ساتھ گزرا ہے ترے بن بھی گزر جائے گا
عمر گزری ہے جنم دن بھی گزر جائے گا
پتہ بھیجئے
آپکو ایک خط لکھنا ہے۔
لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے
ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے
وہ اک گھر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے
اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ
دل کا احوال کہا کرتی ہے
.
دیکھ تو آن کے چہرہ میرا
اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے
.
شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد
کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے
.
مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا
فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
جانے کس حال میں ہم ہیں، کہ ہمیں دیکھ کے لوگ
ایک پل کے لیے رکتے ہیں، گزر جاتے ہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
تم کہاں ہو میرے قریب تو اؤ
میں کہاں ہوں مجھے پتہ تو چلے
.
میں وہاں ہوں جہاں جہاں تم ہو
تم کرو گے کہاں کہاں سے گریز
بات گئی ہے کئی بار ترک تعلق تک
مگر میں محبت کو محبت سے بچا لیتا ہوں
"میں ہر وقت تمہاری یاد کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا رہتا ہوں۔ تم اگر ایک ہزار دفعہ بھی مجھے ٹھکراؤ، میں تب بھی تمہاری طرف لوٹ کر آؤں گا۔"
.
یہ شعر گر یہ مصور یہ سارے بد اوقات
یہ سب خیال کی چھت پر اسی سے ملتے ہیں
.
وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ
سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں
جس کی ہم کو چاہ تھی اس شخص کے سوا
.
بزمِ احباب میں ہر شخص نے چاہا ہم کو
محبت کرتے ہوئےاس بات کا خیال رکھنا کہ
جس سے مُحبت کی جائے اسکا تابع ہونا پڑتا ہے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
.
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی
بہت مصروف ہو مانا
مگر سوچو ذرا
تم بھی کبھی تھے آشنا ہم سے
تمہاری ملتجی آنکهيں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
بڑی بے ربط سی باتیں
ابھی تک یاد ہیں مجھکو
مگر جاناں
تمہاری آرزو تو میری چاہت ہے
یہ میرا مسئلہ ہے کہ
مجھے تم سے محبت ہے
سو اب یہ طے کیا ہے میں نے
تنہاٸی کے لمحوں میں
کہ کاسہِ محبت
توڑ پھنکیں گے
جلا دیں گے تمہیں دل سے بھلا دیں گے
ململ ریشم ، کھدر اچھا لگتا ہے
کچھ بھی پہنو تُم پر اچھا لگتا ہے
مجھ کو یونہی اچھی لگتی رہنا تم
اچھا لگنا تم پر اچھا لگتا ہے
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
.
کس سے کہوں
تیرے بنا اب میں کیا کروں؟
تیری یادیں، وہ ساری باتیں
تو ہی بتا کیسے بھلاؤں؟
اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain