Damadam.pk
Muhammad_waseem22's posts | Damadam

Muhammad_waseem22's posts:

Muhammad_waseem22
 

غزل
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم ، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچہء قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیضؔ جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں
کلام: فیض احمد فیضؔ

Attitude Poetry image
M  🔥 : Best poetry 📕🖋️ - 
Muhammad_waseem22
 

تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقئ گلفام
وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام
وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت
وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام
امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ
لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر
لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے
اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر
اس بام سے نکلے ترے حسن کا خورشید
اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی
اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب
اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی
پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی
جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے
ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے
ہر صبح کی لوتیر سی سینے میں لگی ہے
تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں۔

Muhammad_waseem22
 

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ،، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے ، شبِ انتظار چلی گئی ـــــــــــ
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر ــ مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں ، نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے ، سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم ، سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا ، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا ، وہ گناہ گار چلے گئے
شاعر ”فیض احمد فیضؔ“

Muhammad_waseem22
 

آؤ کہ مرگِ سوزِ مُحبّت منائیں ہم
آؤ کہ حُسنِ ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراقِ قامت و رُخسارِ یار سے
سرو گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانیِ حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامنِ ابرِ بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سُلجھائیں بے دلی سے یہ اُلجھے ہوئے سوال
واں جائیں ، یا نہ جائیں نہ جائیں ، کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاسِ ضبط کی تلقین کر چُکیں
اور اِمتحانِ ضبط سے پھر جی چُرائیں ہم
آؤ ــــــ کہ آج ختم ہُوئی داستانِ عشق
اب ختمِ عاشقی کے فسانے سُنائیں ہم
شاعر : فیض احمد فیض

Sad Poetry image
M  🔥 : Parveen Shakir poetry 📕🖋️ - 
Muhammad_waseem22
 

کب تک دل کی خیر منائیں ، کب تک رہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے
بیتا دید اُمید کا موسم ، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل ، کب برکھا برساؤ گے
عہدِ وفا ، یا ترکِ محبت ، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے
کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے ، کیا تھے ، ان کو کیا جتلاؤ گے
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی
تم اُس حسن کے لطف و کرم پر ، کتنے دن اِتراؤ گے
شاعر : ”فیض احمد فیضؔ

Muhammad_waseem22
 

او عشق نه ڇڄ مونکان، او سونهن نه ڇڏ پاسو
نه ته مان ته ڊڄان پيو ٿو، دل جي دهڪن کان
استاد

Sad Poetry image
M  : Best poetry 📕🖋️ - 
Muhammad_waseem22
 

سب کُچھ گُذر جاتا ہے مگر
سب کچھ بُھلایا نہیں جاتا...

Muhammad_waseem22
 

بول
بول کہ لَب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اَب تک تیری ہے
تیرا سُتواں جِسم ہے تیرا
بول کہ جان اَب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہَن گَر کی دُکاں میں
تُند ہیں شُعلے سُرخ ہے آہَن
کُھلنے لگے قُفُلوں کے دَہانے
پھیلا ہر اِک زَنجِیر کا دامَن
بول یہ تھوڑا وَقت بہت ہے
جِسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سَچ زِندَہ ہے اب تک
بول جو کُچھ کہنا ہے کہہ لے۔۔۔!
شاعر ~ فیض احمد فیض

Attitude Poetry image
M  : Best poetry 📕🖋️ - 
Muhammad_waseem22
 

کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا
کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا...
کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا
کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا..

Romantic Poetry image
M  : Best poetry 📕🖋️ - 
Muhammad_waseem22
 

پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
حکیم ناصر

Muhammad_waseem22
 

محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نا جب
سورج تھا میرے سر پے مگر رات ہو گئ
محسن نقوی

Muhammad_waseem22
 

میں خاک ہوں آب ہوں ہوا ہوں
اور آگ کی طرح جل رہا ہوں
بہروپ نہیں بھرا ہے میں نے
جیسا بھی ہوں سامنے کھڑا ہوں
سنتا تو سبھی کی ہوں مگر میں
کرتا ہوں وہی جو چاہتا ہوں
اچھوں کو تو سب ہی چاہتے ہیں
ہے کوئی کہ میں بہت برا ہوں
پاتا ہوں اسے بھی اپنی جانب
مڑ کر جو کسی کو دیکھتا ہوں
بچنا ہے محال اس مرض میں
جینے کے مرض میں مبتلا ہوں
سنتا ہی نہ ہو کوئی تو کیوں میں
چلاؤں فغاں کروں کراہوں
اوروں سے تو اجتناب تھا ہی
اب اپنے وجود سے خفا ہوں
باقی ہیں جو چند روز وہ بھی
تقدیر کے نام لکھ رہا ہوں

Muhammad_waseem22
 

ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے
تجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہے
ہے شعلۂ جاں میں یاد تیری
کیا آگ میں پھول کھل رہا ہے
خورشید سحر طلوع ہو کر
شبنم کا مزاج پوچھتا ہے
کیا اس کو بتاؤں ہجر کے غم
جس پر مرا حال آئنہ ہے
میں کس سے کہوں فسانۂ غم
ہر ایک کا دل دکھا ہوا ہے
کیوں آ گئی درمیان دنیا
یہ تیرا مرا معاملہ ہے
کیا پاؤ گے بت سے فیض حافظؔ
پتھر بھی کہیں خدا بنا ہے
حافظ لدھیانوی

Muhammad_waseem22
 

نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر
دیکھ حدیث دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر
سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے
چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر
اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ
اے مرے دل ٹھہر ذرا یہ جو مہم ہے سر نہ کر
اس کا یہ حسن وہم ہے تیرا یہ عشق ہے گماں
اتنا یقین دل مرے وہم و گمان پر نہ کر
ہجرت نو کا مسئلہ بڑھتے قدم نہ روک لے
سو مری جاں سفر میں رہ دار فنا میں گھر نہ کر
اتنا تو وقت دے کبھی خود سے کروں مکالمہ
اے مری عمر تیز رو ایسے مجھے بسر نہ کر
میری اڑان ہے مرے رب کریم کی عطا
یوں مرے ضد میں منتشر اپنے یہ بال و پر نہ کر

Life Advice image
M  : Best lines 🌹 -