یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وُہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مِل جائے گی کہِیں نہ کہِیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہِیں تو ہو گا، شبِ سُست موج کا ساحل
کہِیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دِل
مجھے تم سے فقط محبت کی توقع ہے ، تم میرے دل میں دنیا سے الگ اور بہت اونچا مقام رکھتے ہو
میں تمہارا روکھا لہجہ نہیں جھیل سکتا
تم میرے ساتھ مہربان رہا کرو
اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں ، یہی بات بڑی بات ہے پیارے
اتنا مجھے عزیز ہے دنیا میں وہ ایک شخص
جیسے کسی ضعیف کو مسجد کی وہ پہلی صف
اس کے بس اتنا پوچھنے سے خیر ہو گئی
کچھ لگ رہے ہیں آپ پریشان ! خیر ہے
ﺳﻮ ﺣﻮﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﺎﻥِ ﻓﺮﺍﺯ
ﺟﺎﻥِ ﺟﺎﮞ، ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ، ﺟﺎﻥِ ﺳﺨﻦ، ﺟﺎﻥِ ﮐﻼم
جس کو بھی چاہا اُسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
اُسے ہم یاد آتے ہیں فقط فرصت کے لمحوں میں
مگر یہ بھی سچ ہے ۔۔۔۔۔ اُسے فرصت نہیں ملتی
سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے
چارہ گر ان سے کہنا نزع کا ہنگام ہے
ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے
قا صد نہیں یہ کام تیرا اپنی راہ لے
ان کا پیغام دل کے سوا کون لا سکے
جے وس لگدا میڈے ماہی کوں کوئی اینجھے حال نہ ڈیکھے ہا
اوکوں پیار دے پردے پیندی میں کوئی غیر سیال نہ ڈیکھے ہا
۔
ایں حسن نگر دے بنرے کوں بد نظراں بھال نہ ڈیکھے ہا
جے رمز میڈے اختیار ہوندا اوندا سھج وی وال نہ ڈیکھے ہا
بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ضروری نہیں ہے ہر وہ شخص جو محبت کی بات کرے وہ محبت کرنے والا ہی ہو قید خانوں میں بیٹھ کر جو قیدی کتابیں لکھتے ہیں ان کے اکثر موضوعات آزادی ہوا کرتے ہیں
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
کسی کو اپنے ہم عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
تم جاؤ
اور دریا دریا پیاس بجھاؤ
جن آنکھوں میں ڈُوبو
جس دِل میں اترو
میری طلب آواز نہ دے گی
لیکن جب میری چاہت
اور میری خواھش کی لو
اتنی تیز اور اتنی اونچی ہو جائے
جب دِل رو دے، تب لوٹ آنا
اب بھی دل تجھ کو صدا دیتا ہے گاہے گاہے
میری جاں،میری تمنا،میری دنیا،میرے دوست
کیا جانے کیا ارماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
تنکے کچھ اپنے نشیمن کے
کچھ کلیاں تیرے گلشن کی
جو کچھ بھی ملا ساماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
تیرے سامنے نظریں گزارنے کو
ہم بے سر و ساماں کیا لاتے
کانٹوں سے بھرا داماں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
پھر دید کی حسرت جاگ اٹھی
پھر دیدہ و دل بے تاب ہوئے
پھر آرزؤں کا جہاں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
اب تاب نظر ہے نہ تاب سخن
تعزیر نہ کھو دیں دار و رسن
بس دیدہ و دل حیراں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
ہے کس کو یہاں کشتی کی خبر
اب کون کرے ساحل پہ نظر
سینے میں کئی طوفاں لے کر
ہم تیری گلی میں آ نکلے
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گِلا کیا
منسبِ دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا
عجیب حشرِ محبت کا سامنا ہے، کہ وہ
خفا خفا ہے، مگر دیکھتا ہے پیار سے بھی
ممکنہ ہجر نے رکھا ہے پریشان مجھے
بانہوں میں بھر لے ذرا پھر سے مری جان مجھے
ہجر کی نیستی آئے گی کوئی دن مجھ پر پھر
بھگو دے گا ترے وصل کا باران مجھے
خیر وہ بات مجھے بھول گئی ہے پھر سے
یاد آئی تھی تری باتوں کے دوران مجھے
اور اب پھیل گئی حد نظر ویرانی
تنگ پڑتا تھا ترے ہوتے یہ دالان مجھے
ابھی تو دن نہیں بیتا اسے رخصت کر کے
آئنے آئنے اے آئنے پہچان مجھے
دشت کیوں جانے بھلے لگتے ہیں آباد آباد
شہر کیوں جانے بھلے لگتے ہیں ویران مجھے
نام ہے اس کے علاوہ نہ کوئی کام میرا
مر کے بھی پائے گی یہ دنیا غزل خوان مجھے
سیر کرنا ہے دو عالم کی مجھے بیٹھے بٹھائے
کوئی لا دے گا ذرا میر کا دیوان مجھے
ادھوری چاہتیں میری، ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں، میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی ایک دنیا میرے چاروں طرف ہے
پھر بھی اپنے دل کی سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
میں اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain