مری تھم تھم جاوے سانس پیا مری آنکھ کو ساون راس پیا تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے ترا لہجہ بہت اداس پیا ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں مرے تن پر جتنا ماس پیا تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی ترا ہر جانب احساس پیا تری نگری کتنی دور سجن مری جندڑی بہت اداس پیا میں چاکر تیری ازلوں سے تُو افضل، خاص الخاص پیا مجھے سارے درد قبول سجن مجھے تیری ہستی راس پیا
انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ!! مجھے زباں سے نہیں، روح سے پکار کے دیکھ ذرا تجھے بھی تو احساسِ ہجر ہو جاناں!! بس ایک رات میرے حال میں گزار کے دیکھ
دل بھرتا ہی نہیں تیری یاد سُہانی سے محبت کی آگ ہے بجھاتے کس پانی سے روز ملنے کی آس کرتے تصّور میں کب تک دل بہلاٸیں نت نٸ کہانی سے بچپن تو بےکار میں بدنام ہوگیا خطا ہوٸی تھی چھڑتی جوانی سے کس کو دوش دیتے محفل میں کون بچا تھا تیری حکمرانی سے ماضی کے اوراق حال میں پلٹنے لگۓ سب کچھ یاد آیا اک بھولی نشانی سے جوانی کے ستم غم روزگار غم عشق نے تنہاّ بال بھی سفید ہوۓ اس پرشانی سے
_____😥💛🥀 _____😥💛🥀 قسمیں، وعدے، دعوے من کے کچے کرتے ہیں یہ ساری ہوائی باتیں کب سچے کرتے ہیں؟ آ گفتگو کر!فلسفے پر، عشق پر،شاعری پر یہ پیار محبت کی باتیں تو بچے کرتے ہیں #
غزل کیا خبر تھی مرا منصب مجھ سے پوچھا جائے گا میں نے سمجھا تھا مرا معیار پرکھا جائے گا نفرتیں اک دن تجھے اس موڑ پر لے آئیں گی آئنے میں اپنا چہرہ بھی نہ دیکھا جائے گا دشمنِ جاں سے وفا کی بھیک مانگی جائے گی آبگینہ اب کے پتھر سے تراشا جائے گا آج کی شب بھی غنیمت ہے کہ کل اس شہر میں آخری انساں کو سولی پر چڑھایا جائے گا مرے اشکوں کو بجھا کر تو بھی ہو گا مضطرب اب مرے گھر سے ترے گھر تک اندھیرا جائے گا جانِ جرارؔ اک ترے سچ کو چھپانے کے لیے کیا خبر تھی شہر میں جھوٹ بولا جائے گا آغا جرارؔ
اور وحشی یہ زندگی ہوتی موت گر ساتھ ناں بنی ہوتی غم نہ گر جوڑتا وہ سانسوں سے کسے محسوس پھر خوشی ہوتی گر اتارے نہ جاتے اندھیرے کیا قدر تیری روشنی ہوتی ظلم بڑھتا ہے صرف مٹنے کو ورنہ دنیا کہاں بچی ہوتی حسن یہ ہے کہ آنکھ دیکھے ہے ورنہ کیا شے یہ دلکشی ہوتی درد اترا نہ ہوتا سینے میں خاک جینے میں چاشنی ہوتی بیچ میں گر جدائی نہ آتی یہ محبت بھی مر چکی ہوتی جو رویے سمجھ میں آ جاتے سوچئے کتنی خامشی ہوتی وقت مرہم اگر نہ بن جاتا ہر تعلق میں کچھ کمی ہوتی لوگ ہو جاتے ہیں پتھر ورنہ آج ہر آنکھ میں نمی ہوتی
یہ جو دِیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں اِن میں کچُھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں دُور تک کوئی سِتارہ ہے نہ کوئی جگنو مرگِ اُمّید کے آثار نظر آتے ہیں میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں آپ پُھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں حشر میں کون گواہی مِری دے گا ساغر سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں ساغر صدیقی
دستک دینے خوابوں میں آیا کرو پھرکسی بہانے یہیں رک جایا کرو سراپاء احتجاج ہیں ہر پل نگاہیں رخ سے اپنے پردہ تو ہٹایا کرو اپنے آنگن کے سرخ پھولوں سے ہمارے دل کی سیج سجایا کرو سنائی دیتی ہے پائل کی جھنکار دل پہ اداؤں کے تیر نہ چلایا کرو بڑی تیز چلتی ہے محبت کی ہوا شام ڈھلتےہی آنچل نہ لہرایا کرو عاشق نہ ہوجائیں رات کےپجاری شانےپہ یوں گیسونہ پھیلایا کرو بد گماں ہو جائیں گے عہد سارے محبت والوں کو مت آزمایا کرو سنا کے منزل کی خبر دیوانوں کو راہوں میں یوں نہ کھو جایا کرو چپکے سے لوٹ جائیں گے اک دن عاشقوں کو ایسے نہ ستایا کرو