چشم نم جانِ شوریدہ کافی نہیں تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہيں آج بازار میں پابجولاں چلو دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو خاک برسر چلو خوں بداماں چلو راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو حاکمِ شہر بھی مجمعِ عام بھی تیرِ الزام بھی سنگِ د شنام بھی صبحِ ناشاد بھی روزِ ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو پھر ہمِیں قتل ہو آئیں یارو چلو فیض احمد فیض
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے ھس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا وہ حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے جفاخو بھی کیا بھی فیضؔ تو کس بت سے دوستانہ کیا فیض۔۔
ہزار فتنے تہِ پائے ناز، خاک نشیں ہر اک نگاہِ خمارِ شباب سے رنگیں شباب جس سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں بیاضِ رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اِترائے زبانِ شعر کی تعریف کرتے شرم آئے وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش گداز جسم ، قبا جس پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں ہے اس کی خاک میں کیف ِ شراب و شعر مکیں فیض احمد فیض
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی آشوب نظر سے کی ہم نے چمن آرائی جو شے بھی نظر آئی گل رنگ نظر آئی امید تلطف میں رنجیدہ رہے دونوں تو اور تری محفل میں اور مری تنہائی یک جان نہ ہو سکیے انجان نہ بن سکیے یوں ٹوٹ گئی دل میں شمشیر شناسائی اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہ دل ہے کیا رکھا ہے مقتل میں اے چشم تماشائی فیض احمد فیض
وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا فیض احمد فیض
گرفتہ دِل ہیں بہت ، آج تیرے دِیوانے خدا کرے کوئی تیرے سِوا نہ پہچانے مِٹی مِٹی سی اُمیدیں ، تھکے تھکے سے خیال بُجھے بُجھے سے نگاہوں میں ، غم کے افسانے ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا یہ اور بات کہ پُوچھا نہ اہلِ دُنیا نے بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہُوئی چھلک کے رہ گئے ، تیری نظر کے پیمانے خیال آ گیا مایوس رہ گُزاروں کا پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دِیوانے کہاں ہے تو کہ ترے اِنتطار میں اے دوست تمام رات سُلگتے ہیں ، دِل کے ویرانے اُمیدِ پرسشِ غم کس سے کیجئے ناصرؔ جو اپنے دِل پہ گُزرتی ہے ، کوئی کیا جانے شاعر : ناصرؔ کاظمی
اُس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا اِک اور شہرِ یار میں آنے نہیں دیا کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے تو نے وہ وقت ہم کو ـــــ زمانے نہیں دیا منزل ہے اس مہک کی کہاں کس چمن میں ہے اِس کا پتہ سفر میں ، ہوا نے نہیں دیا ـــــــــــــ روکا انا نے ، کاوشِ بے سُود سے مجھے اُس بُت کو اَپنا حال ، سُنانے نہیں دیا ہے جس کے بعد عہدِ زوال آشنا مُنیرؔ اِتنا کمال ہم کو ــــــ خدا نے نہیں دیا ****
اپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سی ہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا یوں تو کیا آئے گا تو فرط نزاکت سے یہاں سخت دشوار ہے دھوکے میں بھی آنا تیرا داغؔ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیں تو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا داغؔ دہلوی