بن میں ویراں تھی نظر ،شہر میں دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رت جگے کاشت نہ کر لے تو وہ کب سوتا ہے جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھر شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تیرے بخشے ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہو میرے معیار سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پس دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید میری محرومی کا کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے