ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ،، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے ، شبِ انتظار چلی گئی ـــــــــــ
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر ــ مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں ، نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے ، سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم ، سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا ، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا ، وہ گناہ گار چلے گئے
جناح ہسپتال ،کراچی
21اگست1953
رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے
شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے
خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے
وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار نہ تھی
ہم ان میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے
ضیائے بزم جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
فیض 🥀
نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
قریب اُن کے آنے کے دن آ رہے ہیں
جو دل سے کہا ہے ، جو دل سے سُنا ہے
سب اُن کو سُنانے کے دن آ رہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سرِ راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں
ٹپکنے لگی اُن نگاہوں سے مستی
نگاہیں ، چُرانے کے دن آ رہے ہیں
صَبا پھر ہمیں پُوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو ، سَجانے کے دن آ رہے ہیں
چلو فیضؔ پھر سے کہیں دل لگائیں
سُنا ہے ٹِھکانے کے دن آ رہے ہیں
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
فیض احمد فیض
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گےغمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ
مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے
فیض احمد فیض
غزل
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
چاند کا رقص ، ستاروں کا فسوں مانگتی ہی
زندگی پھر کوئی ، انداز جنون مانگتی ہے
مدتیں گزریں، کہ یخ بستہ ہوئے قلب و جگر
غیرتِ عشق مگر ، سوزِ دروں مانگتی ہے
فیض موسم تھا ، پرندے ہوئے آزاد مگر
خوئے صیاد وہی ، صیدِ زبوں مانگتی ہے
فصلِ گل کے لیے ، کیا جان پہ کھیلے کوئی
اب تو ہر موج ہوا ، تحفہء خون مانگتی ہے
کچھ تو آئے یورشِ آلام و حوادث دم لے
گردشِ وقت بھی تھوڑا سا سکوں مانگتی ہے
خوبی فن نہیں پروردہ آورد سحر
روح تخلیق دمِ کن فیکوں مانگتی یے !!!
فیض احمد فیض
ہم رہیں یا نہ رہیں ساقی و میخانہ رہے گا
میرے بعد بھی ہجر کا زندہ یہ افسانہ رہے گا
زندگی عارضی قیام گاہ ہی تو ہے دوستوں
میرے بعد بھی یہاں لوگوں کا آنا جانا رہے گا
نہ مجھے کوئی گلہ ہے نہ شکایت اس سے
چاہت کا وہی عالم وہی انداز پرانا رہے گا
دل میں رہنے والوں کی یہ بھی اک ادا ہے
وار جب بھی کریں گے دل نشانہ رہے گا
تاج میر یہ ضروری نہیں کہ آج مصروف ہے بہت
اس کے پاس نہ ملنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ رہے گا
دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا
پھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھنا
آنکھوں کی روشنی سے ہے ہر سنگ آئینہ
ہر آئنہ میں خود کو گنہ گار دیکھنا
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
میداں کی ہار جیت تو قسمت کی بات ہے
ٹوٹی ہے کس کے ہاتھ میں تلوار دیکھنا
دریا کے اس کنارے ستارے بھی پھول بھی
دریا چڑھا ہوا ہو تو اس پار دیکھنا
اچھی نہیں ہے شہر کے رستوں سے دوستی
آنگن میں پھیل جائے نہ بازار دیکھنا
ندا فاضلی
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
مرزا غالب
ہم نے ہی لَوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا
جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کیا
کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا
آمد پہ تیری عطر و چراغ و سَبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
اُس کو فرصت ہی نہیں وقت نکالے مُحسن
ایسے ہوتے ہیں بَھلا چاہنے والے محسن؟؟؟
یاد کے دَشت میں پھرتا ہوں میں ننگے پاؤں
دیکھ تو آ کے کبھی پاؤں کے چھالے مُحسن
کھو گئی صُبح کی امید اور اب لگتا ہے
ہم نہیں ہوں گے کہ جب ہوں گے اُجالے مُحسن
خاک کو بھی نہیں پنہچے گا کوئ کربل کی
اب بھلے ایک جہاں خون میں نہالے محسن
حاکمِ وقت کہاں،میں کہاں، عدل کہاں
کِیوں نہ خَلقت کی زبان پر لگائیں تالے مُحسن
وہ جو اِک شخص متاعِ دل و جان تھا، نہ رہا
اب بھلا کون میرے درد سنبھالے مُحسن
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain