Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کا کم . حساب کتاب لگایا کرتا تھا کے یہ دعا قبول ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اور اس بے یقینی کو اللہ کے فیصلوں کا احترام سمجھا کرتا تھا لیکن اب میں یقین کے اس
دوہرائے پر کھڑا ہوں جہاں میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول پہلے کرتا ہے اور توفیق بعد میں دیتا ہے. اور آپ تو میری دعا کا وہ حصہ ہیں جو زبان سے ادا نہیں ہوتا، جس کا حال آنکھیں اللہ کو سناتی ہیں، آپ سے جڑی رازداریاں یا تو وہ جانتا ہے یا میں جانتا ہوں کسی اور کی پہنچ نہیں یہاں تک کیونکہ آپ دل میں رہتے ہیں اور دل کے سارے معاملات تو بس اللہ سے ہی جڑے ہوتے ہیں اور محبت کے خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں ؟ جو ان کی تعبیر اللہ کے سوا اور کسی سے طلب نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کی محبت آپ سے نہیں اللہ سے چاہیے اور وہ جانتا ہے کے اس کے در پہ سوالی ہاتھ خالی واپس جانے کے لیے نہیں آتے۔

Offline
 

اس لیے اس کو دلاتا ہوں میں غصہ تابش
تاکہ دیکھوں میں اسے اور بھی پیارا کر کے

Offline
 

میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
.
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے

Offline
 

اس کی وائٹ نائٹس میں لکھتا ہے کہ جب اسے نستینکا سے محبت ہوتی ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکوں گا میں تمہارے علاوہ نہ کچھ سوچتا ہوں نہ کچھ چاہتا ہوں اور نہ کوئی خواب دیکھتا ہوں
عباس تابش صاحب کا شعر ہے
۔
ضروریات جہاں ہم سے پوچھنے والے
تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے

Offline
 

کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے
وہ عشق تھا،وہ جنوں تھا
یہ جو ہجر ہے،یہ نصیب ہے
یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟
گلہ کریں تو کس سے کریں
جو ہو گیا وہ نصیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے

Offline
 

عجیب ڈر ہے تعلق کا قیمتی سکہ
ہمارے ہاتھ سے گرنا ہے پھر نہیں ملنا
یہ بات کس کو بتاؤں کہ ایک دن میں نے
کسی طرف تو نکلنا ہے پھر نہیں ملنا

Offline
 

کسی گمان میں شب بھر مکاں بدلتے ہیں
زمیں بدلتی ہے تو آسماں بدلتے ہیں
اسی لیے تو تیرے در پہ گر گیا تھا میں
میں جانتا تھا مقدر یہاں بدلتے ہیں
وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو
وہ جارہا ہے تو ہم کھڑکیاں بدلتے ہیں

Offline
 

سُنا ہے اُس کو سخن کے اصول آتے ہیں۔۔۔
کرے کلام تو باتوں سے پھول آتے ہیں۔۔۔۔۔
سُنا ہے اُس کے پڑھانے میں ہے مٹھاس ایسی
کہ بخار ہو بھی تو بچے سکول آتے ہیں

Offline
 

مضبوط ہونے کا خسارہ یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ آپ کس تکلیف میں ہیں۔

Offline
 

محبت اس طرح بھیجو
کہ جیسے خواب آتا ہے
جو آتا ہے
تو دروازے پہ
دستک تک نہیں ہوتی
بہت سرشار لمحے کی، مدھُر چُپ میں
کسی ہلکورے لیتی آنکھ کی خاطر
کسی بے تاب سے ملنے
کوئی بے تاب آتا ہے۔۔

Offline
 

۔مرتا ھوا آدمی کبھی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔خواہ وہ عشق ممنوع کا بشیر ھو۔یا بیلی راجپوتاں کا منگل سنگھ

Offline
 

کاف کا نے ملین کو خط لکھا کہ میں تھک گیا ہوں اب میں کچھ نہیں سوچتا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری گود میں میرا سر ہو میرے سر پہ تمہارا ہاتھ ہو اور ہمیشہ کے لیے اسی حالت میں رہیں
.
.
.
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

Offline
 

جانے کس سمت سے آتی ہے اچانک تری یاد
اور پھر ۔۔ کچھ بھی سمٹنے میں نہیں آتا ہے
خود کو مصروف کئے رکھنے کی کوشش کرنا
کیا تری یاد کے زمرے میں نہیں آتا ہے؟

Offline
 

وہ جو راستے میں تجھے چھوڑنے کے لیے اختیار کرتا ہوں
وہ بھی مجھے تیری طرف لے جاتے ہیں
.
.
.
تمام سمتیں سبھی راستے اسی کے تھے
میرا بچاؤ تو راہ فرار میں بھی نہ تھا

Offline
 

In English we say "I Miss You"
مگر اردو میں ہم کہیں گے
میں تمہارا انتظار ایسے کرتا ہوں
جیسے قیدی رہائی کا انتظار کرتے ہیں
میں تمہيں ایسے یاد کرتا ہوں
جیسے بلوچ مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کو
میں تمہاری تصویر ایسے دیکھتا ہوں
جیسے صحرائی بچے پہلی بار سمندر دیکھ رہے ہوں
اور جب ہم ملیں گے تو میں تمہيں ایسے گلے لگاؤں گا
جیسے یہ دنیا ختم ہونے والی ہو

Offline
 

`"فى الجنة يكسر أحد قلب آخر."`
"جنت میں کوئی کسی کا دل نہیں توڑے گا"

Offline
 

یوں لگتا ہے جیسے یادوں کے صحن میں اب صرف سائے بستے ہیں وہ گھر جو کبھی سانس لیتے تھے اب خیال کے دھاگوں سے جڑے ہیں حقیقت سے خواب تک کا یہ سفر انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ مکان بس دل میں تعمیر ہوتے ہیں اور وہی ہمیشہ قائم رہتے ہیں

Offline
 

آنکھیں اس سے محبت کرتی ہیں جو آنکھوں کو اچھا لگے اور عقل اسے پسند کرتی ہے جو اسے سمجھ سکے جبکہ روح صرف اس سے محبت کرتی ہے جو اس کے مشابہ ہو

Offline
 

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

Offline
 

تم سے محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھا ... یہ کوئی فیصلہ نہیں تھا، یہ تو دل کی ضد تھی، جو بار بار مجھے تمہاری طرف کھینچتی رہی۔ میں چاہ کر بھی رک نہ سکا چاہ کر بھی خود کو بچا نہ سکا۔ شاید اسی کو محبت کہتے ہیں، جو انسان کے اختیار سے نکل جاتی ہے۔ میں نے خود کو ہزار بار سمجھایا کہ یہ فاصلہ بہتر ہے، یہ بھول جانا آسان ہے، مگر دل نے کبھی میری نہ سنی دل ضدی بچہ ہے نا جو ایک ہی چیز پر اڑ جاتا ہے، اور میرا دل صرف تمہارے لیے اڑا رہا۔ کاش محبت ایک انتخاب ہوتی تو شاید میں یہ راستہ کبھی نہ چنتا - کاش یہ میرے ہاتھ میں ہوتا، تو میں اپنی جان کو اتنے درد سے نہ گزارتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت انسان کے ہاتھ میں نہیں، یہ تو بس ایک کھیل ہے جو تقدیر اپنے اصولوں سے کھیلتی