کسی دوسرے سے اپنی قدر کی توقع نہ کریں
اگر آپ کا ضمیر آپکی قدر کرتا ہے تو آپ کا رتبہ بہت بلند ہے
زندگی ایک آرٹ ہے
برش لیں اور اداسی کے ہر حصے میں
خوشیوں کے رنگ بھرتے جائیں
کسی کو اتنا حق نہ دیں
کہ وہ آپ کی زندگی کو بےرنگ کر دے....!!
─────•🎨🧡
لوگ صرف خود کے سگے ہوتے ہیں آپ سـاری عمـر کسی کے خیر خواہ ہو جائیں
بس ذرا سی غلطـی غلـط فہمـی یا بد گُمـانی کی دیر ہے
آپ کی بھـلائی آپ کے خلوص سمیت آپ کے منہ پر مـار دی جائے گی
تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں
پہلا قانون فطرت
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ
زندگی میں لوگ صرف اپنے نصیب کے راستوں پر ہی چلتے ہیں!
لہٰذا خود کو زیادہ سوچ میں مبتلا نہ کرو، اور اپنے دل کو ان چیزوں سے پریشان نہ کرو جن پر تمہارا کوئی اختیار نہیں ہے!
اللہ کا حکم یقیناً پورا ہو کر رہے گا، چاہے تمہیں راستے کتنے ہی دشوار نظر آئیں یا دروازے بند محسوس ہوں!
تم پر صرف کوشش کرنا لازم ہے، اور تمہیں بس چلتے رہنا ہے۔ لیکن کب پہنچو گے، کیسے اور کہاں؟
یہ ایک غیب ہے جسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
لوگوں کے ساتھ ایسے پیش آؤ جیسے کوئی کتاب پڑھ رہے ہو...
منافق کو نظرانداز کر دو، برے کو پھاڑ دو...
اور سب سے خوبصورت پر رک جاؤ...
انسان بھی کتابوں کی طرح ہوتے ہیں...
کچھ لوگ صرف سرورق سے دھوکہ دیتے ہیں،
جبکہ کچھ کا اندرونی مواد حیران کن ہوتا ہے، حالانکہ ان کا سرورق بالکل عام سا لگتا ہے۔
پہلی نظر میں متاثر نہ ہو، وقت ہر چیز کا فیصلہ کر دیتا ہے۔
جن لوگوں کو مان نہ رکھنا آتا ہو، وہاں الفاظ ضائع کرنے سے بہتر ہے انسان مسکرا کر خاموش ہو جائے۔۔۔💔 🙂
naaz
زندگی کے راستے کبھی بھی سیدھے نہیں ہوتے لیکن کامیاب ہونے کے لیے انہیں سیدھا کرنا پڑتا ہے،
انسانی فطرت ہے کہ ہمیں کوئی تب تک دلکش لگتا ہے جب تک وہ انجان ہوتا ہے جب ہم اُسے جان لیتے ہیں تو وہ اپنی کشش کھو دیتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جب تک کسی سے انجان ہوتے ہیں اُس کے متعلق بہت سے خوبصورت خیالات رکھتے ہیں اور جان لینے کے بعد جب وہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں نکلتا تو ہمیں برا لگنے لگتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے۔۔۔ لیکن یقین کریں یہ معاملہ ہر انسان کے ساتھ ہے۔ ہم اپنے آئیڈیل کو بھی جاننے کے بعد یہی کہیں گے کیونکہ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا اور کوئی بھی انسان سو فیصد ہمارے مطابق بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔
اپنی زندگی میں ہر شخص کو ایک خاص کرسی دیں ،، ایک اچھی جگہ پہ بٹھائیں ، جھکیں ، اہمیت دیں ، عزت کریں ،،
پھر اطمینان سے مشاہدہ کریں کہ کیا وہ شخص اپنا توازن کھونے لگا ھے ؟!؟! اگر ایسا ھے تو اس سے اس کی جگہ نہ چھینیں ، اسے وہیں پہ بیٹھا رہنے دیں ، مگر خود خاموشی سے وہاں سے ہجرت کر جائیں ۔۔۔
یاد رکھیں! اگر کسی کو آپ کی دی ہوئی عزت ، محبت اور آپ کا دیا ہوا مقام راس نہیں آرہا تو آپ اپنا وقار و ظرف مت کھوئیں ، بس خاموشی سے منظر نامے سے ہٹ جائیں ، کہانی سے خود کو الگ کر لیجئے ، یہی زندگی ھے ۔۔۔
*مخلص ہونا نہایت آسان ہے اس میں صرف اپنا مفاد ترک کرنا پڑتا ہے جو اپنے مفاد کی دنیا میں رہتا ہے وہ اخلاص کی خوشبو کو نہیں پہنچ سکتا۔۔*
گُفتگو ایسے کیجیئے،
کہ اُمید کے دِیئے جَلیں، دِل نہیں،
قَدر ایسے کیجیئے،
کہ آپکے آس پاس والوں کو جِینے کا حوصلہ مِلے، زِندگی کو ہارنے کا نہیں۔۔۔۔۔۔
احساس ایسے کیجیئے،
کہ اِنسانوں کو اِنسانیت کا یَقین ہو جائے،
اِنسانیت کے اُٹھ جانے کا نہیں۔۔۔۔
کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے بیہودہ مزاق نہیں
معیاری اور مناسب الفاظ کا استعمال کیجیئے۔۔۔۔۔

اگر کچھ لینے کی خواہش ہو - تو بزرگوں کی دٌعائیں لو
اگر کچھ دینے کی خواہش ہو - تو اللہ کی راہ میں دو ۔
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کی عبادتوں کو آپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین یا رب العالمین
" اللہ " اس کمال کا نام ہے جو ہر صاحب ِ یقین کو اسکے یقین کے حساب سے میسر آتا ہے.
چراغ چشت
حضرت خواجه نصیر الدین محمودچراغ دہلوی چشتی نظامی رحمةالله عليه نے اپنے حلقہِ ارادت میں بیٹھے ہوئے مُریدوں سے پُوچھا " روشنی " کب آتی ہے ؟؟؟
ایک مُرید نے بڑے ادب سے جواب دیا :
حضرت" جب سفید اور سیاہ دھاگے میں فرق نظر آنے لگے یہی روشنی ہے"
دوسرے مُرید نے عرض کی "ُحضور جب دُور کے درختوں کو دیکھ کر معلوم ہوجاۓ کہ بیری کا درخت کونسا ہے اور شیشم کا درخت کونسا تو سمجھے یہ روشنی ہے"
مُرشد نے یہ جواب سُن کر دیگر حاضرین کی طرف نظر دوڑائی،کسی اور کے پاس کہنے کو مزید کُچھ نہ تھا ،اس پر مُرشد نے ارشاد کیا :
"جب تُم ضرورت مند کے چہرے پر اس کی ضرورت پڑھ سکو تو جان لو کہ"روشنی" آ چُکی ہے!


انسان کتنـی ہی مصبیتوں مایـوسیوں میں مبتلا ہو توکل کی جانب ایک قدم اس کے لیےراہ نجات 🌼🌸🌼بن جاتا ہے.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain