اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں
آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثاراختر
غیر الفت کا راز کیا جانے
لطف ناز و نیاز کیا جانے
نیم جانوں پہ کیا گزرتی ہے
نرگس نیم باز کیا جانے
میرے طول شب جدائی کو
تیری زلف دراز کیا جانے
پاک بازان مے کدہ کا مقام
جو نہ ہو پاک باز کیا جانے
دل ہے اس پردہ میں کوئی ورنہ
شمع سوز و گداز کیا جانے
ہم جو مستی میں گرتے پڑتے ہیں
زاہد ایسی نماز کیا جانے
راہ الفت نہ جس نے طے کی ہو
وہ نشیب و فراز کیا جانے
جس کے دل میں نہ سوز ہو وہ جلیلؔ
کیف آواز ساز کیا جانے
جلیل مانک پوری
کہا جھنجھلا کے اہل قافلہ سے ایک رہبر نے
ابھی تو پہلی منزل ہے ابھی سے کیوں لگے ڈرنے
مکمل داستاں کا اختصار اتنا ہی کافی ہے
سلایا شور دنیا نے جگایا شور محشر نے
سر دیوار زنداں چاندنی چھنتی تھی پتوں سے
دیا تھا قید میں کیا لطف ایسی شب کے منظر نے
زمانہ کی کشاکش کا دیا پیہم پتہ مجھ کو
کہیں ٹوٹے ہوئے دل نے کہیں ٹوٹے ہوئے سر نے
ہیں کتنی مختلف باہم طبائع نسل انساں کی
رہے معذور اب تک جو چلے تھے تجزیے کرنے
فدائے رنگ و روغن سطح بیں سے کیا غرض اس کو
جگہ دی جس کو چشم و دل میں ہر اک اہل جوہر نے
امن لکھنوی
خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے
ہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکے
ہو کر خراب مے ترے غم تو بھلا دیے
لیکن غم حیات کا درماں نہ کر سکے
ٹوٹا طلسم عہد محبت کچھ اس طرح
پھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے
ہر شے قریب آ کے کشش اپنی کھو گئی
وہ بھی علاج شوق گریزاں نہ کر سکے
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولے
وہ بھی نشاط روح کا ساماں نہ کر سکے
ساحر لدھیانوی
خود میں اترے اور طغیانی سے باہر آ گئے
آ کے گہرائی میں ہم پانی سے باہر آ گئے
اس کی رونق میں بہت سنسان سے لگتے تھے ہم
شہر سے نکلے تو ویرانی سے باہر آ گئے
لفظ وہ جن کو زباں تک لانے کی ہمت نہ تھی
آخر یک دن میری پیشانی سے باہر آ گئے
دم بخود اس حسن کو ہی دیکھتے رہتے تھے ہم
یوں برت ٹوٹا کہ حیرانی سے باہر آ گئے
آستیں میں پل رہے تھے لیکن اک دن یوں ہوا
سانپ آپس کی پریشانی سے باہر آ گئے
وہ تعلق ہم کو قید خواب جیسا تھا ظہیرؔ
کھل گئیں آنکھیں تو آسانی سے باہر آ گئے
جون ایلیا
ابھی اِک شور سا اُٹھا ہے کہیں
کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
ہے کُچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کُچھ
اِس سے پہلے بھی ہو چُکا ہے کہیں
تُجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کو
کہیں رکھتا ہے، ڈُھونڈتا ہے کہیں
جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا
وہ یہاں سے چَلا گیا ہے کہیں
آج شمشان کی سی بُو ہے یہاں
کیا کوئی جسم جَل رہا ہے کہیں
نہیں مِلتا بہاروں کا نشاں تک
خزاں تو چھا گئی ہے آسماں تک
مِری لغزش تو یاد آتی رہے گی
مُجھے وہ بُھول جائیں گے کہاں تک
دِلوں میں آرزُو تڑپا کرے گی
مگر شِکوے نہ آئیں گے زباں تک
بساطِ آرزُو بِکھری پڑی ہے
غُبارِ کارواں سے کارواں تک
تِرا غم ہر طرف پھیلا ہُوا ہے
اسی کے سِلسلے ہیں لامکاں تک
تُمارے ساتھ میرا ذِکر ہو گا
میں جیتا ہُوں تُمہاری داستاں تک
”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ !
میں نے سمجھا تھا کہ تُو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صُورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سِوا دُنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟
تُو جو مل جاۓ تو تقدیر نگوں ہو جاۓ
یُوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جاۓ ...
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
اَن گِنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اَطلس و کَمخواب میں بنواۓ ہوۓ
جابجا بِکتے ہُوۓ کُوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوۓ خون میں نہلاتے ہوۓ
لوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر کیا کیجیئے
اَب بھی دلکش ہے تیرا حُسن مگر کیا کیجیئے !
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
مجھ سے پہلی سی مُحبت میرے محبوب نہ مانگ !
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سمن اور گلاب
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تیری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی
مدھم مدھم ۔۔
دور افق پار چمکتی ہوئی
قطرہ قطرہ۔۔
گر رہی رہے تیری دلدار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پے اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
فیض احمد فیض
📕🖋️
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain