Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وُہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مِل جائے گی کہِیں نہ کہِیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہِیں تو ہو گا، شبِ سُست موج کا ساحل
کہِیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دِل

Offline
 

مجھے تم سے فقط محبت کی توقع ہے ، تم میرے دل میں دنیا سے الگ اور بہت اونچا مقام رکھتے ہو
میں تمہارا روکھا لہجہ نہیں جھیل سکتا
تم میرے ساتھ مہربان رہا کرو

Offline
 

اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں ، یہی بات بڑی بات ہے پیارے

Offline
 

اتنا مجھے عزیز ہے دنیا میں وہ ایک شخص
جیسے کسی ضعیف کو مسجد کی وہ پہلی صف

Offline
 

اس کے بس اتنا پوچھنے سے خیر ہو گئی
کچھ لگ رہے ہیں آپ پریشان ! خیر ہے

Offline
 

ﺳﻮ ﺣﻮﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﺎﻥِ ﻓﺮﺍﺯ
ﺟﺎﻥِ ﺟﺎﮞ، ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ، ﺟﺎﻥِ ﺳﺨﻦ، ﺟﺎﻥِ ﮐﻼم

Offline
 

جس کو بھی چاہا اُسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

Offline
 

اُسے ہم یاد آتے ہیں فقط فرصت کے لمحوں میں
مگر یہ بھی سچ ہے ۔۔۔۔۔ اُسے فرصت نہیں ملتی

Offline
 

سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے
چارہ گر ان سے کہنا نزع کا ہنگام ہے
ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے
قا صد نہیں یہ کام تیرا اپنی راہ لے
ان کا پیغام دل کے سوا کون لا سکے

Offline
 

جے وس لگدا میڈے ماہی کوں کوئی اینجھے حال نہ ڈیکھے ہا
اوکوں پیار دے پردے پیندی میں کوئی غیر سیال نہ ڈیکھے ہا
۔
ایں حسن نگر دے بنرے کوں بد نظراں بھال نہ ڈیکھے ہا
جے رمز میڈے اختیار ہوندا اوندا سھج وی وال نہ ڈیکھے ہا

Offline
 

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ضروری نہیں ہے ہر وہ شخص جو محبت کی بات کرے وہ محبت کرنے والا ہی ہو قید خانوں میں بیٹھ کر جو قیدی کتابیں لکھتے ہیں ان کے اکثر موضوعات آزادی ہوا کرتے ہیں

Offline
 

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
کسی کو اپنے ہم عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

Offline
 

تم جاؤ
اور دریا دریا پیاس بجھاؤ
جن آنکھوں میں ڈُوبو
جس دِل میں اترو
میری طلب آواز نہ دے گی
لیکن جب میری چاہت
اور میری خواھش کی لو
اتنی تیز اور اتنی اونچی ہو جائے
جب دِل رو دے، تب لوٹ آنا

Offline
 

اب بھی دل تجھ کو صدا دیتا ہے گاہے گاہے
میری جاں،میری تمنا،میری دنیا،میرے دوست

Offline
 

کیا جانے کیا ارماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
تنکے کچھ اپنے نشیمن کے
کچھ کلیاں تیرے گلشن کی
جو کچھ بھی ملا ساماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
تیرے سامنے نظریں گزارنے کو
ہم بے سر و ساماں کیا لاتے
کانٹوں سے بھرا داماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے

Offline
 

پھر دید کی حسرت جاگ اٹھی
پھر دیدہ و دل بے تاب ہوئے
پھر آرزؤں کا جہاں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
اب تاب نظر ہے نہ تاب سخن
تعزیر نہ کھو دیں دار و رسن
بس دیدہ و دل حیراں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
ہے کس کو یہاں کشتی کی خبر
اب کون کرے ساحل پہ نظر
سینے میں کئی طوفاں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے

Offline
 

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گِلا کیا
منسبِ دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا

Offline
 

عجیب حشرِ محبت کا سامنا ہے، کہ وہ
خفا خفا ہے، مگر دیکھتا ہے پیار سے بھی

Offline
 

ممکنہ ہجر نے رکھا ہے پریشان مجھے
بانہوں میں بھر لے ذرا پھر سے مری جان مجھے
ہجر کی نیستی آئے گی کوئی دن مجھ پر پھر
بھگو دے گا ترے وصل کا باران مجھے
خیر وہ بات مجھے بھول گئی ہے پھر سے
یاد آئی تھی تری باتوں کے دوران مجھے
اور اب پھیل گئی حد نظر ویرانی
تنگ پڑتا تھا ترے ہوتے یہ دالان مجھے
ابھی تو دن نہیں بیتا اسے رخصت کر کے
آئنے آئنے اے آئنے پہچان مجھے
دشت کیوں جانے بھلے لگتے ہیں آباد آباد
شہر کیوں جانے بھلے لگتے ہیں ویران مجھے
نام ہے اس کے علاوہ نہ کوئی کام میرا
مر کے بھی پائے گی یہ دنیا غزل خوان مجھے
سیر کرنا ہے دو عالم کی مجھے بیٹھے بٹھائے
کوئی لا دے گا ذرا میر کا دیوان مجھے

Offline
 

ادھوری چاہتیں میری، ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں، میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی ایک دنیا میرے چاروں طرف ہے
پھر بھی اپنے دل کی سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
میں اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں