Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

An idiot always try twice
O  : An idiot always try twice - 
Memes & Satire image
O  : D o n e - 
Memes & Satire image
O  : Engineering - 
Memes & Satire image
O  : Yes food - 
Beautiful Nature image
O  : اک خواہش ہے،کہ کچھ خواب حقیقت ہو جا ئیں - 
Beautiful Nature image
O  : دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری - 
Offline
 

اردو کے حروف تہجّی کی دو اقسام ہیں
نمبر 1
نقطہ والے جیسے کہ
ش چ ج ظ ض ق ف غ ث ت ب وغیرہ
نمبر 2
بلانقطہ والے جیسے
ح ع ط س ر ص و ک ل م د وغیرہ
بیغیر نقطہ والےحروف قوی اور طاقتور مانے جاتے ہیں اور نقطہ والے حروف کمزور و ضعیف مانےجاتے ہیں.
اب اپ غور کریں کہ سسرال ، سسر ، ساس ، سالا ، سالی کسی میں بھی نقطہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام رشتے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں.
داماد کے کسی حرف پر بھی نقطہ نہیں ہے کیو نکہ یہ بھی شادی کےبعد بہت قوی ہوجاتاھے.
آپ داماد اور ساس کی طاقت اندازہ اس بات سے لگائیں کے انکو جدھر سے بھی پڑھیں گے داماد اور ساس ہی رہیں گے یعنی دونوں کا سیدھا تو سیدھا ہے ہی مگر دونوں کا الٹا بھی سیدھا ہوتا ہے
اس لئے ان ارکان خمسہ ،کا خیال رکھیں!

Offline
 

وہ کون چپ تھا؟
جو اپنی آنکھوں سے بے تحاشہ ہی بولتا تھا!
یہ کون چپ ہے؟
کہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب ہیں بس۔۔۔۔
وہ کون چپ تھا؟
کہ جس کی آنکھیں جو بول اٹھتیں،
تو پھر جہاں کے سکوت سارے ہی ٹوٹ جاتے!
وہ کون ایسا گلِ صِفَت تھا؟
سبک خرامی تھی ختم جس پر
وہ ہولے ہولے سے اپنے نازک قدم جو رکھتا
تو رہگزر بھی مہک سی اٹھتی
وہ چاہتوں کی ردائیں اوڑھے جہاں ٹھہرتا
تو گھر بناتا محبتوں کے
جو گر نہ پاتے
نہ ٹوٹ سکتے تھے اس زمانے کی افراتفری کے موسموں میں
مگر زمانے گزر گئے ہیں
یہ کون چپ ہے؟
کہ جس کی چپ سے وجود گم ہے

Offline
 

اذیتوں میں
کوئی تو اس کو بتا کے آئے
کوئی تو اس کو پیام دے ناں
کوئی کہے ناں!
کوئی تو پوچھے!!!
وہ جس کے ہونے سے زندگی تھی
کہاں پہ گم ہے؟؟؟
یہاں پہ ہر سُو اداسیوں کا ہجوم کیوں ہے؟
فقط دکھوں کی لپیٹ کیوں ہے؟
زمیں فسادی بنی ہوئی ہے!
یہ آسماں بھی تو چڑچڑا سا ہوا ہے کیونکر؟
کوئی تو جا کر کہے ناں اس سے
نظر اٹھائے۔۔۔
سکوت توڑے
وہ جو بھی جیسا بھی ہے وہ بولے
وہ کون چپ تھا؟
جو اپنی آنکھوں سے بے تحاشہ ہی بولتا تھا!
یہ کون چپ ہے؟
کہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب ہیں بس۔۔

Offline
 

ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﺭﻧﺞ ﺳﺎﺭﮮ ﻭﮦ
ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ سمجھے
ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺟﮭﯿﻠﮯ
ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ
ﻭﮦ ﺟﻦ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻧﮩﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ
ﭘﮭﻞ
ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ
ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﭽﯽ ﺳﯽ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﯽ
ﮐﮯﻓﻠﺴﻔﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ
ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻻﺵ ﻧﮑﻠﯽ
ﺧﻄﻮﻁ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ
ﻭﮦ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﮎ ﺿﻌﯿﻒ ﺩﮨﻘﺎﮞ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ
ﺑﻨﻨﮯ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻔﺎ ﺗﮭﺎ
ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮ ﺷﮩﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ
ﮐﺒﮭﯽ
ﻧﮧ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ

Offline
 

فصل کی طرح نسل بھی کٹتی ھے۔ ہمارا وقت " ہمارے وقتوں میں ‛ بدل جاتا ھے۔ ہر عہد نئے عہد کی بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھتا ھے۔ پرانی تہذیب کے مدفن پہ جدید تعمیرات کھڑی کی جاتی ہیں۔پرانی چیزوں کی جگہ نئی اشیاء لے لیتی ہیں۔ اور پرانی چیزوں پہ ہم آؤٹ آف فیشن آؤٹ ڈیٹڈ کا بہتان لگا لگا کر انھیں مسترد کرتے جاتے ہیں۔ وقت کا سانپ تیزی سے آگے بڑھتا اپنے پیچھے ماضی کی لکیر چھوڑتا جاتا ھے۔اور پھر یہ لکیر بھی معدوم ہونے لگتی ھے۔تب یہ بیتا عہد سنہرا دور کہلانے لگتا ھے۔اور اس سے جڑی باتیں یادیں اور چیزیں کلاسکس ‛ انٹییکس اور ونٹیج کا درجہ پاتی ہیں۔

Memes & Satire image
O  : When you fall asleep for 178 years and realize it's 2202 - 
Memes & Satire image
O  : Government Buildings - 
Memes & Satire image
O  : This Door - 
Memes & Satire image
O  : Say cheese - 
Motivational Quotes image
O  : Believe in yourself - 
Life Advice image
O  : Don't pull push only - 
Offline
 

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں
خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں
اپنی مستی میں بہتا دریا ہوں
میں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں
آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ
میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں
خود ہی میں خود کو لکھ رہا ہوں خط
اور میں اپنا نامہ بر بھی ہوں
داستاں ہوں میں اک طویل مگر
تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں
ایک پھل دار پیڑ ہوں لیکن
وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

Offline
 

بچپن کی سردیاں
گیزر کی سہولت تو نہیں تھی اسلئے امی پانچ کلو والے گھی کے ڈبے میں پانی گرم کر کے ہم بہن بھائیوں کا منہ ہاتھ دھلاتی، سر پہ سرسوں کے تیل کی مالش کرتی اور خشک زدہ سکن پہ تبت کی نارنجی والی وسلین لگاتی اور رنگ برنگی اون سے خود سے بنے ہوئے سویٹر پہنا دیتی کہ دنیا کی نظر میں بھلے ہم جوکر تھے مگر اس ماں کے سوہنے تھے۔
مائیں بہت سادہ ہوتی ہیں انھیں اپنے کالے کلوٹے،
معمولی شکل و صورت والے بچے بھی یوسف ثانی لگتے ہیں۔ اب موسم کی سختیاں دیکھو سامان خریدنے
میں ہزاروں خرچ ہو جاتے مگر وہ بچپن کی نارنجی
تبت ویسلین کا مزہ نہیں آ سکتا۔

Offline
 

بارش کی برستی بوندوں نے
جب دستک دی دروازے پر .....
محسوس ہوا ۔۔ تم آۓ ہو
انداز تمھارے جیسا تھا !!
ہوا کے ہلکے جھونکے کی
جب آہٹ پائی کھڑکی پر .....
محسوس ہوا ۔۔ تم گزرے ہو
احساس تمھارے جیسا تھا !!
میں نے جو گرتی بوندوں کو
جب روکنا چاہا ہاتھوں پر .....
اک سرد سا پھر احساس ہوا
وہ لمس تمھارے جیسا تھا !!
تنہا میں چلا جب بارش میں
تب اک جھونکے نے ساتھ دیا .....
میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے
وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا !!
پھر رک سی گئی وہ بارش بھی
باقی نہ رہی اک آہٹ بھی .....
میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گۓ
انداز تمھارے جیسا تھا