Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ساتھ گزرا ہے ترے بن بھی گزر جائے گا
عمر گزری ہے جنم دن بھی گزر جائے گا

Offline
 

پتہ بھیجئے
آپکو ایک خط لکھنا ہے۔

Offline
 

لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے

Offline
 

ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے
وہ اک گھر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

Offline
 

مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے

Offline
 

اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ
دل کا احوال کہا کرتی ہے
.
دیکھ تو آن کے چہرہ میرا
اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے
.
شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد
کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے
.
مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا
فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے

Offline
 

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

Offline
 

جانے کس حال میں ہم ہیں، کہ ہمیں دیکھ کے لوگ
ایک پل کے لیے رکتے ہیں، گزر جاتے ہیں

Offline
 

زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

Offline
 

تم کہاں ہو میرے قریب تو اؤ
میں کہاں ہوں مجھے پتہ تو چلے
.
میں وہاں ہوں جہاں جہاں تم ہو
تم کرو گے کہاں کہاں سے گریز

Offline
 

بات گئی ہے کئی بار ترک تعلق تک
مگر میں محبت کو محبت سے بچا لیتا ہوں

Offline
 

"میں ہر وقت تمہاری یاد کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا رہتا ہوں۔ تم اگر ایک ہزار دفعہ بھی مجھے ٹھکراؤ، میں تب بھی تمہاری طرف لوٹ کر آؤں گا۔"
.
یہ شعر گر یہ مصور یہ سارے بد اوقات
یہ سب خیال کی چھت پر اسی سے ملتے ہیں
.
وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ
سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں

Offline
 

جس کی ہم کو چاہ تھی اس شخص کے سوا
.
بزمِ احباب میں ہر شخص نے چاہا ہم کو

Offline
 

محبت کرتے ہوئےاس بات کا خیال رکھنا کہ
جس سے مُحبت کی جائے اسکا تابع ہونا پڑتا ہے

Offline
 

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
.
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے

Offline
 

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی

Offline
 

بہت مصروف ہو مانا
مگر سوچو ذرا
تم بھی کبھی تھے آشنا ہم سے
تمہاری ملتجی آنکهيں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
بڑی بے ربط سی باتیں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
مگر جاناں
تمہاری آرزو تو میری چاہت ہے
یہ میرا مسئلہ ہے کہ
مجھے تم سے محبت ہے
سو اب یہ طے کیا ہے میں نے
تنہاٸی کے لمحوں میں
کہ کاسہِ محبت
توڑ پھنکیں گے
جلا دیں گے تمہیں دل سے بھلا دیں گے

Offline
 

ململ ریشم ، کھدر اچھا لگتا ہے
کچھ بھی پہنو تُم پر اچھا لگتا ہے
مجھ کو یونہی اچھی لگتی رہنا تم
اچھا لگنا تم پر اچھا لگتا ہے

Offline
 

تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
.
کس سے کہوں
تیرے بنا اب میں کیا کروں؟
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟

Offline
 

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ