ادھوری چاہتیں میری، ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں، میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی ایک دنیا میرے چاروں طرف ہے
پھر بھی اپنے دل کی سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
میں اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا
کچھ لوگوں کی گفتگو گلے ملنے کی طرح ہوتی ہے وہ تقریباً ہر چیز کو ٹھیک کر سکتے ہیں
تو کیا یہ آخری خواہش ہے ؟؟ اچھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
جہاں بھی ، جو بھی ہے تیرے علاوہ ، بھول جاؤں ؟؟
تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں ؟؟
تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا ؟؟
کہ بس باتوں ہی باتوں میں بھُلاتا بھول جاؤں
کبھی کہتا ہوں اُس کو یاد رکھنا ٹھیک ہو گا
مگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا ، بھول جاؤں
تو کیا یہ دسترس اِک روز حاصل ہو گی مجھ کو ؟؟
کہ ہر پل دھیان میں رکھوں اُسے یا بھول جاؤں
یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہو
میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ؟؟
ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی ، پوچھیے مت !!
میں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں
کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے ؟؟
بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں !!
تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جواد ؟؟
کہ وہ ہے بھی اِسی لائق ، لہذا بھول جاؤں
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
.
.
.
مختصر یہ کہ ہر رنگ جچتا ہے تم پر
حتی کہ وہ بھی جو تم نے بدل رکھا ہے
حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
شبِ فراق نہ تم آ سکے، نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو
اس نے جب پاؤں نہیں اتارا تھا
جھیل کا پانی کتنا کھا را تھا
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟
فال کی فال اس پر دل آنا
استخارے کا استخارا تھا
میٹھا بننا تھا اس کے ہاتھوں سے
ہم نے بھوکے ہی دن گزارہ تھا
یہ حماقت کی پہلی سیڑھی تھی
میں نے پتھر کو پھول مارا تھا
معروف مسافر تھے مگر راہ میں بچھڑے
ہم پہلی دفعہ عالمِ ارواح میں بچھڑے
بہار رت میں خزان جھیل کر خراب ہوئے
ہم اپنے گھر ہوئے تم اپنے گھر خراب ہویے
کھلا رہے گا ہمیشہ وہ آئینہ چہرہ
جوان گلاب جسےدیکھ کر خراب ہوئے
تجھے بنانے کی کوشش میں اےسنہرےچراغ
ستارے خاک ہوئے کوزہ گر خراب ہوئے
اگر یہ پھول تیری راہ تک نہیں پہنچے
اگر یہ پھول میری خاک پر خراب ہوئے
دل ایک دن تیری دیوار پر نہیں بیٹھا
پئےغرور میرے بالوں پر خراب ہوئے
سنا ہے ان دنون ایک جنگجو کا دل ٹوٹا
پھر اس کےبعد ہزاروں نگر خراب ہوئے
جہان والے ہماری مثال دیتے ہیں
تو آپ سوچیےہم کس قدر خراب ہوئے
جگنوؤں کی قسم دیوں کی قسم
خوبصورت ہے تو دنوں کی قسم
تیرے بن دنیا چل نہیں سکتی
گھر کے متروک برتنوں کی قسم
مجھ سے نیندوں نے پردہ کر لیا ہے
تیرے مستور بازوؤں کی قسم
ختم ہے تجھ پہ داستانِ حیا
تیرے ہمراز آئینوں کی قسم
تیرا ساتھ اچھا لگتا ہے مجھ کو
راستوں کی قسم گھروں کی قسم
زندگی سے مجھے محبت ہے
رسیوں کی قسم کنوؤں کی قسم
میرے احباب مجھ سے مخلص ہیں
مجھ کو یوسف کے بھائیوں کی قسم۔
بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے
ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہے
.
اس طرح نگاہیں مت پھیرو، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
سینے میں کوئی پتھر تو نہیں احساس کا مارا، دل ہی تو ہے
.
بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے
اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے
تم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا رُوپ امر
تُم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تُم جس پھول کو ہنس کر دیکھو
کبھی نہ وہ مُرجھائے..
تُم جس حرف پہ انگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے.. !
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟؟؟
تھوڑا سا رفو کر کے دیکھیے نا
پھر سے نئی سی لگے گی۔۔۔ زندگی ہی تو ہے۔۔۔۔۔
خیر وہ بات مجھے بھول گئی ہےپھر سے
یاد آئی تھی تیری باتوں کےدوران مجھے
وہ بات جو میں نے ابھی ابھی سنی نہیں
وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجئے
میرے بوسے سے انکار مت کرنا
تیرا عشاریا آٹھ بلین سا ل پہلے کی بات ہے
فزکس کے قانون ابھی لاگو نہیں ہوئے تھے
کشش ثقل نہیں کہ تم
میری طرف اٹریکٹ ہوتیں
میں صرف تمہیں چومنے کا ارادہ کر رہا تھا
انرجیز اکٹھی ہورہی تھیں
میں نے تمہیں چوم لیا
دھماکا ہوا
بگ بینگ
ھم لا تعداد حصوں میں بٹ گئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain