Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

When your mom ask you along to visit relatives
O  : When your mom ask you along to visit relatives - 
Offline
 

تمہاری بات لمبی ہے
مثالیں ہیں
دلیلیں ہیں
ہماری بات چھوٹی ہے...
ہمیں تم سے محبت ہے

Offline
 

کہتے ہیں رُوحیں اپنی جیسی رُوحوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں، یہ طاقت انہیں ازل سے ودیعت کردی گئی ہے۔
تے میری ورگی روح کِتھے ایں کملیئے......؟
ہماری مادام روح افزاء کہاں ہیں آپ

Offline
 

اب کوئی شخص مُجھے مُسلسل سونپا جائے
دِل مُحبت کی ، قناعت سے نکل آیا ہے

Offline
 

اپنی زندگی کی پریشانیوں کو ایسے ہی اگنور کیا کریں جیسے آپ میری پوسٹوں کو کیا کرتے ہیں

Offline
 

محبت کی تعریف مشکل ہے. اس پر کتابیں لکھی گئی. افسانے رقم ہوے. شعرا نے محبت کے قصیدے لکھے. مرثیے لکھے. محبت کی کیفیت کا ذکر ہوا. وضاحتیں ہوئیں. لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی. واقعہ کچھ اور ہے روایت کچھ اور. بات صرف اتنی سی ہے کہ جب ایک چہرہ انسان کی نظر میں آتا ہے تو اسکا انداز بدل جاتا ہے. کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے. بلکہ ظاہر و باطن کا جہاں بدل جاتا ہے. محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ہے حسن دیکھتا ہے. اسکی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے. اندیشہء سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہ جاناں میں گم ہو جاتا ہے. اسکی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں. وہ ہنستا ہے بے سبب ، روتا ہے بے جواز. محبت کی کیفیت جلوہ محبت کے سوا کچھ نہیں. محب کو محبوب میں کجی یا

Offline
 

خامی نظر نہیں آتی. اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی. محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی. محبوب کی ہر ادا دلبری ہے. یہاں تک کہ اسکا ستم بھی کرم ہے. اسکی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش. محبوب کی جفا کسی محب کو ترک وفا پر مجبور نہیں کرتی. دراصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لئے ہے. محبوب کی راہ میں انسان مجبوری یا معذوری کا اظہار نہیں کرتا .
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجاز کیا ہے اور حقیقت کیا. دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز ہے جب تک رقیب ناگوار ہو. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو، وہ عشق حقیقی ہے. اپنا عشق اپنے محبوب تک ہی محدود رکھا جائے تو مجاز، اور اگر اپنی محبت میں کائنات شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت.
"واصف علی واصف کی کتاب دل دریا سمندر سے اقتباس

Memes & Satire image
O  : Always ready to help - 
Beautiful People image
O  : Albert Einstein at age 5 - 
Technician working on a Pc
O  : Technician working on a Pc - 
Offline
 

میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تُو

Offline
 

وہ میری پوسٹ دیکھ لے میں اتنے سے ہی خوش ہوجاتا ہوں

Offline
 

تم موسموں کے روگ کا
درد مت سہا کرو
اداس مت ہوا کرو
یہ درد ہیں حیات کے
کچھ رنگ کائنات کے
کچھ دکھوں کی تیز بارشیں
کچھ پھول ہیں نشاط کے
تم پھول بس چھوا کرو
اداس مت ہوا کرو

Offline
 

''صبر کرنے‘‘ اور ’’صبر آجانے‘‘ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اپنے دل پر جبر کرکے اپنا حوصلہ آزما کر چپ سادھ لینا اول الذکر جبکہ رو دھو کر، اپنا غم منا کر آنکھوں میں آنسوؤں کی قلت ہوجانے کے بعد خاموشی اختیار کرلینا موخر الذکر کے زمرے میں آتا ہے۔
صبر کوئی کوئی ’’کرتا‘‘ ہے۔
صبر ہر ایک کو ’’آجاتا‘‘ ہے

Offline
 

تیـــــری مــوجــــــودگــی میــں
خـــوشیــــاں میــرے آس پـاس
گھومتــی ہیــں.

Offline
 

خُوش رہا کرو
پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے۔
صرف اس لئے کہا تھا کہ میں خود اس دُور سے گزر چکا ہوں. برسوں تک خوب دل لگا کر پریشان رہا۔
شاید اس لئے کہ پریشان ہونا بے حد آسان ہے. لیکن سواۓ اس کے کہ چہرے پر غلط جگہ لائنیں پڑ گئیں ، کوئی فائدہ نہیں ہوا.
اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چہرے پر لائنیں پڑنی ہی ہیں تو فقط وہاں پڑنی چاہئیں جہاں مسکراہٹ سے بنتی ہیں۔

Offline
 

ہمیں کہاں کوئی ملا ہے،،
فقط یہ تَو چاہتوں کا سلسلہ ہے

Offline
 

اہلِ دانش راہنمائی فرمائیں..
مجھے ایک لڑکی نے وائس میسج میں ایک سوال پوچھا اور میں نے بغیر ان کی خُوبصورت آواز اور دھیمے لہجے کی تعریف کے نہایت سنجیدگی اور متانت سے جواب دے دیا۔ اب پوچھنا یہ تھا کیا اس طرح سے انہیں مجھ سے سچی مُچی کا پیار ہو جائے گا... ؟

Offline
 

عشق صحرا ہے کے دریا کبھی سوچے وہ بھی
اُس سے کیا ہے میرا ناطہ کبھی سوچے وہ بھی
ہاں میں تنہا ہوں یہ اقرار بھی کر لیتا ہوں
خود بھی کتنا ہے وہ تنہا کبھی سوچے وہ بھی
یہ الگ بات جتایا نہیں میں نے اس کو
ورنہ کتنا اُسے چاہا کبھی سوچے وہ بھی
اُسے آواز لکھا . . چاند لکھا … پُھول لکھا
میں نے کیا کیا اُسے لکھا کبھی سوچے وہ بھی
مطمئن ہوں اسے لفظوں کی حرارت دے کر
میں نے کتنا اسے سوچا کبھی سوچے وہ بھی

Offline
 

دکھا ہم کو سیدھا راستہ ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا کرم کیا ۔ صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے ہیں ۔کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلالؓ چلے جا رہے ہیں ، میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا۔ ان کا بکسہ اور ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا رہتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدار مجھ پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ملازم ہوتا ۔ وہ حضورﷺ سے مل کر آتے میں ان کو دیکھ لیا کرتا ، اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463