Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

تھوڑا سا رفو کر کے دیکھیے نا
پھر سے نئی سی لگے گی۔۔۔ زندگی ہی تو ہے۔۔۔۔۔

Offline
 

خیر وہ بات مجھے بھول گئی ہےپھر سے
یاد آئی تھی تیری باتوں کےدوران مجھے

Offline
 

وہ بات جو میں نے ابھی ابھی سنی نہیں
وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجئے

Offline
 

میرے بوسے سے انکار مت کرنا
تیرا عشاریا آٹھ بلین سا ل پہلے کی بات ہے
فزکس کے قانون ابھی لاگو نہیں ہوئے تھے
کشش ثقل نہیں کہ تم
میری طرف اٹریکٹ ہوتیں
میں صرف تمہیں چومنے کا ارادہ کر رہا تھا
انرجیز اکٹھی ہورہی تھیں
میں نے تمہیں چوم لیا
دھماکا ہوا
بگ بینگ
ھم لا تعداد حصوں میں بٹ گئے

Offline
 

میرے تمہارے عکس وجود میں آئے
ریپلیکہ
ہم مختلف ادوار میں مختلف حالتوں میں
ہجر مناتے رہے
آوا گون
یہ ہمارا آخری جنم ہے
کشش ثقل زوروں پر ہے
ہم وصل کے کنارے پر ہیں
ہم ایک با وصال زندگی گزاریں گے
میں اپنی محبت تم پر نچھاور کردوں گا
کسی وجہ سے
ایک دن تم میرا بوسہ رد کر دو گی
اس دن کے بعد ستارے جنم نہیں لیں گے
اور دنیا محدود ہو جائے گی
فار فیوچر
اور سب فنا ہو جائے گا
دی الٹی میٹ فیٹ
میرے بوسے سے انکار مت کرنا

Offline
 

خواب تو آنکھوں میں ہیں اب بھی
پھر بھی انکی تعبیروں سے دل ڈرتا ہے
تھکے ہوئے پر ڈرے ہوئے دل
دکھی ہوئی آنکھوں سے کہہ دو
اور کوئی اب خواب نہ دیکھے!
اب خوابوں کے سارے دریچے بند ہی رکھے
تعبیروں سے آنکھ مچولی کھیلنا چھوڑ دے

Offline
 

باد صبا خموش ہو گلزار چپ رہیں
وہ بات کررہا ہے خبر دار چپ رہیں
میرے تمام دوست میرےحق میں ٹھیک ہے
ایک آدھ مجھ کو رد کردے دو چار چپ رہیں
تجھ خوب رو پہ مرنے کا پہلے حق میرا ہے
شہزادی کہہ بھی دےترے سالار چپ رہیں
یاں بحث چونکہ عشق کےبارےمیں جاری ہے
سو معزرت کے ساتھ سمجھ دار چپ رہیں

Offline
 

شب زاری کیا کہ خواب دنوں میں بھی روئے ہیں
ہم تیرے دستیاب دنوں میں بھی روئے ہیں
رو کر گزاری ہے ترے پہلو کی باغ رات
بار۔خزاں گلاب دنوں میں بھی روئے ہیں
دن تھے کہ جب نہ تو نہ محبت نہ ہجر تھا۔۔
ہم ایسے لاجواب دنوں میں بھی روئے ہیں
شب بھر نظر نے آتا ہوا دیکھا ہے تجھے
اور پھر یہی سراب دنوں میں بھی روئے ہیں
ناکامیوں پہ رونا نہیں آ رہا ہے آج
حالانکہ کامیاب دنوں میں بھی روئے ہیں
باقی کتاب۔عمر تو روئی ہے رات کو
پر ایک آدھ باب دنوں میں بھی روئے ہیں

Offline
 

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

Offline
 

اجنبی ہےمگر یار بھی لگتا ہے مجھے
ایک دروازہ جو دیوار بھی لگتا ہے مجھے
مدتوں میں بھی نہیں لگتا کبھ زخم گریز
اور اک شب میں کئی بار بھی لگتا ہے مجھے
نظرانداز بھی کر دیتا ہے وہ شخص کبھی
اپنا ہونا کبھی بےکار بھی لگتا ہے مجھے
جتنی دلچسپی دیکھاتا ہے مسیحا میرا
تھوڑا تھوڑا میرا بیمار بھی لگتا ہے مجھے
شہزادی تیرا لگتا ہے دلاسہ بھی مجھے
شہزادی تیرا رخسار بھی لگتا ہے مجھے
تیرا ان حالوں میرے ساتھ گزارا کرنا
عشق بھی لگتا ہے ایثار بھی لگتا ہے مجھے

Offline
 

تو نہیں تو ترا خیال سہی
کوئی تو ہم خیال ہے میرا

Offline
 

ہمارے درمیان جو فاصلے ہیں ان کی وجہ آسمانی جبر نہیں بلکہ زمینی سازشیں ہیں آپکی طرف کے کچھ کالے ساۓ نہیں چاہتے تھے کہ ہم ایک ہوں

Offline
 

ڈھونڈتا پھرتا ہوں اِک شہر تخیل میں تجھے
اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں

Offline
 

دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب شے ہے یہ لذت آشنائی

Offline
 

"میرا تو دل نہیں لگ رہا تمہارے بغیر"
اور ایک تم جسے میری کوئی ضرورت نہیں

Offline
 

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
دل دشت میں ایک پیاس تماشا ہے کہ تم ہو
ایک لفظ جو بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
ایک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو
دروازہ بھی جیسے میری دھڑکن سے جڑا ہے
دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو
ایک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں
اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو
میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

Offline
 

نہیں آتی تو یاد اُن کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ھیں تو اکثر یاد آتے ھیں

Offline
 

ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
جس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں

Offline
 

رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں

Offline
 

محسنؔ اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہے