داستان سنانا بند کروں گی اور آئندہ کے لیے بھی کوئی قصہ سنانے نہیں آؤں گی۔"
بادشاہ نے سب کو حکم دیا۔ سب نے اقرار کیا کہ وہ داستان کے درمیان نہیں اٹھیں گے۔
شہزادی نے داستان سنانا شروع کی۔" ایک ظالم بادشاہ تھا۔ اسے اپنے گھر میں بیٹی کی پیدائش پسند نہیں تھی۔ جب اس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی تو اپنے بیوی کو اسے مارنے کا حکم دیا۔ اس کے بیوی نے دائی کے ذریعے اپنی بیٹی کو بچا کر اس کی پرورش کی۔ ایک دن اس لڑکی پر بادشاہ کی نظر پڑی جو اب جوان ہو گئی تھی۔ بادشاہ نے اس بوڑھی دائی کے گھر اپنے لیے رشتہ بھیجا لیکن دائی نے تسلیم نہیں کیا۔ بادشاہ نے اس پر ظلم و ستم ڈھائے تب دائی نے بتایا کہ وہ لڑکی اسی بادشاہ کی بیٹی ہے۔"
بادشاہ حیران ہوا کہ یہ تو میرا قصہ ہے
ے ے سے بیزار تھے اس لیے بہت خوش تھے۔
شہزادی ہر رات آ کر بادشاہ کو ایک نیا قصہ سناتی۔ بادشاہ سے داد اور انعام و اکرام پا کر واپس اپنے فقیر بھائیوں کے ساتھ گھر لوٹ آتی۔ فقیروں کی جان بھی بھیک مانگنے سے چھوٹ گئی۔ایک رات جب وہ آئی تو دیکھا کہ آج تو اس کا شوہر بادشاہ، وزیر، وکیل، قاضی وغیرہ بھی اس کے باپ بادشاہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ شہزادی نے سوچا آج تو قصہ مزہ کرے گا۔
شہزادی آج بھی ہر روز کی طرح نقاب میں تھی۔ پردے کے دوسری طرف آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ بادشاہ سے کہا۔"بادشاہ سلامت! آج میں ایک بہت خاص داستان سنانے والی ہوں۔ اگر کسی کو کوئی حاجت درپیش ہے تو ابھی سے اٹھ کر رفع حاجت پوری کرے۔ داستان کے درمیان کسی کو اٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اٹھ گیا تو میں داستان سنانا بند کروں گی اور آئندہ کے لیے بھی کوئی قصہ سن
کے باپ کو قصہ سننے کا بہت شوق ہے۔ اس نے اپنے فقیر بھائیوں سے کہا کہ جا کے بادشاہ کو بتا دو کہ ہماری بہن ایک قصہ گو ہے۔ کیا وہ اسے شاہی قصہ گو کے طور پر ملازمت دے گا یا نہیں۔ فقیروں نے بادشاہ کے دربار تک رسائی حاصل کر کے اس کو یہ گوش گزار دیا کہ ہماری ایک بہن ہے جو بہت اچھی قصہ گو ہے۔ اگر اسے پسند ہو تو اسے قصہ سنوانے کے لئے لے کر لائیں۔ بادشاہ نے انہیں اجازت دے دی اور کہا کہ اگر اس کے قصے پسند آئے تو وہ اسے شاہی قصہ گو رکھ دیں گے۔ شام کو فقیر شہزادی کو لے کر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ شہزادی نقاب میں تھی اور درمیان میں بھی پردہ حائل تھا۔ اس نے بادشاہ کے لیے ایک قصہ سنایا جو بادشاہ کو بہت پسند آیا۔ اس نے خوش ہو کر فقیروں کو بہت سا انعام و اکرام دیا۔ فقیر انعام و اکرام لے کر بہن کے ہمراہ واپس گھر آئے۔ وہ پہلے ہی بھیک مانگنے سے بیزار تھے
نوں بچوں کو کھا کر خود بھاگ نکلی۔"
بادشاہ حیران و پریشان ہو گیا کہ یہ کیا بات ہو گئی۔ وہ ان تینوں پر شک میں پڑ گیا۔ لیکن کہا کہ بعد میں دیکھتے ہیں۔ ابھی جس طرف جا رہے ہیں، وہاں جا کے فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ بادشاہ اپنے دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ جا کے اپنے ظالم سسر بادشاہ کو دیکھوں اور اس سے پوچھوں کہ اسے کیوں بیٹیوں سے اتنی نفرت ہے؟ اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے اس کی بیٹی ڈائن بن گئی اور اپنے بچوں تک کو کھا گئی۔ چلتے چلتے انہوں نے ایک بڑے دریا کو پل کے ذریعے پار کیا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔
ادھر شہزادی فقیروں کی بہن بن کر رہنے لگی۔ اسے ادھر ادھر سے سن گن مل گئی اور سمجھ گئی کہ اپنے باپ بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئی ہے۔اسے پتا تھا کہ اس کے باپ کو قصہ سننے کا بہت شوق ہے۔ اس نے اپنے فقیر بھائیوں سے کہا کہ جا کے
گے۔ وہ جس کا کہے، یہ عورت اسی کی ہے۔ وہ شہزادی کو اپنے باپ کے پاس لے گئے۔ ان کا باپ ایک زیرک اور عقلمند انسان تھا۔ دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ کسی شہنشاہ گھرانے کی عورت ہے۔ میرا کوئی بھی بیٹا اس کے لائق نہیں۔ اسی وجہ سے اس نے اپنے بیٹوں کو سمجھایا۔" اے میرے بیٹے! تم چھ بھائی ہو۔ تمہاری کوئ بہن نہیں ہے۔ اسے اپنا بہن بنا لو۔ تم چھ بھائی اور ساتویں تمہاری یہ بہن۔ اس کی خوب نگہداشت کرو۔ اس کی برکت سے تم سب سرخرو رہو گے۔" باپ کے فیصلے سے فقیر بہت خوش ہو گئے اور اپنے سے بڑھ کر شہزادی کا خیال رکھنے لگے۔
ان کو چھوڑ، جب بادشاہ چوتھے دن آ کر لشکر سے ملا تو دیکھا وزیر، وکیل اور قاضی اس سے کترا رہے تھے۔ اس کے سامنے شرمسار سے تھے۔ پوچھا میرے بیوی بچے کہاں ہیں؟ تینوں نے یک زبان ہو کر کہا۔" ملکہ تو ایک ڈائن تھی۔ تینوں بچوں کو کھا کر خود بھاگ نکلی۔"
ب
ہ نے پوچھا کہ بچے کدھر ہیں تو میں اسے کیا جواب دوں گی؟ اس سے بہتر ہے کہ خود کو اس دریا کے حوالے کر دوں۔ یہ فیصلہ کر کے اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ پر شور دریا اسے چکر دے کر کہیں کا کہیں پہنچا کے دوسری طرف نکال لے گیا۔ دوسری طرف چھ فقیر جو کہ بھائی تھے، اپنے کپڑے دریا پر دھونے کے لائے تھے۔ جب دیکھا کہ دریا میں کوئی عورت بہتی ہوئی آ رہی ہے تو پکڑ کر باہر نکال لائے۔
اب شہزادی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے ہوش و حواس جواب دے گئے کہ کہاں وہ تینوں بد ذات و بدکردار کہ ان سے اپنی عزت بچا کر بھاگ نکلی تو ان چھ ننگ دھڑنگ فقیروں کے ہتھے چڑھ گئی۔ فقیروں میں سے ہر ایک یہی کہہ رہا تھا کہ یہ میری ہے۔ آخر صلاح یہی ٹھہری کہ اسے باپ کے پاس لے جائیں گے۔ وہ جس کا کہے، یہ عورت اسی کی ہے۔ وہ شہزادی کو اپنے باپ کے پاس لے گئے۔ ان کا باپ ایک زیرک ا
ح شیطان بن چکا تھا۔ اس پہ ان باتوں، منت سماجتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ شہزادی نے دیکھا کہ یہ بھی نہیں ٹلنے والا تو اس خیال سے کہ شاید اس کے دل میں رحم پیدا ہو جائے، اپنے تیسرے سب سے چھوٹے بیٹے کو اس کے سامنے کر دیا۔ اس کی دہائی دی۔ واسطے دئیے لیکن قاضی تو ان دونوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔قاضی بدبخت کو بھی رحم نہ آیا اور معصوم بچے کا سر قلم کر دیا۔ شہزادی نے اسے بھی یہی کہا کہ میں پاک و صاف ہوں۔ وضو سے ہوں ۔ مجھے موقع دو تاکہ اپنا وضو توڑ دوں۔ اس کے بعد جو تم چاہو، کرو۔قاضی نے بھی اسے جانے دیا۔
جیسے ہی شہزادی باہر نکلی، جدھر منہ اٹھا، بھاگ نکلی۔ بھاگتے بھاگتے اچانک اس نے دیکھا کہ آگے ایک بہت بڑا دریا بہہ رہا تھا۔ اس کے دل میں دھواں بھر گیا، اپنے معصوم بچے یاد آئے۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ اگر بادشاہ نے پوچھا کہ
کر دیا گیا تو دیکھا کہ قاضی صاحب اپنا خیمہ اس کے خیمے کے سامنے ایستادہ کر وا رہا ہے۔ شہزادی نے اسے بھی بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی لیکن قاضی بد ذات بھی ٹلنے والوں میں سے نہیں تھا۔
آج کی رات بھی شہزادی کے لیے قیامت کی رات تھی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ قاضی بد ذات بھی ان دونوں سے کسی طور کم نہیں۔ آج رات تو شہزادی بالکل بھی نہیں سوئی، بیٹھی رہی۔ جب رات آدھی سے زیادہ گزر گئی تو دیکھا کہ قاضی بھی خراماں خراماں خیمے میں داخل ہو رہا ہے۔ شہزادی نے اسے بھی بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی۔ بہت منت سماجت کی۔ خدا رسول کے واسطے دئیے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وزیر وکیل جاہل تھے لیکن تم تو عالم و فاضل انسان ہو۔ لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ہو۔ تمہیں ایسی حرکت زیب بھی نہیں دیتی۔ لیکن قاضی بھی پوری طرح شیطان بن چکا تھا۔ اس پہ ان باتوں، منت سماجتوں کا کوئی اثر نہ
جا کر سو تا بن گیا۔
جب صبح پو پھٹی تو شہزادی آہستہ آہستہ اپنے خیمے میں داخل ہو گئی۔ دیکھا کہ دوسرے بیٹے کی لاش بھی نہیں ہے۔ سمجھ گئی کہ بدکردار وکیل نے اسے ٹھکانے لگا دیا ہے۔ بیچاری کس پر اعتبار کرتی، اس لیے چپ رہی۔ لشکر پھر شہزادی کے باپ بادشاہ کے ملک کی طرف روانہ ہو گیا۔ آج شہزادی اکیلی ایک بیٹے کے ساتھ غموں کا انبار لیے اونٹ پر سوار تھی۔ جب تیسرے منزل پر پڑاؤ ڈالا گیا تو آج وزیر اور وکیل نے اپنے خیمے شہزادی کے خیمہ سے بہت دور کھڑا کروا دئیے تھے۔ وہ شرمندہ شرمندہ شہزادی کے سامنے آ ہی نہیں رہے تھے۔ حیران و پریشان تھے کہ جب بادشاہ کو پتا چلے گا تو اسے کیا جواب دیں گے؟
آج جیسے ہی شہزادی کا خیمہ کھڑا کر دیا گیا تو دیکھا کہ قاضی صاحب اپنا خیمہ اس کے خیمے کے سامنے ایستادہ
ہیں ٹلنے والا تو مجھے موقع دے۔ کیونکہ میں پاک و صاف اور وضو سے ہوں۔ مجھے کچھ وقت دے تاکہ میں خود کو ناپاک کر دوں۔ اس کے بعد جو تمہارا دل چاہے، کرو۔" وکیل نے اسے جانے دیا ۔ شہزادی خیمے سے نکل گئی۔
آج بھی شہزادی میں جتنی ہمت تھی، نکل بھاگی۔ اور جہاں تک اس کے قدموں نے ساتھ دیا، بھاگی۔ اور آخر کار تھک ہار کر ایک بڑے جھاڑی کے پیچھے جا کر چھپ گئی۔ وکیل نے جب دیکھا کہ شہزادی ابھی تک نہیں آئی تو اس کے پیچھے نکل پڑا۔
ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر کے اسے بہت ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اب اسے ڈر لگنے لگا کہ بچہ بھی جان سے گیا اور شہزادی بھی بھاگ نکلی۔ اگر کسی نے بادشاہ کو خبر دی تو وہ مجھے کھولتے تیل میں تل دے گا۔ وکیل جلدی جلدی واپس آیا۔ مرے ہوئے بچے کو اٹھا کر کہیں دور دفن کیا اور اپنے خیمے میں جا کر سو تا بن گیا۔
ردار! میرے خیمے میں داخل ہونے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ نکل جاؤ خیمے سے۔" لیکن وکیل اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شہزادی نے دوبارہ اسے کہا۔" تم جانتے ہو کہ میں ایک بادشاہ کی بیٹی ہوں اور ایک بادشاہ کی بیوی ہوں۔ ایک پاک دامن عورت ہوں۔ اس لیے میرا پیچھا چھوڑ اور اپنے انجام کی فکر کر۔" لیکن بدکردار وکیل کہاں ٹلنے والا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ شہزادی سمجھ گئی کہ یہ بد ذات بھی نہیں ٹلنے والا۔ اس نے اپنے دوسرے بیٹے کو اس کے سامنے کیا اور اسے دہائی دی کہ اس معصوم کے سر کی قسم ! میرا پیچھا چھوڑ اور نکل جا یہاں سے۔ لیکن وکیل نے بھی تلوار سے وار کر کے اس کے دوسرے بیٹے کا سر تن سے جدا کر دیا۔ شہزادی نے بیچارگی سے کہا۔" اگر تم اپنے ناپاک ارادوں سے نہیں ٹلنے والا تو مجھے موقع دے۔ کیونکہ میں پاک و صاف اور وضو سے ہوں۔ مج
ہ اچھی بات نہیں ہے۔" وکیل نے کہا۔" اے ملکہ! بادشاہ سلامت نے مجھے آپ کےساز و سامان کی حفاظت کے لیے آپ کے ہمراہ کر دیا ہے اور پر زور تاکید کی ہے۔ اگر آپ کو یا آپ کے سامان کو کچھ ہو گیا تو میں بادشاہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔"
شہزادی نے جواباً کہا۔" اتنے جم غفیر کے درمیان مجھے اور میرے سامان کو کوئی قزاق نہیں لے جا سکے گا۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنا خیمہ کہیں دور ایستادہ کر واؤ۔" لیکن بدکردار وکیل ٹس سے مس نہ ہوا۔ اور اپنا خیمہ ادھر ہی ایستادہ کروا دیا۔
شہزادی پہلے سے ہی وزیر کے ہاتھوں مار کھا چکی تھی۔ اس لیے اس رات اپنے پوری ہوش و حواس میں تھی۔ ویسے بھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ آج بھی اس نے آدھی رات کو کسی کے قدموں کی آہٹ اپنے خیمے کی طرف آتے سنی تو مکمل بیدار ہو گئی۔ جب اس نے دیکھا کہ آنے والا وکیل ہے تو اسے للکارا۔"خبردار! م
۔ وزیر کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اسے ڈھونڈنے نکل گیا۔ ادھر ادھر تلاش کرنے لگا۔ لیکن ناکام رہا۔ صبح ہونے والی تھی۔آخر تھک ہار کر دوبارہ شہزادی کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ بچے کی لاش اٹھا کر کہیں دور دفن کیا اور اپنے خیمے میں آ کر گھس گیا۔
صبح بہت دیر کے بعد شہزادی اپنے خیمے میں داخل ہو گئی۔ اپنے مقتول بیٹے کو نہ پا کر رونے لگی۔ لشکر دوبارہ روانہ ہو گیا۔ چلتے چلتے شام تک دوسری منزل پر جا پہنچے۔
خادموں نے شہزادی کا خیمہ ایستادہ کرنا شروع کیا۔ شہزادی نے دیکھا کہ وزیر نے آج اپنا خیمہ بہت دور کھڑا کروایا ہے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ خدام ایک اور خیمہ اس کے خیمے کے قریب ایستادہ کر رہے ہیں۔ پوچھا۔" یہ کس کا خیمہ ہے؟" خدام نے جواب دیا کہ وکیل کا خیمہ ہے۔ شہزادی نے وکیل کو بلوایا اور کہا کہ میں ایک عورت ہوں۔ تم اپنا خیمہ میرے خیمے ک
لیکن بے غیرت وزیر نہیں ٹلا۔ جب شہزادی نے دیکھا کہ وزیر کسی صورت نہیں مان رہا تو اس نے اپنے بڑے بیٹے کو وزیر کےسامنے کیا کہ تمہیں اس بچے کے سر کی قسم اس طرح مت کرو۔ اسے اللہ رسول کے واسطے دیے۔ قرآن کی دہائی دی لیکن بدکردار وزیر کے دماغ میں شیطان پوری طرح سے گھر کر چکا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور تلوار نکال کر ایک ہی وار سے بچے کا سر دھڑ سے الگ کیا۔ شہزادی سمجھ گئی کہ بد ذات وزیر بالکل بھی نہیں ٹلے گا۔ اس نے وزیر سے کہا۔" تم اب بالکل بھی نہیں ٹلو گے۔ میں ایک پاک عورت ہوں۔ اس وقت بھی وضو میں ہوں۔ مجھے اتنا موقع دو کہ میں اپنے وضو کو توڑ کر آ جاتی ہوں تب تمہارا جو دل چاہے، وہ کرو۔"
وزیر نے کہا۔" جاؤ اور جلدی آ جانا۔"
شہزادی خیمہ سے باہر نکل گئی۔بھاگتی ہوئی وہاں سے دور ایک بڑے جھاڑی کے پیچھے چھپ گئی۔
اگر آپ یا آپ کے بچوں کو کچھ ہو گیا تو میں بادشاہ کو کیا جواب دوں گا۔"
شہزادی نے کہا۔" مجھے کچھ نہیں ہوگا۔ پر تم اپنا خیمہ یہاں سے دور کہیں اور لگوا دو۔" لیکن وزیر نہیں مانا۔ خیمے لگ گئے۔ کھانا وغیرہ کھایا گیا۔ رات ہو گئی تھی۔ تھکے ہارے لوگ سو گئے۔ وزیر کے دل میں کوٹ تھا، اسے نیند نہیں آ رہا تھا۔ آخر آدھی رات کو اٹھا اور شہزادی کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ شہزادی پہلے سے ہی بھانپ چکی تھی کہ وزیر بد ذات کی نیت میں کھوٹ ہے۔ آہٹ پا کر شہزادی جاگ گئی۔ دیکھا کہ وزیر ہے تو اسے للکار کر باہر نکلنے کو کہا۔ لیکن وزیر آگے بڑھنے لگا۔ شہزادی نے کہا "اے بد ذات وزیر! تم جانتے ہوں کہ میں ایک بادشاہ کی بیٹی ہوں اور ایک بادشاہ کی بیوی بھی۔ نہ میں نے برائی کی ہے اور نہ کسی کا برا چاہا ہے۔ مجھے مخلوق کے سامنے بدنام مت کر اور میرے خیمے سے نکل جا۔" لیکن بے غیرت وزی
ھا۔ مجھے اپنے ساتھ لے کر آئے اور مجھ سے شادی کی۔
بادشاہ نے جب شہزادی کی دکھ بھری کہانی سنی تو اس سے کہا۔" اپنے آپ کو تیار کرو۔ میں تمہیں تمہارے ماں باپ کے گھر لے جاؤں گا۔" شہزادی نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے میرے ظالم باپ کے سامنے مت لے جاؤ۔ وہ مجھے قتل کر دے گا۔ لیکن بادشاہ نہیں مانا۔ آخر کار وہ مجبور ہو کر اپنے ماں باپ کے گھر یعنی سسرال جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ بادشاہ نے پورے جاہ و جلال اور طمطراق سے ایک بڑے لشکر کے ساتھ شہزادی اور تینوں بیٹوں کو بھیجا لیکن خود کچھ ملک کے ضروری کاموں کی وجہ سے رک گیا۔اپنے وزیر، وکیل اور قاضی کو شہزادی کے ساتھ کر دیا اور کہا کہ تم لوگ ملکہ کو لے کر روانہ ہو جاؤ۔ میں پہلی، دوسری یا تیسری منزل پر تم لوگوں سے ضرور آ کر ملوں گا۔
ہ سے تمہارا تعلق ہے؟"
شہزادی نے کسی طریقے سے بادشاہ کو ٹال دیا۔ ماہ و سال گزرتے چلے گئے۔ بادشاہ کے ہاں دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی۔ بادشاہ نے دوبارہ شہزادی سے وہی سوال دہرایا۔ شہزادی نے پھر بادشاہ کو ٹال دیا۔آخرکار ان کے ہاں جب تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی تو اس موقع پر بادشاہ نے شہزادی کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا ۔ آخرکار شہزادی مان گئی اور بادشاہ کو حقیقت بتائی کہ وہ فلاں ملک کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔ بادشاہ کو کس طرح بیٹیوں سے نفرت تھی۔ اس نے کس طرح مجھے مارنے کا حکم دیا اور دائی نے مجھے کس طرح بچا کر اپنے گھر میں میری پرورش کی۔ بادشاہ نے کس طرح مجھے دیکھا۔ پھر کس طرح اپنے بھائی کے حوالے کر کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ میں اس طرح جنگل میں خوار زندگی گزارنے لگی۔ وہاں تم نے مجھے دیکھا۔ مجھے اپنے ساتھ لے کر آئے اور مجھ سے شادی کی
ں گا۔" وزیر نے آداب بجا کر کہا۔" بادشاہ سلامت، آپ پوری طرح سے تسلی رکھیے۔ یہ آپ کی امانت ہے اور میری بیٹی۔ جب آپ کا دل چاہے، اسے بیاہ کر لے جائیے۔" بادشاہ شہزادی کو وزیر کے گھر چھوڑ آیا۔
اگلے دن وکیل، قاضی بادشاہ کا رشتہ لے کر وزیر کے گھر آ پہنچے۔ وزیر نے رشتہ کے لیے ہاں کر دی۔ ایک دو دن بعد منگنی ہو گئی۔ بادشاہ شہزادی کے عشق میں سب کچھ بھول چکا تھا۔ جلد ہی شادی کا نیوتا بھیجا اور شہزادی کو بیاہ کر اپنے محل لایا۔ بادشاہ اور شہزادی اپنے شادی سے بہت خوش تھے۔
اس دوران بادشاہ نے شہزادی سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔ چند سال بعد اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ بادشاہ بہت خوش تھا۔ اس نے شہزادی سے جو اب ملکہ بن گئی تھی، پوچھا۔" اب جبکہ اللہ نے ہم دونوں کو اولاد نرینہ سے نوازا ۔ تم اب ایک بیٹے کی ماں بن گئی ہو۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟
شہزادی نے اس کپڑے سے اپنے جسم کو خوب اچھی طرح ڈھانپا اور کسی نہ کسی طریقے سے درخت سے اتر گئی۔ جب بادشاہ نے شہزادی کو دیکھا تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اس کے پورے ملک میں کوئی اتنی خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ پورے دل و جان سے شہزادی پر فریفتہ ہو گیا۔
جھٹ شہزادی سے کہا۔" میں ایک بادشاہ ہوں۔ اگر تم برا نہ مانو تو میں تم سے شادی کر کے تمہیں اپنی ملکہ بنانا چاہتا ہوں۔" اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ شہزادی نے حامی بھری۔ وہ بھی ایک ایسا بندہ چاہتی تھی جو اسے عزت دے۔ بادشاہ خوشی خوشی شہزادی کو لے کر اپنے ملک روانہ ہو گیا۔ اپنے ملک پہنچتے ہی بادشاہ پہلے وزیر کے گھر جا پہنچا اور اس سے کہا۔ "ایسا سمجھو کہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔ میں کل رشتہ مانگنے آؤں گا۔ اور شادی بیاہ رچا کر اپنی امانت یہاں سے اپنے محل لے جاؤں گا۔"
چونکہ اس کا منہ آسمان کی طرف تھا اور وہ اپنے خیالوں میں گم تھا، اس کی نظر درخت کے گھنے پتوں میں پوشیدہ کسی ہیئت پر پڑی۔ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے کہنے لگا "اے اللہ کی مخلوق! تم کوئی پری ہو، فرشتہ ہو، جن ہو یا کوئی انسان؟ جو بھی ہو، اپنے آپ کو ظاہر کرو۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔"
شہزادی نے پکار کر کہا۔" اے مسافر ! میں ایک لاچار لڑکی ہوں۔ میرے جسم پر کپڑے کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر تم اپنے نیچے بچھے چادر کو میری طرف پھینک دو تاکہ میں اسے ڈھانپ کر نیچے اتروں اور تم سے بات چیت کروں۔" بادشاہ نے اپنے نیچے بچھے کپڑے کو اٹھایا۔ اس کا گولا سا بنا کر اس کی طرف پھینکا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain