Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا
تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے
یہ ٹھیک ہے پر خیال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ اس بہانے پلٹ کے آئے گا تم دیکھ لینا
کتاب اس کی سنبھال کے رکھنا اسے نہ کہنا
وہ ترک الفت کی بات چیھڑے تو مان لینا
پھر اپنا جیسا بھی حال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ رکھ رکھاؤ ہے شاعری سو میرے شاعر
غزل میں اس کا جمال رکھنا اسے نہ کہنا

Offline
 

یہ تکبُر انسان کو تباہ کردیتا ہے
بہادر شاہ ظفر بادشاہ ہند شعر کہتا ہے۔
.
.
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا
وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

Offline
 

ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہَمَیں بھی ہے
ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے

Offline
 

زندگی کے اس سفر میں میں نے بہت سی آنکھیں دیکھیں اور میں وہ دیکھ کر گذر گیا لیکن یہ صرف تمہاری آنکھیں تھی جنہیں دیکھ کر مجھے عمر قید سزا سُنا دی گئی اور میں نے وہ سزا قُبول کر لی
.
.
.
اک تُو تے دُوجیاں تیریاں اکھاں
دوواں اُتے میریاں اکھاں
ہُجّن دان ہور بتیرِیاں اکھاں
پر سب توں سونیاں تیریاں اکھاں

Offline
 

مل ہی جائے گا یہ یقین رھتا ھے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رھتا ھے

Offline
 

اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔ
وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے

Offline
 

میرے لیے یہ غیر ہیں اور مَیں ان کیلئے بیگانہ ہوں
پِھر بھی یہ اِک رسمِ جہاں ہے جسے نبھانے آ جاتے ہیں

Offline
 

عمرِ رواں میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل کسی کو بے اختیار چُن لیتا ہے۔ دماغ پر اُس کا نقش اس طرح ثبت ہوتا ہے کہ آدمی ہوش و خرد کی بساط سمیٹ بیٹھتا ہے۔ جنون کی دہلیز پر کھڑا وہ ایک ہی ہستی کو اپنا محور بنا لیتا ہے۔ اُس کے غمزوں میں سرمے کی تلک اُسے جہاں بھر سے حسین دکھائی دیتی ہے۔ محبت کے استعارے اُسے وصال کی لے میں بہاتے رہتے ہیں، اور اُس کا تصور اُسی گلی، اُسی کوچے میں پناہ لیتا ہے جہاں اُس کی ماہ پارہ بسیرا کیے ہوئے ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی انفرادیت کھونے لگتا ہے اور محبوب کا سایہ بن جاتا ہے۔

Offline
 

ایسے میں وہ جگہ جہاں محبوب کے قدم پڑیں، اُس کے لیے اُس کی مٹی بھی مہک اٹھتی ہے۔ جہاں وہ رہتی ہے، وہی بہشت ٹھہرتی ہے۔ اُس گلی کی خاک چنتے ہوئے پہنچ جانا بھی ایک تڑپ ہے۔ وہاں جانا خوش نصیبی ہے، اور محبوب کو ایک نظر دیکھ لینا عین سکون ہے۔
اور جب یہ سب میسر نہ آئے، یعنی محبوب بچھڑ جائے تو اُسی گلی میں تلاش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ گویا ایک نظر دیکھ لینا ہی سب سے بڑی آرزو ہے۔ مگر محبوب نگاہیں پھیر لیتا ہے یا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ یہاں تمہاری کوئی وقعت نہیں۔ کون سمجھائے اُسے کہ ایک مجنوں کے لیے اس کی گلی کیا معنی رکھتی ہے۔
بقولِ ابنِ انشا:
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا

Offline
 

میں تمہاری آنکھوں سے وہ زمانے دیکھوں گا
جو ابھی نہیں آئے۔
میں تمہارے پاؤں سے تیز تیز بھاگوں گا
ایسی شاہراہوں پر
جو ابھی نگاہوں سے مِثلِ خواب اوجھل ہیں۔
میں تُمہارے ہاتھوں سے وہ پہاڑ چھُو لوں گا
جِس کو سوچ کر بھی اب سانس پھُول جاتی ہے۔
وہ پہاڑ، وہ رستے جِن پر تم کو جانا ہے
وہ نیا زمانہ ہے، اور وہ تمہارا ہے۔

Offline
 

میں کہ ۔۔ اس زمانے کو دیکھ بھی نہ پاؤں گا
لیکن اس زمانے کی ہر گھڑی کو، ہر پل کو
میری آنکھیں دیکھیں گی
اُن چمکتی آنکھوں سے جو تمہاری آنکھیں ہیں۔
میں تمہاری آنکھوں میں پیار بن کے رہتا ہوں
نور بن کے بستا ہوں، خواب بن کے زِندہ ہوں۔
میرے سارے خوابوں کو ان جمیل آنکھوں کے
ایک گوشے میں تم چھُپا کے رکھ لینا۔
اور کبھی یہ خواب پھُول بن کے مہکیں تو
اِن کی خوشبوؤں میں تم
میرے نام کے سب حرف احتیاط سے رکھنا
احتیاط سے رکھنا ۔۔۔

Offline
 

تو نے دیکھا نہیں ہماری طرف
اتنی توہین کون کرتا ہے

Offline
 

آپ جیسوں کے لیے اِس میں رکھا کچھ بھی نہیں
لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر
اِس تعلق میں اذیّت کے سِوا کچھ بھی نہیں
میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا
یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں

Offline
 

ہم لبوں سے کہ نہ پائے
ان سے حالِ دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ
خاموشی کیا چیز ہے

Offline
 

ایک وقت ایسا آتا ہے
جب آپ کو کسی تسلی دلاسے کی ضرورت نہیں رہتی
آپ کو صبر آ جاتا ہے
اور تب آپ یہ نظم پڑھتے ہیں کہ
جہاں زاد! اب نہ آنا
کوئی دوست داری کرنے
مرا حالِ درد سننے
مری غم گساری کرنے
کہ جو ذات پر گراں تھا
وہ سمے گزر گیا ہے
وہ جو دریائے فُغاں تھا
تہہِ جاں اتر گیا ہے
تِری غفلتوں کے پیچھے
مِرے دن بدل گئے ہیں
میں غموں میں ڈھل گیا ہوں
غم مجھ میں ڈھل گئے ہیں
سو یہ دوست داری کرنے
مری دل آزاری کرنے
جہاں زاد! اب نہ آنا

Offline
 

کارِ دُشوار تھا ، دوبارہ محبت لیکن
خود کو بیکار تِرے بعد ، کہاں تک رکھتے

Offline
 

جب ترے نین مسکراتے ہیں
زیست کے رنج بھول جاتے ہیں
کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھے پر
بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں
کشتیاں یوں بھی ڈوب جاتی ہیں
ناخدا کس لیے ڈراتے ہیں
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر
قافلے راہ بھول جاتے ہیں

Offline
 

تم گنجان آبادیوں کے مکین رھے ہو کبھی
آسماں کے سمندر میں کاغذی کشتیاں دیکھی ہیں کبھی
کسی تار پہ پھیلے ہوئے آنچل سے الجھی ھے نظر
آسمان پہ لکھتی نظم' کبوتریاں دیکھی ہیں کبھی
بیک یارڈ اور پورچ کی سرحدوں میں رہنے والو
تم نے چھتوں سے ملی ہوئی چھتیں دیکھی ہیں کبھی
مینار کی اوٹ سے اگتے ہوۓ سورج سے ملے ہو تم
مکانوں کے عقب میں ڈوبتی شامیں دیکھی ہیں کبھی
اٹھی ھے کبھی تمہاری خاموش گلی سے فقیر کی صدا
اور اس دلگیر صدا پہ کھڑکیاں کھلی ھیں کبھی
تاروں کی چھاؤں' جولائی کا مہینہ' بان کی چارپائی
سرد راتوں میں پہریدار کی سیٹیاں سنی ہیں کبھی
تم گنجان آبادیوں کے مکیں رھے ہو کبھی

Offline
 

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا
۔
یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا

Offline
 

کل دیکھا اِک آدمی، اٹا سفر کی دُھول میں
گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پُھول میں