ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا
تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے
یہ ٹھیک ہے پر خیال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ اس بہانے پلٹ کے آئے گا تم دیکھ لینا
کتاب اس کی سنبھال کے رکھنا اسے نہ کہنا
وہ ترک الفت کی بات چیھڑے تو مان لینا
پھر اپنا جیسا بھی حال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ رکھ رکھاؤ ہے شاعری سو میرے شاعر
غزل میں اس کا جمال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ تکبُر انسان کو تباہ کردیتا ہے
بہادر شاہ ظفر بادشاہ ہند شعر کہتا ہے۔
.
.
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا
وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہَمَیں بھی ہے
ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے
زندگی کے اس سفر میں میں نے بہت سی آنکھیں دیکھیں اور میں وہ دیکھ کر گذر گیا لیکن یہ صرف تمہاری آنکھیں تھی جنہیں دیکھ کر مجھے عمر قید سزا سُنا دی گئی اور میں نے وہ سزا قُبول کر لی
.
.
.
اک تُو تے دُوجیاں تیریاں اکھاں
دوواں اُتے میریاں اکھاں
ہُجّن دان ہور بتیرِیاں اکھاں
پر سب توں سونیاں تیریاں اکھاں
مل ہی جائے گا یہ یقین رھتا ھے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رھتا ھے
اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔ
وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے
میرے لیے یہ غیر ہیں اور مَیں ان کیلئے بیگانہ ہوں
پِھر بھی یہ اِک رسمِ جہاں ہے جسے نبھانے آ جاتے ہیں
عمرِ رواں میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل کسی کو بے اختیار چُن لیتا ہے۔ دماغ پر اُس کا نقش اس طرح ثبت ہوتا ہے کہ آدمی ہوش و خرد کی بساط سمیٹ بیٹھتا ہے۔ جنون کی دہلیز پر کھڑا وہ ایک ہی ہستی کو اپنا محور بنا لیتا ہے۔ اُس کے غمزوں میں سرمے کی تلک اُسے جہاں بھر سے حسین دکھائی دیتی ہے۔ محبت کے استعارے اُسے وصال کی لے میں بہاتے رہتے ہیں، اور اُس کا تصور اُسی گلی، اُسی کوچے میں پناہ لیتا ہے جہاں اُس کی ماہ پارہ بسیرا کیے ہوئے ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی انفرادیت کھونے لگتا ہے اور محبوب کا سایہ بن جاتا ہے۔
ایسے میں وہ جگہ جہاں محبوب کے قدم پڑیں، اُس کے لیے اُس کی مٹی بھی مہک اٹھتی ہے۔ جہاں وہ رہتی ہے، وہی بہشت ٹھہرتی ہے۔ اُس گلی کی خاک چنتے ہوئے پہنچ جانا بھی ایک تڑپ ہے۔ وہاں جانا خوش نصیبی ہے، اور محبوب کو ایک نظر دیکھ لینا عین سکون ہے۔
اور جب یہ سب میسر نہ آئے، یعنی محبوب بچھڑ جائے تو اُسی گلی میں تلاش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ گویا ایک نظر دیکھ لینا ہی سب سے بڑی آرزو ہے۔ مگر محبوب نگاہیں پھیر لیتا ہے یا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ یہاں تمہاری کوئی وقعت نہیں۔ کون سمجھائے اُسے کہ ایک مجنوں کے لیے اس کی گلی کیا معنی رکھتی ہے۔
بقولِ ابنِ انشا:
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا
میں تمہاری آنکھوں سے وہ زمانے دیکھوں گا
جو ابھی نہیں آئے۔
میں تمہارے پاؤں سے تیز تیز بھاگوں گا
ایسی شاہراہوں پر
جو ابھی نگاہوں سے مِثلِ خواب اوجھل ہیں۔
میں تُمہارے ہاتھوں سے وہ پہاڑ چھُو لوں گا
جِس کو سوچ کر بھی اب سانس پھُول جاتی ہے۔
وہ پہاڑ، وہ رستے جِن پر تم کو جانا ہے
وہ نیا زمانہ ہے، اور وہ تمہارا ہے۔
میں کہ ۔۔ اس زمانے کو دیکھ بھی نہ پاؤں گا
لیکن اس زمانے کی ہر گھڑی کو، ہر پل کو
میری آنکھیں دیکھیں گی
اُن چمکتی آنکھوں سے جو تمہاری آنکھیں ہیں۔
میں تمہاری آنکھوں میں پیار بن کے رہتا ہوں
نور بن کے بستا ہوں، خواب بن کے زِندہ ہوں۔
میرے سارے خوابوں کو ان جمیل آنکھوں کے
ایک گوشے میں تم چھُپا کے رکھ لینا۔
اور کبھی یہ خواب پھُول بن کے مہکیں تو
اِن کی خوشبوؤں میں تم
میرے نام کے سب حرف احتیاط سے رکھنا
احتیاط سے رکھنا ۔۔۔
تو نے دیکھا نہیں ہماری طرف
اتنی توہین کون کرتا ہے
آپ جیسوں کے لیے اِس میں رکھا کچھ بھی نہیں
لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر
اِس تعلق میں اذیّت کے سِوا کچھ بھی نہیں
میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا
یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں
ہم لبوں سے کہ نہ پائے
ان سے حالِ دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ
خاموشی کیا چیز ہے
ایک وقت ایسا آتا ہے
جب آپ کو کسی تسلی دلاسے کی ضرورت نہیں رہتی
آپ کو صبر آ جاتا ہے
اور تب آپ یہ نظم پڑھتے ہیں کہ
جہاں زاد! اب نہ آنا
کوئی دوست داری کرنے
مرا حالِ درد سننے
مری غم گساری کرنے
کہ جو ذات پر گراں تھا
وہ سمے گزر گیا ہے
وہ جو دریائے فُغاں تھا
تہہِ جاں اتر گیا ہے
تِری غفلتوں کے پیچھے
مِرے دن بدل گئے ہیں
میں غموں میں ڈھل گیا ہوں
غم مجھ میں ڈھل گئے ہیں
سو یہ دوست داری کرنے
مری دل آزاری کرنے
جہاں زاد! اب نہ آنا
کارِ دُشوار تھا ، دوبارہ محبت لیکن
خود کو بیکار تِرے بعد ، کہاں تک رکھتے
جب ترے نین مسکراتے ہیں
زیست کے رنج بھول جاتے ہیں
کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھے پر
بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں
کشتیاں یوں بھی ڈوب جاتی ہیں
ناخدا کس لیے ڈراتے ہیں
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر
قافلے راہ بھول جاتے ہیں
تم گنجان آبادیوں کے مکین رھے ہو کبھی
آسماں کے سمندر میں کاغذی کشتیاں دیکھی ہیں کبھی
کسی تار پہ پھیلے ہوئے آنچل سے الجھی ھے نظر
آسمان پہ لکھتی نظم' کبوتریاں دیکھی ہیں کبھی
بیک یارڈ اور پورچ کی سرحدوں میں رہنے والو
تم نے چھتوں سے ملی ہوئی چھتیں دیکھی ہیں کبھی
مینار کی اوٹ سے اگتے ہوۓ سورج سے ملے ہو تم
مکانوں کے عقب میں ڈوبتی شامیں دیکھی ہیں کبھی
اٹھی ھے کبھی تمہاری خاموش گلی سے فقیر کی صدا
اور اس دلگیر صدا پہ کھڑکیاں کھلی ھیں کبھی
تاروں کی چھاؤں' جولائی کا مہینہ' بان کی چارپائی
سرد راتوں میں پہریدار کی سیٹیاں سنی ہیں کبھی
تم گنجان آبادیوں کے مکیں رھے ہو کبھی
تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا
۔
یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا
کل دیکھا اِک آدمی، اٹا سفر کی دُھول میں
گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پُھول میں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain