میرے حصے میں تُو پہلے ہی بَٹا آیا ہے
اتنے تھوڑے سے میسر پہ کفایت کیسی
میری تصویر میں رہنے دو یہی ویرانی
مجھ سیاہ بخت پہ رنگوں کی عنایت
کیسی
تم نے بے کار تکلف ہی کیا کہنے کا __
ورنہ نفرت تو ہےنفرت ہی ، نہایت کیسی؟
اپنا نعرہ بھی اناالحق ھے ، مگر فرق یہ ھے
ھم وھی بات با اندازِ دگر کہتے ھیں
شیخ نے جس کو دیا نامئہ اعمال کا نام
ھم گنہگار اسے دامنِ تر کہتے ھیں
طاق پر جس کے کبھی ایک دیا تک نہ جلا
ھم تو اُس گھر کو بھی اللہ کا گھر کہتے ھیں
کاش انساں کو شرر ھی کی چمک دے سکتے
زندگی کو جو فقط رقصِ شرر کہتے ھیں
رات جل اُٹھتی ھے جب شدّتِ ظلمت سے ندیم
لوگ اُس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ھیں
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گئ
لیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا
کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگی
چاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا
مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو
تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیق اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے الم حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوش جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شب فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
ناصر کاظمی
جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایا
کبھی اپنے ہی دل سے باتیں کیں کبھی تیری یاد کو سمجھایا
یوں ہی وقت گنوایا موتی سا یوں ہی عمر گنوائی سونا سی
سچ کہتے ہو تم ہم سخنو اس عشق میں ہم نے کیا پایا
جب پہلے پہل تجھے دیکھا تھا دل کتنے زور سے دھڑکا تھا
وہ لہر نہ پھر دل میں جاگی وہ وقت نہ لوٹ کے پھر آیا
پھر آج ترے دروازے پر بڑی دیر کے بعد گیا تھا مگر
اک بات اچانک یاد آئی میں باہر ہی سے لوٹ آیا
ناصر کاظمی
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
زخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے
تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میں
وہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے
ہم نے قسمیں بھی اٹھا دیکھیں مگر بھول گئے
ہم نے وعدے بھی کیے اور نبھائے نہ گئے
شہر میں فتح کی رونق تھی کسی دشمن پر
ہم سے لیکن در و دیوار سجائے نہ گئے
کیا بس اتنی ہی محبت تھی کہ بولے نہ چلے
کیا بس اتنا ہی تعلق تھا کہ آئے نہ گئے
آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری میں
ایک دو وعدے، جو دونوں سے نبھائے نہ گئے۔۔۔!!
چَنڊ دَا هَمشِڪل لَڳَاا مَيڪُون.
شَخص هِڪڙا غزل لَڳَا مَيڪُون.
جِيوَين پَاڻِي تَي اَولڙا سِج دَا،
اَيوين مُنھن تي ٻُڪل لَڳَا مَيڪُون.
ڏِننھن دي ڳَل تَي رَات دِيان چُميان،
اُنھن دِي اَک وِچ ڪَجل لَڳَا مَيڪُون.
عِشق مَيڏَي حُسن چُميا تَيڏا،
سارا جِيون سَفل لَڳا مَيڪُون.
مَيڏِي عُمران دِي دَرد پِيڙا دَا،
تَيڏا مُرڪڻ ئِي حَل لَڳَا مَيڪُون.
تيڏان وڇڙڻ ”شتاب“ ڪيا آکان،
هَان ءِچ ڪوڪا کُتل لَڳَا مَيڪُون.
.
غزل
.
وقتَ کي بس گُذارڻو آهي!
نيٺ هُنَ کي وِسارڻو آهي!
جامَ تي جامُ ڏي! ڀَرَي ساقي!
بارُ دل جو اُتارڻو آهي!
دل ٻُڏَي يا تَرَي اسانجِي پَرَ
پارِ هُنَ کي اُڪارڻو آهي!
دل وُضُو ٿي پَئِي ڪَرَي هر هر
نانءُ هُن جو اُچارڻو آهي!
يادِ هِڪَ - هِڪَ ڀُلائڻي آهي!
دؤرِ _ ماضي نه سَارڻو آهي!
آھِ اچڻي سُڀان اسان وٽ هُوءَ!
سجُ - جاڳي اُڀارڻو آهي!
وہ جو چاہے گا تو دنیا کو خفا کر لیں گے
خود کو یک لخت زمانے سے جدا کر لیں گے
زخم بھرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے سو ہم
پہلی فرصت میں انھیں پھر سے ہرا کر لیں گے
جب وہ کہتا ہے کہ کر لو گے گزارا تنہا ؟ ؟
ہم بھی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ جا کر لیں گے
وہ جو چاہے گا تو سانسوں کو یوں چلنے دیں گے
وہ جو کہہ دے گا تو ہستی کو فنا کر لیں گے
ہم نے یوں ہاتھ اٹھا کر تو بہت مانگ لیا
اب یہ سوچا ہے کہ سجدے میں دعا کر لیں گے
اپنے مالک سے ہے امید ہمیں بخشش کی
سو یہی سوچ کے اک اور خطا کر لیں گے
خود کو دنیا کی نگاہوں سے بچا کر اک دن
ہم ذکی وجد میں دو نفل ادا کر لیں گے
غزل
روئڻ کان سواءِ ڪو ڪمُ ڪھڙو آ
ڪڪرن کي الائي غم ڪھڙو آ
ماسُ پٽي رھيو آ ھر ڪو پنھنجو
اڳتي ٻيو اڃان جھنم ڪھڙو آ
ياد پوي جڏهن درد وڃن وسري
تنھنجي نانءَ ۾ مرھم ڪھڙو آ
سرحد تار جي نہ قبولي، آخر
شاعر جو وطن پرچم ڪھڙو آ
کوٽي اڇليو لاش ھنجن منھنجو
ڪانونِ ۾ ھمت ۽ دم ڪھڙو آ
اک جي ڏار تان ڳوڙها نہ اڏامن
سرءُ بھار ھي موسم ڪھڙو آ
نظم
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئ اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئ امید تو آنکھیں چھن جائیں
اُس ملاقات کا اس بار کوئ وہم نہیں
جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جُنوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدیدِ وفاکا نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئ شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہو تو کیسے کوئ نوحہ کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کا کئ رشتے تھے
کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارضِ و رُخسار ملو
ماتمی ہیں دَمِ رخصت در و دیوار ملو
پھر نہ ہم ہوں گے ،نہ اقرار،نہ انکار،ملو
آخری بار ملو۔
(مصطفیٰ زیدی)
چھپانا بھی جو تم چاہو محبت چھپ نہ پائے گی
دیا دل میں جلے گا اور چمک چہرے پہ آئے گی
حدود انکساری سے بھی ہم آگے نکل آئے
اگر تم اور کھینچو گے تو رسی ٹوٹ جائے گی
سماعت میں تو اپنی قوت احساس پیدا کر
مرے دل کے تڑپنے کی تجھے آواز آئے گی
ضرورت کو جکڑ کر صبر کی زنجیر میں رکھنا
نہیں تو بھوک خودداری کو اک دن بیچ کھائے گی
تو اپنے اپ کو سورج بنا کر پیش کر پہلے
بس اک میں ہی نہیں دنیا ترے چکر لگائے گی
خلش ہجر دائمی نہ گئی
تیرے رخ سے یہ بے رخی نہ گئی
پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
حسن والوں کی سادگی نہ گئی
سر سے سودا گیا محبت کا
دل سے پر اس کی بے کلی نہ گئی
اور سب کی حکایتیں کہہ دیں
بات اپنی کبھی کہی نہ گئی
ہم بھی گھر سے منیرؔ تب نکلے
بات اپنوں کی جب سہی نہ گئی
منیر نیازی
ہوا سنکے تو خاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
مرے غم کی بہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
نہ چھیڑ اے ہم نشیں اب زیست کے مایوس نغموں کو
کہ اب بربط کے تاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
مجھے اے کثرت آلام بس اتنی شکایت ہے
کہ میرے غم گساروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
کہو موجوں سے لہرا کر نہ یوں پلٹیں سمندر سے
کہ با غیرت کناروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
گلے ملتے ہیں جب آپس میں دو بچھڑے ہوئے ساتھی
عدمؔ ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
عبد الحمید عدم
نہیں مِلتا بہاروں کا نشاں تک
خزاں تو چھا گئی ہے آسماں تک
مِری لغزش تو یاد آتی رہے گی
مُجھے وہ بُھول جائیں گے کہاں تک
دِلوں میں آرزُو تڑپا کرے گی
مگر شِکوے نہ آئیں گے زباں تک
بساطِ آرزُو بِکھری پڑی ہے
غُبارِ کارواں سے کارواں تک
تِرا غم ہر طرف پھیلا ہُوا ہے
اسی کے سِلسلے ہیں لامکاں تک
تُمارے ساتھ میرا ذِکر ہو گا
میں جیتا ہُوں تُمہاری داستاں تک
کوئی ہوتا ہے، ہر اک آشنا اچھا نہیں ہوتا
ضرورت سے زیادہ رابطہ اچھا نہیں ہوتا
سنبھل کر کھیلنا چاہو تو دل سے کھیل سکتے ہو
بچاؤ ہاتھ ٹوٹا آئنا اچھا نہیں ہوتا
جو ویرانوں میں ہوتے ہیں وہ گھر محفوظ ہوتے ہیں
کسی کی دسترس میں گھونسلہ اچھا نہیں ہوتا
تغافل تیرا شیوہ ہے مگر اے بھولنے والے
محبت کے دنوں کو بھولنا اچھا نہیں ہوتا
کسی کی بات سننا بھی ضروری ہے تفاوت میں
کہ یک طرفہ کوئی بھی فیصلہ اچھا نہیں ہوتا
گلی میں گر بھی سکتا ہے کوئی رہ گیر ٹھوکر سے
دریچے سے ہر اک کو دیکھنا اچھا نہیں ہوتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain