يہ جو بادشاه کے دربار ميں دو بندے مور کے پر سے ہوا ديا کرتے تھے سرديوں ميں انکى کيا ذمہ دارى ہوتى ہوگى
تُم جو کہتے ہو دیکھ لی دنیا
اُس کو ہنستے ہوئے بھی دیکھا ہے؟
تمہارا احساس، جیسے بارش کے بعد کچّی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ایک صاحب نے رکشے والے سے کہا
" ادارہ ترقیات کراچی لے چلو "
رکشے والا بولا ۔ کہاں؟
تین دفعہ بتانے کے بعد بھی اسے سمجھ نہ آئی تو تنگ آ کر کہا :
" بھئی کے ڈی اے لے چلو "
تو وہ بولا۔۔۔" یوں اردو میں کہئے ناں
مجھے سردیاں بہت پسند ہیں
لیکن سرد لہجے نہیں
مجھ پہ لازم ہے... میں اسے دیکھوں
اس کی مرضی ہے وہ جدھر دیکھے
کبھی کبھی کوئی یاد! کوئی بہت پُرانی یاد
دِل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے
شام کو جیسے تارا نکلے، صُبح کو جیسے پھُول ..
میں اُس کی قید سے آزاد کہاں ھوں
بنا کے رکھتا ھے سوچوں میں یرغمال مُجھے
مد ت سے ھم ہیں جس کی محبت میں مبتلا
اس کا یہ حا ل ہے کہ اسے کچھ خبر نہیں
دسمبر کی خنک راتیں سونے نہیں دے رہی ہوتیں! انتظار رہتا ہے، کہ کب، رات کی تیرگی سے نجات دلانے والا مؤذن اذان دینے لگ جائے! کہ کب صدا آجائے، کہ نماز نیند سے بہتر ہے، اور ہم جاگے رہنے والوں کے دلوں کو رات سے نجات مل جائے!
یہ جو تم آپ کہہ رہی ہو
گھر پہ مہمان آئیں ہے کیا
،تُسی تے اَسی،،
بھانویں مونہوں نہ کہئے، پر وچو وچی
کھوئے تسی وی او، کھوئے اسی وی آں
ایہناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
ہوئے تسی وی او، ہوئے اسی وی آں
کجھ امید اے، زندگی مل جائے گی
موئے تسی وی او، موئے اسی وی آں
جیوندی جان ای، موت دے منہ اندر
ڈھوئے تسی وی او، ڈھوئے اسی وی آں
جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے
روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں
استاد دامن
"چلیں اُداسی بانٹ لیتے ہیں"
اُجلی سی صبح کوئی سی ہو، کہیں بھی ہو اور کبھی بھی ہو، جینے کے جواز کے لیے اِسے اپنی جاگتی آنکھوں کا خواب بناۓ رکھنا بہت خوبصورت اِستعارہ ہے۔
جوں جوں پھر ہم آگے بڑھتے ہیں تو کوئ وقت آتا ہے کہ ہر اگلی صبح میں یہ صبح تلاش کرتے کرتے،
یہ خواب بھی پھر ہماری طرح پختہ ہوکر کسی دائم سی صبح سے کم تر پر اکتفا نہیں کرتا۔
آپ اور ہم بھلے اُداس ہیں
لیکن خواب دیکھنا نہیں چھوڑیں گے۔
مُسکرا دیجیے۔ بھلے اُداس ہی سہی۔
اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہے .. .
ُاُسے کہنا نومبر جا چکا ہے . ..
اُسے کہنا جنوری آ رہا ہے ... .
بلکہ اُسے نیا کیلنڈر ہی دے دینا.......
اور کہنا..... تُو چل میرا پُتر چھُٹی کر.