فون کے اس پار
فون کے اس پار دل نہ لگایا کریں
ورنہ کبھی کبھی
کسی کی ہری بتی کے ساتھ ہی دل بھی بجھ جاتا ہے۔۔۔
ایک میسج کا ریپلائی نہ ملنے پر
پہروں بے سکون رہنا پڑتا ہے
اور کبھی کبھی
ہمیشہ کے لئے رک چکے لاسٹ سین کے ساتھ ہی
زندگی بھی کہیں رک جاتی ہے
فون کے اس پار دل نہ لگایا کریں
چوروں کا ایک سرغنہ اپنے گروہ میں شامل ہونے والے ایک نئے چور کو لے کر علاقے کی وزٹ پر نکلا اور اسے ہر گھر کی تفصیل بتانے لگا کہ کس گھر میں کتنا مال ہے، کتنے لوگ ہیں اور وہاں کیا کیا خطرات ہیں، ذرا دور ایک گھر میں سے روشنی دکھائی دے رہی تھی اس نے اشارہ کر کے بتایا دیکھو وہ گھر وہاں پر بہت مال ہے، میں نے وہاں چار مرتبہ چوری کی اور جھاڑو دیکر مال سمیٹ کر لایا مگر وہ ہر بار اسی طرح بھرا پُرا ہو جاتا ہے اور وہاں کی کوئی خاص حفاظت بھی نہیں اس لئے اگر تم اپنی ابتداء وہاں سے کرو گے تو بہت اچھا ہو گا۔
یہ سن کر نیا چور بولا، "اُستاد! اگر تمھارے متعدد بار چوری کرنے کے بعد بھی وہ گھر خوشحال ہے اور تم اسی طرح بے سرو سامانی کی حالت میں ہو اور پھر سے اسے لوٹنے کا ارداہ کر رہے ہو، کیوں نہ ہم بھی اسی اللہ سے مانگیں جو ان کو لٹنے کے بعد پھر سے دے دیتا ہے
کیسے گزرتی ہیں وہ راتیں؟
جن میں
نہ نیند ہوتی ہے
نہ سپنے
نہ انتظار اور
نہ قرار
اگر کچھ ہوتا ہے
تو صرف
لامحدود درد
خدا کرے کہ نیا سال
تیرے دامن میں
وہ سارے پُھول کِھلا دے
کہ جِن کی خُوشبو نے
تیرے خیال میں
شمعیں جلائے رکھی تھیں
ایک دِن میں نے امروز سے پوچھا کہ تُمہیں امرتا کی سب سے اچھی بات کونسی لگتی ہے
امروز نے جواب دیا : " اُسکی موجودگی "
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
سردی کا بھی اپنا ہی رومان ہے، کافی، چائے، خشک میوہ، انگیٹھی میں سلگتے کوئلے، گرم کھیسوں کی پرانی مہک،ٹھٹھرتی شاموں میں آنگن میں جلتی لکڑیاں، صبح دھند کے دریا میں گلابوں کے کھیت، سرسوں کے ساحلوں پر بہتی ہوئی دھوپ، چہروں پر اتری گرمائش اور دھیان کے درختوں پر یادوں کی گرتی ہوئی برف
زندگی ایک نوٹ بک کی طرح ہے۔
جس کے دو صفحے پہلے ہی لکھے جاچکے ہیں۔
پہلا صفحہ پیدائش ہے۔
آخری صفحہ موت ہے۔
درمیان کے صفحات خالی ہیں۔
آپ انہیں اچھے یا برے کاموں سے بھریں گے یہ
انتخاب آپ کا ہے نتیجہ وہی نکلے گا۔
آخری صفحہ موت ہے
دل جیسی سخت شے بھی کوئی ہے بھلا؟ لاکھ بار ٹوٹتا ہے، ناگہاں ریزہ ریزہ ہوتا ہے، اچانک اجڑ جاتا ہے، پل بھر میں کرچی کرچی بکھرتا ہے، لمحے کے ہزارویں حصے میں برباد ہوتا ہے، گھڑی گھڑی لہو روتا ہے مگر دھڑکتا ہے، ڈٹ جاتا ہے، خود کو اکٹھا کرتا ہے اور بحکم الہی جسم کو چلائے جاتا ہے۔
اگر آپ کے گھر “گیس” نہیں آرہی تو گھر میں موجود “مطالعہ پاکستان” کی کتاب سے “کنکشن” لے لیں، اس کے مطابق ہمارے پاس گیس کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک گانا گانے والا آیا اس نے اتنا اچھا گانا گایا کہ بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے وزیر سے کہا اتنا اچھا گا رہا ہے اس کو ہیرے دے دو ، گانا گانے والا اور گانے لگا بادشاہ نے خوش ہو کر اعلان کیا اس کو موتی دے دو ، گانے والا اور سُر لگانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو اشرفیاں دے دو ، اشرفیوں کا سُن کر وہ اور اچھا گانے لگا بادشا ہ نے کہا اس کو جاگیر دے دو ، بادشاہ نے خوش ہو کر سونے چاندی سب کا اعلان کر دیا ، وہ خوش ہو کر گاتا گیا گاتا گیا ، گانا ختم ہوا اپنے گھر واپس گیا اور بیوی سے کہنے لگا بادشاہ نے آج میرے گانے کی صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر خوش ہو کر سونا چاندی اور جاگیر دینے کا اعلان کیا ہے
، بیوی خوش ہوئی بچے خوش ہوئے ، ایک دن گزرا، دو دن گزرے ، تین دن گزرے حتیٰ کہ گئی دن گزر گئے نہ کوئی اشرفی ملی نہ کوئی جاگیر ملی ، نہ کوئی سونا چاندی ملی ، کافی انتظار کے بعد گانے والا دوبارہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا عرض کی بادشاہ سلامت میں نے آپ کے دربار میں گانا گایا اور آپ نے خوش ہو کر مجھے سونا چاندی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن مجھے ابھی تک سونا چاندی جاگیر وغیرہ کچھ بھی نہیں ملا ، بادشاہ گانے والے کی بات سُن کر مسکرایا اور بولا:۔
"یہ لینے دینے کی بات کہاں سے آ گئی؟ تو نے میرے کانوں کو خوش کیا میں نے تیرے کانوں کو خوش کیا!"
سو شل میڈیا نے جن خواتین کو گھر بیٹھے شاعرہ بنا دیا ہے ان کی پوسٹ پڑھنے لائق ہوتی ہے ۔ ایک محترمہ نے شعر لکھا
"کاش میں آسمان بن جاؤں...
اور تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ہوئے فوراً چلے آؤ"
نیچے واہ واہ کی لائن لگ گئی. ایک صاحب نے فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر لکھا
"بانو قدسیہ کے بعد آپ ہی عظیم شاعرہ ہیں"۔
ایک اور فین کا تبصرہ تھا "سویٹ آپی! آپ کے اشعار بھی آپ ہی کی طرح خوبصورت ہیں اور اِن میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ہے".
خاتون نے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سب نقادوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ ہولناک خوشخبری سنائی کہ اب وہ ہر ہفتے ایک غزل لکھا کریں گی۔ آج کل نہ صرف وہ باقاعدگی سے غزلیں لکھ رہی ہیں بلکہ گزشتہ دنوں
موصوفہ نے اپنے متوالوں سے ایک سوال بھی پوچھا کہ شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رہے گا؟ جواب میں ڈیڑھ دو سو پروانوں نے مختلف پرنٹنگ پریس کے نام لکھ بھیجے
یہ جو بھی سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتی ہیں اس میں اُردو کی ایسی ایسی شاندار غلطیاں کرتی ہیں کہ فوراً ہی ان کی لیاقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ ایک بی بی نے لکھا "یہ شعر آج بھی میری ڈائری میں لکھا ہوا ہے کہ
"بیچھڑا کچھ اس ادہ سے کے رُتھ ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شحر کو ویرآن کر گیا"
نیچے کسی دل جلے نے لکھ دیا، اچھا ہی ہوا کہ بچھڑ گیا ورنہ اس نے آپکی اردو پڑھ کے خودکشی کر لینی تھی۔ فوراً آپی کے ایک ہمدرد نے غصے سے لکھا "سوئیٹ آپی حکم کریں تو اس گستاخ کو مزا چکھا دوں؟"... آپی نے متانت کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً لکھا "نہیں پیارے بھائی! ایسے ان پڑھ اور جاہلوں کے منہ لگنا مناسب نہیں۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain