مضطر کیوں مجھے دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشہ تو نہیں ہوں
بس یہی سوچ کر شکوہ نہیں کیا میں نے
اپنی اپنی جگہ ہر انسان صحیح ہوتا ہے
ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے, مگر کب تک
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا
خود کو فریب دو کہ نہ ہو تلخ زندگی
ہر سنگ دل کو جانِ وفا کہہ لیا کرو
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
اب لگتا ہے ٹھیک کہا تھا غالب نے
بڑھتے بڑھتے درد دوا ہو جاتا ہے
پاس جب تک وُہ رہے دَرد تھما رہتا ھے
پھیلتا جاتا ھے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح
عمر رواں کو روکیے آواز دیجئے
ہم پیچھے رہ گئے کئی حسرتوں کےساتھ
کیا خبر تم نے کہاں , کس روپ میں دیکھا مجھے
میں کہیں موتی , کہیں پتھر , کہیں آئینہ تھا
خواب میں بھی بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خش وخاشاک سے ہے
میں ہنسا تو کہنے لگے: "شرم نہیں آتی؟"
میں رویا تو بولے: "ذرا مسکرا تو لیتے!"
میں مسکرایا تو کہا: "یہ دکھاوا ہے"
منہ بنایا تو بولے: "جو دل میں تھا، وہی ظاہر ہو گیا۔"
میں خاموش ہوا تو طعنہ دیا: "زبان کا کمزور ہے!"
جب بولا تو طعنہ ملا: "بہت باتونی ہے!"
میں حلم و بردباری سے پیش آیا تو کہا: "ڈرپوک ہے! اگر طاقت رکھتا تو بدلہ لیتا"
جب میں بہادری دکھاتا تو کہتے: "نہیں، یہ تو نادانی ہے! ورنہ اگر عقل رکھتا تو ایسا قدم نہ اٹھاتا"
اگر انکار کر دوں تو بولیں گے: "یہ تو راستے سے ہٹا ہوا ہے!"
اور اگر مان جاؤں تو کہیں گے: "یہ تو دوسروں کے پیچھے چلتا ہے!"
تب مجھے یقین ہو گیا کہ جتنی بھی کوشش کر لوں، لوگوں کو راضی کرنا ناممکن ہے، آخرکار الزام ہی ملے گا۔
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
اب تو ہم لوگ گئے دیدۂِ بے خواب سے بھی
رو پڑا ہوں تو کوئی بات ہی ایسی ہو گی
میں کہ واقف تھا ترے ہِجر کے آداب سے بھی
کچھ تو اُس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہو جانا
اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی
اے سمندر کی ہوا تیرا کرم بھی معلوم
پیاس ساحل کی تو بُجھتی نہیں سیلاب سے بھی
کُچھ تو اُس حُسن کو جانے ہے زمانہ سارا
اور کُچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی
دل کبھی غم کے سمندر کا شناور تھا فرازؔ
اب تو خوف آتا ہے اِک موجہِ پایاب سے بھی
خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں
اب ہمیں دیکھ کے لگتا تو نہیں ہے لیکن
ہم کبھی اُس کے پسندیدہ ہوا کرتے تھے
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں
میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے یہ جانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں
مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں
درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موج صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا بنی ہے
اور اب یہ ساری متاع ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر ترا مغنی
وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے
اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی
خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دیوانہ
بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ
اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
بچپن میں ڈرایا جاتا تھا کہ کسی پر یقین نہیں کرنا انجان لوگ بہلا پھسلا کر ساتھ لے جاتے ہیں اور ہاتھ پاوں کاٹ کر بھیک منگواتے ہیں تم نے بھی یہی کیا بہلا پھسلا کر محبت کی راہ میں لے گئے اور ہاتھ پاؤں کاٹ کر واپسی کی راہ بند کر دی۔۔اور اب بھیک منگواتے ہو اپنی توجہ کی ایک نظر کی
سو گر کبھی ایسا ہو
کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہوجاٸے
تو کبھی ان باتوں سے نفرت نہ کرنا
جو کبھی ہم نے
اکدوسرے سے کی تھیں
کہ باتیں تو رابطہ ہوتی ہیں۔
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain