Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ادھوری چاہتیں میری، ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں، میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی ایک دنیا میرے چاروں طرف ہے
پھر بھی اپنے دل کی سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
میں اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں

Offline
 

یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

Offline
 

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا

Offline
 

کچھ لوگوں کی گفتگو گلے ملنے کی طرح ہوتی ہے وہ تقریباً ہر چیز کو ٹھیک کر سکتے ہیں

Offline
 

تو کیا یہ آخری خواہش ہے ؟؟ اچھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
جہاں بھی ، جو بھی ہے تیرے علاوہ ، بھول جاؤں ؟؟
تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں ؟؟
تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا ؟؟ بھول جاؤں ؟؟
تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا ؟؟
کہ بس باتوں ہی باتوں میں بھُلاتا بھول جاؤں
کبھی کہتا ہوں اُس کو یاد رکھنا ٹھیک ہو گا
مگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا ، بھول جاؤں

Offline
 

تو کیا یہ دسترس اِک روز حاصل ہو گی مجھ کو ؟؟
کہ ہر پل دھیان میں رکھوں اُسے یا بھول جاؤں
یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہو
میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ؟؟
ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی ، پوچھیے مت !!
میں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں
کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے ؟؟
بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں !!
تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جواد ؟؟
کہ وہ ہے بھی اِسی لائق ، لہذا بھول جاؤں

Offline
 

جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
.
.
.
مختصر یہ کہ ہر رنگ جچتا ہے تم پر
حتی کہ وہ بھی جو تم نے بدل رکھا ہے

Offline
 

حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

Offline
 

شبِ فراق نہ تم آ سکے، نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو

Offline
 

اس نے جب پاؤں نہیں اتارا تھا
جھیل کا پانی کتنا کھا را تھا
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟
فال کی فال اس پر دل آنا
استخارے کا استخارا تھا
میٹھا بننا تھا اس کے ہاتھوں سے
ہم نے بھوکے ہی دن گزارہ تھا
یہ حماقت کی پہلی سیڑھی تھی
میں نے پتھر کو پھول مارا تھا

Offline
 

معروف مسافر تھے مگر راہ میں بچھڑے
ہم پہلی دفعہ عالمِ ارواح میں بچھڑے

Offline
 

بہار رت میں خزان جھیل کر خراب ہوئے
ہم اپنے گھر ہوئے تم اپنے گھر خراب ہویے
کھلا رہے گا ہمیشہ وہ آئینہ چہرہ
جوان گلاب جسےدیکھ کر خراب ہوئے
تجھے بنانے کی کوشش میں اےسنہرےچراغ
ستارے خاک ہوئے کوزہ گر خراب ہوئے
اگر یہ پھول تیری راہ تک نہیں پہنچے
اگر یہ پھول میری خاک پر خراب ہوئے
دل ایک دن تیری دیوار پر نہیں بیٹھا
پئےغرور میرے بالوں پر خراب ہوئے
سنا ہے ان دنون ایک جنگجو کا دل ٹوٹا
پھر اس کےبعد ہزاروں نگر خراب ہوئے
جہان والے ہماری مثال دیتے ہیں
تو آپ سوچیےہم کس قدر خراب ہوئے

Offline
 

جگنوؤں کی قسم دیوں کی قسم
خوبصورت ہے تو دنوں کی قسم
تیرے بن دنیا چل نہیں سکتی
گھر کے متروک برتنوں کی قسم
مجھ سے نیندوں نے پردہ کر لیا ہے
تیرے مستور بازوؤں کی قسم
ختم ہے تجھ پہ داستانِ حیا
تیرے ہمراز آئینوں کی قسم
تیرا ساتھ اچھا لگتا ہے مجھ کو
راستوں کی قسم گھروں کی قسم
زندگی سے مجھے محبت ہے
رسیوں کی قسم کنوؤں کی قسم
میرے احباب مجھ سے مخلص ہیں
مجھ کو یوسف کے بھائیوں کی قسم۔

Offline
 

بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے
ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہے
.
اس طرح نگاہیں مت پھیرو، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
سینے میں کوئی پتھر تو نہیں احساس کا مارا، دل ہی تو ہے
.
بیداد گروں کی ٹھوکر سے سب خواب سہانے چور ہوئے
اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے

Offline
 

تم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا رُوپ امر
تُم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تُم جس پھول کو ہنس کر دیکھو
کبھی نہ وہ مُرجھائے..
تُم جس حرف پہ انگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے.. !

Offline
 

جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟؟؟

Offline
 

تھوڑا سا رفو کر کے دیکھیے نا
پھر سے نئی سی لگے گی۔۔۔ زندگی ہی تو ہے۔۔۔۔۔

Offline
 

خیر وہ بات مجھے بھول گئی ہےپھر سے
یاد آئی تھی تیری باتوں کےدوران مجھے

Offline
 

وہ بات جو میں نے ابھی ابھی سنی نہیں
وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجئے

Offline
 

میرے بوسے سے انکار مت کرنا
تیرا عشاریا آٹھ بلین سا ل پہلے کی بات ہے
فزکس کے قانون ابھی لاگو نہیں ہوئے تھے
کشش ثقل نہیں کہ تم
میری طرف اٹریکٹ ہوتیں
میں صرف تمہیں چومنے کا ارادہ کر رہا تھا
انرجیز اکٹھی ہورہی تھیں
میں نے تمہیں چوم لیا
دھماکا ہوا
بگ بینگ
ھم لا تعداد حصوں میں بٹ گئے