اے میرے عزیز تُو نے غلط قیاس کیا۔ میرے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں ھے۔ میں اگر جانتا ھُوں تو بس اتنا کہ ایک وقت کشتیاں جلانے کا ھوتا ھے اور ایک وقت کشتی بنانے کا۔" وہ وقت بہت پیچھے رہ گیا جب ھم سے اگلوں نے ساحل پہ اُتر کر سمندر کی طرف پشت کر لی تھی اور اپنی ساری کشتیاں جلا ڈالی تھیں۔ اَب بپھرتا سمندر ھمارے پیچھے نہیں ، ھمارے سامنے ھے۔اور ھم نے کوئی کشتی نہیں بنائی ھے۔
سکوتِ شام خزاں ہے قریب آ جاؤ بڑا اُداس سماں ہے قریب آ جاؤ نہ تُم کو خُود پہ بھروسہ نہ ہم کو زعمِ وفا نہ اعتبارِ جہاں ہے قریب آ جاؤ رہِ طلب میں کسی کو کسی کا دھیان نہیں ہجومِ ہم سفراں ہے قریب آ جاؤ جو دشتِ عِشق میں بِچھڑے وہ عُمر بھر نہ مِلے یہاں دُھواں ہی دُھواں ہے قریب آ جاؤ یہ آندھیاں ہیں تو شہرِ وفا کی خیر نہیں زمانہ خاک فشاں ہے قریب آ جاؤ فقیہِ شہر کی مجلس نہیں کہ دُور رہو یہ بزمِ پیر مُغاں ہے قریب آ جاؤ فرازؔ دُور کے سُورج غروب سمجھے گئے یہ دور کم نظراں ہے قریب آ جاؤ
اُس نے چھوڑ دیا ہے مُجھے فون کرنا ، گراہم بیل تُمہاری ایجاد رائیگاں گئی ..! شعر تو اچھا ہے......... مگر... یاد نہیں آ رہا کتنی بار یہ شعر دیکھ چُکا ہوں... اور اب ذہن میں ملین ڈالرز سوالز یہ ہیں کہ یار کیا سب کی سچی مُچی والی محبتوں نے اُنہیں کال کرنی چھوڑ دی ہے؟ اور کیا محبوب کال بھی کرتے ہیں ؟ اور کیا سب کے محبوب بھی ہیں ؟ اور کیا آجکل واقعی محبوب کرۂ ارض پر اس قدر وافر موجود بھی ہیں ...؟ اگر ہیں بھی تو کدھر ہوتے ہیں کہاں ملتے ہیں ......؟ اب محبوب بھائی صاحب کریانے والے کا اتہ پتہ کوئی نہ بتائے مینوں...... آف لا ئن دُکھی تنہا اُداس سا.