Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کس کا خیال کون سی منزل نظر میں ہے
صدیاں گزر گئیں یا زمانہ سفر میں ہے
سوچا تھا تجھ سے دور نکل جائیں گے کہیں
دیکھا تو ہر مقام تری رہ گزر میں ہے

Offline
 

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں
جو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں
کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا
پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں
میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے
میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں
تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی
یہ اور بات راستہ کٹا نہیں
اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہی
کسی کو خوف آ رہا ہے یا نہیں
میں ان دنوں ہوں خود سے اتنا بے خبر
میں مر چکا ہوں اور مجھے پتا نہیں
یہ عشق بھی عجب کہ ایک شخص سے
مجھے لگا کہ ہو گیا ہوا نہیں

Offline
 

میں تمہاری گود میں سر رکھ کر ایسی نیند سونا چاہتا ہوں، جس میں نہ تمہیں کھونے کا ڈر ہو اور نہ تم سے بچھڑنے کی اذیت
.
.
ترا بچھڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے
تو کیسے خوف کے ماروں کی نیند پوری ہو
.
جو ایک جاگے تو دونوں کو اضطراب رہے
جو ایک سوئے تو دونوں کی نیند پوری ہو

Offline
 

میں کسی کا پسندیدہ شخص نہیں ہوں
میں وہ شخص ہوں جو
ملا تو ٹھیک نا بھی ملا تو ٹھیک

Offline
 

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو
کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو
اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو
کیوں چاہتا ہوں تم کو تبسّم یہ ہے وہ راز
چاہو بھی تم اگر، کبھی افشا نہ کر سکو

Offline
 

ایک ایسے غم شناس کی حسرت رہی مجھے
جو روئے میرے ساتھ، مُجھے حوصلہ نہ دے
کہنے کو سب نے درد کی باتیں بہت کیں
پر کوئی دل کے زخم کو مرہم ذرا نہ دے
ہر شخص تسلی کی زباں لے کے آیا تھا
پر آنکھ میں آنسو کی کوئی بوند لا نہ دے
چاہا تھا کوئی غم کی گھنی رات میں ملے
جو صرف میرا درد سنے، مشورہ نہ دے
کچھ دکھ تو ایسے ہیں کہ بیاں ہو نہیں سکتے
لفظوں کی مالا میں انہیں سلسلہ نہ دے
بچھڑے ہوئے خوابوں کی جو راکھ باقی ہے
اُس راکھ کو پھر سے کوئی تیز ہوا نہ دے
یہ بھی تو ممکن ہے کہ بکھر جاؤں میں خود سے
دھوکہ مجھے تقدیر کا آئینہ نہ دے

Offline
 

خوبصورت تو وہ مجھے بعد میں لگا
پہلے تو مجھے اس سے محبت ہوئی ہے

Offline
 

ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھے
زمیں کی خاک ہو کر آسمان سے دل لگا بیٹھے
ہوا خون تمنا اس کا شکوہ کیا کریں تم سے
نہ کچھ سوچا نہ کچھ سمجھا جگر پر تیر کھا بیٹھے
خبر کی تھی گلستان محبت میں بھی خطرے ہیں
جہاں گرتی ہے بجلی ہم اسی ڈالی پہ جا بیٹھے
نہ کیوں انجام الفت دیکھ کر آنسو نکل آئیں
جہاں کو لوٹنے والے خود اپنا گھر لٹا بیٹھے

Offline
 

مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی
مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی
مجھے ان دھند کی چادر میں اب لیے نہیں رہنا
مجھے اس عالم سیخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا
مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا
میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے قاصر ہوں
میں زندہ زندگی کی ساعتوں کا ایک شاعر ہوں
مجھے اک لہلہاتے جھولتے پیکر کی خواہش ہے
مجھے ان منظروں میں ایسے اک منظر کی خواہش ہے

Offline
 

کوئی بات نہیں، اس میں بھی کوئی بہتری ہو گی

Offline
 

میں خود کو کھو چکا ہوں کسی کی تلاش میں
ممکن ہے کہ اب میرا مجھ سے کبھی رابطہ نہ ہو

Offline
 

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دُور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دُھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہِ تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا

Offline
 

دل نے کسی کی مان کے ہونا نہیں ہے ٹھیک
حالانکہ ان دونوں اسے رونا نہیں ہے ٹھیک
افسوس ہے کہ دشت میں وحشت نہیں رہی
دنیا ترا تو کوئی بھی کونا نہیں ہے ٹھیک

Offline
 

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
...
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

Offline
 

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔

Offline
 

میرا رستہ تک تک کے
جب آنکھیں تھک جائیں
ہاتھوں کی لکیروں کو
مہندی سے چھپا لینا
نظروں کو جھکا لینا
دنیا سے چھپا لینا

Offline
 

وہ تو وہ اس کی شباہت نہیں ملنے والی
کسی صورت سے وہ صورت نہیں ملنے والی

Offline
 

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل
تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید
ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے
چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

Offline
 

آٶ دیکھو میرے چہرے کے خدو خال کو اب
مان جاٶ گے محبت بھی نشاں چھوڑتی ہے

Offline
 

اہل دل اسکو دل نہیں کہتے
جو تڑپتا نہ ہو کسی کے لیے