Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

In English we say "I Miss You"
مگر اردو میں ہم کہیں گے
میں تمہارا انتظار ایسے کرتا ہوں
جیسے قیدی رہائی کا انتظار کرتے ہیں
میں تمہيں ایسے یاد کرتا ہوں
جیسے بلوچ مائیں اپنے گمشدہ بیٹوں کو
میں تمہاری تصویر ایسے دیکھتا ہوں
جیسے صحرائی بچے پہلی بار سمندر دیکھ رہے ہوں
اور جب ہم ملیں گے تو میں تمہيں ایسے گلے لگاؤں گا
جیسے یہ دنیا ختم ہونے والی ہو

Offline
 

`"فى الجنة يكسر أحد قلب آخر."`
"جنت میں کوئی کسی کا دل نہیں توڑے گا"

Offline
 

یوں لگتا ہے جیسے یادوں کے صحن میں اب صرف سائے بستے ہیں وہ گھر جو کبھی سانس لیتے تھے اب خیال کے دھاگوں سے جڑے ہیں حقیقت سے خواب تک کا یہ سفر انسان کو سکھاتا ہے کہ کچھ مکان بس دل میں تعمیر ہوتے ہیں اور وہی ہمیشہ قائم رہتے ہیں

Offline
 

آنکھیں اس سے محبت کرتی ہیں جو آنکھوں کو اچھا لگے اور عقل اسے پسند کرتی ہے جو اسے سمجھ سکے جبکہ روح صرف اس سے محبت کرتی ہے جو اس کے مشابہ ہو

Offline
 

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

Offline
 

تم سے محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھا ... یہ کوئی فیصلہ نہیں تھا، یہ تو دل کی ضد تھی، جو بار بار مجھے تمہاری طرف کھینچتی رہی۔ میں چاہ کر بھی رک نہ سکا چاہ کر بھی خود کو بچا نہ سکا۔ شاید اسی کو محبت کہتے ہیں، جو انسان کے اختیار سے نکل جاتی ہے۔ میں نے خود کو ہزار بار سمجھایا کہ یہ فاصلہ بہتر ہے، یہ بھول جانا آسان ہے، مگر دل نے کبھی میری نہ سنی دل ضدی بچہ ہے نا جو ایک ہی چیز پر اڑ جاتا ہے، اور میرا دل صرف تمہارے لیے اڑا رہا۔ کاش محبت ایک انتخاب ہوتی تو شاید میں یہ راستہ کبھی نہ چنتا - کاش یہ میرے ہاتھ میں ہوتا، تو میں اپنی جان کو اتنے درد سے نہ گزارتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت انسان کے ہاتھ میں نہیں، یہ تو بس ایک کھیل ہے جو تقدیر اپنے اصولوں سے کھیلتی

Offline
 

ہے۔ میں نے چاہا کہ پیچھے ہٹ جاؤں پر قدم یادوں میں جکڑے رہے۔ میں نے چاہا کہ خوابوں سے نکل جاؤں، مگر ہر خواب تمہارے چہرے سے روشن ہو جاتا۔ میں نے چاہا کہ لفظ بدل دوں پر ہر لفظ تمہاری کہانی سنانے لگتا۔ یہ محبت ایک کمزوری تھی یا تقدیر کا فیصلہ ؟ میں نہیں جانتا۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس محبت نے مجھے وہ درد دیا ہے جس نے مجھے اندر سے بدل ڈالا۔ اب ہنسنے کے لمحے بھی ادھورے لگتے ہیں خوشی کی محفلیں بھی سنسان لگتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک سایہ ساہے، .... تمہاری یاد کا سایہ شاید یہی سچ ہے محبت وه قرض ہے جو دل ادا تو کرتا ہے، مگر اس کے بدلے سکون ہمیشہ کھو دیتا ہے۔ اور میں بھی وہی قرضدار ہوں، جو ہار کے بھی تم سے جیت گیا.... اور جیت کے بھی سب کچھ ہار گیا۔

Offline
 

پھر کسی بات پہ ناراض نہ ہو جاؤ کہیں
تم سے تو بات بڑھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ھے۔

Offline
 

کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں
کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا

Offline
 

کچھ درد نہاں،کچھ فکرِ جہاں، کچھ شرمِ خطا، کچھ خوفِ سزا
اک بوجھ اٹھائے پھرتا ہوں اور بوجھ بھی کتنا بھاری ہے

Offline
 

اشفاق احمد کے نزدیک محبت ایک خاموش ندی کی طرح ہے، جو رکتی نہیں، کسی سے کچھ نہیں مانگتی، بس بہتی ہے اور دل سے دل تک پہنچتی ہے۔

Offline
 

اس نے فرصت میں مجھے اختیار کیا
میں اس کا دلپسند مگر مشغلا تھا

Offline
 

سلسلوں میں ربط توڑے اس نے
کیا سلیقہ تھا اسے جدائی کا

Offline
 

میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا
اسے دیکھتے، اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر، تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے
وہ نہیںرہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں
وہ بکھر گیا
وہ ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے
وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اڑا دیئے
وہ جو راستوں کا یقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشانِ پا بھی مٹا دیئے

Offline
 

میرے ہمسفر، ہے وہی سفر
مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے، اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ہے
میں تیرے سفر کا شریک ہوں
پر جو درمیاں سے نکل گیا
اسی فاصلے کے شمار میں
اسی بے یقیں سے غبار میں
اسی راہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ہے
میرا راستہ کوئی اور ہے

Offline
 

رفاقتوں میں ، عجب امتحان دینا پڑے
کثیف ہاتھوں میں ریشم کے تھان دینا پڑے
پھر ایک اور غلط فہمی مانگے دل میں جگہ
جگہ بھی دل کے کہیں درمیان دینا پڑے
جو سچ تھے ایسے تھے کڑوے کہ سہنا مشکل تھا
سو مجھ کو جھوٹ پہ مبنی بیان دینا پڑے
تم آؤ ، شوق سے آؤ ، فرازِ دار تلک
پر اتنی دیر نہ رکنا کہ جان دینا پڑے
یہ تھا اصول غنیمت کے مال کا ، سو ہمیں
شکست ہوتے ہی تیر و کمان دینا پڑے
اور ایک آنکھ کے کونے سے اشک پھسلے تھے
خزاں کے ہاتھ میں جب پھول دان دینا پڑے
ہمارے ظرف سے واقف تھا ، اس لیے اُسے ، زخم
ہمارے ضبط کے شایانِ شان دینا پڑے
فضا کے حبس پہ کچھ اس لیے ہے دھیان مرا
کہ اپنے دل کی گھٹن پر نہ دھیان دینا پڑے

Offline
 

یہ نہیں کہ وہ ہمیں بھول گئے ہونگے یکسر
بس ! وہ ہمیں—یاد نہیں کر پاتے ہونگے!

Offline
 

اس نے ابھی کہا ہی تھا کہ فرض کیجئے
ھم نے ، سیاہ رنگ کے ، کپڑے ، پہن لئے

Offline
 

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید سے دروازے سے جھانکے کوئی

Offline
 

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ
بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دم بدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ
کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں
جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ
گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پر روشن ہے ضمیر
خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ
بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو
کرہءِ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ
ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر
برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز
رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ