ہوں
علامہ اقبال
ہزاروں محبتیں ہونگی نچھاور تم پر
مگر ہم جیسی شدتیں نہ ملیں گی تجھے🙂❤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain