Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

شکن زلف عنبریں کیوں ہے
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

Offline
 

رات جاگی تو کہیں صحن میں سوکھے پتے
چُرمُرائے" کہ کوئی آیا 'کوئی آیا ہے"
اور ہم شوق کے مارئے ہوئے دوڑتے آئے
گو کہ معلوم ہے تو ہے نہ تیرا سایہ ہے
ہم کہ دیکھیں کبھی دلان' کبھی سوکھا چمن
اس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارئے جائیں
پھر سے اک بار تیری خواب سی آنکھیں دیکھیں
پھر تیرے ہجر کے ہاتھوں ہی بھلے مارے جائیں
ہم تجھے اپنی صداوں میں بسائیں ایسا
اتنا چیخیں کہ تیرے وہم لپٹ کر روئیں
پر تیرے وہم بھی تیری طرح ہی قاتل ہیں
سو وہی درد ہے جاناں، کہو کیسے سوئیں
بس اسی قرب کے پہلو میں گزارےہیں پہر
بس یہی غم ہیں کافی جو کبھی تھوڑے آئیں
پھر اچانک کسی لمحے میں جو چٹخے پتے
ہم وہی شوق کے مارئے ہوئے دوڑے آئیں

Offline
 

تمہارا محبوب کیسا تھا
فراز کے محسوب جیسا تھا

Offline
 

عمر بڑھتی ہے تو دل اداس رہنے لگتے ہیں
اور اکیلا پن روح کے ہر کونے کھدرے میں اپنے پنجے گاڑ لیتا ہے
ہمارے ارد گرد ہمارے بچے کھلکھلاتے ہیں
ٹی وی شور کرتا ہے
گاڑیاں اور بسیں بھاگتی ہیں
نئی چھب کے دن بوڑھے دنوں کی جگہ لیتے رہتے ہیں
سورج روز ڈھلتا ہے اور چاند ہر چودھویں کو دمکتا ہے
لیکن دل
اداس رہنے لگتے ہیں
اور تلاش کرتے ہیں اپنے جیسے اداس دل
جن کے ساتھ وہ اپنا اکیلا پن بانٹ سکیں
اور اپنی اپنی تنہائی ملا کر
خلا کو پر
اور پزل کو مکمل کر سکیں
عمر بڑھتی ہے تو دل اداس رہنے لگتے ہیں
اس لمحے کو چھوڑ کر
جب انکا اکیلا پن
انہی کے جیسے کسی دل کو گلے لگاتا ہے
اور اس کے ماتھے پہ بوسہ دیتا ہے،
یہاں تک، کہ وہ مسکرانے لگے۔

Offline
 

اللہ نے اپنے قرب کے لیئے جو طریقہ کار بتایا وہ بڑا سادہ سا ہے- اس نے کہا کہ جب تم کسی سے محبت رکھتے ہو، یا کچھ چیزوں سے محبت رکھتے ہویا کچھ لوگوں سےمحبت رکھتے ہو تو "فراق" تمہیں بتاتا ہے " جدائی" تمہیں بتاتی ہے کہ کس سے تمہیں ذیادہ محبت ہے " وصال" میں محبت نمایاں ہوتی ہے، اور "فراق" میں یاد۔۔۔۔۔۔ جسکی یاد زیادہ آئے اس سے اس سے تمہیں زیادہ محبت ہوتی ہے تو یاد واحد طریقہ محبت ہے-۔

Offline
 

کیسے عجیب وسوسے آتے ہیں عشق میں
یہ ہو گیا تو خیر ہے وہ ہو گیا تو پھر

Offline
 

آپ نے کہا تھا کہ بیس سے پچیس سال کی عمر میں انسان کِھلتے ہوئے پھول جیسا ہوتا ہے،
دنیا دیکھتا ہے،رنگوں سے کھیلتا ہے،تتلیوں کے پیچھے دوڑتا ہے،سورج نکلنے سے پہلے ننگے پاؤں نم گھاس پر رقص کرتا ہے،
دوستوں کے ساتھ چائے پیتا ہے،
ہر اس گلی کی خاک چھانتا ہے جہاں خوبصورت گھر ہوں،ہر اس شہر کی طرف سفر کرتا ہے جہاں اونچی اونچی سرسبز پہاڑیاں ہوں، خاموشی ہو۔
نیچے اترتے ہی
لوگوں کے قہقہوں کی آوازیں ہوں،
بچوں کے کھلکھلانے کا شور ہو۔
زندگی،زندگی لگتی ہو۔
لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔

Offline
 

مُدتوں سے یہی عالَم نہ توقع نہ اُمید
دِل پُکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

Offline
 

جو تُو نہیں ہے تو اس کو پکارتے ہیں ہم
ہمارے شہر میں اک شخص تیرے نام کا ہے

Offline
 

کوئی ہے جس سے جرمِ محبت نہ ہو
کیوں مری دشت میں پیشیاں لگ گئیں

Offline
 

اپنے سامان کو باندھے ہوئے اِس سوچ میں ہوں
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں ؟

Offline
 

اور کیا ہوگا بھلا سینے میں دل کا مصرف
بس اسی واسطے رکھا ہے ،دُکھایا کیجئے

Offline
 

اسکو فرصت ھی نہیں وقت نکالے محسن
ایسے ھوتے ھیں بھلا چاھنے والے محسن

Offline
 

لیے پِھرا ھُوں ، نہ جانے کہاں کہاں اِس کو
مگر یہ دِل ھے کہ ، وہ راہ بُھولتا ھی نہیں۔

Offline
 

اس رنگِ تعلق پہ تعجب ہے کہ ہم لوگ
موجود تو ہوتے ہیں میسر نہیں ہوتے

Offline
 

وہ پریشاں ہے میرے جلنے سے
اس کی آنکھوں میں دھواں پڑتا ہے

Offline
 

تو میری آنکھوں میں بیٹھ جا اور میں پلکیں بند کرلوں تاکہ نہ دنیا تجھے دیکھے اور نہ میں تیرے بغیر کسی کو دیکھ سکوں

Offline
 

ابھی مصر و ف ھو ں بہت فر صت ملے گی تو سو چو ں گا
کہ تجھ کو یا د ر کھنے میں ،میں کیا کیا بھو ل جاتا ھو ں

Offline
 

ہوتا ہے ہجر پانچ عناصر پہ مشتمل
امید ، انتظار ، اداسی ، کسک ، نمی

Offline
 

کوئی مجھ سے مسلسل پوچھتا یہ ہے
کہ پہلی بار میں خود سے ملا تھا کب؟
کہاں؟ کس مو ڑ پر؟ کس راستے پر؟
کون سی گلیوں میں اوارہ پھیرا تھا میں؟
ملا بھی تھا؟ کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا تھا میں؟