قربتوں کے نزول میں ، تیرا قرب کتنا دلنشیں هے
تجھے سوچنا تجھے دیکھنا تیرے پاس آنا کمال هے
پھر اس کے بعد محبت لپٹ گئی مجھ سے
میں نے مذاق اڑایا تھا رونے والوں کا .
😍💔💔
تُو کہیں پُھول سے بچھڑی ھُوئی خوشبُو تو نہیں ؟
تیری باتیں بھی ھیں، پروین کی نظموں جیسی ❤
🌍🔏🖤😇
اچھا مجھ میں کھو جاؤ گے؟؟
دیکھو____پاگل ہو جاؤ گے
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ایسا بالکل سوچا نا تھا
تم بھی ______ایسے ہو جاؤ گے؟؛
زمیں کا عشق تھا کیوں آسماں پہ لے گئے ہو
کہاں کی بات کو تم بھی کہاں پہ لے گئے ہو
🔥
کیا سوچ کر میری محبت پے انگلی اُٹھاتے ہو تم
مجھ کو تو دشمن کی بھی ہنسی عزیز ہوتی ہے
کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے
تیرا چہرہ، تِری آنکھیں، تِرے لب یاد آئے
.
ایک تُو تھا جسے غُربت میں پُکارا دِل نے
ورنہ، بِچھڑے ہُوئے احباب تو سب یاد آئے
.
ہم نے ماضی کی سخاوت پہ جو پَل بھر سوچا
دُکھ بھی کیا کیا ہمیں یاروں کے سبَب یاد آئے
.
پُھول کِھلنے کا جو موسم مِرے دل میں اُترا
تیرے بخشے ہُوئے کچھ زخم عجَب، یاد آئے
.
اب تو آنکھوں میں فقط دُھول ہےکچھ یادوں کی
ہم اُسے یاد بھی آئے ہیں تو، کب یاد آئے
.
بُھول جانے میں، وہ ظالِم ہے بھَلا کا ماہر !
یاد آنے پہ بھی آئے، تو غضب یاد آئے
یہ خُنک رُت، یہ نئے سال کا پہلا لمحہ !
دِل کی خواہش ہے کہ، کوئی اب یاد آئے
💕پ۔ا۔گ۔ل💋
تمہارے پاس ہوں لیکن، جو دوری ہے سمجھتی ہوں
تمہارے بِن میری ہستی، ادھوری ہے سمجھتی ہوں
:
تمہیں میں بھول پاؤں گی، یہ ممکن تو نہیں لیکن
تمہیں ہی بھولنا سب سے، ضروری ہے سمجھتی ہوں
:
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
،،،،،تُو کہ سمابِ طبیعت ہے،تجھے کیا معلوم
___؟موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
🥀
مجھے تیرا ساتھ گٗلابوں سا
میرا تجھ بِن تلخ مزاج پیا
میرا آنے والا وقت بھی تُو
میرا تُو ہی کل اور آج پیا
اسی کا ذکر پھر چھیڑو کہ آنسو ٹوٹ کر نکلیں
مجھے دل کے سبھی پردے نمی سے پاک کرنے ہیں
ہو کے وہ مست مئے ناز گلے لِپٹے ہیں
حوش کمبخت کہیں تفرقہ پرداز نہ ہو
اشکوں کو مری آنکھ میں آنے نہیں دیتا
اک شخص مجھے سوگ منانے نہیں دیتا
وہ اپنی اداؤں سے رجھاتا ہے مجھے روز
لیکن مجھے نزدیک بھی آنے نہیں دیتا
وہ خود بھی نہیں کرتا میرے غم کا مداوہ
آواز بھی اوروں کو لگانے نہیں دیتا
میں ملنے بچھڑنے سے تڑپنے تلک آیا
یہ کس نے کہا عشق زمانے نہیں دیتا
آنکھیں بھی کروں بند تو رہتا ہے مقابل
آئینہ تو چہرہ بھی چھپانے نہیں دیتا
پندار یہ کہتا ہے کہ سر جھکنے نہ پائے
احسان مگر سر ہی اٹھانے نہیں دیتا
وہ خواب جو آنکھوں میں سمانے پہ بضد ہے
کمبخت مجھے نیند بھی آنے نہیں دیتا
اک میری تمنا ہے کہ جی بھر تجھے دیکھوں
اک حسن ترا آنکھ اٹھانے نہیں دیتا
اک درد کہ اب سہنے کی طاقت نہیں مجھ میں
اک ڈر ہے کہ دنیا کو بتانے نہیں دیتا
.
ہر لمحہ بدلتے ہوئے جذبوں کا تلاطم
رستے پہ قدم مجھ کو جمانے نہیں دیتا
.
اک پل میں بدلتا ہے وہ حالت مرے دل کی
چہرے پہ کوئی رنگ بھی آنے نہیں دیتا
.
وہ خوف نہیں ہے تو بھلا کیا ہے؟ جو احساس
فریادی کو زنجیر ہلانے نہیں دیتا
.
تم نے مجھے اک بار بھی روکا نہیں؟ حد ہے!!
میں ہوتا تو ہرگز تمہیں جانے نہیں دیتا
.
دیتا ہوں سبق ہنس کے ستم سہنے کا اس کو
میں دل کو کبھی شور مچانے نہیں دیتا
تُو آشنائے شدتِ غم ہو تو کچھ کہوں ؟
کتنا بڑا عذاب ہے جینا تیرے بغیر
میری طلب ہیں میرے یار تیرے بہکاوے
قریب آ کے مجھے ورغلا____ضرورت ہے
pagl💕😘
جدا کروں تو میری سانس ہی نہیں چلتی
تیری طلب تو میری دھڑکنوں میں بیٹھ گئی
💕
رائیگی سے کہیں بڑھ کے ہے رنجِ بے بسی
ڈھل رہے ہیں ہم ہمارے سامنے رکھے ہوئے
Pagal💕💕
جس پیڑ کے سائے میں تھکن دور ہو میری
سُوکھا ہی سہی پر مجے درکار وہی ہے
تمہارا عشق مجھے دشت میں لے آیا
تمہارے ہجر کی وحشی دھمال باقی ہے
عجیب موت ملی ہے مجھے مروت میں
میں اس پہ مر مٹا ہوں ، انتقال باقی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain