آپ کے آنے سے پہلے تک محبت میری توجہ کا مرکز نہیں تھی۔۔
یعنی تُم بہار جیسے ہو
چھوڑ جاؤ گے
مجھے ہرا بھرا کر کے
آپ رسماً ملا کریں بیشک
ھم محبّت شمار کر لیں گے
بڑھ جائیں حد سے تو بہت نقصان دیتی ہیں
یہ خواہشیں، بارشیں، نادانیاں اور محبتیں وغیرہ
جہاں پر تمہیں اپنی روح کا سکون ملے وہاں ٹھہرو وہی تمھارا گھر ہے
تیرا پہلو تیرے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
دل کرتا ہے گزرے زمانے کی طرح آج پھر تجھے ایک خط لکھوں، لکھوں کہ تیری ہر بات آج بھی مجھے لفظ بہ لفظ زبانی یاد ہے، وہ وعدے، وہ لہجے، وہ خاموشیاں سب دل کے کسی کونے میں ویسے ہی زندہ ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ اس وقت جواب آ جایا کرتا تھا، اور آج یہ خط بھیجوں تو شاید میری طرح وہ بھی ادھورا ہی رہ جائے۔
میں جب زندگی میں نا امید، مایوس ہوتا ہوں
تو سوچتا ہوں
میری ناکامیاں تو شاید میری قسمت کا امتحان ہیں
مگر ایسے لوگ جو زندگی کی بنیاد سے ہی محروم ہیں، پھر بھی وہ جیتے ہیں، لڑتے ہیں، ہنستے ہیں
تو میرے دل میں بھی ایک چراغ سا جلا اٹھتا ہے
جب ایسے لوگ ہار نہیں مانتے
تو میں کیسے مایوس، نا امید ہو جاؤں ؟
شاید یہی زندگی ہے، درد کے بیچ امید کا چراغ جلاۓ رکھنا
کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ کوئی بس پوچھ لے کہ تم کیسے ہو، اور ہم بس رو دیں
چلو کائنات بانٹ لیتے ہیں
تم میرے ، باقی سب کچھ تمھارا
بہار دنیا ہے چند روزہ، نہ چل یہاں سر اُٹھا اُٹھا کر
خدا نے خود ہی مٹا دئیے ہیں، ہزاروں نقشے بنا بنا کر
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ ، جو تکلف نہیں کرتا
تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے
شجاع موت سے پہلے ضرور جی لینا
یہ کام بھول نا جانا بڑا ضروری ہے
رہنا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر
لیکن اِک آدمی ہے ہمارا زمین پر
طُرفہ کہ رمِ گریہ و زاری بھی اُٹھ گئی
مشکل تو پہلے ہی تھا گزارا زمین پر
بھٹکے ہوؤں کو راہ دِکھانے کو کم نہیں
ٹُوٹے ہوئے دِیے کا کنارا زمین پر
اس کی نظر بدلنے سے پہلے کی بات ہے
میں آسمان پر تھا، ستارا زمین پر
باقی تو جو بھی کچھ ہے اضافی ہے سب یہاں
اِک آنکھ ہے اور ایک نظارا زمین پر
دیکھا نگاہ بھر کے مجھے اس نے پھر جمال
روشن کیا چراغ، دوبارا زمین پر
کس طرح ہوگا فقیروں کا گزارہ سوچے
اس سے کہنا کہ وہ اک بار دوبارہ سوچے
کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام نہ ہو
کیسے ممکن ہے کہ وہ صرف ہمارا سوچے
ایسا موقع ہو کہ بس ایک ہی بچ سکتا ہو
اور اس وقت بھی اک شخص تمہارا سوچے
مولانہ رومی کہتے ہیں
.
جہاں محبت کا رشتہ ہو
۔وہاں۔انا اور غرور کی کوئی جگہ نہیں
.
نزیر قیصر کا شعرہے
.
جہاں پر دوستی ہو اس جگہ انا کیا
کہو اگر تو آپ کے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا"
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
قربان خوابِ ہفت ، ُکل زمیں کی نیند
میں دیکھتا ہوں ایک مکمل حسیں کی نیند
جب تک وہ سو رہا میں اسے دیکھتا رہا
منظر قضا نہیں کیا، میں نے نہیں کی نیند
بیدار بخت ہوں تو میرا واقعہ یہ ہے
میں دیکھتا ہوں ایک ستارہ جبیں کی نیند
مدت کے بعد دیکھا کہ گہنا رہا ہے چاند
یاد آ رہی ہے مجھے کسی مہ جبیں کی نیند
کچھ سال پہلے میں نے ہی اک چور سے کہا
گھر آئے ہو تو چوری ہی کر لو مکیں کی نیند
گفتار و سیر تک میری خواہش کی حد نہیں
میں چاہتا ہوں اس پہ تمہارے قریں کی نیند
تاعمر علی کا خواب رسولِ امیں کا خواب
اِک شب علی کی نیند رسولِ امیں کی نیند
تمہارے ہجر کی رت کے علاوہ سبھی موسم پسندیدہ ہیں میرے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain