Damadam.pk
Muhammad_waseem22's posts | Damadam

Muhammad_waseem22's posts:

Muhammad_waseem22
 

#غزل
گفتگو پي ڪئي لاڙ جي سونھن تي
شاعري ٿي وئي لاڙ جي سونھن تي
ھن ڏٺو نيڻ کولي جڏھن شام جو!
انڊلٺ ڄڻ ٺھي لاڙ جي سونھن تي
چنڊ چمڪي پيو ھو ڏسو ٿر مٿان!
چاندني ٿي پئي لاڙ جي سونھن تي
ھُن چيو دوستي تي ڪيون تبصرو!
مون غزل ھڪ چئي لاڙ جي سونھن تي
بس اُتر پي لڳو، ياد تازي ڪئي.
ڳالھ ھلندي رھي لاڙ جي سونھن تي
لڙڪ سان گڏ چپن تي اُتم ، ٿورڙي!
مُرڪ آئي لھي لاڙ جي سونھن تي

Muhammad_waseem22
 

میرے عشق دے وچ معشوق نہ ہو
نئیں اج تک غلط نگاہ کیتی
تیری ہر ملاقات میں انج کیتی
جیویں موسیٰ نال خدا کیتی
نئیں فرق کیتا تیری پوجا وچ
نئیں خطراں دی پرواہ کیتی
اک تینوں رب نئیں کہہ سکدا
باقی ساری رسم ادا کیتی
بابا بھلے شاہ
#bababhullayshah

Muhammad_waseem22
 

محبت روٹھ جائے تو
اُسے باہوں میں لے لینا
بہت ہی پاس کر کے تم
اُسے جانے نہیں دینا
وہ دامن بھی چرائے تو
اُسے تم قسم دے دینا
دلوں کے معاملے میں
تو خطائیں ہو ہی جاتی ہیں
تم اِن خطاؤں کو
بہانہ مت بنا لینا
محبت روٹھ جائے تو
اُسے جلدی منا لینا
آخری دستک 💔💔

Muhammad_waseem22
 

مسئلہ صرف محبت نہیں ہوتی
ضد بھی نہیں
نہ ہی حسن
نہ ذہانت
نہ انا اور نہ ہی ایک انسان
لاتعداد بہترین اور خوبصورت لوگ
متبادل کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں
اور طلبگار بھی
پھر مسئلہ ہے کیا؟
" کیمسٹری "
جو اس انسان کے ساتھ محسوس ہو چکی ہوتی ہے
بس
وہی کمی بےچین رکھتی ہے

Muhammad_waseem22
 

جب انسان کہتا ہے نا کہ..
"میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا "
تو اس بات کو معمولی نا لیا کریں
کیوں کے یہ بات سچ ہے کے کوئی بھی کِسی کے بغیر مرتا نہیں ہے.....!!
لیکن دوسرا رخ یہ ہے کہ
جینے کے انداز بدل جاتے ہیں
زندگی کے طور طریقے بدل جاتے ہیں
ہنسنا بھول جاتے ہیں...
اپنی "میں" کو ختم کر دیتے ہیں
اپنا حق مانگنا چھوڑ دیتے ہیں
اپنا خیال نہیں رکھ پاتے
اپنی پسند کی ہر ایک شے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں....
اپنی پسند کا کھانا،
اپنی پسند کے کپڑے،
سبھی کچھ سے کچھ بھی لگاو نہیں رہتا
ہر شام اداسی کے ساتھ گزارنا معمول بن جاتا ہے.
اور تب اگر اُس کا احساس ہوتا ہے تو آئینے میں نظر آنے والے شخص کو
باقی کِسی کو نہیں.....!!!

Muhammad_waseem22
 

وہ عادت ھے تو عادت سے
کنارا ھو بھی سکتا ھے
مگر اس ساری کوشش میں
خسارہ ھو بھی سکتا ھے
اگر آنکھیں نا بھر آئیں
تو دل مٹھی میں آۓ گا
ھوا ھے حال جو میرا
تمھارا ھو بھی سکتا ھے
کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب
کیسے ٹوٹ سکتا ھے؟؟
گماں یہ زندگی بھر کا
سہارا ھو بھی سکتا ھے
جو اتنی جگمگاہٹ دیکھتے ھو
آس پاس اپنے_____!!
یہ میری آنکھ سے ٹوٹا
ستارہ ھو بھی سکتا ھے
ہمیں حیرت سے مت دیکھو
اب ایسا کیا کیا ہم نے؟؟
زمینی عشق ھے صاحب...
دوبارہ ھو بھی سکتا ھے🔥

Digital Art image
M  : Beautiful 🌹 - 
Muhammad_waseem22
 

اپنے ہاتھوں سے محبّت کو مٹا کر دیکھیں
خود بھی روئیں کبھی تجھکو بھی رُلا کر دیکھیں،
اپنی پلکوں سے سبھی خواب مٹا دیں اسکے
اپنی انکھوں کو کسی رات سُلا کر دیکھیں
چاندنی رات ہو ہم دونوں ہوں تنہائی ہو
خواب میں ہی سہی محفل کو سجا کر دیکھیں
ہم پہ لگتے ہیں جو الزام تیری چاہت کے
اپنے دامن سے وہ داغ مٹا کر دیکھیں
بے وفا کہہ گیا ہے چھوڑ کے جانے والا
سوچتے ہیں کہ یہ الزام اُٹھا کر دیکھیں
اشک بن کر جو میری انکھ میں رہتا ہے سماء
اسکو نظروں سے کبھی اپنے گرا کر دیکھیں

Muhammad_waseem22
 

زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِشام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
رات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھی
جان دینے میں کروں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی
طائرِ دل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی
توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی
میرے ہاتھوں میں ہے موجُود ترے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کہرام ابھی
میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھی

Muhammad_waseem22
 

ہوا کے دوش پر اب تک دہائی دیتی ہیں
پرانی دستکیں اب تک سنائی دیتی ہیں
قفس کو توڑنے کی جستجو میں گزری ہے
وہ بیتی ساعتیں پر کب رہائی دیتی ہیں
نکل تو سکتا ہوں اس کی گلی سے میں لیکن
وہاں سے آگے نہ راہیں سجھائی دیتی ہیں
تو کیسے مانوں دلیلیں میں عقل کی سوچو
کسی کی یادیں جو پل پل صفائی دیتی ہیں
اس انتظار کو جب جب سمیٹا ہے ہم نے
بدن سے سسکیاں ، آہیں سنائی دیتی ہیں
کسی کہانی کا کردار سوچ کر بنئے
حسیں کہانیاں اک دن جدائی دیتی ہیں
کٹھن بہت ہیں مگر بے چراغ راتیں ہی
مرے وجود کو مجھ تک رسائی دیتی ہیں
ہے بات بات پہ ظلمت کا ذکر کیوں ابرک
تمہاری آنکھیں تو روشن دکھائی دیتی ہیں
۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک

Muhammad_waseem22
 

اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہوگا ناں
چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہوگا ناں
یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہوگا ناں
ہر آن جسکا ذکر ہے، اس بےنیاز نے
بُھولے سے میرا نام ، پکارا تو ہوگا ناں
میں زادِ رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں
اے ہمسفر تجھے یہ گوارا تو ہوگا ناں
کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے؟
کیا بات بھی نہ ہوگی ؟ اشارہ تو ہوگا ناں

Muhammad_waseem22
 

اس قدر آپ پر فدا ہوں میں
آپ بس آپ سے خفا ہوں میں
آپ کا دل ہی بھر گیا ورنہ
اب تلک قابلِ سزا ہوں میں
تیسرا میں ہی تھا مثلث میں
میں سمجھتا تھا دوسرا ہوں میں
سب مسائل ہی آگہی کے ہیں
کیا میں سمجھا تھا اور کیا ہوں میں
اب ضرورت ہے کیا دلیلوں کی
آپ نے کہہ دیا , برا ہوں میں
آپ کو روشنی سے مطلب ہے
آپ کو کیا کہ جل رہا ہوں میں
جو بھی آتا ہے اس سے کہتا ہوں
تجھ سے ملنے گیا ہؤا ہوں میں
شعر ابرک اسی کو کہتے ہیں
منہ سے جو خود کہے نیا ہوں میں
جہاں چھوڑا وہیں کھڑا ہوں میں
اس قدر دیکھ بے وفا ہوں میں
رنگ خوشبو خوشی بھی ساتھ ہیں پر
اب فقط درد آشنا ہوں میں

Muhammad_waseem22
 

وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں
جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں
کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو
بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں
مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں
میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں
تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا
جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

Muhammad_waseem22
 

بڑے ادب سے بڑے قاعدے سے بات کرے
کسے پڑی ہے ترے سر پھرے سے بات کرے
ہر ایک شخص دلاسہ تو دے نہیں سکتا
اُسے بھی چاہیے تھا حوصلے سے بات کرے
یہ ٹھیک ہے کہ وہ مل کر خموش رہتا ہے
اگر کرے بھی تو کس واسطے سے بات کرے ؟
تمہارا ہجر مرے پاس آ کے چیختا ہے !
اِسے کہو کہ ذرا فاصلے سے بات کرے
بھَلے، برائی کریں میری اور سُن کے وہ شخص
بھلوں سے دور رہے، اور بُرے سے بات کرے
ترے خیال کی خیریں ! ترا خیال جیے !
جو تیرے زین، ترے دکھ بھرے سے بات کرے

Muhammad_waseem22
 

ٹھر ، سن ، مگر جانے دے
درد کو اب گزر جانے دے
نہ بٹھا مجھے اپنے پہلو میں
جھٹک ہاتھ مجھے گھر جانے دے
راستہ جو اِس طرف نہیں آتا
قدم اپنے اُس ڈگر جانے دے
اپنے طوفانوں کے خود فیصلے کر
میرے حصے کے بھنور جانے دے
وصل کی بارشوں کی دھن سنا
نغمہِ موسمِ ہجر جانے دے
سیکھ لے خود شناسائی
باقی دنیا کے ہنر جانے دے

Muhammad_waseem22
 

فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے
کسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہے
تھا واجبی سا تعلق تو بات اچھی تھی
تعلقات بڑھانے سے بات بگڑی ہے
ہم اختلاف کو آپس میں طے نہ کر پائے
کسی کو بیچ بلانے سے بات بگڑی ہے
محبتوں میں تکلف بھی ہے سم قاتل
قدم سنبھل کے اٹھانے سے بات بگڑی ہے
تمہارے ساتھ بگڑنے پہ کچھ ملال نہیں
ہماری ایک زمانے سے بات بگڑی ہے
فضائے وہم در آئی تعلقات کے بیچ
گھڑی گھڑی کے فسانے سے بات بگڑی ہے
ہم اپنی ذات کی تردید کر نہیں پائے
انا کے زعم میں آنے سے بات بگڑی ہے
ترے بغیر گزارہ نہیں کسی صورت
اسے یہ بات بتانے سے بات بگڑی ہے

Muhammad_waseem22
 

محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے
یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے
سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحر الفت میں
وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے
نہ جانے کیوں دل غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں
جہاں کانوں میں آواز شکست جام آتی ہے
دل ناداں یہی رنگیں ادائیں لوٹ لیتی ہیں
شفق کی سرخیوں ہی میں تو چھپ کر شام آتی ہے
محبت نے ہر اک سے بے تعلق کر دیا مجھ کو
تمہاری یاد بھی اب تو برائے نام آتی ہے
نہ جانے کون سی محفل میں اب تم جلوہ فرما ہو
نظر رہ رہ کے اٹھتی ہے مگر ناکام آتی ہے
غم دوراں سے مل جاتی ہے تھوڑی دیر کو فرصت
تصور میں جہاں اک جنت بے نام آتی ہے
بدل سکتا ہوں اس کا رخ مگر یہ سوچ کر چپ ہوں
تمہارا نام لے کر گردش ایام آتی ہے
لرز اٹھتے ہیں کونین اے مشیرؔ انجام الفت پر
جبین شوق اس کے در سے جب ناکام آتی ہے

Muhammad_waseem22
 

پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
فیض احمد فیض

Muhammad_waseem22
 

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے، سب دوستانہ تھے
ہاں ، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ، ہم ہی کاربندِ اصولِ وَفا نہ تھے
آئے تو یُوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بُھولے تو یُوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
کیوں دادِ غم ہمیں نے طلب کی ، بُرا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے
گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدحِ خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دُکھ تھے ، بہت لا دوا نہ تھے
لب پر ہے تلخئ مئے ایّام ورنہ فیضؔ
ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
*****
*****
شاعر : فیض احمد فیضؔ
مجموعہ کلام : ”زنداں نامہ“

Muhammad_waseem22
 

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو ، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر ، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو ایک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
ہر ایک کی ٹھوکر کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلا دے