Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

مضطر کیوں مجھے دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشہ تو نہیں ہوں

Offline
 

بس یہی سوچ کر شکوہ نہیں کیا میں نے
اپنی اپنی جگہ ہر انسان صحیح ہوتا ہے

Offline
 

ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے, مگر کب تک
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا

Offline
 

خود کو فریب دو کہ نہ ہو تلخ زندگی
ہر سنگ دل کو جانِ وفا کہہ لیا کرو

Offline
 

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

Offline
 

اب لگتا ہے ٹھیک کہا تھا غالب نے
بڑھتے بڑھتے درد دوا ہو جاتا ہے

Offline
 

پاس جب تک وُہ رہے دَرد تھما رہتا ھے
پھیلتا جاتا ھے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

Offline
 

عمر رواں کو روکیے آواز دیجئے
ہم پیچھے رہ گئے کئی حسرتوں کےساتھ

Offline
 

کیا خبر تم نے کہاں , کس روپ میں دیکھا مجھے
میں کہیں موتی , کہیں پتھر , کہیں آئینہ تھا

Offline
 

خواب میں بھی بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خش وخاشاک سے ہے

Offline
 

میں ہنسا تو کہنے لگے: "شرم نہیں آتی؟"
میں رویا تو بولے: "ذرا مسکرا تو لیتے!"
میں مسکرایا تو کہا: "یہ دکھاوا ہے"
منہ بنایا تو بولے: "جو دل میں تھا، وہی ظاہر ہو گیا۔"
میں خاموش ہوا تو طعنہ دیا: "زبان کا کمزور ہے!"
جب بولا تو طعنہ ملا: "بہت باتونی ہے!"
میں حلم و بردباری سے پیش آیا تو کہا: "ڈرپوک ہے! اگر طاقت رکھتا تو بدلہ لیتا"
جب میں بہادری دکھاتا تو کہتے: "نہیں، یہ تو نادانی ہے! ورنہ اگر عقل رکھتا تو ایسا قدم نہ اٹھاتا"
اگر انکار کر دوں تو بولیں گے: "یہ تو راستے سے ہٹا ہوا ہے!"
اور اگر مان جاؤں تو کہیں گے: "یہ تو دوسروں کے پیچھے چلتا ہے!"
تب مجھے یقین ہو گیا کہ جتنی بھی کوشش کر لوں، لوگوں کو راضی کرنا ناممکن ہے، آخرکار الزام ہی ملے گا۔

Offline
 

دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
اب تو ہم لوگ گئے دیدۂِ بے خواب سے بھی
رو پڑا ہوں تو کوئی بات ہی ایسی ہو گی
میں کہ واقف تھا ترے ہِجر کے آداب سے بھی
کچھ تو اُس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہو جانا
اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی
اے سمندر کی ہوا تیرا کرم بھی معلوم
پیاس ساحل کی تو بُجھتی نہیں سیلاب سے بھی
کُچھ تو اُس حُسن کو جانے ہے زمانہ سارا
اور کُچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی
دل کبھی غم کے سمندر کا شناور تھا فرازؔ
اب تو خوف آتا ہے اِک موجہِ پایاب سے بھی

Offline
 

خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

Offline
 

اب ہمیں دیکھ کے لگتا تو نہیں ہے لیکن
ہم کبھی اُس کے پسندیدہ ہوا کرتے تھے

Offline
 

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں
میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے یہ جانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں

Offline
 

مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں
درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موج صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا بنی ہے
اور اب یہ ساری متاع ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں

Offline
 

وہ تیرا شاعر ترا مغنی
وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے
اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی
خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دیوانہ
بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ
اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

Offline
 

بچپن میں ڈرایا جاتا تھا کہ کسی پر یقین نہیں کرنا انجان لوگ بہلا پھسلا کر ساتھ لے جاتے ہیں اور ہاتھ پاوں کاٹ کر بھیک منگواتے ہیں تم نے بھی یہی کیا بہلا پھسلا کر محبت کی راہ میں لے گئے اور ہاتھ پاؤں کاٹ کر واپسی کی راہ بند کر دی۔۔اور اب بھیک منگواتے ہو اپنی توجہ کی ایک نظر کی

Offline
 

سو گر کبھی ایسا ہو
کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہوجاٸے
تو کبھی ان باتوں سے نفرت نہ کرنا
جو کبھی ہم نے
اکدوسرے سے کی تھیں
کہ باتیں تو رابطہ ہوتی ہیں۔

Offline
 

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے