In English we say "I Miss You"
مگر اردو میں ہم کہیں گے
میں تمہارا انتظار ایسے کرتا ہوں
جیسے قیدی رہائی کا انتظار کرتے ہیں
میں تمہيں ایسے یاد کرتا ہوں
جیسے بلوچ مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کو
میں تمہاری تصویر ایسے دیکھتا ہوں
جیسے صحرائی بچے پہلی بار سمندر دیکھ رہے ہوں
اور جب ہم ملیں گے تو میں تمہيں ایسے گلے لگاؤں گا
جیسے یہ دنیا ختم ہونے والی ہو
`"فى الجنة يكسر أحد قلب آخر."`
"جنت میں کوئی کسی کا دل نہیں توڑے گا"
یوں لگتا ہے جیسے یادوں کے صحن میں اب صرف سائے بستے ہیں وہ گھر جو کبھی سانس لیتے تھے اب خیال کے دھاگوں سے جڑے ہیں حقیقت سے خواب تک کا یہ سفر انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ مکان بس دل میں تعمیر ہوتے ہیں اور وہی ہمیشہ قائم رہتے ہیں
آنکھیں اس سے محبت کرتی ہیں جو آنکھوں کو اچھا لگے اور عقل اسے پسند کرتی ہے جو اسے سمجھ سکے جبکہ روح صرف اس سے محبت کرتی ہے جو اس کے مشابہ ہو
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
تم سے محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھا ... یہ کوئی فیصلہ نہیں تھا، یہ تو دل کی ضد تھی، جو بار بار مجھے تمہاری طرف کھینچتی رہی۔ میں چاہ کر بھی رک نہ سکا چاہ کر بھی خود کو بچا نہ سکا۔ شاید اسی کو محبت کہتے ہیں، جو انسان کے اختیار سے نکل جاتی ہے۔ میں نے خود کو ہزار بار سمجھایا کہ یہ فاصلہ بہتر ہے، یہ بھول جانا آسان ہے، مگر دل نے کبھی میری نہ سنی دل ضدی بچہ ہے نا جو ایک ہی چیز پر اڑ جاتا ہے، اور میرا دل صرف تمہارے لیے اڑا رہا۔ کاش محبت ایک انتخاب ہوتی تو شاید میں یہ راستہ کبھی نہ چنتا - کاش یہ میرے ہاتھ میں ہوتا، تو میں اپنی جان کو اتنے درد سے نہ گزارتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت انسان کے ہاتھ میں نہیں، یہ تو بس ایک کھیل ہے جو تقدیر اپنے اصولوں سے کھیلتی
ہے۔ میں نے چاہا کہ پیچھے ہٹ جاؤں پر قدم یادوں میں جکڑے رہے۔ میں نے چاہا کہ خوابوں سے نکل جاؤں، مگر ہر خواب تمہارے چہرے سے روشن ہو جاتا۔ میں نے چاہا کہ لفظ بدل دوں پر ہر لفظ تمہاری کہانی سنانے لگتا۔ یہ محبت ایک کمزوری تھی یا تقدیر کا فیصلہ ؟ میں نہیں جانتا۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس محبت نے مجھے وہ درد دیا ہے جس نے مجھے اندر سے بدل ڈالا۔ اب ہنسنے کے لمحے بھی ادھورے لگتے ہیں خوشی کی محفلیں بھی سنسان لگتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک سایہ ساہے، .... تمہاری یاد کا سایہ شاید یہی سچ ہے محبت وه قرض ہے جو دل ادا تو کرتا ہے، مگر اس کے بدلے سکون ہمیشہ کھو دیتا ہے۔ اور میں بھی وہی قرضدار ہوں، جو ہار کے بھی تم سے جیت گیا.... اور جیت کے بھی سب کچھ ہار گیا۔
پھر کسی بات پہ ناراض نہ ہو جاؤ کہیں
تم سے تو بات بڑھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ھے۔
کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں
کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا
کچھ درد نہاں،کچھ فکرِ جہاں، کچھ شرمِ خطا، کچھ خوفِ سزا
اک بوجھ اٹھائے پھرتا ہوں اور بوجھ بھی کتنا بھاری ہے
اشفاق احمد کے نزدیک محبت ایک خاموش ندی کی طرح ہے، جو رکتی نہیں، کسی سے کچھ نہیں مانگتی، بس بہتی ہے اور دل سے دل تک پہنچتی ہے۔
اس نے فرصت میں مجھے اختیار کیا
میں اس کا دلپسند مگر مشغلا تھا
سلسلوں میں ربط توڑے اس نے
کیا سلیقہ تھا اسے جدائی کا
میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا
اسے دیکھتے، اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر، تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے
وہ نہیںرہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں
وہ بکھر گیا
وہ ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے
وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اڑا دیئے
وہ جو راستوں کا یقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشانِ پا بھی مٹا دیئے
میرے ہمسفر، ہے وہی سفر
مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے، اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ہے
میں تیرے سفر کا شریک ہوں
پر جو درمیاں سے نکل گیا
اسی فاصلے کے شمار میں
اسی بے یقیں سے غبار میں
اسی راہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ہے
میرا راستہ کوئی اور ہے
رفاقتوں میں ، عجب امتحان دینا پڑے
کثیف ہاتھوں میں ریشم کے تھان دینا پڑے
پھر ایک اور غلط فہمی مانگے دل میں جگہ
جگہ بھی دل کے کہیں درمیان دینا پڑے
جو سچ تھے ایسے تھے کڑوے کہ سہنا مشکل تھا
سو مجھ کو جھوٹ پہ مبنی بیان دینا پڑے
تم آؤ ، شوق سے آؤ ، فرازِ دار تلک
پر اتنی دیر نہ رکنا کہ جان دینا پڑے
یہ تھا اصول غنیمت کے مال کا ، سو ہمیں
شکست ہوتے ہی تیر و کمان دینا پڑے
اور ایک آنکھ کے کونے سے اشک پھسلے تھے
خزاں کے ہاتھ میں جب پھول دان دینا پڑے
ہمارے ظرف سے واقف تھا ، اس لیے اُسے ، زخم
ہمارے ضبط کے شایانِ شان دینا پڑے
فضا کے حبس پہ کچھ اس لیے ہے دھیان مرا
کہ اپنے دل کی گھٹن پر نہ دھیان دینا پڑے
یہ نہیں کہ وہ ہمیں بھول گئے ہونگے یکسر
بس ! وہ ہمیں—یاد نہیں کر پاتے ہونگے!
اس نے ابھی کہا ہی تھا کہ فرض کیجئے
ھم نے ، سیاہ رنگ کے ، کپڑے ، پہن لئے
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید سے دروازے سے جھانکے کوئی
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ
بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دم بدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ
کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں
جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ
گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پر روشن ہے ضمیر
خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ
بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو
کرہءِ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ
ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر
برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز
رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain