آپ کی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو
کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو
آپ کو راضی نہ کر پایا تو مر جاؤں گا میں
چھوٹی چھوٹی کرچیاں بنکر بکھر جاؤں گا میں
واسطہ دوں آپ کو میں آپ کے حسنین کا
یار غار ثور کا صدیق کونین کا
آپ تو دشمن کے حق میں بھی دعا کرتے رہے
بے وفا لوگوں سے بھی ہر دم وفا کرتے رہے
آپ تو رحمت ہی رحمت ہیں جہانوں کے لیے
میرے جیسے بے عمل اور بےٹھکانوں کے لیے
آپ کا ہے روٹھنا ارض و سماں کا روٹھنا
عرش کا سارے جہانوں کے خدا کا روٹھنا
آپ کی نظروں سے جو گرتا ہے مر جاتا ہے وہ
راکھ بنکر اپنے قدموں میں بکھر جاتا ہے وہ
اس طرح تو آ دمی خود آدمی رہتا نہیں
صاحب ایمان کیا انسان بھی رہتا نہیں
کیسے کیسے دشمنوں پر رحم کھایا آپ نے
آگ سے کتنے ہی لوگوں کو بچایا آپ نے
وہ مجھ کو دیکھ جاتا ہے
کبھی رستے میں رک کے ہی
کبھی چھت پہ کھڑا ہو کر
وہ مجھ کو دیکھ جاتا ہے
کبھی پیچھے کو مڑ کے بھی
کبھی آواز دیتا ہے
وہ رستے میں کسی کو بھی
وہ اب بھی یاد کرتا ہے وہ مجھ کو دیکھ جاتا ہے
وہ رونا ہی نہیں چاہتا
مگر وہ جب بھی ہستا ہے
وہ آنسو تھک ہی جاتے ہیں
وہ نیچے گر ہی پڑتے ہیں
وہ کب تک جھیل پائے گا
وہ مجھ کو دیکھ جاتا ہے
کبھی کھڑکی کے کونے سے
کبھی کپڑے سکھاتا ہے
وہ چھت کے سامنے آ کر
وہ مجھ کو دیکھ جاتا ہے
دل جو لگانا ہے تو فسانے کی بات کر،
اپنی سنا،نہ ہم سے زمانے کی بات کر۔
وہ چل دیا سمیٹ کے خوابوں کا قافلہ
آنکھوں سے اب غبار ہٹانے کی بات کر
کر چور دل کے شیشے کو تہمت کی ضرب سے،
پتھر بدست اب تو نشانے کی بات کر،
ہر دم نئے چراغ جلا کر چراغ سے،
تیرہ شبی میں غم کو بھلانے کی بات کر۔
ریشم حدودِ عقل سے باہر نکل کے دیکھ،
راہِ وفا میں دنیا لٹانے کی بات کر۔
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻏﺰﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﭧ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ
ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ
ﺯﻟﻔﯿﮟ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﯽ
ﻣﮩﮑﯽ ﻓﻀﺎ،ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺳﻨﻮﺭ ﮔﺌﯽ
ﺁﭖ ﺁﺋﮯ ﯾﺎ، ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﺗﺮﺍ ﮨﮯ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ
ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ
ﮔﻠﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ
ﮐﺘﻨﮯ ﺣﺴﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﻈﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ
ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ🌺
نقص کیسا یہ میری ذات کے اندر نکلا
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
رنج کس کو؟کہ میری تشنگی نے جان ہے لی
ہاۓ افسوس!کہ تو محو سمندر نکلا
میری قسمت میں خرابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میں نے جس شخص کو چاہا تھا،ستمگر نکلا
میرے اجداد نے چھوڑے کئ ایکڑ لیکن
میرے حصے میں جو آیا وہی بنجر نکلا
تو تو کہتا تھا تیرے چاہنے والے ہیں بہت
وقت پڑنے پہ میرا نام ہی کیونکر نکلا
وہ خریدار تھا خوشبو کا،میرا کیا بنتا
مشک نکلا نہ میری ذات سے عنبر نکلا
لوگ پرواز پہ پروز کیے جاتے ہیں
باز نکلا نہ کوئی تجھ سا قلندر نکلا
تجھ کو افسوس!؟میرے قتل کا اے جانِ صدیق
سب سے پہلے تو تیرے ہاتھ سے پتھر نکلا
*💕ایک بزرگ* سے
کسی نے *پوچھا انسان*
کا *سکون کہاں چھپا*
ہوا ہے
بزرگ
نے *جواب دیا
غفلت* ہو جائے تو
سجدے *میں اور
گناہ* ہو
*جائے تو توبہ* میں💕
اپنی خبر کہاں بس بے خیالی ہے
دل کی بات اب زباں پہ آنےوالی ہے
کس سے کرو گے تقاضہ نارسائی کا
ہمارا گھر تو اک مدت سے خالی ہے
پھول سجاکر کانٹوں سےچھیل ڈالا
ابتداء کمال تھی انتہابھی نرالی ہے
کس تعلق کا کرتے ہو ارادہ پھر سے
عمر تو تیرے انتظار میں بیتالی ہے
کرتےشکایت تو بھول جاتے ہر ستم
تیری چپ نے ہر امید جلا ڈالی ہے
وعدہ کیا تھا عمربھر کی رفاقت کا
سفر خوشبو کا تھا پر گھٹا کالی ہے
بانٹ کے خوشیاں دیکھ لو پلٹ کر
دہلیزپہ تیرے جھولی اک سوالی ہے
کون اتارے گا کشتی کو ساحل پر
سمندر میں آج طغیانی آنے والی ہے
ہم ٹھہرے قحط زدہ گھر کے باسی
تیری نگری میں ہر طرف ہریالی ہے
مر جائیں تو لحد میں اتار دینا آ کر
شب غم نےجان عذاب میں ڈالی ہے
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں، اور کہنے کو کیا رہ گیا
ان کی آنکھوں سے کیسے چھلکنے لگا
میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا
ایسے بچھڑے سبھی رات کے موڑ پر
آخری ہمسفر راستہ رہ گیا
سوچ کر آؤ کوئے تمنا ھے یہ
جان_ من جو یہاں رہ گیا ، رہ گیا.
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں، اور کہنے کو کیا رہ گیا
آتے آتے میرا نام سا رہ گیا
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
وہ میرے سامنے ہی گیا اور میں
راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا
آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے
یہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا
رنگ بھی بدلے گا، چہرے پہ ملال آئے گا
اس کو جب میری وفاؤں کا خیال آئے گا
ڈوب ہی جاتا ہے ہر شام کو تپتا سورج
سنگ باری پہ تیری بھی تو زوال آئے گا
اے میری جان اسے دیدہء حیرت سے نہ دیکھ
خون وہ میرا ہے اس میں تو ابال آئے گا
تم کو معلوم نہیں، مجھکو یقیں ہے لیکن
خود وہ ڈوبا بھی اگر، مجھ کو اچھال آئے گا
آرزو خلق کی مخلوق کرے گی جب جب
خالقِ کُل کو تو ظاہر ہے جلال آئے گا
سب لوگ اپنی طرح سے بکھرے ہوئے ملے
حالات اور وقت کے مارے ہوئے ملے
اب لوگ کس طرح نئی منزل کو پائیں گے
رہبر تمام جو ملے، بھٹکے ہوئے ملے
کب چاہ کر منانے کوئی آئے گا ہمیں
سب ارد گرد لوگ ہی روٹھے ہوئے ملے
دنیا کی ریت دیکھو کٹھن وقت میں ہمیں
اپنے رفیق ہی ہمیں بدلے ہوئے ملے
بچنے کی آرزو میں جو میں نے تھاما ہاتھ
سارے جو غوطہ خور تھے ڈوبے ہوئے ملے
سچائی لب پہ آئی تو یہ حال ہو گیا
حق گو تمام جال میں جکڑے ہوئے ملے
سب کچھ جلا کچھ اس طرح کہ کچھ نہیں بچا
اپنے بدن کی راکھ ملی، دل جلے ملے
اک سخت جاں کو چاہیں گے سوچا تھا آرزو
پر ہم کو تو جتنے دل ملے، ٹوٹے ہوئے ملے۔
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تَو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کیلئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تَو زمانے کے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ
اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
درد آشوب
تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا
نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا
نہیں چاہا کسی کو تیرے سوا
تو نے ہم کو بھی پارسا رکھا
پھول کھلتے ہی کھل گئیں آنکھیں
کس نے خوشبو میں سانحہ رکھا
تو نہ رسوا ہو اس لیے ہم نے
اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا
جھوٹ بولا تو عمر بھر بولا
تم نے اس میں بھی ضابطہ رکھا
کوئی دیکھے یہ سادگی اپنی
پھول یادوں کا اک سجا رکھا
"میرے پاس آ ، پھر نظر ملا ،
میرا ہاتھ تھام ، ساقیا ،
مجھے روک لے ، مجھے گلے لگا
میرے ساتھ چل ، میرے ساقیا ،
تجھے کیا خبر میری زیست زر
ھے سر بسر نیلام پر
میں ابھی بکا نہیں، تو خرید لے
میرے ہمنشیں میرے ساقیا
کبھی یوں بھی ہو کہ میں کہوں
نہیں لگتا دل اب تیرے بن
کبھی یوں بھی کہ تو کہے ھے مجھے یقین میرے ساقیا ،
تو سمجھ زرا میری بے دلی
میری بے خودی ، میری سادگی
میں کہیں ملوں تو مجھے آواز دے
میں ہوں گمشدہ میرے ساقیا
میری آرزو
، تیرے روبرو کروں حال دل بھی بیان کروں
میری جستجو کہ تمہیں دیکھا سکوں
اپنا دل میرے ساقیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain