Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

آپ کے آنے سے پہلے تک محبت میری توجہ کا مرکز نہیں تھی۔۔

Offline
 

یعنی تُم بہار جیسے ہو
چھوڑ جاؤ گے
مجھے ہرا بھرا کر کے

Offline
 

آپ رسماً ملا کریں بیشک
ھم محبّت شمار کر لیں گے

Offline
 

بڑھ جائیں حد سے تو بہت نقصان دیتی ہیں
یہ خواہشیں، بارشیں، نادانیاں اور محبتیں وغیرہ

Offline
 

جہاں پر تمہیں اپنی روح کا سکون ملے وہاں ٹھہرو وہی تمھارا گھر ہے

Offline
 

تیرا پہلو تیرے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

Offline
 

دل کرتا ہے گزرے زمانے کی طرح آج پھر تجھے ایک خط لکھوں، لکھوں کہ تیری ہر بات آج بھی مجھے لفظ بہ لفظ زبانی یاد ہے، وہ وعدے، وہ لہجے، وہ خاموشیاں سب دل کے کسی کونے میں ویسے ہی زندہ ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ اس وقت جواب آ جایا کرتا تھا، اور آج یہ خط بھیجوں تو شاید میری طرح وہ بھی ادھورا ہی رہ جائے۔

Offline
 

میں جب زندگی میں نا امید، مایوس ہوتا ہوں
تو سوچتا ہوں
میری ناکامیاں تو شاید میری قسمت کا امتحان ہیں
مگر ایسے لوگ جو زندگی کی بنیاد سے ہی محروم ہیں، پھر بھی وہ جیتے ہیں، لڑتے ہیں، ہنستے ہیں
تو میرے دل میں بھی ایک چراغ سا جلا اٹھتا ہے
جب ایسے لوگ ہار نہیں مانتے
تو میں کیسے مایوس، نا امید ہو جاؤں ؟
شاید یہی زندگی ہے، درد کے بیچ امید کا چراغ جلاۓ رکھنا

Offline
 

کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ کوئی بس پوچھ لے کہ تم کیسے ہو، اور ہم بس رو دیں

Offline
 

چلو کائنات بانٹ لیتے ہیں
تم میرے ، باقی سب کچھ تمھارا

Offline
 

بہار دنیا ہے چند روزہ، نہ چل یہاں سر اُٹھا اُٹھا کر
خدا نے خود ہی مٹا دئیے ہیں، ہزاروں نقشے بنا بنا کر

Offline
 

اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ ، جو تکلف نہیں کرتا

Offline
 

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

Offline
 

شجاع موت سے پہلے ضرور جی لینا
یہ کام بھول نا جانا بڑا ضروری ہے

Offline
 

رہنا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر
لیکن اِک آدمی ہے ہمارا زمین پر
طُرفہ کہ رمِ گریہ و زاری بھی اُٹھ گئی
مشکل تو پہلے ہی تھا گزارا زمین پر
بھٹکے ہوؤں کو راہ دِکھانے کو کم نہیں
ٹُوٹے ہوئے دِیے کا کنارا زمین پر
اس کی نظر بدلنے سے پہلے کی بات ہے
میں آسمان پر تھا، ستارا زمین پر
باقی تو جو بھی کچھ ہے اضافی ہے سب یہاں
اِک آنکھ ہے اور ایک نظارا زمین پر
دیکھا نگاہ بھر کے مجھے اس نے پھر جمال
روشن کیا چراغ، دوبارا زمین پر

Offline
 

کس طرح ہوگا فقیروں کا گزارہ سوچے
اس سے کہنا کہ وہ اک بار دوبارہ سوچے
کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام نہ ہو
کیسے ممکن ہے کہ وہ صرف ہمارا سوچے
ایسا موقع ہو کہ بس ایک ہی بچ سکتا ہو
اور اس وقت بھی اک شخص تمہارا سوچے

Offline
 

مولانہ رومی کہتے ہیں
.
جہاں محبت کا رشتہ ہو
۔وہاں۔انا اور غرور کی کوئی جگہ نہیں
.
نزیر قیصر کا شعرہے
.
جہاں پر دوستی ہو اس جگہ انا کیا
کہو اگر تو آپ کے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا"

Offline
 

اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی

Offline
 

قربان خوابِ ہفت ، ُکل زمیں کی نیند
میں دیکھتا ہوں ایک مکمل حسیں کی نیند
جب تک وہ سو رہا میں اسے دیکھتا رہا
منظر قضا نہیں کیا، میں نے نہیں کی نیند
بیدار بخت ہوں تو میرا واقعہ یہ ہے
میں دیکھتا ہوں ایک ستارہ جبیں کی نیند
مدت کے بعد دیکھا کہ گہنا رہا ہے چاند
یاد آ رہی ہے مجھے کسی مہ جبیں کی نیند
کچھ سال پہلے میں نے ہی اک چور سے کہا
گھر آئے ہو تو چوری ہی کر لو مکیں کی نیند
گفتار و سیر تک میری خواہش کی حد نہیں
میں چاہتا ہوں اس پہ تمہارے قریں کی نیند
تاعمر علی کا خواب رسولِ امیں کا خواب
اِک شب علی کی نیند رسولِ امیں کی نیند

Offline
 

تمہارے ہجر کی رت کے علاوہ سبھی موسم پسندیدہ ہیں میرے