تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو جو ملے خواب میں وہ دولت ہو میں تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنی ہی بے مرّوت ہو تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی کیسے انگڑائی سے شکایت ہو کس طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں تم مری زندگی کی عادت ہو کس لیے دیکھتی ہو آئینہ تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو داستاں ختم ہونے والی ہے تم مری آخری محبت ہو جون ایلیا
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مروتیں چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نے کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں فیض احمد فیض #FaizAhmedFaiz
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تَو رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کیلئے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تُو مجھ سے خفا ہے تَو زمانے کے لئے آ اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
ہے تیری ذات سے مجھ کو وہی نسبت جیسے چاند کے ساتھ چمکتا ہو ستارہ کوئی کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوئی ہم محبت میں بھی قائل رہے یکتائی کے ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوئی سوچتی ہوں، تیرے پہلو میں جو بیٹھا ہو گا کیسا ہو گا وہ پری وش وہ تمہارا کوئی Hai teri zat se mujh ko wohi nisbat jaise Chaand ke sath chamakta ho sitara koi Kaise jano ge ke raton ka tadapna kia hai Tum se bichhda jo nahi jan se pyare koi Hum muhabbat mein bhi qa’il rahe yaktaiy ke Hum ne rakha hi nahi dil mein dobra koi Sochte hoon, tere pehlu mein jo baitha ho ga Kaisa ho ga wo pari vish wo tumhara koi
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تُو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تُو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کیا خبر مَیں نے چاہتوں میں فراز کیا گنوایا ہے , کیا ملا ہے مجھے کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے احمد فراز