Damadam.pk
Muhammad_waseem22's posts | Damadam

Muhammad_waseem22's posts:

Muhammad_waseem22
 

اک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا کیا تھا
وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
بات تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا
جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا
جون ایلیا

Muhammad_waseem22
 

میری قیمت سمجھ میں آجاتی
تم جو ایک بار مجھ سے مل لیتے
سنبل جمشید پوری

Muhammad_waseem22
 

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو
کاش ہو جائے یہ خبر تم کو
زندگی میں کبھی کسی کو بھی
میں نے چاہا نہیں مگر تم کو
جانتی ہوں کہ تم نہیں موجود
ڈھونڈھتی ہے مگر نظر تم کو
تم بھی افسوس راہ رو نکلے
میں تو سمجھی تھی ہم سفر تم کو
مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو
عنبرین حسیب

Muhammad_waseem22
 

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا
شناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا
اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گا
کہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا
یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہے
مجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا
میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائے
شناسؔ اس کو مرا ہم سفر نہیں رہنا

Muhammad_waseem22
 

گنگناتی تھی اک ندی مجھ میں
رقص کرتی تھی چاندنی مجھ میں
میں جسے ہنس کے چھوڑ آئی تھی
خوب روتی ہے وہ گلی مجھ میں
اب وہ تصویر کیوں نہیں بنتی
جس کی رنگت تھی ہر گھڑی مجھ میں
یوں ہی بے ساختہ خیال آیا
ہائے کیا بات تھی کبھی مجھ میں

Muhammad_waseem22
 

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں
شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ
پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں
سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں
شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں
وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر
خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
محسن نقوی

Muhammad_waseem22
 

کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا
کوئی آ کے جیسے چلا گیا کوئی جا کے جیسے گیا نہیں
مجھے اپنا گھر کبھی گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا
مری بے کلی تھی شگفتگی سو بہار مجھ سے لپٹ گئی
کہا وہم نے کہ یہ کون تھا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے کب کسی کی امنگ تھی مری اپنے آپ سے جنگ تھی
ہوا جب شکست کا سامنا تو خیال تیری طرف گیا
کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا
ترے ہجر میں خور و خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ
کوئی لقمہ ہاتھ سے گر پڑا تو خیال تیری طرف گیا
مرے اختیار کی شدتیں مری دسترس سے نکل گئیں
کبھی تو بھی سامنے آ گیا تو خیال تیری طرف گیا

Muhammad_waseem22
 

جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
میں تو آواز ہوں آواز کی ہجرت کیسی
سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی
قصہ گو تو نے سنائی تھی حکایت کیسی
ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے
دشت کہتے ہیں کسے دشت کی وحشت کیسی
آپ کے خوف سے کچھ ہاتھ بڑھے ہیں لیکن
دست مجبور کی سہمی ہوئی بیعت کیسی
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
اور کچھ زخم مرے دل کے حوالے مری جاں
یہ محبت ہے محبت میں شکایت کیسی
میں کسی آنکھ سے چھلکا ہوا آنسو ہوں نبیلؔ
میری تائید ہی کیا میری بغاوت کیسی

Muhammad_waseem22
 

ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری
یہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیری
مری سمجھ میں یہ قاتل نہ آج تک آیا
کہ قتل کرتی ہے تلوار یا ادا تیری
نقاب لاکھ چھپائے وہ چھپ نہیں سکتی
مری نظر میں جو صورت ہے دل ربا تیری
لہو کی بوند بھی اے تیر یار دل میں نہیں
یہ فکر ہے کہ تواضع کروں میں کیا تیری
سنگھا رہی ہے مجھے غش میں نکہت گیسو
خدا دراز کرے عمر اے صبا تیری
ادا پہ ناز تو ہوتا ہے سب حسینوں کو
فضا کو ناز ہے جس پر وہ ہے ادا تیری
جلیلؔ یار کے در تک گزر نہیں نہ سہی
ہزار شکر کہ ہے اس کے دل میں جا تیری

ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری
یہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیری
نقاب لاکھ چھپائے وہ چھپ نہیں سکتی
مری نظر میں جو صورت ہے دل ربا تیری
M  : ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری یہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیری نقاب - 
Muhammad_waseem22
 

اب ُدل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی
حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی
اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا
اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی
ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ
ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی
کر دیتا ہے بے ساختہ بانہوں کو کشادہ
جب بچ کے نکل جانے کی صورت نہیں ہوتی
دل خوش جو نہیں رہتا تو اس کا بھی سبب ہے
موجود کوئی وجہ مسرت نہیں ہوتی
یوں بر سر پیکار ہوں میں خود سے مسلسل
اب اس سے الجھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی
اب یوں بھی نہیں ہے کہ وہ اچھا نہیں لگتا
یوں ہے کہ ملاقات کی صورت نہیں ہوتی
یہ ہجر مسلسل کا وظیفہ ہے مری جاں
اک ترک سکونت ہی تو ہجرت نہیں ہوتی
دو چار برس جتنے بھی ہیں جبر ہی سہہ لیں
اس عمر میں اب ہم سے بغاوت نہیں ہوتی

Muhammad_waseem22
 

شامل ہوں
کھیل میں تیری
تفریح کے لیے
بازی تو کتنی دیر سے
ہارا ہوا ہوں میں ۔!
🦋🦋

Muhammad_waseem22
 

مان چاهيان ٿو ٻيهار ڏسان،
مان توکي دل جي درپن ۾.
اڄ رات سويري پئج سمهي،
مان ايندس تو وٽ سپنن ۾.

Muhammad_waseem22
 

راهه تنهنجي ڏسي سمهي پيئي،
ٿڪجي هڪ زندگي سمهي پيئي.
درد جاڳيا جڏهن کان ئي دل ۾،
خوف کائي خوشي سمهي پيئي.

Muhammad_waseem22
 

رنگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي،
ڍنگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي.
ڇا چُمي، ڇا چُمان سونهن جي پار جا،
انگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي.

Muhammad_waseem22
 

اسان ٿر جي تتل واري،
پرين آهن گهٽائون ڄڻ،
ٿڌيريون ڪي هوائون ڄڻ،
اسان جي آس اڃياري.
اسان ٿر جي تتل واري

Muhammad_waseem22
 

درد دُکي ٿو خوشبو بڻجي،
دل صندل جي ڪاٺي آهي.
سُر جي آڏو سِرُ گهوريائين،
عشق چريو جذباتي آهي.

Muhammad_waseem22
 

ڪو ياد ڪندي ئي وسري ويو
ڪو وسري وسري ياد رھيو
ڪو پيار ڏيندي ئي وسري ويو
ڪو درد ڏيندي ئي ياد رھيو
بس ياد اچي ماضي ويو
وقت ھو ڪو گذري ويو
(استاد بخاري)

Muhammad_waseem22
 

ﭼﻞ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ہنر کو
ﺁﺯﻣﺎ ____ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎ
ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﺠﮭﮯ دل ﺳﮯ
😋😋ﺍﺏ____ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎ

Muhammad_waseem22
 

لوگ شامل تھے اور بھی لیکن❣️
دل تیری کوشیشوں سے ٹوٹا ہے🥀