میرے دل میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کے وطن بدر ہیں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگار نگار کا
کے سراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھیر کا
سر کوئے نشانیاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کے کیا ہے
شب غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
جو ایک بر ہوتا
میرے دل میرے مسافر
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کوئے دل فگاراں شب آرزو کا عالم
تری دید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں ترے رہ گزر میں گزراں
نہ ہوا کہ مر مٹیں ہم نہ ہوا کہ جی اٹھیں ہم
لو سنی گئی ہماری یوں پھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے وہی فصل گل کا ماتم
۔۔۔۔۔
فیض احمد فیض ❤🥀
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کوئے دل فگاراں شب آرزو کا عالم
تری دید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں ترے رہ گزر میں گزراں
نہ ہوا کہ مر مٹیں ہم نہ ہوا کہ جی اٹھیں ہم
لو سنی گئی ہماری یوں پھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے وہی فصل گل کا ماتم
۔۔۔۔۔
فیض احمد فیض ❤🥀
غزل
عشق سے عشق کی روداد نا پوچهے کوئی ...
اشک آنکھوں میں اٹها کر وہ گرا دیتا ہے ...
جب بهی پوچها کہ انجام محبت کیا ہے ..
دل بناتا ہے پهر وہ دل مٹا دیتا ہے ...
محبت کی کہانی میں کہا یہ موڑ آتے ہیں ..
کہ جن کو دل میں رکهتے ہے وہی دل توڑ جاتے ہیں .
تمہارا نام لے لے کر تڑپنا کیا سلگهنا کیا
محبت تم جو ہو جاؤ ...تو ملنا کیا بچهرنا کیا .
یہ کیا کہ تم بناتی ہو بنا کر تم مٹاتی ہو..
یہ ہی چونچلے تیرے وہ محفل چهوڑ جاتے ہیں.
کہ جن کو دل میں رکهتے ہے وہی دل توڑ جاتے ہیں
چلو ہم پاس رکھ لیں گے تیری باتیں تیری یادیں ...
محبت تیرے صدقے میں یہ ہی ملتی ہے سوغاتیں ...
ہنسے گے دل سے مل کر ہم
.. گلے دل کو لگائیں گے
تجهے ہم یاد کر لیں گے تجهے ہم بهول جائیں گے
چلو منزل سے پہلے ہم یہ رستہ موڑ جاتے ہیں
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﯽ
ﺣﻤﺎﻗﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺑﮭﻼ ﺑﮯ ﻓﯿﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎﺅ، ﺟﺲ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﺧﺴﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺧﺴﺎﺭﺍ ﮨﻮ
ﺑﻨﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﮐﯽ
ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮨﻤﯿﮟ ﮨﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻭﺭﻧﮧ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﺍﺟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑ
ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺑﺨﺸﯽ ﮨﮯ
ﺍﺭﮮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺗﮍﭘﺎﺅ،
ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﭘﺮ
ﻣﺮﮨﻢ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺍِﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺪﻡ
ﯾﮧ ﺯﺣﻤﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ہے
" پینے والوں نے مہہ خانہ بنا رکھا ھے ،
تم نے تو اس شہر کو دیوانہ بنا رکھا ھے ،
دل پر ہیں نقش ، خدوخال تیرے برسوں سے ،
ہم نے ہر اک سے تیرا نام چھپا رکھا ھے ،
تجھ کو کھویا ھے تجھ کو بھلایا نہیں ،
کون کہتا ھے کہ
نے تجھے بھلا رکھا ھے ،
دل میں روسن ھے تیری یاد کا جگنو ایسے ،
جس طرح راکھ میں شعلہ سا دبا رکھا ھے "
یہ ستم کم تو نہیں کہ ،
چمن والوں نے غنچہ گل سے بھی تیری خوشبو کو چھپا رکھا ھے ،
یکطرفہ محبت کی اس شدت کو ،
میں نے اپنے آنسوؤں کو بھی بتا رکھا ھے ،
چاہتیں ہزار دیکھی ہونگی تم نے ،
لیکن میں نے چاہت کا انداز بھی زمانے سے جدا رکھا ھے ،
غزل
افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں
دیئے جلیں نہ جلیں، داغ جلتے رہتے ہیں
مِری گلی کے مکیں یہ مِرے رفیقِ سفر
یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں
زمانے کو تو ہمیشہ سفر میں رہنا ہے
جو قافلے نہ چلے، رستے چلتے رہتے ہیں
ہزار سنگ گراں ہو، ہزار جبر زماں
مگر حیات کے چشمے ابلتے رہے ہیں
یہ اور بات کہ ہم میں ہی صبر و ضبط نہیں
یہ اور بات کہ لمحات ٹلتے رہتے ہیں
یہ وقت شام ہے یا رب! دل و نظر کی ہو خیر
کہ اس سمے میں تو ساۓ بھی ڈھلتے رہتے ہیں
کبھی وہ دن تھے زمانے سے آشنائی تھی
اور آئینے سے اب اختر بہلتے رہتے ہیں
اپنے حالات کو کیسے کیسے جیاء میں نے
وہ جو درد تھا تیرا! کیسے کیسے پیاء میں نے
زندگی بھلے اک طویل راہ تھی میری
مگر تیری ذات کی خاطر جیاء میں نے
وہ جو عمر تھی تیری! میرا پاسبان تھی
کیا تھا جو سپرد تیرے! خود کو ہرایا تھا میں نے
چلا تھا جو تیری اوور! چھوڑا تھا سب کچھ
یقین جانو! نہیں دیکھا تھا نفع و نقصان میں نے
بجھا ہوا دیا ہوں! ذرا لاج رکھنا
دیئے تھے جو واسطے! کن کن رفاقتوں کے میں نے
مجبوریوں کے اوز! کی تھی جو تم نے محبت
قیامت تھی ہوئ برپاء! جسکو سہا تھا میں نے
جانتا ہوں سب میرا ہی قصور نکلے گا! لازماً
یہاں دھلے ہیں سب لوگ! جو دیکھا تھا میں نے
الفاظوں کی بھیڑ میں! میرے لفظ جو ادھورے تھے
جو تجھ سے کہنا ضروری تھے! جو آخری وقت بتایا تھا میں نے
لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں
مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں
شاید کہ رچ گئی ہے ہمارے خمیر میں
سو بار صلح پر بھی عداوت گئی نہیں
آنا پڑا پلٹ کے حدود و قیود میں
چھوڑی بہت تھی پھر بھی شرافت گئی نہیں
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یاد
تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں
باقی ہے ریزے ریزے میں اک ارتباط سا
یاسرؔ بکھر کے بھی مری وحدت گئی نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain