غزل
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم ، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچہء قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیضؔ جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں
کلام: فیض احمد فیضؔ
تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقئ گلفام
وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام
وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت
وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام
امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ
لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر
لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے
اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر
اس بام سے نکلے ترے حسن کا خورشید
اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی
اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب
اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی
پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی
جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے
ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے
ہر صبح کی لوتیر سی سینے میں لگی ہے
تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں۔
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ،، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے ، شبِ انتظار چلی گئی ـــــــــــ
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر ــ مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں ، نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے ، سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم ، سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا ، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا ، وہ گناہ گار چلے گئے
شاعر ”فیض احمد فیضؔ“
آؤ کہ مرگِ سوزِ مُحبّت منائیں ہم
آؤ کہ حُسنِ ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراقِ قامت و رُخسارِ یار سے
سرو گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانیِ حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامنِ ابرِ بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سُلجھائیں بے دلی سے یہ اُلجھے ہوئے سوال
واں جائیں ، یا نہ جائیں نہ جائیں ، کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاسِ ضبط کی تلقین کر چُکیں
اور اِمتحانِ ضبط سے پھر جی چُرائیں ہم
آؤ ــــــ کہ آج ختم ہُوئی داستانِ عشق
اب ختمِ عاشقی کے فسانے سُنائیں ہم
شاعر : فیض احمد فیض
کب تک دل کی خیر منائیں ، کب تک رہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے
بیتا دید اُمید کا موسم ، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل ، کب برکھا برساؤ گے
عہدِ وفا ، یا ترکِ محبت ، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے
کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے ، کیا تھے ، ان کو کیا جتلاؤ گے
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی
تم اُس حسن کے لطف و کرم پر ، کتنے دن اِتراؤ گے
شاعر : ”فیض احمد فیضؔ
او عشق نه ڇڄ مونکان، او سونهن نه ڇڏ پاسو
نه ته مان ته ڊڄان پيو ٿو، دل جي دهڪن کان
استاد
سب کُچھ گُذر جاتا ہے مگر
سب کچھ بُھلایا نہیں جاتا...
بول
بول کہ لَب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اَب تک تیری ہے
تیرا سُتواں جِسم ہے تیرا
بول کہ جان اَب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہَن گَر کی دُکاں میں
تُند ہیں شُعلے سُرخ ہے آہَن
کُھلنے لگے قُفُلوں کے دَہانے
پھیلا ہر اِک زَنجِیر کا دامَن
بول یہ تھوڑا وَقت بہت ہے
جِسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سَچ زِندَہ ہے اب تک
بول جو کُچھ کہنا ہے کہہ لے۔۔۔!
شاعر ~ فیض احمد فیض
کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا
کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا...
کبھی مل کر رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا
کبھی میری مُحَبت میں گُل و گُلزار ہو جانا..
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
حکیم ناصر
محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نا جب
سورج تھا میرے سر پے مگر رات ہو گئ
محسن نقوی
میں خاک ہوں آب ہوں ہوا ہوں
اور آگ کی طرح جل رہا ہوں
بہروپ نہیں بھرا ہے میں نے
جیسا بھی ہوں سامنے کھڑا ہوں
سنتا تو سبھی کی ہوں مگر میں
کرتا ہوں وہی جو چاہتا ہوں
اچھوں کو تو سب ہی چاہتے ہیں
ہے کوئی کہ میں بہت برا ہوں
پاتا ہوں اسے بھی اپنی جانب
مڑ کر جو کسی کو دیکھتا ہوں
بچنا ہے محال اس مرض میں
جینے کے مرض میں مبتلا ہوں
سنتا ہی نہ ہو کوئی تو کیوں میں
چلاؤں فغاں کروں کراہوں
اوروں سے تو اجتناب تھا ہی
اب اپنے وجود سے خفا ہوں
باقی ہیں جو چند روز وہ بھی
تقدیر کے نام لکھ رہا ہوں
ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے
تجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہے
ہے شعلۂ جاں میں یاد تیری
کیا آگ میں پھول کھل رہا ہے
خورشید سحر طلوع ہو کر
شبنم کا مزاج پوچھتا ہے
کیا اس کو بتاؤں ہجر کے غم
جس پر مرا حال آئنہ ہے
میں کس سے کہوں فسانۂ غم
ہر ایک کا دل دکھا ہوا ہے
کیوں آ گئی درمیان دنیا
یہ تیرا مرا معاملہ ہے
کیا پاؤ گے بت سے فیض حافظؔ
پتھر بھی کہیں خدا بنا ہے
حافظ لدھیانوی
نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر
دیکھ حدیث دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر
سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے
چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر
اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ
اے مرے دل ٹھہر ذرا یہ جو مہم ہے سر نہ کر
اس کا یہ حسن وہم ہے تیرا یہ عشق ہے گماں
اتنا یقین دل مرے وہم و گمان پر نہ کر
ہجرت نو کا مسئلہ بڑھتے قدم نہ روک لے
سو مری جاں سفر میں رہ دار فنا میں گھر نہ کر
اتنا تو وقت دے کبھی خود سے کروں مکالمہ
اے مری عمر تیز رو ایسے مجھے بسر نہ کر
میری اڑان ہے مرے رب کریم کی عطا
یوں مرے ضد میں منتشر اپنے یہ بال و پر نہ کر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain