Damadam.pk
MushtaqAhmed's posts | Damadam

MushtaqAhmed's posts:

MushtaqAhmed
 

"
اب آگے شہزادی کا قصہ سنیے۔شہزادی جنگل میں رہنے لگی اور بھوک مٹانے کے لیے جنگلی پھل، پھول، بوٹے کھا کر اپنا وقت گزارنے لگی۔ اس دوران بہت سا وقت گزر گیا۔ جھاڑیوں، کانٹوں سے الجھ کر اس کے بوسیدہ کپڑے تار تار ہو گئے۔ آخر کار اس کے بدن پر کوئی کپڑا نہ رہا ۔
ایک دن کسی اور ملک کا بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسی جنگل کے راستے سے گزر رہا تھا۔ اتفاقاً بادشاہ اسی طرف جا نکلا جدھر شہزادی تھی۔ جب شہزادی کی کانوں میں کسی گھوڑے کے قدموں کی آہٹ پڑی تو جلدی جلدی کسی گھنے درخت پہ چڑھ گئی اور اس کے بڑے بڑے پتے توڑ کر اپنی ستر پوشی کر کے چھپ کے بیٹھ گئی۔ بادشاہ بھی آ کے اسی درخت کے نیچے ٹھہر گیا۔ درخت گھنا اور سایہ دار تھا۔ ایک طرف اپنے گھوڑے کو باندھا، اور درخت کے سائے میں کپڑا بچھا کر تھوڑی دیر سستانے کی خاطر لیٹ گیا۔

MushtaqAhmed
 

شہزادی آنسو بہاتے ہوئے گھنے جنگل کی طرف جانے لگی ۔ آخری بار پلٹ کر بھائی کو دیکھا اور جنگل میں گھس گئی۔ اس کے بعد شہزادے نے ادھر ادھر سے ڈھونڈ کر ایک ہرن کا شکار کیا۔ اس کے گردن کا خون نکالا اور آنکھیں نکال کر لے جا کر بادشاہ کو دکھا دیں۔ بادشاہ نے آئینہ منگوایا۔ اس میں ان آنکھوں کو اور اپنی آنکھوں کو غور سے دیکھا ۔ جب اس کو یقین ہو گیا کہ آنکھوں کا رنگ ایک ہی ہے تب اسے تسلی ہوئی۔
ملکہ نے کسی طور شہزادے کو بلا کر اس سے بیٹی کے متعلق پوچھا۔ شہزادے نے ماں کے سامنے سارا احوال گوش گزار کر دیا۔ ملکہ نے منہ آسمان کی طرف کر کے ہاتھ اوپر اٹھائے اور بیٹی کے لیے دعا مانگی کہ اے اللہ! تو میری بیٹی کی حفاظت کر۔ اسے اپنے امان میں رکھ اور اسے کسی اچھی جگہ پار لگا۔"

MushtaqAhmed
 

رہ نہ تھا اگرچہ اسے اپنی بہن کے متعلق اب معلوم ہوا۔ لیکن اسے پتا تھا کہ بادشاہ ہر صورت اپنی بیٹی کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس نے اسے قتل نہیں کیا تو بادشاہ دونوں کو ہلاک کر دے گا۔ مجبور ہو کر اپنی بہن کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف چل پڑا۔ جب دونوں جنگل پہنچ گئے تو بھائی کی محبت بہن کے لیے جوش میں آ گئی۔ بہن سے کہا کہ میں کسی صورت تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں یہیں چھوڑے دیتا ہوں آگے تمہاری قسمت کہ تمہیں درندے کھا جائیں یا تم بچ کر کہیں اور نکل جاؤ۔" لیکن بہن نے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔" نہیں بھائی !تم مجھے قتل کر دو۔ میری آنکھیں اور خون لے جا کر باپ کو دکھا دو۔ نہیں تو وہ تمہیں مار دے گا جو مجھے کسی صورت گوارہ نہیں۔" دونوں بھائی بہن ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو پڑے۔ آخر کسی طرح بھائی نے بہن کو منا لیا۔

MushtaqAhmed
 

بیچاری پہلے سے ہی دو ہڈیوں پر تھی، اتنی مار برداشت نہ کرسکی اور بادشاہ کے سامنے چیخ پڑی۔" بادشاہ سلامت! یہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کی بیٹی ہے۔ میں نے اسے ہلاک کرنے کے بجائے لے جا کر اپنے گھر میں اس کی پرورش کی ہے۔"
اب بادشاہ کو احساس ہوا کہ وہ کیا غلطی کرنے جا رہا تھا۔ خدا نے اسے گناہ عظیم سے بچایا۔ وہ اور زیادہ غصے میں آ گیا۔ اپنے بیٹے یعنی شہزادے کو بلا کر حکم دیا کہ اپنی بہن کو جنگل میں لے جا کر قتل کر دے اور اس کی آنکھیں نکال کر اور گردن کا خون لا کر مجھے دکھا دے تاکہ مجھے یقین ہو جائے۔"
شہزادہ پریشان ہوا کہ وہ کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کو قتل کرے۔ اس کی آنکھیں نکال لے اور اس کے گردن کا خون لا کر باپ کو دکھا دے۔ اسے کسی صورت یہ گوارہ نہ تھا اگر

MushtaqAhmed
 

چونکہ حقیقت کا کسی کو پتا نہیں تھا۔ اس لیے دوسرے دن وزیر، وکیل وغیرہ دائی کے گھر بادشاہ کے لیے اس کی نواسی کا ہاتھ مانگنے گئے۔ اب دائی کے اوسان خطا ہو گئے کہ یا اللہ! اب کیا کروں؟ اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا " میں ایک غریب ہوں۔ میری نواسی بادشاہ کے لائق نہیں اور نا ہی بادشاہ کا کسی غریب سے رشتہ جوڑنا صحیح ہے۔ اس لیے دوبارہ اس سلسلے میں میرے گھر مت آئیے گا۔"
بادشاہ خود تو نہیں آیا لیکن دائی کے گھر رشتے کے لیے بہت سے بندے بھیجے۔ سب نے دائی کو بہت منت سماجت کی، لالچ دیے، دھونس دھمکی دی، لیکن دائی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ تب بادشاہ نے حکم دیا کہ دائی کو پکڑ کے خوب سزا دے دو تاکہ وہ رشتے کے لیے مان جائے۔
سپاہی دائی کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لائے اور انہوں نے اسے خوب کوٹ کوٹ کر پیٹنا شروع کیا۔ سپائیوں نے دائی کو کپڑے کی طرح نچوڑ کے رکھ دیا۔

MushtaqAhmed
 

کے باعث خوش ہوا۔
دائی نے لوگوں کے سامنے شہزادی کو اپنی نواسی ظاہر کیا۔ کبھی کبھار بادشاہ سے چھپ چھپا کے شہزادی کو لاتی اور ملکہ اپنی بیٹی کو دیکھ کر اس کی مامتا کو کچھ قرار ملتا اور وہ دائی کو سونا چاندی اپنے بیٹی کی نگہداشت کے واسطے دے دیا کرتی۔ چونکہ شہزادی کی پرورش اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔ اس لیے خوب قد کاٹھ نکالی۔ خوبصورت تھی ہی اس لیے جوان ہوتے ہی دنیا کے سامنے شہزادی نہ ہوتے ہوئے بھی شہزادیوں کی طرح دِکھنے لگی۔
ایک دن بادشاہ کی سواری شہر سے گزر رہی تھی ۔ اسی وقت شہزادی اور دائی بھی اسی راستے سے گزر رہی تھیں۔ بادشاہ کی نظر شہزادی پر پڑی۔ پوچھا "یہ کون ہے؟" وزیر نے کہا "یہ اس بیچاری عورت کی نواسی ہے۔" بادشاہ نے حکم دیا "مجھے یہ بہت پسند آئی ہے۔ کل اس کے گھر میرے لیے رشتہ لے کر جانا۔"

MushtaqAhmed
 

م پیدا کیا۔ اس نے ملکہ سے کہا۔
"اے ملکہ! آپ دل چھوٹا مت کیجئے۔ میں یہاں سے سب کے سامنے بچی کو ہلاک کرنے کے بہانے لے جاؤں گی۔ پر میں یہاں سے اسے اپنے گھر میں لے جا کر پالوں گی۔ اگر آپ کسی طرح سے بچی کے لیے خرچ وغیرہ بھیجتی رہیں گی تو آپ کی بچی خوشحال اور آسودہ ہوگی، وگرنہ مجھ غریب کو جو نصیب اس سے اسے بھی پالنے کی کوشش کروں گی۔"
ملکہ نے کچھ سونا چاندی، زیور وغیرہ بچی کے واسطے تھما دئیے۔ بچی کو اس کے حوالے کیا۔ محل میں یہ بات پھیلائی گئی کہ دائی نے بچی کو لے جا کر ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ دائی نے شہزادی کو اپنے گھر لا کر پورے ناز و نعم سے اس کی پرورش شروع کر دی۔
جب بادشاہ اپنے سفر سے واپس آیا تو اسے یہی احوال سنایا گیا کہ آپ کے جانے کے بعد بچی کی ولادت ہوئی اور آپ کے حکم کے بموجب اسے ہلاک کی گئی۔ بادشاہ اپنی بد عادتی کے باعث خوش ہوا۔

MushtaqAhmed
 

👑ایک بادشاہ تھا۔ تھا تو منصف اور عادل پراس میں ایک عادت بد تھی۔ اسے بیٹی سے بہت نفرت تھی۔ اللہ کی قدرت کہ اس کے ہاں پہلے بیٹا پیدا ہوا۔ اسے اپنا بیٹا بہت عزیز تھا۔ بہت ناز و نعم اور لاڈ و پیار سےاس کی پرورش ہو رہی تھی۔چند سال بعد ملکہ پھر امید سے ہو گئی۔ ولادت کے دن قریب تھے۔ لیکن بادشاہ سلامت کو کسی دوسرے بادشاہ کی دعوت پر ملک سے باہر جانا پڑا۔ جانے سے پہلے بادشاہ نے ملکہ کو حکم دیا کہ میں کہیں باہر جا رہا ہوں، اگر میرے آنے سے پہلے ولادت ہوئی، لڑکا ہوا تو ٹھیک لیکن اگر لڑکی ہوئی تو اسے ہلاک کر دینا۔
بادشاہ چلا گیا۔ چند ہفتے بعد اس کے ہاں لڑکی کی ولادت ہوئی۔ اولاد ماں کو بہت پیاری ہوتی ہے۔ ملکہ رونے لگی کہ اے اللہ! اب میں کیا کروں؟ ولادت کے وقت ایک دائی موجود تھی جو ملکہ کی حالت زار دیکھ رہی تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں رحم پیدا کیا۔ اس نے م

MushtaqAhmed
 

کمبخت ضبط غم تجھے غارت کرے خدا
یوں لگ رہا ہے میں پریشان ہی نہیںGood night All😊😍

MushtaqAhmed
 

تیری ایک جهلک کو ترس جاتا ہے دل میرا
قسمت والے ہیں وہ لوگ جو روز تیرا دیدار کرتے ہیں

MushtaqAhmed
 

میں نے کچھ دیر خاموش راہ کر دیکھا
میرا نام تک بھول گئے میرے صدقے اتارنے والے

MushtaqAhmed
 

دیکھ کر مجھے کیوں تم دیکھتے نہیں
یاراں یہ بے رخی سہی تو نہیں !!!

MushtaqAhmed
 

پھر یو ھوا کہ حسرتیں پیرو میں گر پڑی
پھر میں نے انہیں روند کر قصہ ختم کر دیا

MushtaqAhmed
 

رنگ تیری یادوں کا اتر نہ پایا اب تک۔۔۔۔۔۔
لاکھ بار آنسوؤں سے دھویا ہم نے۔

MushtaqAhmed
 

عرصے بیت گئے ہیں تیرے عشق لکھتے لکھتے۔۔۔۔۔۔
دو لفظ تو بھی میرے صبر پر لکھ دیتے ۔ن

MushtaqAhmed
 

وہ تو خشبو ھے ھواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ھے وہ کدھر جائے گا !!!

MushtaqAhmed
 

ایک عجیب سوگ ھے میرے اندر
جیسے رو رو کے مر گیا ھو کوئی

MushtaqAhmed
 

کتنی راتیں بیت گی کتنے دن بیت گۓ
بس نہیں بیتے تو وہ یادوں کے پل
وہ گزرا ھوا کل
وہ آنکھوں کی نمی
اور تیری کمی!!

MushtaqAhmed
 

تمام عمر اب مجھ کو اداس رکھے گا
یہ جو چند روزہ مجھ میں قیام ھے تیرا

MushtaqAhmed
 

کبھی محسوس کیجئے تپش لفظوں کی جناب
لکھتے نہیں ہم درد فقط واااہ واااہ کے واسطے