کا کم . حساب کتاب لگایا کرتا تھا کے یہ دعا قبول ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اور اس بے یقینی کو اللہ کے فیصلوں کا احترام سمجھا کرتا تھا لیکن اب میں یقین کے اس
دوہرائے پر کھڑا ہوں جہاں میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول پہلے کرتا ہے اور توفیق بعد میں دیتا ہے. اور آپ تو میری دعا کا وہ حصہ ہیں جو زبان سے ادا نہیں ہوتا، جس کا حال آنکھیں اللہ کو سناتی ہیں، آپ سے جڑی رازداریاں یا تو وہ جانتا ہے یا میں جانتا ہوں کسی اور کی پہنچ نہیں یہاں تک کیونکہ آپ دل میں رہتے ہیں اور دل کے سارے معاملات تو بس اللہ سے ہی جڑے ہوتے ہیں اور محبت کے خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں ؟ جو ان کی تعبیر اللہ کے سوا اور کسی سے طلب نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کی محبت آپ سے نہیں اللہ سے چاہیے اور وہ جانتا ہے کے اس کے در پہ سوالی ہاتھ خالی واپس جانے کے لیے نہیں آتے۔
اس لیے اس کو دلاتا ہوں میں غصہ تابش
تاکہ دیکھوں میں اسے اور بھی پیارا کر کے
میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
.
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے
اس کی وائٹ نائٹس میں لکھتا ہے کہ جب اسے نستینکا سے محبت ہوتی ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکوں گا میں تمہارے علاوہ نہ کچھ سوچتا ہوں نہ کچھ چاہتا ہوں اور نہ کوئی خواب دیکھتا ہوں
عباس تابش صاحب کا شعر ہے
۔
ضروریات جہاں ہم سے پوچھنے والے
تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے
کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے
وہ عشق تھا،وہ جنوں تھا
یہ جو ہجر ہے،یہ نصیب ہے
یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟
گلہ کریں تو کس سے کریں
جو ہو گیا وہ نصیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے
عجیب ڈر ہے تعلق کا قیمتی سکہ
ہمارے ہاتھ سے گرنا ہے پھر نہیں ملنا
یہ بات کس کو بتاؤں کہ ایک دن میں نے
کسی طرف تو نکلنا ہے پھر نہیں ملنا
کسی گمان میں شب بھر مکاں بدلتے ہیں
زمیں بدلتی ہے تو آسماں بدلتے ہیں
اسی لیے تو تیرے در پہ گر گیا تھا میں
میں جانتا تھا مقدر یہاں بدلتے ہیں
وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو
وہ جارہا ہے تو ہم کھڑکیاں بدلتے ہیں
سُنا ہے اُس کو سخن کے اصول آتے ہیں۔۔۔
کرے کلام تو باتوں سے پھول آتے ہیں۔۔۔۔۔
سُنا ہے اُس کے پڑھانے میں ہے مٹھاس ایسی
کہ بخار ہو بھی تو بچے سکول آتے ہیں
مضبوط ہونے کا خسارہ یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ آپ کس تکلیف میں ہیں۔
محبت اس طرح بھیجو
کہ جیسے خواب آتا ہے
جو آتا ہے
تو دروازے پہ
دستک تک نہیں ہوتی
بہت سرشار لمحے کی، مدھُر چُپ میں
کسی ہلکورے لیتی آنکھ کی خاطر
کسی بے تاب سے ملنے
کوئی بے تاب آتا ہے۔۔
۔مرتا ھوا آدمی کبھی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔خواہ وہ عشق ممنوع کا بشیر ھو۔یا بیلی راجپوتاں کا منگل سنگھ
کاف کا نے ملین کو خط لکھا کہ میں تھک گیا ہوں اب میں کچھ نہیں سوچتا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری گود میں میرا سر ہو میرے سر پہ تمہارا ہاتھ ہو اور ہمیشہ کے لیے اسی حالت میں رہیں
.
.
.
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جانے کس سمت سے آتی ہے اچانک تری یاد
اور پھر ۔۔ کچھ بھی سمٹنے میں نہیں آتا ہے
خود کو مصروف کئے رکھنے کی کوشش کرنا
کیا تری یاد کے زمرے میں نہیں آتا ہے؟
وہ جو راستے میں تجھے چھوڑنے کے لیے اختیار کرتا ہوں
وہ بھی مجھے تیری طرف لے جاتے ہیں
.
.
.
تمام سمتیں سبھی راستے اسی کے تھے
میرا بچاؤ تو راہ فرار میں بھی نہ تھا
In English we say "I Miss You"
مگر اردو میں ہم کہیں گے
میں تمہارا انتظار ایسے کرتا ہوں
جیسے قیدی رہائی کا انتظار کرتے ہیں
میں تمہيں ایسے یاد کرتا ہوں
جیسے بلوچ مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کو
میں تمہاری تصویر ایسے دیکھتا ہوں
جیسے صحرائی بچے پہلی بار سمندر دیکھ رہے ہوں
اور جب ہم ملیں گے تو میں تمہيں ایسے گلے لگاؤں گا
جیسے یہ دنیا ختم ہونے والی ہو
`"فى الجنة يكسر أحد قلب آخر."`
"جنت میں کوئی کسی کا دل نہیں توڑے گا"
یوں لگتا ہے جیسے یادوں کے صحن میں اب صرف سائے بستے ہیں وہ گھر جو کبھی سانس لیتے تھے اب خیال کے دھاگوں سے جڑے ہیں حقیقت سے خواب تک کا یہ سفر انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ مکان بس دل میں تعمیر ہوتے ہیں اور وہی ہمیشہ قائم رہتے ہیں
آنکھیں اس سے محبت کرتی ہیں جو آنکھوں کو اچھا لگے اور عقل اسے پسند کرتی ہے جو اسے سمجھ سکے جبکہ روح صرف اس سے محبت کرتی ہے جو اس کے مشابہ ہو
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
تم سے محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھا ... یہ کوئی فیصلہ نہیں تھا، یہ تو دل کی ضد تھی، جو بار بار مجھے تمہاری طرف کھینچتی رہی۔ میں چاہ کر بھی رک نہ سکا چاہ کر بھی خود کو بچا نہ سکا۔ شاید اسی کو محبت کہتے ہیں، جو انسان کے اختیار سے نکل جاتی ہے۔ میں نے خود کو ہزار بار سمجھایا کہ یہ فاصلہ بہتر ہے، یہ بھول جانا آسان ہے، مگر دل نے کبھی میری نہ سنی دل ضدی بچہ ہے نا جو ایک ہی چیز پر اڑ جاتا ہے، اور میرا دل صرف تمہارے لیے اڑا رہا۔ کاش محبت ایک انتخاب ہوتی تو شاید میں یہ راستہ کبھی نہ چنتا - کاش یہ میرے ہاتھ میں ہوتا، تو میں اپنی جان کو اتنے درد سے نہ گزارتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت انسان کے ہاتھ میں نہیں، یہ تو بس ایک کھیل ہے جو تقدیر اپنے اصولوں سے کھیلتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain