اہلِ دانش راہنمائی فرمائیں..
مجھے ایک لڑکی نے وائس میسج میں ایک سوال پوچھا اور میں نے بغیر ان کی خُوبصورت آواز اور دھیمے لہجے کی تعریف کے نہایت سنجیدگی اور متانت سے جواب دے دیا۔ اب پوچھنا یہ تھا کیا اس طرح سے انہیں مجھ سے سچی مُچی کا پیار ہو جائے گا... ؟
عشق صحرا ہے کے دریا کبھی سوچے وہ بھی
اُس سے کیا ہے میرا ناطہ کبھی سوچے وہ بھی
ہاں میں تنہا ہوں یہ اقرار بھی کر لیتا ہوں
خود بھی کتنا ہے وہ تنہا کبھی سوچے وہ بھی
یہ الگ بات جتایا نہیں میں نے اس کو
ورنہ کتنا اُسے چاہا کبھی سوچے وہ بھی
اُسے آواز لکھا . . چاند لکھا … پُھول لکھا
میں نے کیا کیا اُسے لکھا کبھی سوچے وہ بھی
مطمئن ہوں اسے لفظوں کی حرارت دے کر
میں نے کتنا اسے سوچا کبھی سوچے وہ بھی
دکھا ہم کو سیدھا راستہ ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا کرم کیا ۔ صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے ہیں ۔کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلالؓ چلے جا رہے ہیں ، میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا۔ ان کا بکسہ اور ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا رہتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدار مجھ پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ملازم ہوتا ۔ وہ حضورﷺ سے مل کر آتے میں ان کو دیکھ لیا کرتا ، اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463
روبرُو بیٹھی ہو تُم.........،
میں روز ایسے خواب بُنتا ہوں
میں نے اُلفت کے فسانوں میں تُمہیں دیکھا ہے ،
ُتم وہی ہو نا جو دھڑکن کو بڑھا دیتی ہو.
اُسی کی ذات سے منسوب قِصے تمام
وہی ایک شحص سرمایۂ حیات ٹھہرا
مشورہ ٹھیک تیرا اپنی جگہ پر لیکن!
یار وہ شخص میری آنکھ کی بینائی ہے
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ہیں ﺍﻭﺭ ﻭﮦ آپ کو ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮐﻮئی ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ آپ کو اپنی دعاؤں میں ﻣﺎﻧﮓ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ . .
ﺍﯾﺴﮯ سوچنے سے بِستی ﮐﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮگی۔
مُجھے سمجھ سکا نہ وہ بھی
جِسے نفسیات پہ کمال تھا.
رات کو سو جانے کے بعد قیدی قید خانے کی تکلیف سے
اور بادشاہ اپنی سلطنت اور دولت کے احساس سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔
میں نے اپنے اِرد گرد آج تک جتنے عاشقوں کی اپنی مُحبوب انسان سے ہونے والی چیٹس پڑھی ہیں اُنکے لیول آف کمیونیکشن کو دیکھ کر ہمیشہ یہی احساس ہوا کہ نہ تو آج تک مُجھے کسی سے محبت ہوئی اور نہ ہی کسی نے مُجھ معصوم سے عشق کیا۔
وہ ہنسے کیا کہ کھل گئے ٖغنچے
گویا ان سے بہار آئی ہے
کسی مشکل میں
ہار یقینی ہے
آپ جیتنے کے سو جتن سوچتے ہیں
کوئی بھی کام کا نہیں
ایک اِمکان اور بھی تو ہے
اگلا مَن کا اچھا، سچا اور معصوم بھی تو ہوسکتا ہے
پلٹ کر یہ مت کہیے گا
کہ اگلا اگر یوں تھا تو پھر مشکل کیوں ہوئی؟
ممکن ہے وجہ آپ ہوں
ممکن ہے دونوں ہوں
یوں بھی ممکن ہے کوئی ایک بھی نہ ہو۔
آپ اُس کے ہاں پھول کیوں نہیں رکھ آتے؟
گُل دستہ رکھ
آئیے
اورخاموش کھڑے ہو جائیے یا پھر لوٹ آئیے
جہاں اِتنے جَتن سوچ لیے
وہاں اگلے کے مَن پر اعتبار کیوں مشکل؟
مان جائیے، رکھ آئیے
ایک تہائی بوجھ پھول رکھنے سے ہی کم ہو جاتا ہے
اگلا ایک تہائی پھر خاموش کھڑے رہنے سے
اور باقی کا ایک تہائی؟
وہ اگلے کے پھول اُٹھانے سے ختم۔
بچا کیا پھر؟
بہت سی جگہوں پر
آسانیاں منتظر رہتی ہیں صاحب
ہم خود ذرا آسان تو ہوجائیں
آسانی کیا ہے؟
کوئی خوبصورت سا گُمان رکھنا۔
وہ بھی مجھ سے بیزار ٹھہرا
جس پر میری محبت تمام شد
قسمت کا ہی لکھا ہوا ملتا ہے ہر اک کو
مشتاق کو بس تو ہی جو مل جائے تو بہتر
دل اداس رہتا ہے
تم اداس مت ہونا
ایک کلو گاجریں لیں آدھی نمک میں اور باقی شِیرے میں رکھیں چند دِنوں میں آدھی اچار اور باقی مربہ بن جائیں گی.....
گاجریں ایک سی ہیں لیکن ماحول مختلف تو نتیجہ الگ ملا....ایسے ہی ہمارے ارد گرد کا ماحول ہم انسانوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
اگر یہ لذیذ قسم کی مثال سمجھ نہ آئے تو خود کو خرگوش سمجھیں اور درج بالا گاجریں دھو کے کھا لیں... ہم نے کچھ کہا نہیں آپ نے کچھ سنا نہیں....
نوٹ: آپ اُن گاجروں کا دیسی گھی میں حلوہ بھی بنا کر مُجھے بھجوا سکتے ہیں جو سردیوں میں چائے کے ساتھ کھانا مجھے بہت بہت پسند ہے۔ شکریہ
بس ایک شخص کے ہنسنے سے کام چلتا تھا
ہمارے شہر میں پھولوں کی اک دکان نہ تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain