میرے بوسے سے انکار مت کرنا تیرا عشاریا آٹھ بلین سا ل پہلے کی بات ہے فزکس کے قانون ابھی لاگو نہیں ہوئے تھے کشش ثقل نہیں کہ تم میری طرف اٹریکٹ ہوتیں میں صرف تمہیں چومنے کا ارادہ کر رہا تھا انرجیز اکٹھی ہورہی تھیں میں نے تمہیں چوم لیا دھماکا ہوا بگ بینگ ھم لا تعداد حصوں میں بٹ گئے
میرے تمہارے عکس وجود میں آئے ریپلیکہ ہم مختلف ادوار میں مختلف حالتوں میں ہجر مناتے رہے آوا گون یہ ہمارا آخری جنم ہے کشش ثقل زوروں پر ہے ہم وصل کے کنارے پر ہیں ہم ایک با وصال زندگی گزاریں گے میں اپنی محبت تم پر نچھاور کردوں گا کسی وجہ سے ایک دن تم میرا بوسہ رد کر دو گی اس دن کے بعد ستارے جنم نہیں لیں گے اور دنیا محدود ہو جائے گی فار فیوچر اور سب فنا ہو جائے گا دی الٹی میٹ فیٹ میرے بوسے سے انکار مت کرنا
خواب تو آنکھوں میں ہیں اب بھی پھر بھی انکی تعبیروں سے دل ڈرتا ہے تھکے ہوئے پر ڈرے ہوئے دل دکھی ہوئی آنکھوں سے کہہ دو اور کوئی اب خواب نہ دیکھے! اب خوابوں کے سارے دریچے بند ہی رکھے تعبیروں سے آنکھ مچولی کھیلنا چھوڑ دے
باد صبا خموش ہو گلزار چپ رہیں وہ بات کررہا ہے خبر دار چپ رہیں میرے تمام دوست میرےحق میں ٹھیک ہے ایک آدھ مجھ کو رد کردے دو چار چپ رہیں تجھ خوب رو پہ مرنے کا پہلے حق میرا ہے شہزادی کہہ بھی دےترے سالار چپ رہیں یاں بحث چونکہ عشق کےبارےمیں جاری ہے سو معزرت کے ساتھ سمجھ دار چپ رہیں
شب زاری کیا کہ خواب دنوں میں بھی روئے ہیں ہم تیرے دستیاب دنوں میں بھی روئے ہیں رو کر گزاری ہے ترے پہلو کی باغ رات بار۔خزاں گلاب دنوں میں بھی روئے ہیں دن تھے کہ جب نہ تو نہ محبت نہ ہجر تھا۔۔ ہم ایسے لاجواب دنوں میں بھی روئے ہیں شب بھر نظر نے آتا ہوا دیکھا ہے تجھے اور پھر یہی سراب دنوں میں بھی روئے ہیں ناکامیوں پہ رونا نہیں آ رہا ہے آج حالانکہ کامیاب دنوں میں بھی روئے ہیں باقی کتاب۔عمر تو روئی ہے رات کو پر ایک آدھ باب دنوں میں بھی روئے ہیں
اجنبی ہےمگر یار بھی لگتا ہے مجھے ایک دروازہ جو دیوار بھی لگتا ہے مجھے مدتوں میں بھی نہیں لگتا کبھ زخم گریز اور اک شب میں کئی بار بھی لگتا ہے مجھے نظرانداز بھی کر دیتا ہے وہ شخص کبھی اپنا ہونا کبھی بےکار بھی لگتا ہے مجھے جتنی دلچسپی دیکھاتا ہے مسیحا میرا تھوڑا تھوڑا میرا بیمار بھی لگتا ہے مجھے شہزادی تیرا لگتا ہے دلاسہ بھی مجھے شہزادی تیرا رخسار بھی لگتا ہے مجھے تیرا ان حالوں میرے ساتھ گزارا کرنا عشق بھی لگتا ہے ایثار بھی لگتا ہے مجھے
شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں ایک پیاس تماشا ہے کہ تم ہو ایک لفظ جو بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں ایک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے میری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو ایک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو