Damadam.pk
MushtaqAhmed's posts | Damadam

MushtaqAhmed's posts:

MushtaqAhmed
 

آپ کی امانت ہے اور میری بیٹی۔ جب آپ کا دل چاہے، اسے بیاہ کر لے جائیے۔" بادشاہ شہزادی کو وزیر کے گھر چھوڑ آیا۔
اگلے دن وکیل، قاضی بادشاہ کا رشتہ لے کر وزیر کے گھر آ پہنچے۔ وزیر نے رشتہ کے لیے ہاں کر دی۔ ایک دو دن بعد منگنی ہو گئی۔ بادشاہ شہزادی کے عشق میں سب کچھ بھول چکا تھا۔ جلد ہی شادی کا نیوتا بھیجا اور شہزادی کو بیاہ کر اپنے محل لایا۔ بادشاہ اور شہزادی اپنے شادی سے بہت خوش تھے۔
اس دوران بادشاہ نے شہزادی سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔ چند سال بعد اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ بادشاہ بہت خوش تھا۔ اس نے شہزادی سے جو اب ملکہ بن گئی تھی، پوچھا۔" اب جبکہ اللہ نے ہم دونوں کو اولاد نرینہ سے نوازا ۔ تم اب ایک بیٹے کی ماں بن گئی ہو۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟ کسی کی بیٹی ہو؟ اور کس جگہ سے تمہارا تعلق ہے؟"
شہزادی نے

MushtaqAhmed
 

کا گولا سا بنا کر اس کی طرف پھینکا۔ شہزادی نے اس کپڑے سے اپنے جسم کو خوب اچھی طرح ڈھانپا اور کسی نہ کسی طریقے سے درخت سے اتر گئی۔ جب بادشاہ نے شہزادی کو دیکھا تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اس کے پورے ملک میں کوئی اتنی خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ پورے دل و جان سے شہزادی پر فریفتہ ہو گیا۔
جھٹ شہزادی سے کہا۔" میں ایک بادشاہ ہوں۔ اگر تم برا نہ مانو تو میں تم سے شادی کر کے تمہیں اپنی ملکہ بنانا چاہتا ہوں۔" اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ شہزادی نے حامی بھری۔ وہ بھی ایک ایسا بندہ چاہتی تھی جو اسے عزت دے۔ بادشاہ خوشی خوشی شہزادی کو لے کر اپنے ملک روانہ ہو گیا۔ اپنے ملک پہنچتے ہی بادشاہ پہلے وزیر کے گھر جا پہنچا اور اس سے کہا۔ "ایسا سمجھو کہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔ میں کل رشتہ مانگنے آؤں گا۔ اور شادی بیاہ رچا کر اپنی امانت یہاں سے اپنے محل لے جاؤں گا۔" وزیر نے آدا

MushtaqAhmed
 

دار تھا۔ ایک طرف اپنے گھوڑے کو باندھا، اور درخت کے سائے میں کپڑا بچھا کر تھوڑی دیر سستانے کی خاطر لیٹ گیا۔ چونکہ اس کا منہ آسمان کی طرف تھا اور وہ اپنے خیالوں میں گم تھا، اس کی نظر درخت کے گھنے پتوں میں پوشیدہ کسی ہیئت پر پڑی۔ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے کہنے لگا "اے اللہ کی مخلوق! تم کوئی پری ہو، فرشتہ ہو، جن ہو یا کوئی انسان؟ جو بھی ہو، اپنے آپ کو ظاہر کرو۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔"
شہزادی نے پکار کر کہا۔" اے مسافر ! میں ایک لاچار لڑکی ہوں۔ میرے جسم پر کپڑے کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر تم اپنے نیچے بچھے چادر کو میری طرف پھینک دو تاکہ میں اسے ڈھانپ کر نیچے اتروں اور تم سے بات چیت کروں۔" بادشاہ نے اپنے نیچے بچھے کپڑے کو اٹھایا۔ اس کا گولا سا بنا کر اس کی طرف پھینکا۔ شہزادی نے اس کپڑے سے اپنے جسم کو خوب اچھی طرح ڈ

MushtaqAhmed
 

مان میں رکھ اور اسے کسی اچھی جگہ پار لگا۔"
اب آگے شہزادی کا قصہ سنیے۔شہزادی جنگل میں رہنے لگی اور بھوک مٹانے کے لیے جنگلی پھل، پھول، بوٹے کھا کر اپنا وقت گزارنے لگی۔ اس دوران بہت سا وقت گزر گیا۔ جھاڑیوں، کانٹوں سے الجھ کر اس کے بوسیدہ کپڑے تار تار ہو گئے۔ آخر کار اس کے بدن پر کوئی کپڑا نہ رہا ۔
ایک دن کسی اور ملک کا بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسی جنگل کے راستے سے گزر رہا تھا۔ اتفاقاً بادشاہ اسی طرف جا نکلا جدھر شہزادی تھی۔ جب شہزادی کی کانوں میں کسی گھوڑے کے قدموں کی آہٹ پڑی تو جلدی جلدی کسی گھنے درخت پہ چڑھ گئی اور اس کے بڑے بڑے پتے توڑ کر اپنی ستر پوشی کر کے چھپ کے بیٹھ گئی۔ بادشاہ بھی آ کے اسی درخت کے نیچے ٹھہر گیا۔ درخت گھنا اور سایہ دار تھا۔ ایک طرف اپنے گھوڑے کو باندھا، اور درخت کے سائے میں کپڑا بچھا کر تھو

MushtaqAhmed
 

دونوں بھائی بہن ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو پڑے۔ آخر کسی طرح بھائی نے بہن کو منا لیا۔شہزادی آنسو بہاتے ہوئے گھنے جنگل کی طرف جانے لگی ۔ آخری بار پلٹ کر بھائی کو دیکھا اور جنگل میں گھس گئی۔ اس کے بعد شہزادے نے ادھر ادھر سے ڈھونڈ کر ایک ہرن کا شکار کیا۔ اس کے گردن کا خون نکالا اور آنکھیں نکال کر لے جا کر بادشاہ کو دکھا دیں۔ بادشاہ نے آئینہ منگوایا۔ اس میں ان آنکھوں کو اور اپنی آنکھوں کو غور سے دیکھا ۔ جب اس کو یقین ہو گیا کہ آنکھوں کا رنگ ایک ہی ہے تب اسے تسلی ہوئی۔
ملکہ نے کسی طور شہزادے کو بلا کر اس سے بیٹی کے متعلق پوچھا۔ شہزادے نے ماں کے سامنے سارا احوال گوش گزار کر دیا۔ ملکہ نے منہ آسمان کی طرف کر کے ہاتھ اوپر اٹھائے اور بیٹی کے لیے دعا مانگی کہ اے اللہ! تو میری بیٹی کی حفاظت کر۔ اسے اپنے امان میں رکھ اور اسے کسی اچھی جگہ پار لگا۔"

MushtaqAhmed
 

کرے۔ اس کی آنکھیں نکال لے اور اس کے گردن کا خون لا کر باپ کو دکھا دے۔ اسے کسی صورت یہ گوارہ نہ تھا اگرچہ اسے اپنی بہن کے متعلق اب معلوم ہوا۔ لیکن اسے پتا تھا کہ بادشاہ ہر صورت اپنی بیٹی کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس نے اسے قتل نہیں کیا تو بادشاہ دونوں کو ہلاک کر دے گا۔ مجبور ہو کر اپنی بہن کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف چل پڑا۔ جب دونوں جنگل پہنچ گئے تو بھائی کی محبت بہن کے لیے جوش میں آ گئی۔ بہن سے کہا کہ میں کسی صورت تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں یہیں چھوڑے دیتا ہوں آگے تمہاری قسمت کہ تمہیں درندے کھا جائیں یا تم بچ کر کہیں اور نکل جاؤ۔" لیکن بہن نے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔" نہیں بھائی !تم مجھے قتل کر دو۔ میری آنکھیں اور خون لے جا کر باپ کو دکھا دو۔ نہیں تو وہ تمہیں مار دے گا جو مجھے کسی صورت گوارہ نہیں۔" دونوں بھائی بہن ای

MushtaqAhmed
 

کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لائے اور انہوں نے اسے خوب کوٹ کوٹ کر پیٹنا شروع کیا۔ سپائیوں نے دائی کو کپڑے کی طرح نچوڑ کے رکھ دیا۔ بیچاری پہلے سے ہی دو ہڈیوں پر تھی، اتنی مار برداشت نہ کرسکی اور بادشاہ کے سامنے چیخ پڑی۔" بادشاہ سلامت! یہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کی بیٹی ہے۔ میں نے اسے ہلاک کرنے کے بجائے لے جا کر اپنے گھر میں اس کی پرورش کی ہے۔"
اب بادشاہ کو احساس ہوا کہ وہ کیا غلطی کرنے جا رہا تھا۔ خدا نے اسے گناہ عظیم سے بچایا۔ وہ اور زیادہ غصے میں آ گیا۔ اپنے بیٹے یعنی شہزادے کو بلا کر حکم دیا کہ اپنی بہن کو جنگل میں لے جا کر قتل کر دے اور اس کی آنکھیں نکال کر اور گردن کا خون لا کر مجھے دکھا دے تاکہ مجھے یقین ہو جائے۔"
شہزادہ پریشان ہوا کہ وہ کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کو قتل کرے۔ اس کی آنکھیں نکال لے اور اس کے گردن کا خون لا کر

MushtaqAhmed
 

کے گھر میرے لیے رشتہ لے کر جانا۔" چونکہ حقیقت کا کسی کو پتا نہیں تھا۔ اس لیے دوسرے دن وزیر، وکیل وغیرہ دائی کے گھر بادشاہ کے لیے اس کی نواسی کا ہاتھ مانگنے گئے۔ اب دائی کے اوسان خطا ہو گئے کہ یا اللہ! اب کیا کروں؟ اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا " میں ایک غریب ہوں۔ میری نواسی بادشاہ کے لائق نہیں اور نا ہی بادشاہ کا کسی غریب سے رشتہ جوڑنا صحیح ہے۔ اس لیے دوبارہ اس سلسلے میں میرے گھر مت آئیے گا۔"
بادشاہ خود تو نہیں آیا لیکن دائی کے گھر رشتے کے لیے بہت سے بندے بھیجے۔ سب نے دائی کو بہت منت سماجت کی، لالچ دیے، دھونس دھمکی دی، لیکن دائی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ تب بادشاہ نے حکم دیا کہ دائی کو پکڑ کے خوب سزا دے دو تاکہ وہ رشتے کے لیے مان جائے۔
سپاہی دائی کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لائے اور انہوں نے اسے خوب کوٹ کوٹ کر پیٹنا شروع کیا۔

MushtaqAhmed
 

حکم کے بموجب اسے ہلاک کی گئی۔ بادشاہ اپنی بد عادتی کے باعث خوش ہوا۔
دائی نے لوگوں کے سامنے شہزادی کو اپنی نواسی ظاہر کیا۔ کبھی کبھار بادشاہ سے چھپ چھپا کے شہزادی کو لاتی اور ملکہ اپنی بیٹی کو دیکھ کر اس کی مامتا کو کچھ قرار ملتا اور وہ دائی کو سونا چاندی اپنے بیٹی کی نگہداشت کے واسطے دے دیا کرتی۔ چونکہ شہزادی کی پرورش اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔ اس لیے خوب قد کاٹھ نکالی۔ خوبصورت تھی ہی اس لیے جوان ہوتے ہی دنیا کے سامنے شہزادی نہ ہوتے ہوئے بھی شہزادیوں کی طرح دِکھنے لگی۔
ایک دن بادشاہ کی سواری شہر سے گزر رہی تھی ۔ اسی وقت شہزادی اور دائی بھی اسی راستے سے گزر رہی تھیں۔ بادشاہ کی نظر شہزادی پر پڑی۔ پوچھا "یہ کون ہے؟" وزیر نے کہا "یہ اس بیچاری عورت کی نواسی ہے۔" بادشاہ نے حکم دیا "مجھے یہ بہت پسند آئی ہے۔ کل اس کے گھر میرے لیے رشتہ لے کر جانا۔"

MushtaqAhmed
 

لکہ کی حالت زار دیکھ رہی تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں رحم پیدا کیا۔ اس نے ملکہ سے کہا۔
"اے ملکہ! آپ دل چھوٹا مت کیجئے۔ میں یہاں سے سب کے سامنے بچی کو ہلاک کرنے کے بہانے لے جاؤں گی۔ پر میں یہاں سے اسے اپنے گھر میں لے جا کر پالوں گی۔ اگر آپ کسی طرح سے بچی کے لیے خرچ وغیرہ بھیجتی رہیں گی تو آپ کی بچی خوشحال اور آسودہ ہوگی، وگرنہ مجھ غریب کو جو نصیب اس سے اسے بھی پالنے کی کوشش کروں گی۔"
ملکہ نے کچھ سونا چاندی، زیور وغیرہ بچی کے واسطے تھما دئیے۔ بچی کو اس کے حوالے کیا۔ محل میں یہ بات پھیلائی گئی کہ دائی نے بچی کو لے جا کر ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ دائی نے شہزادی کو اپنے گھر لا کر پورے ناز و نعم سے اس کی پرورش شروع کر دی۔
جب بادشاہ اپنے سفر سے واپس آیا تو اسے یہی احوال سنایا گیا کہ آپ کے جانے کے بعد بچی کی ولادت ہوئی اور آپ کے حکم کے بموجب اسے ہ

MushtaqAhmed
 

👑ایک بادشاہ تھا۔ تھا تو منصف اور عادل پراس میں ایک عادت بد تھی۔ اسے بیٹی سے بہت نفرت تھی۔ اللہ کی قدرت کہ اس کے ہاں پہلے بیٹا پیدا ہوا۔ اسے اپنا بیٹا بہت عزیز تھا۔ بہت ناز و نعم اور لاڈ و پیار سےاس کی پرورش ہو رہی تھی۔چند سال بعد ملکہ پھر امید سے ہو گئی۔ ولادت کے دن قریب تھے۔ لیکن بادشاہ سلامت کو کسی دوسرے بادشاہ کی دعوت پر ملک سے باہر جانا پڑا۔ جانے سے پہلے بادشاہ نے ملکہ کو حکم دیا کہ میں کہیں باہر جا رہا ہوں، اگر میرے آنے سے پہلے ولادت ہوئی، لڑکا ہوا تو ٹھیک لیکن اگر لڑکی ہوئی تو اسے ہلاک کر دینا۔
بادشاہ چلا گیا۔ چند ہفتے بعد اس کے ہاں لڑکی کی ولادت ہوئی۔ اولاد ماں کو بہت پیاری ہوتی ہے۔ ملکہ رونے لگی کہ اے اللہ! اب میں کیا کروں؟ ولادت کے وقت ایک دائی موجود تھی جو ملکہ کی حالت زار دیکھ رہی تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں رحم پیدا کیا۔ اس نے م

MushtaqAhmed
 

تم ہو گئی اور ایک گھر میں رہتے لوگ بھی ایک
دوسرے سے انجانے ہو گئے ، پرائیویسی کے نام پر علیحدہ علیحدہ رومز بن گئے
اور گھر میں رہتے ہوئے رابطے موبائلز پر ہونے لگے ، شادی کالز اور مارکیز میں
ہونے لگیں اور محلے میں فوتگی پر منہ دکھانے کی رسم چل نکلی ۔
تیس سال کے اس سفر میں ہم نے سب کچھ کھو دیا ، پایا کچھ نہیں ۔.
جو جو بھائی اس حقیقت سے متفق ہے تو وہ اپنے کومنٹس پر اپنی رائے ضرور دیجئے شکریہed

MushtaqAhmed
 

ا ، محلے داروں کے دُکھ سُکھ سانجھے ہوتے
تھے اور کسی بارات یا فوتگی پہ اتحاد کا جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا ۔
نا کوئی بیرا ہوتا تھا اور نا ہی شادی ہال ، محلے کے تمام لوگ مل کر شادی
کی ساری تیاریاں کرتے تھے اور فوتگی پہ ہمسائے بھی کئی کئی دن چولہا نہیں
جلاتے تھے ۔
پھر دیواریں اونچی ہونا شروع ہوئیں ، درخت ختم ہوئے ، پرندے اڑ گئے ،
مرغ پولٹری فارمز میں چلے گئے اور دیواریں اتنی اونچی ہو گئیں کہ مسجد کے
لاؤڈ سپیکر کی آواز بھی کم آنے لگی ، ایک وقت میں کئی کھانے کھانے کی ٹیبل
کی زینت بننے لگے ، برکت ختم ہو گئی اور ایک گھر میں رہتے لوگ بھی ایک
دوسرے سے انجانے ہو گئے ، پرائیویسی کے نام پر ع

MushtaqAhmed
 

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنے
کو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں گونجتی تھی اور
اُس کے بعد گھر یا ہمسایوں کے مرغے أذان دیا کرتے تھے ، گھر میں درخت
موجود ہوتا تھا اور صبح صبح چڑیوں کی آواز کانوں کو سنائی دیتی تھی ۔
گھر کے مرد نماز پڑھنے چلے جاتے تھے اور یوں دن کا آغاز بہت جلدی ہو
جاتا تھا ۔
دوپہر میں اکثر گھروں میں روٹی بنائی جاتی تھی اور ساتھ اناردانہ ، پودینہ ، ٹماٹر
اور پیاز کی چٹنی بنائی جاتی تھی ، اُس کے بعد ظہر کا اہتمام کیا جاتا تھا اور
پھر قیلولہ کیا جاتا تھا ، گھر میں دادا دادی کے وجود کو رحمت سمجھا جاتا تھا
اور اُن کا کہا ہوا حرفِ آخر ہوتا تھا ، محلے داروں کے دُکھ سُکھ سانجھے ہوتے
تھے اور کسی بارات یا فوتگی پہ اتحاد

MushtaqAhmed
 

ہو گئی۔
پھر مینجر صاحب بولے، "بھائی! میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس اتنی دولت ہو کہ میں اِس چھوٹی موٹی کمپنی کی جاب سے آزاد ہو جاؤں اور اپنی پوری زندگی مزے سے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزاروں، تو کیا میری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے؟" جن نے پھر تالی بجائی تو مینیجر بھی غائب ہو گیا۔
اب ڈائریکٹر صاحب کی باری تھی، جن بولا، "جی جناب! آپ کی کیا خواہش ہے؟" ڈائریکٹر صاحب غصے سے بولے، "یہ مینیجر اور سیکریٹری دونوں لنچ کے بعد مجھے میرے آفس میں چاہئیں۔۔۔!"😂😁😄
اخلاقی سبق: *کبھی بھی بڑوں سے پہلے نہیں بولنا چاہیے، ورنہ انجام یہی ہوگا۔۔۔۔!*

MushtaqAhmed
 

کسی کمپنی کا ڈائریکٹر، اُسکی سیکریٹری اور مینیجر ایک دِن کسی ہوٹل میں لنچ کرنے جارہے تھے۔ وہ کمپنی سے نکل کے ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ انہیں راستے میں ایک آلہ دین کا چراغ ملا۔ ڈائریکٹر نے چراغ رگڑا تو اُس میں سے ایک جن نمودار ہوا، اور بولا، "حکم میرے آقا۔۔۔! آپ تینوں مجھ سے ایک ایک خواہش کر سکتے ہیں، جسے میں ان شاء اللہ پورا کروں گا"۔
ابھی ڈائریکٹر صاحب کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ، اُسکی سیکریٹری بولی، "پہلے میں، پہلے میں" چنانچہ وہ نہایت جذباتی ہوتے ہوئے بولی، "جن بھیا! مجھے بچپن سے ہی پرستان دیکھنے کا بہت شوق تھا، میں چاہتی تھی کہ میں ایسی کسی حسین جگہ پر جاؤں جہاں مجھے کوئی تنگ کرنے والا نہ ہو، اور میں ہمیشہ وہاں رہوں، تو کیا آپ میری یہ خواہش پوری کر سکتے ہیں؟"۔ جن نے تالی بجائی اور سیکریٹری غائب ہو گ

MushtaqAhmed
 

ہے
قیدی نے کہا ابھی اپ نے وعلیکم السلام نہیں کہا
بادشاہ مسکرا پڑا اور کہا اسے آزاد کر دو ۔۔۔۔
اور جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں
تو ہم ضمانت دے رہے ہوتے ہیں کہ تیرا مال، جان، عزت سب مجھ سے محفوظ ہے
ہم ایک دوسرے کو السلام و علیکم بھی کہیں ہاتھ بھی ملائیں گلے بھی ملیں اور ایک دوسرے کی جڑیں بھی کاٹیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ .... سوچئے گا ضرورend

MushtaqAhmed
 

روشن بات 🌟
ایک شخص کو سزائے موت ہو گئی اس سے پوچھا گیا کہ زندگی کی آخری آرزو کیا ہے؟ اس نے کہا میں ہارون الرشید (بادشاہ وقت سے ملنا چاہتا ہوں) آرزو پوری کر دی گئی قیدی جب دربار میں داخل ہوا تو اس نے بلند آواز میں کہا
“” السلام وعلیکم ””
بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا اس نے کہا وعلیکم السلام
بادشاہ نے کہا کوئی بات اس نے کہا کہ نہیں میرا کام ہو گیا
جلاد آئے اس قتل کرنے لگے
اس نے کہا اپ مجھے قتل نہیں کر سکتے
کہا کیوں
کہا بادشاہ نے مجھے سلامتی کی ضمانت دے دی ہے
بادشاہ نے کہا میں نے کب دی ہے
قیدی نے کہا ابھی اپ نے وعلیکم السلام نہیں کہا
بادشاہ مسکرا پڑا اور کہا اسے آزاد کر دو ۔۔۔۔
اور جب ہم السلام علیکم کہ

MushtaqAhmed
 

، کاسمیٹکس اور جیولری کی دکانوں پہ عورت کو مہنگی قیمت پہ اسرا کرتے دیکھا اور میں نے یہ جملہ بھی اپنی امی سمیت کئی خواتین کی زبان سے بھی سنا ہے کہ
حرام کی کمائی ہے جو سب اسکو دے جائیں
مرد پیسہ کماتا ہے تو آسانی سے نہیں کیونکہ مردوں کو کئی بار پیسے کی خاطر جوتے پالش کرنے پڑتے، کئی بار اپنے افسروں کے گھر میں باتھ روم صفائی کرنا پڑتے ہیں، کئی بار اپنے بوس سے گالیاں، دھکے مکے بھی کھانے کو ملتے مرد یہ سب سہتا ہے پتہ ہے کیوں؟
کیونکہ اسکو معلوم ہے اگر میں نے یہ نوکری چھوڑ دی تو گھر والوں کی فرمائشیں کیسے پوری ہوں گی، اور پھر جب مرد اپنی دن رات اور خون پسینے کی کمائی جب گھر لا کر دیتے ہیں یقین کریں صرف 60 فیصد خواتین ہی ان پیسوں کو صرف ضروریاتِ زندگی کیلئے استعمال کرتیں بقیہ چالیس فیصد تو عیش عشرت کی زندگی گزارنے کیلئے فضول خرچی سے باز نہیں آتے

MushtaqAhmed
 

عورت پیسے سے بہت محبت کرتی ہے اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ عورت غریب مرد سے محبت یا شادی نہیں کرتی اور امیر مرد کی صورت و سیرت نہیں دیکھتی اور اپنا لیتی ہے.
بلکہ
یہاں اس جملے میں بہت بڑا سبق ہےکہ
"عورت پیسے سے بہت محبت کرتی ہے"
ہفتہ قبل دکان پہ ایک خاتون آئیں جنکے پاس ایک بہت خوبصورت "پرس" بھی تھا لیکن اسکے باوجود ایک ہزار کا نوٹ مروڑی کر کے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا. اس خاتون نے صرف 100 روپے کی چیزیں لی اور بقایا لیکر چلی گئی لیکن اسکے جانے کے بعد مجھے اس جملے نے سوچنے پہ مجبور کیا کہ عورت پیسے سے اتنی محبت کیوں کرتی ہے
وہ پیسے سے اس لئے محبت نہیں کرتی کہ مجھے پیسوں سے ہر فرمائش پوری کرنی ہے بلکہ وہ اس لئے بھی محبت کرتی ہے کہ یہ پیسے اسکے شوہر، بیٹے، باپ، یا بھائی کی خون پسینے کی کمائی ہے.
میں اکثر کپڑوں کی دکان، جوتوں کی دکان،