تین منظر تصور شوخیاں مضطر نگاہ دیدۂ سرشار میں عشرتیں خوابیدہ رنگ غازۂ رخسار میں سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مئے گلنار میں سامنا چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں افسانے مہتاب تمنائیں کچھ الجھی ہوئی باتیں کچھ بہکے ہوئے نغمے کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں رخصت فسردہ رخ لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں فیض احمد فیض
نہ تم آئے شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھا دیا امید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھا وہی دل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہوگیا آخر جسے نازوں سے پالا جس کو ارمانوں سے گھر رکھا جبیں کو مل گئی منزل ،مذاقِ بندگی ابھرا جنوں میں ڈوب کر جس دم تری چوکھٹ پہ سر رکھا کہاں ہر ایک تیرے درد کی خیرات کے لائق کرم تیرا کہ تو نے مجھ کو برباد نظر رکھا غمِ دنیا و ما فیها کو میں نے کر دیا رخصت ترا غم تھا جسے دل سے لگائے عمر بھر رکھا سنا ہے کھل گئے تھے انکے گیسو سر گلشن میں صبا تیرا برا ہو تو نے مجھ کو بےخبر رکھا کبھی گزریں تو شاید دیکھ لوں میں اک جھلک ان کی اسی امید پر مدفن قریبِ رہ گزر رکھا جو خط غیروں کے آئے اس نے دیکھے دیر تک، لیکن مرا خط ہاتھ میں لے کر ادھر دیکھا ادھر رکھا
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے فیض احمد فیض گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمہارے نام پہ آئیں گےغمگسار چلے جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا دن ڈھلا خوف کا عفریت مقابل آیا یا خدا یہ مری گردان شب و روز و سحر یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟ ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطن تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں در قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے تو فیضؔ دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں فیض احمد فیض
دم توڑتے سے لمحات میں گم ہو گئے یہ ستارے سیاہ رات میں گم ہو گئے چمکنے کی تمنا میں جگنو ہوئے روشن پھر کہیں وہ ظلمات میں گم ہو گئے دوش ھوا پہ جل بجھے کچھ پل دئیے اور پھر کہیں حالات میں گم ہو گئے سر اٹھا کے چل تو دئیے ھم سر مقتل مجنون تھے جذبات میں گم ہو گئے مقاصد تو شاندار سے اپنائے تھے ہم نے نہ جانے کہاں جزئیات میں گم ہو گئے یوں تسخیر کائنات تو تھا مدعا اپنا اور پھر کہیں مناجات میں گم ہو گئے ہم تو سنگ راہ کو جھٹک کے چل دیئے پھر وقت کے حادثات میں گم ہو گئے قیصر مُختار
اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا اے نورِ خدا آکر آنکھوں میں سما جانا یا در پہ بلا لینا یا خواب میں آجانا اے پردہ نشیں دل کے پردے میں رہا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا میں قبر اندھیری میں گھبراں گا جب تنا امداد میری کرنے آجانا میرے آقا روشن میری تربت کو اے نورِ خدا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا مجرم ہوں جہاں بھر کا محشر میں بھرم رکھنا رسوائے زمانہ ہوں دامن میں چھپا لینا مقبول دعا میری اے نورِ خدا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا چہرے سے ضیا پائی ان چاند ستاروں نے اس در سے شفا پائی دکھ درد کے ماروں نے آتا ہے انہیں صابر ہر دکھ کی دوا کرنا` جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا...
بارشوں کے موسم میں دل کی سر زمینوں پر گرد کیوں بکھرتی ہے؟ اس طرح کے موسم میں پھول کیوں نہیں کھلتے؟ لوگ کیوں نہیں ملتے؟ کیوں فقط یہ تنہائی ساتھ ساتھ رہتی ہے؟ کیوں بچھڑنے والوں کی یاد ساتھ رہتی ہے؟ اتنی تیز بارش سے دل کے آئینے پر سے عکس کیوں نہیں دھلتے؟ زخم کیوں نہیں سلتے؟ نیند کیوں نہی آتی؟ بارشوں کے موسم میں آنکھ کیوں برستی ہے؟ اشک کیوں نہیں تھمتے؟ بارشوں کے موسم میں لوگ کیوں نہیں ملتے؟
سکون قلب کا تھوڑا سا اھتمام تو کر کبھی نگاہ تو فرما، کبھی کلام تو کر ترے نثار محبت مری گناہ سہی پر اس گناہ کا تھوڑا سا احترام تو کر ہے دسترس ترے گیسو کی تجھ سے پوشیدہ دراز کوں و مکان پر ذرا یہ دام تو کر مرا جہاں ہے تیرے زلف و رخ سے وابستہ طلوع صبح تو فرما، ورد شام تو کر لپٹ! عدم سے کبھی یوں کہ جان پڑجائے ترے غرور کے قربان کوئی کام تو کر
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطن تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں در قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے تو فیضؔ دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں فیض احمد فیض
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے فیض احمد فیض
"خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو" خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے تری مسرت پیہم تمام ہو جائے تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے غموں میں آئینہ دل گداز ہو تیرا ہجوم یاس سے بے تاب ہو کے رہ جائے وفور درد سے سیماب ہو کے رہ جائے ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے غرور حسن سراپا ناز ہو تیرا طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستان پہ جھکے کہ جنس عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے فریب وعدہ فردا پہ اعتماد کرے خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے وہ دل کہ تیرے لئے بیقرار اب بھی ہے وہ آنکھ جس کو تیرا انتظار اب بھی ہے "فیض احمد فیض"
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے فیض احمد فیض اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے