اک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا کیا تھا
وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
بات تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا
جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا
جون ایلیا
میری قیمت سمجھ میں آجاتی
تم جو ایک بار مجھ سے مل لیتے
سنبل جمشید پوری
میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو
کاش ہو جائے یہ خبر تم کو
زندگی میں کبھی کسی کو بھی
میں نے چاہا نہیں مگر تم کو
جانتی ہوں کہ تم نہیں موجود
ڈھونڈھتی ہے مگر نظر تم کو
تم بھی افسوس راہ رو نکلے
میں تو سمجھی تھی ہم سفر تم کو
مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو
عنبرین حسیب
دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا
شناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا
اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گا
کہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا
یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہے
مجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا
میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائے
شناسؔ اس کو مرا ہم سفر نہیں رہنا
گنگناتی تھی اک ندی مجھ میں
رقص کرتی تھی چاندنی مجھ میں
میں جسے ہنس کے چھوڑ آئی تھی
خوب روتی ہے وہ گلی مجھ میں
اب وہ تصویر کیوں نہیں بنتی
جس کی رنگت تھی ہر گھڑی مجھ میں
یوں ہی بے ساختہ خیال آیا
ہائے کیا بات تھی کبھی مجھ میں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں
شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ
پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں
سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں
شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں
وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر
خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
محسن نقوی
کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا
کوئی آ کے جیسے چلا گیا کوئی جا کے جیسے گیا نہیں
مجھے اپنا گھر کبھی گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا
مری بے کلی تھی شگفتگی سو بہار مجھ سے لپٹ گئی
کہا وہم نے کہ یہ کون تھا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے کب کسی کی امنگ تھی مری اپنے آپ سے جنگ تھی
ہوا جب شکست کا سامنا تو خیال تیری طرف گیا
کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا
ترے ہجر میں خور و خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ
کوئی لقمہ ہاتھ سے گر پڑا تو خیال تیری طرف گیا
مرے اختیار کی شدتیں مری دسترس سے نکل گئیں
کبھی تو بھی سامنے آ گیا تو خیال تیری طرف گیا
جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
میں تو آواز ہوں آواز کی ہجرت کیسی
سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی
قصہ گو تو نے سنائی تھی حکایت کیسی
ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے
دشت کہتے ہیں کسے دشت کی وحشت کیسی
آپ کے خوف سے کچھ ہاتھ بڑھے ہیں لیکن
دست مجبور کی سہمی ہوئی بیعت کیسی
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
اور کچھ زخم مرے دل کے حوالے مری جاں
یہ محبت ہے محبت میں شکایت کیسی
میں کسی آنکھ سے چھلکا ہوا آنسو ہوں نبیلؔ
میری تائید ہی کیا میری بغاوت کیسی
ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری
یہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیری
مری سمجھ میں یہ قاتل نہ آج تک آیا
کہ قتل کرتی ہے تلوار یا ادا تیری
نقاب لاکھ چھپائے وہ چھپ نہیں سکتی
مری نظر میں جو صورت ہے دل ربا تیری
لہو کی بوند بھی اے تیر یار دل میں نہیں
یہ فکر ہے کہ تواضع کروں میں کیا تیری
سنگھا رہی ہے مجھے غش میں نکہت گیسو
خدا دراز کرے عمر اے صبا تیری
ادا پہ ناز تو ہوتا ہے سب حسینوں کو
فضا کو ناز ہے جس پر وہ ہے ادا تیری
جلیلؔ یار کے در تک گزر نہیں نہ سہی
ہزار شکر کہ ہے اس کے دل میں جا تیری
اب ُدل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی
حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی
اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا
اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی
ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ
ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی
کر دیتا ہے بے ساختہ بانہوں کو کشادہ
جب بچ کے نکل جانے کی صورت نہیں ہوتی
دل خوش جو نہیں رہتا تو اس کا بھی سبب ہے
موجود کوئی وجہ مسرت نہیں ہوتی
یوں بر سر پیکار ہوں میں خود سے مسلسل
اب اس سے الجھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی
اب یوں بھی نہیں ہے کہ وہ اچھا نہیں لگتا
یوں ہے کہ ملاقات کی صورت نہیں ہوتی
یہ ہجر مسلسل کا وظیفہ ہے مری جاں
اک ترک سکونت ہی تو ہجرت نہیں ہوتی
دو چار برس جتنے بھی ہیں جبر ہی سہہ لیں
اس عمر میں اب ہم سے بغاوت نہیں ہوتی
شامل ہوں
کھیل میں تیری
تفریح کے لیے
بازی تو کتنی دیر سے
ہارا ہوا ہوں میں ۔!
🦋🦋
مان چاهيان ٿو ٻيهار ڏسان،
مان توکي دل جي درپن ۾.
اڄ رات سويري پئج سمهي،
مان ايندس تو وٽ سپنن ۾.
راهه تنهنجي ڏسي سمهي پيئي،
ٿڪجي هڪ زندگي سمهي پيئي.
درد جاڳيا جڏهن کان ئي دل ۾،
خوف کائي خوشي سمهي پيئي.
رنگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي،
ڍنگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي.
ڇا چُمي، ڇا چُمان سونهن جي پار جا،
انگ ڪيڏا کڻي شام آهي لٿي.
اسان ٿر جي تتل واري،
پرين آهن گهٽائون ڄڻ،
ٿڌيريون ڪي هوائون ڄڻ،
اسان جي آس اڃياري.
اسان ٿر جي تتل واري
درد دُکي ٿو خوشبو بڻجي،
دل صندل جي ڪاٺي آهي.
سُر جي آڏو سِرُ گهوريائين،
عشق چريو جذباتي آهي.
ڪو ياد ڪندي ئي وسري ويو
ڪو وسري وسري ياد رھيو
ڪو پيار ڏيندي ئي وسري ويو
ڪو درد ڏيندي ئي ياد رھيو
بس ياد اچي ماضي ويو
وقت ھو ڪو گذري ويو
(استاد بخاري)
ﭼﻞ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ہنر کو
ﺁﺯﻣﺎ ____ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎ
ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﺠﮭﮯ دل ﺳﮯ
😋😋ﺍﺏ____ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎ
لوگ شامل تھے اور بھی لیکن❣️
دل تیری کوشیشوں سے ٹوٹا ہے🥀
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain