ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
اک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیل پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے
کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی
جس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفید
اس کے مرمر میں سیاہ خوں جھلک جاتا ہے
اک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشہ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے
جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر
میرے الہام تیرا ذہن ِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں ہر فن کا نشان پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زبان پتھر ہے
ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار۔۔۔
چشمِ سحر
یہ آنکھیں،
روشنی کی نرمی میں لپٹی ہوئی کائنات ہیں۔
ہر جھلک میں چھپی ایک خاموش دھڑکن،
ہر پلک کے جھکنے پر وقت اپنی رفتار بھول جاتا ہے۔
ان کی گہرائی میں ڈوبنا،
ایسا ہے جیسے سمندر کے سب راز
بس ایک لمحے میں سامنے آ جائیں۔
یہ دیکھتی نہیں، یہ دل کے راز پڑھ جاتی ہیں،
اور ہر عاشق، ہر دل،
ان کے سحر میں بے اختیار رہ جاتا ہے۔
یہ آنکھیں وہ پلکیں ہیں جو
دنیا کی ہر دھوپ اور ہر سایہ کو نرم کر دیتی ہیں،
اور ایک ہی نظر میں
دل کی تمام ویرانیوں کو بہار میں بدل دیتی ہیں۔
فلسفہ، دن، تاریخ، سائنس، سماج، عقیدہ، زبانیں، معاشی مساوات، انسان کے رنگ و عادات و اطوار، ایجاد، تقلید، امن انتشار، نین کی عظمت کے قصے، فطری بلاؤں سے اور دیوتاؤں سے جنگ، صلاح ناما لیے تیز گھوڑوں پے سوار سہمے سپاہی، نظریہ سماوات میں کانٹ نے کیا کہا اور اس کے جرابوں کی فیتوں کی ڈبیا، کیمیا کے خزانوں کا منہ کھولنے والا بابل کون تھا، جس نے پارے کو پتھر میں ڈالا، سمندر کی تسخیر اور ایٹلانٹک میں آبادیاں، مچھلیاں کشتیوں جیسی کیوں ہیں اور رافیل کے ہاتھ پر مٹی کیسے لگی، یہ سوال اور یہ باتیں میرے کس کام کی، پچھلے ایک سال سے میں اسکی آواز تک نہیں سن سکا اور یہ پوچھتے ہیں کہ ہیگل کے نزدیک تاریخ کیا ہے.؟
"تھی جو وہ اک تمثیل ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا
پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے
اس کے بعد کئی سائے سے اس کو رخصت کرتے ہیں
پھر دیواریں ڈھے جاتی ہیں دروازہ گر جاتا ہے"
سجن بن راتاں ہوئیاں وڈیاں
رانجھا جوگی، میں جو گیانی،کملی کر کرسڈی آں
ماس جھڑے،جھڑ پنجر ہویا، کڑکن لگیاں ہڈیاں
میں ایانی،نیہوں کی جاناں،برہوں تناواں گڈیاں
کہے حسین فقیر سائیں دا، دامن تیرے میں لگی آں
.
.
اوکھے لفظاں دے معنے
سجن : محبوب
وڈیاں: لمی
سڈیاں: سدی گئی ہاں
کڑکن لگیاں ہڈیاں: ہڈیاں ناطاقتی پاروں کڑکڑ کرن لگی آں۔
ایانی: نکی عمر دی بالڑی۔
نیہوں کی جاناں: محبت نوں کیہ جاناں۔
برہوں: جدائی
تناواں: پتنگ دی ڈور۔
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے آئیں گے
تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر
یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے
ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے
تُو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا، لگنے لگا ہے، مگر لگے گا نہیں
نہیں لگے گا اُسے دیکھ کر، مگر خوش ہے
میں خوش نہیں ہوں مگر، دیکھ کر لگے گا نہیں
کھو بیٹھا ہے۔
ایک اور مصرعہ ثبت ہوتا ہے:
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
اب اسی دلکش خواب میں غالبؔ کھوئے ہوئے ہیں۔ دل کی خواہش پھر سے عشق کو دعوت دے رہی ہے۔ محبوب کی آنکھیں اور نگاہیں جن پر سرمے کی رنگ کاری ہے، وہ ہتھیار بن چکی ہیں جو سیدھا دل پر تیر کی مانند گرتی ہیں، جیسے شب کے سیاہ ابریں پر چمکتا ہوا چاند ہر نظر کو سحر میں مبتلا کرے۔ جو سامنے آئے گا وہ ان نگاہوں کے وار سے بچ نہیں سکے گا۔ آنکھیں اور شراب،
غالبؔ تا حیات انہی کے سحر میں مست و خراب رہے۔
ایک اور مصرعہ پنّے پر وارد ہوجاتا ہے:
چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے
محبوب ایک ایسی کیفیت ہے جو دن بہ دن خوب صورت ہوتی ہے، نئی ہوتی ہے۔ نگاہ کو اس نئے حسن، نئے بہار نے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ محبوب کے چہرے کی تابانی اور شباب دل کو مسحور کر رہی ہے۔ اس کے چہرے کی روشنی پوری فضا کو باغ کی مانند مہکا دیتی ہے۔
مصرعہ نمودار ہوتا ہے:
اک نو بہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغِ مے سے گلستاں کیے ہوئے
اب شاعر کے لیے جو درد کا عالم تھا وہ تنہائی کا عالم ہے۔ اس میں سکوت ہے۔ اور اسی سکوت میں سکون ہے کہ جس میں وہ دل کو دوبارہ وہی فرصت اور یکسوئی سے محبوب کی یاد کی طرف موڑنا چاہتے ہیں، جہاں کچھ اور کام نہ ہو، کوئی اور مشغلہ نہ آئے۔ شاعر ماضی کی اُس کیفیت کو ترس کر یاد کرتا ہے جب وہ ہر وقت تصورِ جاناں میں گم رہتا تھا۔
وہ لکھتا ہے:
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
مگر شاعر نے اپنے غم کو ضبط کر رکھا ہے۔ خیالی دنیا میں چاہے وہ خوش ہے، بظاہر خاموش ہے، مگر اندر شدید طوفان برپا ہے۔ وہ دنیا کے جھمیلوں سے نکلنا چاہتا ہے، لیکن یاس کے عالم میں حال کی فکر، مستقبل
کا خیال ہے۔ کثرتِ قرض ہے، تباہی کا رنج بھی ہے اور ناخوشی بھی۔ اگر اسے چھیڑا گیا تو آنسوؤں کی صورت میں وہ طوفان بہہ نکلے گا۔
کہتا ہے:
غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
لیکن آخر میں قبولیت ہی دامن لگ جاتی ہے۔ غالب اُسے قبول کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق مشکلیں اتنی پڑتی ہیں کہ آسان ہوجاتی ہیں۔ دل نے خود فریبی، غرور اور انا اب ترک کر دی ہے۔ اب وہ خود کو الزام اور سرزنش کے سامنے جھکانے کو تیار ہے۔ عاجزی کے ساتھ ملامت کو سچ کا راستہ سمجھ کر اختیار کر رہا ہے۔
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں
اداس تم بھی ہو یاروں اداس ہم بھی ہیں
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوه طور کی
جس سے پوچھیں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفادار نہیں ہے
ولیم شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے
میں یہ مشہور بات کہی تھی
"رونا غم کی گہرائی کو کم کر دیتا ہے۔"
(To weep is to make less the depth of grief)
.
.
یاد آجاتا ہے جب تجھ سے جدائی کا سبب
پیٹ لیتے ہیں جبیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم
بہت جی چاہتا ہے پھر سے بو دوں اپنی آنکھیں
تمہارے ڈھیر سے چہرے اگاؤں اور بلاؤں بارشوں کو
بہت جی ہے کہ فرصت ہو، تصور ہو
تصور میں ذرا سی باغبانی ہو
مگر جاناں
یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم
کسی کے حصے کی مٹی نہیں ہلتی
کسی کی دھوپ کا حصہ نہیں چھنتا
مگر اب میری کیاری میں لگے پودے
کسی کو پاؤں رکھنے کے لیے بھی تھاں نہیں دیتے
یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم
کر گئے کوچ کہاں کوچۂ جاناں والے
اتنی مدّت دِلِ آوارہ کہاں تھا کہ تجھے
اپنے ہی گھر کے در و بام بھلا بیٹھے ہیں
یاد یاروں نے تو کب حرفِ محبت رکھا
غیر بھی طعنہ و دشنام بھلا بیٹھے ہیں
تو سمجھتا تھا کہ یہ در بدری کا عالم
دور دیسوں کی عنایت تھا سو اب ختم ہوا
تو نے جانا تھا کہ آشفتہ سَری کا موسم
دشتِ غربت کی ودیعت تھا سو اب ختم ہوا
اب جو تو شہرِ نگاراں میں قدم رکھے گا
ہر طرف کھلتے چلے جائیں گے چہروں کے گلاب
دوست احباب ترے نام کے ٹکرائیں گے جام
غیر اغیار چُکائیں گے رقابت کے حساب
جب بھی گائے گی کوئی غیرتِ ناہید غزل
سب کو آئے گا نظر شعلۂ آواز میں تُو
جب بھی ساقی نے صراحی کو دیا اِذنِ خرام
بزم کی بزم پکارے گی کہ آغاز میں تُو
مائیں رکّھیں گی ترے نام پہ اولاد کا نام
باپ بیٹوں کے لیے تیری بیاضیں لیں گے
جن پہ قدغن ہے وہ اشعار پڑھے گی خلقت
اور دُکھتے ہوئے دل تجھ کو سلامی دیں گے
لوگ اُلفت کے کھلونے لیے بچّوں کی طرح
کل کے روٹھے ہوئے یاروں کو منا لائیں گے
لفظ کو بیچنے والے نئے بازاروں میں
غیرتِ حرف کو لاتے ہوئے شرمائیں گے
لیکن ایسا نہیں ایسا نہیں اے دل اے دل
یہ تیرا دیس یہ تیرے در و دیوار نہیں
اتنے یوسف تو نہ تھے مصر کے بازار میں بھی
جنس اس درجہ ہے وافر کے خریدار نہیں
سر کسی کا بھی دکھائی نہیں دیتا ہے یہاں
جسم ہی جسم ہے دستاریں ہی دستاریں ہیں
تو کسی قریۂ زنداں میں ہے شاید کے جہاں
طوق ہی طوق ہیں دیواریں ہی دیواریں ہیں
اب نہ طفلاں کو خبر ہے کسی دیوانے کی
اور نہ آواز کہ "او چاک گریباں والے"
نہ کسی ہاتھ میں پتھر نہ کسی ہاتھ میں پھول
کر گئے کوچ کہاں کوچۂ جاناں والے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain