پھر یوں ہوا کہ دکھ ہی اُٹھائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ آنسو بہائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ نِکلے کسی کی تلاش میں پھر یوں ہوا کہ خود کو نہ پائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ باتوں میں ہم اُس کی آگئے پھر یوں ہوا کہ دھوکے ہی کھائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ دل میں کسی کو بسا لیا پھر یوں ہوا کہ خواب سجائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ وعدہ وفا کر نہ سکا وہ پھر یوںہوا دیپ جلائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ دامنِ دل داغ داغ تھا پھر یوں ہوا کہ داغ مٹائے تمام عُمر پھر یوں ہوا کہ راستے ویران ہو گئے پھر یوںہوا کہ پھول کِھلائے تمام عُمر
غزل غیر کی خاک جستجو کرتے آپ ہوتے تو آرزو کرتے وقت منت کرے مداوا کر اور ہم پھر سے ہو بہو کرتے حل مسائل جو بات سے ہوتے عمر بھر خود سے گفتگو کرتے یاد آتی ہے بن کے نامہ بر تھا گلہ گر تو روبرو کرتے جب رگ و جاں میں کوئی بستا ہو اور کو کیسے تم سے تو کرتے کس کو فرصت ہے اس مشقت کی آپ ہوتے تو دل رفو کرتے اب سہارا ہیں شعر ہی میرا ہم کو لکھ لکھ کے سرخرو کرتے تنگ ان آنسوؤں سے ہوں جو خبر تیری چارسُو کرتے
۔ یہ جو تم نے کیا نہیں کرتے دوستوں سے دغا نہیں کرتے کچھ قیامت پہ چھوڑ دیتے ہیں قرض سارے ادا نہیں کرتے واپسی کا سفر ہے نا ممکن ہم پرندے رہا نہیں کرتے اس محبت کا مان رکھتے ہیں ورنہ کہہ دیں کہ جا نہیں کرتے تم سے بچھڑے تو مر ہی جائیں گے ایسی باتیں کہا نہیں کرتے خواب میں یا ملیں حقیقت میں آپ بالکل حیا نہیں کرتے چاہے دشوار سانس لینا ہو جن کو جینا ہو کیا نہیں کرتے صاف کہتے ہیں سنگ دل ہیں ہم بات بھی خواہ مخواہ نہیں کرتے
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر محسن نقوی
غزل کے ساز اٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات نوائے میرؔ سناؤ بڑی اُداس ہے رات نوائے درد میں اک زندگی تو ہوتی ہے نوائے درد سناؤ بڑی اُداس ہے رات اداسیوں کے جو ہم راز و ہم نفس تھے کبھی انھیں نہ دل سے بھلاؤ بڑی اُداس ہے رات جو ہو سکے تو ادھر کی بھی راہ بھول پڑو صنم کدے کی ہواؤ بڑی اُداس ہے رات کہیں نہ تم سے تو پھر اورجا کے کس سے کہیں سیاہ زلف کے سایو بڑی اُداس ہے رات پڑا ہے سایۂ غم جب حیاتِ انساں پر وہ داستاں بھی سناؤ بڑی اُداس ہے رات ابھی تو ذکر سحر دوستو ہے دور کی بات ابھی تو دیکھتے جاؤ بڑی اُداس ہے رات سنا ہے پہلے بھی ایسے میں بجھ گئے ہیں چراغ دلوں کی خیر مناؤ بڑی اُداس ہے رات دیئے رہوں یونہی کچھ اور دیر ہاتھ میں ہاتھ ابھی نہ پاس سے جاؤ بڑی اُداس ہے رات کوئی شمار بھی رکھتی ہیں ظلمتوں کی تہیں بتاؤ غم کی گھٹاؤ بڑی اُداس ہے رات
میں روز تجھ سے ۔۔۔تو روز مجھ سے ملا کرے گا ۔۔۔۔ یہ طے ہوا تھا نہ کوئی رستہ ۔۔۔ نہ موڑ ہمکو جدا کرے گا۔۔۔۔۔ یہ طے ہوا تھا زمیں کا کوئی ۔۔۔ بشر نہ اپنی رفاقتوں کو۔۔۔۔۔ مٹا سکے گا کہ جب بھی ہم کو۔۔۔۔ جدا کرے گا خدا کرے گا ۔۔۔۔ ۔ یہ طے ہوا تھا کسی بات پر ہم ۔۔۔۔۔۔ جھگڑ پڑے تو صلح کی خاطِر ۔۔۔۔ اے میرے ہمدم زرا سا میں بھی ۔۔۔۔ زرا سا تو بھی جھکا کرے گا ۔۔۔۔ یہ طے ہوا تھا
* سجا کے چہرے پہ بیگانگی نہیں ملنا مجھے ملو تو کبھی سرسری نہیں ملنا ہمارے جیسے تو مل جائیں گے ہزاروں تمہیں تمہارے جیسا ہمیں ایک بھی نہیں ملنا یہی سبق ہے محبت کا اول و آخر جسے تلاش کرو گے وہی نہیں ملنا وہ جا رہا ہے س جی بھر کے دیکھ لو فارس پھر اس کے بعد یہ موقع کبھی نہیں ملنا