فُون کرتا ہے سفر لمحوں میں خط تو ہفتے میں بھی کئ بار نہیں پہنچتے تھے فُون تصویر دکھاتا ہے . . تَری ہنستی ہوئی تصویر اور کوئی ڈاکیہ یہ تار نہیں چُھو سکتا فون آواز بھی دیتا ہے اور صُورت بھی ایسا لگتا ہے جیسے سامنے بیٹھی ہوئی ہو لاتعداد فائدے ہیں، پر اِنکے باوجود . .. فُون خُوشبو نہیں دیتا۔۔ خط کی ایک یہ بڑی سہولت تھی
آپسی رِشتے وہیں خُوبصورت اور مضبوط ہوتے ہیں جہاں درگُزر ہو، وضع داری ہو اور ایک دوسرے کے واسطے عیب زدہ زُبان نہ ہلائی جائے۔ ۔ ۔ ورنہ زُبان کی آلودگی واپس آپکو اور آپکے آپسی رِشتوں، مُحبتوں اور دوستیوں کو میلا کرتی رہے گی اور یقین مانیں اس قسم کی طرزِ زندگی میں آپ ناخُوش ہی رہینگے . . اچھا سوچیں، مثبت رہیں .. . ہمیشہ خُوش رہیں!
کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں موسم گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ہم سے مخفی نہیں کچھ رہ گزر شوق کا حال ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا کھانے میں ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزہ ہی کچھ اور ایسی لذت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں موسموں کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں
میرا دل کرتا هے سوشل میڈیا کے اس دور میں تمہیں ایک محبت بھرا خط لکھوں. اور لکھوں کہ اس دنیا میں کچھ دلکش هے تو وه تمھاری مسکراهٹ هے.. دنیا میں دیکھنے کو کچھ هے تو تمھاری آنکھیں هیں.... تمھیں وه سب بتاؤں جو همیشہ بتانا چاهتا هوں مگر نہیں بتا پایا... خط میں لکھوں کہ جب تم خاموش هوتے هو تو تمھیں سننا میری اولین خواهش هوتی هے... اور لکھوں تمھاری یادیں کیسے مجھے پاگل کرتی هیں... میرا دل چاهتا هے خط کو بلاسبب طویل کروں اور تم پڑھتے پڑھتے تھک جاؤ... مگر میری یاد میں اتنے خوبصورت الفاظ نہیں هیں جو محبت کو محبت سے بیان کر سکیں ، بس میرا دل چاهتا هے تمهیں ایک طویل محبت بھرا خط لکھوں