اک اشارے سے خاک ہو گئے ہیں ہم ستارے سے خاک ہو گئے ہیں وہ سمجھتے ہیں رمز مٹّی کی جو شرارے سے خاک ہو گئے ہیں ہائے دریا مزاج دوست مرے ، اک کنارے سے خاک ہو گئے ہیں اتنا پھیلے وہ اپنے گرد کہ اب بے شمارے سے خاک ہو گئے ہیں پارہ پارہ ہوئے ہمارے خواب ، پارے پارے سے خاک ہو گئے ہیں
بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟؟؟؟ ؟ کہا،!!! یُوں تو سبھی کچھ ٹھیک تھا پر مات گہری تھی سُنو!!! بارش کبھی خود سے بھی کوئی بڑھ کے دیکھا ہے؟؟؟؟ جواب آیا، اِن آنکھوں کی مگر برسات گہری تھی سُنو، پیتم نے ہولے سے کہا تھا کیا، بتاؤ گے؟ جواب آیا، کہا تو تھا مگر وہ بات گہری تھی دیا دل کا سمندر اُس نے تُم نے کیا کیا اس کا؟ ہمیں بس ڈوب جانا تھا کہ وہ سوغات گہری تھی وفا کا دَشت کیسا تھا، بتاؤ تُم پہ کیا بِیتی ؟ بھٹک جانا ہی تھا ہم کو ، وہاں پر رات گہری تھی تُم اس کے ذکر پر کیوں ڈوب جاتے ہو خیالوں میں؟ رفاقت اور عداوت اپنی اس کے ساتھ گہری تھی نظر آیا تمہیں اُس اجنبی میں کیا بتاؤ گے؟ سُنو، قاتل نگاہوں کی وہ ظالم گھات گہری تھی.......!!!!!!!!!
الگ بنے گی کسی کی بستی، نگر کسی کا جدا بنے گا اگر یونہی دوریاں رہیں تو، مری محبت کا کیا بنے گا رواں ہے بے سمت منزلوں کو، خبر کہاں اس کو راستوں کی لُٹیں گے ہر گام پر مسافر، اگر یہ دل رہنما بنے گا حسین سا ایک شخص ہے وہ، مگر نہ ایسا کہ اس کو پوجوں بناؤں گا خود کو میں بھی کافر، اگر وہ میرا خدا بنے گا رُکے ہیں کب حوصلے کسی کے، ترقیوں کا ہے یہ زمانہ ہم اور بھی خوش نظر بنیں گے، وہ اور بھی خوش ادا بنے گا وہ بے وفا بھی ہے سنگدل بھی ، مگر جو تو نے زبان کھولی مجھے یقیں ہے اس انجمن میں ، ضرور تو ہی بُرا بنے گا ابھی تو تھوڑا سا دم ہے باقی، مزے اُڑا لے قتیلؔ ساقی کبھی تو نیت بھرے گی اس کی، کبھی تو وہ پارسا بنے گا
جون ایلیا تُم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو جو ملے خواب میں وہ دولت ہو میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنی ہی بے مروت ہو تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی کیسے انگڑائی سے شکایت ہو کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں تم مری زندگی کی عادت ہو کس لئے دیکھتی ہو آئینہ تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو داستاں ختم ہونے والی ہے تم مری آخری محبت ہو
تیرے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدئہ بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مُبارک رہے زاہدوں کو کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دِل ہوں، مگر شوخ اِتنا وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہون کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہلِ محفل چراغِ سحر ہوں، بجھا چاہتا ہوں بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی بڑا بے ادب ہوں، سزا چاہتا ہوں علامہ اقبال
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain