بہار رُت میں اجاڑ رستے ، تکا کرو گے تو رو پڑو گے … کسی سے ملنے کو جب بھی محسن ، سجا کرو گے تو رو پڑو گے … . تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو ، تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے … کے زندگی میں جو پھر کسی سے ، دغا کرو گے تو رو پڑو گے … میں جانتا ہوں میری محبت ، اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی … کے چاند راتوں میں اب کسی سے ، ملا کرو گے تو رو پڑو گے … برستی بارش میں یاد رکھنا ، تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں … کسی ولی کے مزار پر جب دعا کرو گے تو رو پڑو گے . . . ! محسن نقوی
سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے میرے گھر میں بھی کبھی رات کی رانی آئے زندگی بھر مجھے اس بات کی حسرت ہی رہی دن گزاروں تو کوئی رات سہانی آئے زہر بھی ہو تو وہ تریاق سمجھ کر پی لے کسی پیاسے کے اگر سامنے پانی آئے عین ممکن ہے کوئی ٹوٹ کے چاہے ساقیؔ کبھی ایک بار پلٹ کر تو جوانی آئے ساقی امروہی
وہ بے وفا ہے تو کیا مت کہو بُرا اُس کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اُس کو نظر نہ آئے تو اسکی تلاش میں رہنا کہیں ملے تو پلٹ کر نہ دیکھنا اُس کو وہ سادہ خُو تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اُس کو وہ اپنے بارے میں کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کو میں بھی نہ دیکھوں تو دیکھنا اُس کو ابھی سے جانا بھی کیا اس کی کم خیالی پر ابھی تو اور بہت ہو گا سوچنا اُس کو اسے یہ دُھن کہ مجھے کم سے کم اداس رکھے مری دعا کہ خدا دے یہ حوصلہ اُس کو پناہ ڈھونڈ رہی ہے شبِ گرفتا دلاں کوئی پتاؤ مرے گھر کا راستا اُس کو غزل میں تذکزہ اس کا نہ کر نصیرؔ کہ اب بھلا چکا وہ تجھے تو بھی بھول جا اُس کو نصیرؔ ترابی
یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے عجب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساں رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے (مظفر وارثی)