اردو کے حروف تہجّی کی دو اقسام ہیں نمبر 1 نقطہ والے جیسے کہ ش چ ج ظ ض ق ف غ ث ت ب وغیرہ نمبر 2 بلانقطہ والے جیسے ح ع ط س ر ص و ک ل م د وغیرہ بیغیر نقطہ والےحروف قوی اور طاقتور مانے جاتے ہیں اور نقطہ والے حروف کمزور و ضعیف مانےجاتے ہیں. اب اپ غور کریں کہ سسرال ، سسر ، ساس ، سالا ، سالی کسی میں بھی نقطہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام رشتے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں. داماد کے کسی حرف پر بھی نقطہ نہیں ہے کیو نکہ یہ بھی شادی کےبعد بہت قوی ہوجاتاھے. آپ داماد اور ساس کی طاقت اندازہ اس بات سے لگائیں کے انکو جدھر سے بھی پڑھیں گے داماد اور ساس ہی رہیں گے یعنی دونوں کا سیدھا تو سیدھا ہے ہی مگر دونوں کا الٹا بھی سیدھا ہوتا ہے اس لئے ان ارکان خمسہ ،کا خیال رکھیں!
وہ کون چپ تھا؟ جو اپنی آنکھوں سے بے تحاشہ ہی بولتا تھا! یہ کون چپ ہے؟ کہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب ہیں بس۔۔۔۔ وہ کون چپ تھا؟ کہ جس کی آنکھیں جو بول اٹھتیں، تو پھر جہاں کے سکوت سارے ہی ٹوٹ جاتے! وہ کون ایسا گلِ صِفَت تھا؟ سبک خرامی تھی ختم جس پر وہ ہولے ہولے سے اپنے نازک قدم جو رکھتا تو رہگزر بھی مہک سی اٹھتی وہ چاہتوں کی ردائیں اوڑھے جہاں ٹھہرتا تو گھر بناتا محبتوں کے جو گر نہ پاتے نہ ٹوٹ سکتے تھے اس زمانے کی افراتفری کے موسموں میں مگر زمانے گزر گئے ہیں یہ کون چپ ہے؟ کہ جس کی چپ سے وجود گم ہے
اذیتوں میں کوئی تو اس کو بتا کے آئے کوئی تو اس کو پیام دے ناں کوئی کہے ناں! کوئی تو پوچھے!!! وہ جس کے ہونے سے زندگی تھی کہاں پہ گم ہے؟؟؟ یہاں پہ ہر سُو اداسیوں کا ہجوم کیوں ہے؟ فقط دکھوں کی لپیٹ کیوں ہے؟ زمیں فسادی بنی ہوئی ہے! یہ آسماں بھی تو چڑچڑا سا ہوا ہے کیونکر؟ کوئی تو جا کر کہے ناں اس سے نظر اٹھائے۔۔۔ سکوت توڑے وہ جو بھی جیسا بھی ہے وہ بولے وہ کون چپ تھا؟ جو اپنی آنکھوں سے بے تحاشہ ہی بولتا تھا! یہ کون چپ ہے؟ کہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب ہیں بس۔۔
فصل کی طرح نسل بھی کٹتی ھے۔ ہمارا وقت " ہمارے وقتوں میں ‛ بدل جاتا ھے۔ ہر عہد نئے عہد کی بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھتا ھے۔ پرانی تہذیب کے مدفن پہ جدید تعمیرات کھڑی کی جاتی ہیں۔پرانی چیزوں کی جگہ نئی اشیاء لے لیتی ہیں۔ اور پرانی چیزوں پہ ہم آؤٹ آف فیشن آؤٹ ڈیٹڈ کا بہتان لگا لگا کر انھیں مسترد کرتے جاتے ہیں۔ وقت کا سانپ تیزی سے آگے بڑھتا اپنے پیچھے ماضی کی لکیر چھوڑتا جاتا ھے۔اور پھر یہ لکیر بھی معدوم ہونے لگتی ھے۔تب یہ بیتا عہد سنہرا دور کہلانے لگتا ھے۔اور اس سے جڑی باتیں یادیں اور چیزیں کلاسکس ‛ انٹییکس اور ونٹیج کا درجہ پاتی ہیں۔
اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی میں بہتا دریا ہوں میں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی میں خود کو لکھ رہا ہوں خط اور میں اپنا نامہ بر بھی ہوں داستاں ہوں میں اک طویل مگر تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں ایک پھل دار پیڑ ہوں لیکن وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں
بچپن کی سردیاں گیزر کی سہولت تو نہیں تھی اسلئے امی پانچ کلو والے گھی کے ڈبے میں پانی گرم کر کے ہم بہن بھائیوں کا منہ ہاتھ دھلاتی، سر پہ سرسوں کے تیل کی مالش کرتی اور خشک زدہ سکن پہ تبت کی نارنجی والی وسلین لگاتی اور رنگ برنگی اون سے خود سے بنے ہوئے سویٹر پہنا دیتی کہ دنیا کی نظر میں بھلے ہم جوکر تھے مگر اس ماں کے سوہنے تھے۔ مائیں بہت سادہ ہوتی ہیں انھیں اپنے کالے کلوٹے، معمولی شکل و صورت والے بچے بھی یوسف ثانی لگتے ہیں۔ اب موسم کی سختیاں دیکھو سامان خریدنے میں ہزاروں خرچ ہو جاتے مگر وہ بچپن کی نارنجی تبت ویسلین کا مزہ نہیں آ سکتا۔
بارش کی برستی بوندوں نے جب دستک دی دروازے پر ..... محسوس ہوا ۔۔ تم آۓ ہو انداز تمھارے جیسا تھا !! ہوا کے ہلکے جھونکے کی جب آہٹ پائی کھڑکی پر ..... محسوس ہوا ۔۔ تم گزرے ہو احساس تمھارے جیسا تھا !! میں نے جو گرتی بوندوں کو جب روکنا چاہا ہاتھوں پر ..... اک سرد سا پھر احساس ہوا وہ لمس تمھارے جیسا تھا !! تنہا میں چلا جب بارش میں تب اک جھونکے نے ساتھ دیا ..... میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا !! پھر رک سی گئی وہ بارش بھی باقی نہ رہی اک آہٹ بھی ..... میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گۓ انداز تمھارے جیسا تھا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain