کسی کو میری فکر ہے یا
میں سو جاٶں🙊😂😂
#ہمارا بھی ذکر____________اب ہونا چاہیے😍💞
#یہ ""ہیر رانجھا_____________آخر کب تک💞💞
#
کون کہتا سنورنے سے بڑھتی ہے خوبصورتی دلو میں چاہت ہو تو چہرے یوں ہی بکھر آتے ہیں
میں نے کہا ہر خواہش پوری کروں گا
اس نے پنک کلر کا سموسہ مانگ لیا😑🙄
کہیں میں ختم نا کردوں سفر اذیت کا...
کہیں میں پھینک نا دوں مار کر خود کو...
💔
آج کھینچی ہے میں نے اپنی تصویر
اداسی آج بھی آنکھوں سے جھلکتی ہے یار💔😢
خوبصورتی بهی کیا چیز ہے
ماشاءاللہ
یقین سا آجاتا ہے خود کو دیکھ کر🙈🙈🙈🙈😃😄😁😃🤣😆😅😅😅
وہ مجھے دیکھتي رہے اور میں
دیکھنا دیکھتا رہوں اس کا...🔥👈
اہلِ ہوس تو خیر ، ہوس میں ہوئے ، ذلیل
وہ بھی ہوئے خراب "مُحبت" جنہوں نے کی
-"لٹا کر کارواں ____دل کا🍂
-"آ بیٹھے ہم اداس لوگوں میں💔
ہم تو سادہ سے لوگ ہین
ہم سے کیا رونقین ہو گی🥀
الفاظ مین نہ ڈھونڈ میری بیقراریان
او بے خبر--- زبان نہین ____دل اداس ہے
وہاں بھی صبر کرلیا ہم نے💔
جہاں ہمیں رونا تھا 😭
سچ بتانا موبائل کی وجہ سے😏💁
کتنی بار بے عزتی ہوتی ہے😍💁
خیر میں نے تو گننا ہی چھوڑ دیا ہے🙄😅😁🤣😍😁😅😂🙈
۔ چلتے چلتے شام تک دوسری منزل پر جا پہنچے۔
خادموں نے شہزادی کا خیمہ ایستادہ کرنا شروع کیا۔ شہزادی نے دیکھا کہ وزیر نے آج اپنا خیمہ بہت دور کھڑا کروایا ہے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ خدام ایک اور خیمہ اس کے خیمے کے قریب ایستادہ کر رہے ہیں۔ پوچھا۔" یہ کس کا خیمہ ہے؟" خدام نے جواب دیا کہ وکیل کا خیمہ ہے۔ شہزادی نے وکیل کو بلوایا اور کہا کہ میں ایک عورت ہوں۔ تم اپنا خیمہ میرے خیمے کے قریب سے ہٹوا دو۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔" وکیل نے کہا۔" اے ملکہ! بادشاہ سلامت نے مجھے آپ کےساز و سامان کی حفاظت کے لیے آپ کے ہمراہ کر دیا ہے اور پر زور تاکید کی ہے۔ اگر آپ کو یا آپ کے سامان کو کچھ ہو گیا تو میں بادشاہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔"
شہزادی نے جواباً کہا۔" اتنے جم غفیر کے درمیان مجھے اور میرے سامان کو کوئی قزاق نہیں لے جا سکے گا۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنا
کیا۔ شہزادی سمجھ گئی کہ بد ذات وزیر بالکل بھی نہیں ٹلے گا۔ اس نے وزیر سے کہا۔" تم اب بالکل بھی نہیں ٹلو گے۔ میں ایک پاک عورت ہوں۔ اس وقت بھی وضو میں ہوں۔ مجھے اتنا موقع دو کہ میں اپنے وضو کو توڑ کر آ جاتی ہوں تب تمہارا جو دل چاہے، وہ کرو۔"
وزیر نے کہا۔" جاؤ اور جلدی آ جانا۔"
شہزادی خیمہ سے باہر نکل گئی۔بھاگتی ہوئی وہاں سے دور ایک بڑے جھاڑی کے پیچھے چھپ گئی۔ وزیر کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اسے ڈھونڈنے نکل گیا۔ ادھر ادھر تلاش کرنے لگا۔ لیکن ناکام رہا۔ صبح ہونے والی تھی۔آخر تھک ہار کر دوبارہ شہزادی کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ بچے کی لاش اٹھا کر کہیں دور دفن کیا اور اپنے خیمے میں آ کر گھس گیا۔
صبح بہت دیر کے بعد شہزادی اپنے خیمے میں داخل ہو گئی۔ اپنے مقتول بیٹے کو نہ پا کر رونے لگی۔ لشکر دوبارہ روانہ ہو گیا۔ چلتے چلتے شام تک دوسری منزل پر جا
مے میں داخل ہو گیا۔ شہزادی پہلے سے ہی بھانپ چکی تھی کہ وزیر بد ذات کی نیت میں کھوٹ ہے۔ آہٹ پا کر شہزادی جاگ گئی۔ دیکھا کہ وزیر ہے تو اسے للکار کر باہر نکلنے کو کہا۔ لیکن وزیر آگے بڑھنے لگا۔ شہزادی نے کہا "اے بد ذات وزیر! تم جانتے ہوں کہ میں ایک بادشاہ کی بیٹی ہوں اور ایک بادشاہ کی بیوی بھی۔ نہ میں نے برائی کی ہے اور نہ کسی کا برا چاہا ہے۔ مجھے مخلوق کے سامنے بدنام مت کر اور میرے خیمے سے نکل جا۔" لیکن بے غیرت وزیر نہیں ٹلا۔ جب شہزادی نے دیکھا کہ وزیر کسی صورت نہیں مان رہا تو اس نے اپنے بڑے بیٹے کو وزیر کےسامنے کیا کہ تمہیں اس بچے کے سر کی قسم اس طرح مت کرو۔ اسے اللہ رسول کے واسطے دیے۔ قرآن کی دہائی دی لیکن بدکردار وزیر کے دماغ میں شیطان پوری طرح سے گھر کر چکا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور تلوار نکال کر ایک ہی وار سے بچے کا سر دھڑ سے الگ کیا۔ شہزادی س
تے ہوتے انہوں نے پہلے منزل پر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔
خادموں نے شہزادی کا خیمہ ایستادہ کیا۔ تب شہزادی نے دیکھا کہ وزیر کا خیمہ بھی اس کے خیمے کے بالکل قریب کھڑا کیا گیا۔ شہزادی نے وزیر کو بلا کر اس سے پوچھا۔" اے وزیر! تم جانتے ہو کہ میں ایک بادشاہ کی بیٹی اور ایک بادشاہ کی بیوی ہوں۔ تم اپنا خیمہ یہاں سے دور لگوا دو۔" وزیر نے کہا۔" ملکہ صاحبہ! بادشاہ نے ہمیں آپ کی حفاظت کی خاطر آپ کے ساتھ روانہ کیا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے بچوں کو کچھ ہو گیا تو میں بادشاہ کو کیا جواب دوں گا۔"
شہزادی نے کہا۔" مجھے کچھ نہیں ہوگا۔ پر تم اپنا خیمہ یہاں سے دور کہیں اور لگوا دو۔" لیکن وزیر نہیں مانا۔ خیمے لگ گئے۔ کھانا وغیرہ کھایا گیا۔ رات ہو گئی تھی۔ تھکے ہارے لوگ سو گئے۔ وزیر کے دل میں کوٹ تھا، اسے نیند نہیں آ رہا تھا۔ آخر آدھی رات کو اٹھا اور شہزادی کے خیمے میں داخل
شادی کی۔
بادشاہ نے جب شہزادی کی دکھ بھری کہانی سنی تو اس سے کہا۔" اپنے آپ کو تیار کرو۔ میں تمہیں تمہارے ماں باپ کے گھر لے جاؤں گا۔" شہزادی نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے میرے ظالم باپ کے سامنے مت لے جاؤ۔ وہ مجھے قتل کر دے گا۔ لیکن بادشاہ نہیں مانا۔ آخر کار وہ مجبور ہو کر اپنے ماں باپ کے گھر یعنی سسرال جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ بادشاہ نے پورے جاہ و جلال اور طمطراق سے ایک بڑے لشکر کے ساتھ شہزادی اور تینوں بیٹوں کو بھیجا لیکن خود کچھ ملک کے ضروری کاموں کی وجہ سے رک گیا۔اپنے وزیر، وکیل اور قاضی کو شہزادی کے ساتھ کر دیا اور کہا کہ تم لوگ ملکہ کو لے کر روانہ ہو جاؤ۔ میں پہلی، دوسری یا تیسری منزل پر تم لوگوں سے ضرور آ کر ملوں گا۔
وزیر، وکیل اور قاضی، شہزادی کو لے کر لاؤ لشکر کے ساتھ اس کے ماں باپ کے ملک کی طرف روانہ ہو گئے۔شام ہوتے ہوتے ا
ہو؟ کسی کی بیٹی ہو؟ اور کس جگہ سے تمہارا تعلق ہے؟"
شہزادی نے کسی طریقے سے بادشاہ کو ٹال دیا۔ ماہ و سال گزرتے چلے گئے۔ بادشاہ کے ہاں دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی۔ بادشاہ نے دوبارہ شہزادی سے وہی سوال دہرایا۔ شہزادی نے پھر بادشاہ کو ٹال دیا۔آخرکار ان کے ہاں جب تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی تو اس موقع پر بادشاہ نے شہزادی کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا ۔ آخرکار شہزادی مان گئی اور بادشاہ کو حقیقت بتائی کہ وہ فلاں ملک کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔ بادشاہ کو کس طرح بیٹیوں سے نفرت تھی۔ اس نے کس طرح مجھے مارنے کا حکم دیا اور دائی نے مجھے کس طرح بچا کر اپنے گھر میں میری پرورش کی۔ بادشاہ نے کس طرح مجھے دیکھا۔ پھر کس طرح اپنے بھائی کے حوالے کر کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ میں اس طرح جنگل میں خوار زندگی گزارنے لگی۔ وہاں تم نے مجھے دیکھا۔ مجھے اپنے ساتھ لے کر آئے او
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain