مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں مرزا غالب
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کرلیا، صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی (فیض احمد فیضؔ)
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain