اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں جو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی یہ اور بات راستہ کٹا نہیں اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہی کسی کو خوف آ رہا ہے یا نہیں میں ان دنوں ہوں خود سے اتنا بے خبر میں مر چکا ہوں اور مجھے پتا نہیں یہ عشق بھی عجب کہ ایک شخص سے مجھے لگا کہ ہو گیا ہوا نہیں
میں تمہاری گود میں سر رکھ کر ایسی نیند سونا چاہتا ہوں، جس میں نہ تمہیں کھونے کا ڈر ہو اور نہ تم سے بچھڑنے کی اذیت . . ترا بچھڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے تو کیسے خوف کے ماروں کی نیند پوری ہو . جو ایک جاگے تو دونوں کو اضطراب رہے جو ایک سوئے تو دونوں کی نیند پوری ہو
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو کیوں چاہتا ہوں تم کو تبسّم یہ ہے وہ راز چاہو بھی تم اگر، کبھی افشا نہ کر سکو
ایک ایسے غم شناس کی حسرت رہی مجھے جو روئے میرے ساتھ، مُجھے حوصلہ نہ دے کہنے کو سب نے درد کی باتیں بہت کیں پر کوئی دل کے زخم کو مرہم ذرا نہ دے ہر شخص تسلی کی زباں لے کے آیا تھا پر آنکھ میں آنسو کی کوئی بوند لا نہ دے چاہا تھا کوئی غم کی گھنی رات میں ملے جو صرف میرا درد سنے، مشورہ نہ دے کچھ دکھ تو ایسے ہیں کہ بیاں ہو نہیں سکتے لفظوں کی مالا میں انہیں سلسلہ نہ دے بچھڑے ہوئے خوابوں کی جو راکھ باقی ہے اُس راکھ کو پھر سے کوئی تیز ہوا نہ دے یہ بھی تو ممکن ہے کہ بکھر جاؤں میں خود سے دھوکہ مجھے تقدیر کا آئینہ نہ دے
ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھے زمیں کی خاک ہو کر آسمان سے دل لگا بیٹھے ہوا خون تمنا اس کا شکوہ کیا کریں تم سے نہ کچھ سوچا نہ کچھ سمجھا جگر پر تیر کھا بیٹھے خبر کی تھی گلستان محبت میں بھی خطرے ہیں جہاں گرتی ہے بجلی ہم اسی ڈالی پہ جا بیٹھے نہ کیوں انجام الفت دیکھ کر آنسو نکل آئیں جہاں کو لوٹنے والے خود اپنا گھر لٹا بیٹھے
مجھے ان وادیوں میں سیر کی خواہش نہیں باقی مجھے ان بادلوں سے راز کی باتیں نہیں کرنی مجھے ان دھند کی چادر میں اب لیے نہیں رہنا مجھے اس عالم سیخ بستگی سے کچھ نہیں کہنا مجھے اس کار پر اسرار کا داعی نہیں بننا میں خوابوں کے دریچوں میں کھڑا رہنے سے قاصر ہوں میں زندہ زندگی کی ساعتوں کا ایک شاعر ہوں مجھے اک لہلہاتے جھولتے پیکر کی خواہش ہے مجھے ان منظروں میں ایسے اک منظر کی خواہش ہے
درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا ہر بُنِ مو سے ٹپکنا چاہا اور کہیں دُور ترے صحن میں گویا پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دُھل کر حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا میرے ویرانہِ تن میں گویا سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر سلسلہ وار پتا دینے لگیں رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا