#غزل
گفتگو پي ڪئي لاڙ جي سونھن تي
شاعري ٿي وئي لاڙ جي سونھن تي
ھن ڏٺو نيڻ کولي جڏھن شام جو!
انڊلٺ ڄڻ ٺھي لاڙ جي سونھن تي
چنڊ چمڪي پيو ھو ڏسو ٿر مٿان!
چاندني ٿي پئي لاڙ جي سونھن تي
ھُن چيو دوستي تي ڪيون تبصرو!
مون غزل ھڪ چئي لاڙ جي سونھن تي
بس اُتر پي لڳو، ياد تازي ڪئي.
ڳالھ ھلندي رھي لاڙ جي سونھن تي
لڙڪ سان گڏ چپن تي اُتم ، ٿورڙي!
مُرڪ آئي لھي لاڙ جي سونھن تي
میرے عشق دے وچ معشوق نہ ہو
نئیں اج تک غلط نگاہ کیتی
تیری ہر ملاقات میں انج کیتی
جیویں موسیٰ نال خدا کیتی
نئیں فرق کیتا تیری پوجا وچ
نئیں خطراں دی پرواہ کیتی
اک تینوں رب نئیں کہہ سکدا
باقی ساری رسم ادا کیتی
بابا بھلے شاہ
#bababhullayshah
محبت روٹھ جائے تو
اُسے باہوں میں لے لینا
بہت ہی پاس کر کے تم
اُسے جانے نہیں دینا
وہ دامن بھی چرائے تو
اُسے تم قسم دے دینا
دلوں کے معاملے میں
تو خطائیں ہو ہی جاتی ہیں
تم اِن خطاؤں کو
بہانہ مت بنا لینا
محبت روٹھ جائے تو
اُسے جلدی منا لینا
آخری دستک 💔💔
مسئلہ صرف محبت نہیں ہوتی
ضد بھی نہیں
نہ ہی حسن
نہ ذہانت
نہ انا اور نہ ہی ایک انسان
لاتعداد بہترین اور خوبصورت لوگ
متبادل کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں
اور طلبگار بھی
پھر مسئلہ ہے کیا؟
" کیمسٹری "
جو اس انسان کے ساتھ محسوس ہو چکی ہوتی ہے
بس
وہی کمی بےچین رکھتی ہے
جب انسان کہتا ہے نا کہ..
"میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا "
تو اس بات کو معمولی نا لیا کریں
کیوں کے یہ بات سچ ہے کے کوئی بھی کِسی کے بغیر مرتا نہیں ہے.....!!
لیکن دوسرا رخ یہ ہے کہ
جینے کے انداز بدل جاتے ہیں
زندگی کے طور طریقے بدل جاتے ہیں
ہنسنا بھول جاتے ہیں...
اپنی "میں" کو ختم کر دیتے ہیں
اپنا حق مانگنا چھوڑ دیتے ہیں
اپنا خیال نہیں رکھ پاتے
اپنی پسند کی ہر ایک شے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں....
اپنی پسند کا کھانا،
اپنی پسند کے کپڑے،
سبھی کچھ سے کچھ بھی لگاو نہیں رہتا
ہر شام اداسی کے ساتھ گزارنا معمول بن جاتا ہے.
اور تب اگر اُس کا احساس ہوتا ہے تو آئینے میں نظر آنے والے شخص کو
باقی کِسی کو نہیں.....!!!
وہ عادت ھے تو عادت سے
کنارا ھو بھی سکتا ھے
مگر اس ساری کوشش میں
خسارہ ھو بھی سکتا ھے
اگر آنکھیں نا بھر آئیں
تو دل مٹھی میں آۓ گا
ھوا ھے حال جو میرا
تمھارا ھو بھی سکتا ھے
کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب
کیسے ٹوٹ سکتا ھے؟؟
گماں یہ زندگی بھر کا
سہارا ھو بھی سکتا ھے
جو اتنی جگمگاہٹ دیکھتے ھو
آس پاس اپنے_____!!
یہ میری آنکھ سے ٹوٹا
ستارہ ھو بھی سکتا ھے
ہمیں حیرت سے مت دیکھو
اب ایسا کیا کیا ہم نے؟؟
زمینی عشق ھے صاحب...
دوبارہ ھو بھی سکتا ھے🔥
اپنے ہاتھوں سے محبّت کو مٹا کر دیکھیں
خود بھی روئیں کبھی تجھکو بھی رُلا کر دیکھیں،
اپنی پلکوں سے سبھی خواب مٹا دیں اسکے
اپنی انکھوں کو کسی رات سُلا کر دیکھیں
چاندنی رات ہو ہم دونوں ہوں تنہائی ہو
خواب میں ہی سہی محفل کو سجا کر دیکھیں
ہم پہ لگتے ہیں جو الزام تیری چاہت کے
اپنے دامن سے وہ داغ مٹا کر دیکھیں
بے وفا کہہ گیا ہے چھوڑ کے جانے والا
سوچتے ہیں کہ یہ الزام اُٹھا کر دیکھیں
اشک بن کر جو میری انکھ میں رہتا ہے سماء
اسکو نظروں سے کبھی اپنے گرا کر دیکھیں
زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِشام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
رات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھی
جان دینے میں کروں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی
طائرِ دل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی
توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی
میرے ہاتھوں میں ہے موجُود ترے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کہرام ابھی
میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھی
ہوا کے دوش پر اب تک دہائی دیتی ہیں
پرانی دستکیں اب تک سنائی دیتی ہیں
قفس کو توڑنے کی جستجو میں گزری ہے
وہ بیتی ساعتیں پر کب رہائی دیتی ہیں
نکل تو سکتا ہوں اس کی گلی سے میں لیکن
وہاں سے آگے نہ راہیں سجھائی دیتی ہیں
تو کیسے مانوں دلیلیں میں عقل کی سوچو
کسی کی یادیں جو پل پل صفائی دیتی ہیں
اس انتظار کو جب جب سمیٹا ہے ہم نے
بدن سے سسکیاں ، آہیں سنائی دیتی ہیں
کسی کہانی کا کردار سوچ کر بنئے
حسیں کہانیاں اک دن جدائی دیتی ہیں
کٹھن بہت ہیں مگر بے چراغ راتیں ہی
مرے وجود کو مجھ تک رسائی دیتی ہیں
ہے بات بات پہ ظلمت کا ذکر کیوں ابرک
تمہاری آنکھیں تو روشن دکھائی دیتی ہیں
۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہوگا ناں
چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہوگا ناں
یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہوگا ناں
ہر آن جسکا ذکر ہے، اس بےنیاز نے
بُھولے سے میرا نام ، پکارا تو ہوگا ناں
میں زادِ رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں
اے ہمسفر تجھے یہ گوارا تو ہوگا ناں
کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے؟
کیا بات بھی نہ ہوگی ؟ اشارہ تو ہوگا ناں
اس قدر آپ پر فدا ہوں میں
آپ بس آپ سے خفا ہوں میں
آپ کا دل ہی بھر گیا ورنہ
اب تلک قابلِ سزا ہوں میں
تیسرا میں ہی تھا مثلث میں
میں سمجھتا تھا دوسرا ہوں میں
سب مسائل ہی آگہی کے ہیں
کیا میں سمجھا تھا اور کیا ہوں میں
اب ضرورت ہے کیا دلیلوں کی
آپ نے کہہ دیا , برا ہوں میں
آپ کو روشنی سے مطلب ہے
آپ کو کیا کہ جل رہا ہوں میں
جو بھی آتا ہے اس سے کہتا ہوں
تجھ سے ملنے گیا ہؤا ہوں میں
شعر ابرک اسی کو کہتے ہیں
منہ سے جو خود کہے نیا ہوں میں
جہاں چھوڑا وہیں کھڑا ہوں میں
اس قدر دیکھ بے وفا ہوں میں
رنگ خوشبو خوشی بھی ساتھ ہیں پر
اب فقط درد آشنا ہوں میں
وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں
جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں
کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو
بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں
مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں
میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں
تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا
جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں
بڑے ادب سے بڑے قاعدے سے بات کرے
کسے پڑی ہے ترے سر پھرے سے بات کرے
ہر ایک شخص دلاسہ تو دے نہیں سکتا
اُسے بھی چاہیے تھا حوصلے سے بات کرے
یہ ٹھیک ہے کہ وہ مل کر خموش رہتا ہے
اگر کرے بھی تو کس واسطے سے بات کرے ؟
تمہارا ہجر مرے پاس آ کے چیختا ہے !
اِسے کہو کہ ذرا فاصلے سے بات کرے
بھَلے، برائی کریں میری اور سُن کے وہ شخص
بھلوں سے دور رہے، اور بُرے سے بات کرے
ترے خیال کی خیریں ! ترا خیال جیے !
جو تیرے زین، ترے دکھ بھرے سے بات کرے
ٹھر ، سن ، مگر جانے دے
درد کو اب گزر جانے دے
نہ بٹھا مجھے اپنے پہلو میں
جھٹک ہاتھ مجھے گھر جانے دے
راستہ جو اِس طرف نہیں آتا
قدم اپنے اُس ڈگر جانے دے
اپنے طوفانوں کے خود فیصلے کر
میرے حصے کے بھنور جانے دے
وصل کی بارشوں کی دھن سنا
نغمہِ موسمِ ہجر جانے دے
سیکھ لے خود شناسائی
باقی دنیا کے ہنر جانے دے
فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے
کسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہے
تھا واجبی سا تعلق تو بات اچھی تھی
تعلقات بڑھانے سے بات بگڑی ہے
ہم اختلاف کو آپس میں طے نہ کر پائے
کسی کو بیچ بلانے سے بات بگڑی ہے
محبتوں میں تکلف بھی ہے سم قاتل
قدم سنبھل کے اٹھانے سے بات بگڑی ہے
تمہارے ساتھ بگڑنے پہ کچھ ملال نہیں
ہماری ایک زمانے سے بات بگڑی ہے
فضائے وہم در آئی تعلقات کے بیچ
گھڑی گھڑی کے فسانے سے بات بگڑی ہے
ہم اپنی ذات کی تردید کر نہیں پائے
انا کے زعم میں آنے سے بات بگڑی ہے
ترے بغیر گزارہ نہیں کسی صورت
اسے یہ بات بتانے سے بات بگڑی ہے
محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے
یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے
سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحر الفت میں
وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے
نہ جانے کیوں دل غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں
جہاں کانوں میں آواز شکست جام آتی ہے
دل ناداں یہی رنگیں ادائیں لوٹ لیتی ہیں
شفق کی سرخیوں ہی میں تو چھپ کر شام آتی ہے
محبت نے ہر اک سے بے تعلق کر دیا مجھ کو
تمہاری یاد بھی اب تو برائے نام آتی ہے
نہ جانے کون سی محفل میں اب تم جلوہ فرما ہو
نظر رہ رہ کے اٹھتی ہے مگر ناکام آتی ہے
غم دوراں سے مل جاتی ہے تھوڑی دیر کو فرصت
تصور میں جہاں اک جنت بے نام آتی ہے
بدل سکتا ہوں اس کا رخ مگر یہ سوچ کر چپ ہوں
تمہارا نام لے کر گردش ایام آتی ہے
لرز اٹھتے ہیں کونین اے مشیرؔ انجام الفت پر
جبین شوق اس کے در سے جب ناکام آتی ہے
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
فیض احمد فیض
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے، سب دوستانہ تھے
ہاں ، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ، ہم ہی کاربندِ اصولِ وَفا نہ تھے
آئے تو یُوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بُھولے تو یُوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
کیوں دادِ غم ہمیں نے طلب کی ، بُرا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے
گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدحِ خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دُکھ تھے ، بہت لا دوا نہ تھے
لب پر ہے تلخئ مئے ایّام ورنہ فیضؔ
ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
*****
*****
شاعر : فیض احمد فیضؔ
مجموعہ کلام : ”زنداں نامہ“
یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو ، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر ، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو ایک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
ہر ایک کی ٹھوکر کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلا دے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain