کہتے ہیں رُوحیں اپنی جیسی رُوحوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں، یہ طاقت انہیں ازل سے ودیعت کردی گئی ہے۔ تے میری ورگی روح کِتھے ایں کملیئے......؟ ہماری مادام روح افزاء کہاں ہیں آپ
محبت کی تعریف مشکل ہے. اس پر کتابیں لکھی گئی. افسانے رقم ہوے. شعرا نے محبت کے قصیدے لکھے. مرثیے لکھے. محبت کی کیفیت کا ذکر ہوا. وضاحتیں ہوئیں. لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی. واقعہ کچھ اور ہے روایت کچھ اور. بات صرف اتنی سی ہے کہ جب ایک چہرہ انسان کی نظر میں آتا ہے تو اسکا انداز بدل جاتا ہے. کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے. بلکہ ظاہر و باطن کا جہاں بدل جاتا ہے. محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ہے حسن دیکھتا ہے. اسکی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے. اندیشہء سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہ جاناں میں گم ہو جاتا ہے. اسکی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں. وہ ہنستا ہے بے سبب ، روتا ہے بے جواز. محبت کی کیفیت جلوہ محبت کے سوا کچھ نہیں. محب کو محبوب میں کجی یا
خامی نظر نہیں آتی. اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی. محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی. محبوب کی ہر ادا دلبری ہے. یہاں تک کہ اسکا ستم بھی کرم ہے. اسکی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش. محبوب کی جفا کسی محب کو ترک وفا پر مجبور نہیں کرتی. دراصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لئے ہے. محبوب کی راہ میں انسان مجبوری یا معذوری کا اظہار نہیں کرتا . یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجاز کیا ہے اور حقیقت کیا. دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز ہے جب تک رقیب ناگوار ہو. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو، وہ عشق حقیقی ہے. اپنا عشق اپنے محبوب تک ہی محدود رکھا جائے تو مجاز، اور اگر اپنی محبت میں کائنات شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت. "واصف علی واصف کی کتاب دل دریا سمندر سے اقتباس
تم موسموں کے روگ کا درد مت سہا کرو اداس مت ہوا کرو یہ درد ہیں حیات کے کچھ رنگ کائنات کے کچھ دکھوں کی تیز بارشیں کچھ پھول ہیں نشاط کے تم پھول بس چھوا کرو اداس مت ہوا کرو
''صبر کرنے‘‘ اور ’’صبر آجانے‘‘ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اپنے دل پر جبر کرکے اپنا حوصلہ آزما کر چپ سادھ لینا اول الذکر جبکہ رو دھو کر، اپنا غم منا کر آنکھوں میں آنسوؤں کی قلت ہوجانے کے بعد خاموشی اختیار کرلینا موخر الذکر کے زمرے میں آتا ہے۔ صبر کوئی کوئی ’’کرتا‘‘ ہے۔ صبر ہر ایک کو ’’آجاتا‘‘ ہے
خُوش رہا کرو پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے۔ صرف اس لئے کہا تھا کہ میں خود اس دُور سے گزر چکا ہوں. برسوں تک خوب دل لگا کر پریشان رہا۔ شاید اس لئے کہ پریشان ہونا بے حد آسان ہے. لیکن سواۓ اس کے کہ چہرے پر غلط جگہ لائنیں پڑ گئیں ، کوئی فائدہ نہیں ہوا. اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چہرے پر لائنیں پڑنی ہی ہیں تو فقط وہاں پڑنی چاہئیں جہاں مسکراہٹ سے بنتی ہیں۔
اہلِ دانش راہنمائی فرمائیں.. مجھے ایک لڑکی نے وائس میسج میں ایک سوال پوچھا اور میں نے بغیر ان کی خُوبصورت آواز اور دھیمے لہجے کی تعریف کے نہایت سنجیدگی اور متانت سے جواب دے دیا۔ اب پوچھنا یہ تھا کیا اس طرح سے انہیں مجھ سے سچی مُچی کا پیار ہو جائے گا... ؟
عشق صحرا ہے کے دریا کبھی سوچے وہ بھی اُس سے کیا ہے میرا ناطہ کبھی سوچے وہ بھی ہاں میں تنہا ہوں یہ اقرار بھی کر لیتا ہوں خود بھی کتنا ہے وہ تنہا کبھی سوچے وہ بھی یہ الگ بات جتایا نہیں میں نے اس کو ورنہ کتنا اُسے چاہا کبھی سوچے وہ بھی اُسے آواز لکھا . . چاند لکھا … پُھول لکھا میں نے کیا کیا اُسے لکھا کبھی سوچے وہ بھی مطمئن ہوں اسے لفظوں کی حرارت دے کر میں نے کتنا اسے سوچا کبھی سوچے وہ بھی
دکھا ہم کو سیدھا راستہ ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا کرم کیا ۔ صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے ہیں ۔کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلالؓ چلے جا رہے ہیں ، میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا۔ ان کا بکسہ اور ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا رہتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدار مجھ پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ملازم ہوتا ۔ وہ حضورﷺ سے مل کر آتے میں ان کو دیکھ لیا کرتا ، اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain