نیٹ فلیکس کے ماہانہ چارجز اگر کم ہیں تو بنیادی طور پر اصل چارجز آپ کا وہ وقت ہے جو آپ نیٹ فلیکس پر لگاتے ہیں۔
کوک کا ٹین پیک پچاس روپے کا نہیں۔ اس کی اصل قیمت اسے پی کر صحت کی بربادی کی صورت آپ چکاتے ہیں۔
سوشل میڈیا فری نہیں ہے۔ اس کی اصل قیمت توجہ کا ارتکاز ہے۔ جو آپ روزمرہ زندگی سے کھو کر چکاتے ہیں۔
کچھ پوشیدہ تاوان لازم ہو جاتے ہیں جنہیں ہر صورت چکانا پڑتا ہے۔
یاد رکھیے
“جب کچھ مفت مل رہا ہو تو اس وقت ملنے والی چیز نہیں، آپ پراڈکٹ ہوتے ہیں۔”
ایک انگلش پوسٹ سے ماخوذ
ترجمہ و تلخیص: احمد سدھوّ
طِب بہت ترقی کر چکی ہے .. .
اِتنی کہ ایک کے جِگر کا ٹُکڑا
دُوسرے میں پیوند کر دیتے ہیں،
دِل تک بدل دیا جاتا۔ ۔ ۔
انسان نہیں
تو
جانور کا دِل نکال لیا جاتا۔ ۔ ۔
کیونکہ
مقصد
جان بچانا ہوتا۔ ۔ ۔
جہاں طبیب
جان بچانے کو اِتنا کرتے ہیں .. .
وہیں
کسی بےچین زِندگی میں رنگ بھرنے کو
کسی کا بس ایک " میسج " ہی کافی ہوتا ہے
اپنے پیاروں کی موت انسان کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ پھر اس دنیا کی کوئی چیز دل کو سکون نہیں دیتی۔ دنیا کی ہر نعمت سے دل اکتا جاتا ہے
سہارا صرف اور صرف ایک ہی خیال بنتا ہے کہ،
کوئی آخرت ہے، کوئی جنت ہے، جہاں ہم پھر اپنے بچھڑے ہوؤں سے ملاقات کرسکیں گے۔۔۔۔
یہ خیال ہی کتنا بڑا سہارا ہے، دنیا کی کوئی مادی شے اس کا نعم البدل نہیں۔
”دیکھو! ہم نے خیال عظیم رکھنا ہے، زندگی عام رکھنی ہے۔“
اگر آپ دل سے راضی ہیں تو سمجھو کہ یہ آپ کے سفر کا آغاز ہو گیا۔ اور آپ اللّٰه تعالیٰ سے مانگنے کا اور سوال کرنے کا سلسلہ ترک کر دو، پھر دیکھو وہ کیا دیتا ہے۔
آپ کسی محفل میں کوشش کریں گے تو جگہ مل جائے گی، کوشش کر کے آپ آگے آگے بیٹھ سکتے ہیں اور ایک آدمی جو پیچھے بیٹھا ہو اُسے آواز دے کر آگے بلایا جا سکتا ہے۔ تو یہ اللّٰه کے کام ہیں۔
آپ اپنے آپ کو خود نمایاں نہ کرو، اللّٰه آپ کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
(کتاب: گفتگو والیم نمبر 16)
سرکار حضرت واصف علی واصف ؒ
کتنا پر کیف ھے ناں؟ ۔۔۔
کسی کی فکر سے آزاد ھوجانا۔۔۔
خود میں بس جانا؟۔۔۔
یا یوں کہوں ۔۔۔
کسی سے جڑی توقعات کو دفنا آنا ۔۔۔
مٹی ڈال دینا ۔۔۔
محبتوں کی بے یقینی سے نکل کر لا تعلقی میں غرق ھوجانا۔۔۔
خود کو منا لینا۔۔۔
نفرتوں کو پی جانا۔۔۔
موت کو ھی جی جانا
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ھے
تمہیں نکال کہ دیکھا تو سب خسارہ ھے
ہمارے اندر ہی کہیں ہمارا بد ترین مخالف چھپا ہوتا ھے۔ جو گیلری میں موجود سب بری بری پکچرز پہ جا جا کر کہتا رہتا ھے۔
یہ ھے تمہاری اصلیت
یہ ھے تمہاری حقیقت
فلاں تصویر پہ تو تم نے میک اپ کر رکھا ھے۔
اس تصویر پہ تو تم نے فلٹر لگا رکھا ھے
ارے یاد نہیں !!! اس تصویر کی تو ایڈیٹنگ پہ ہی تم نے گھنٹہ بھر جھونک دیا تھا۔
کیمرہ رزلٹ اچھا ھے بھئ
روشنی کا زاویہ ٹھیک تھا نا
کمینہ۔
کبھی بھی ہمیں ٹھیک سے خوش نہیں ہونے دیتا۔ اس بد ترین مخالف کو اب آپ "ضمیر ہر گز نہیں کہیئے گا
ایک ہم ہیں جو تُم پر پورے کے پورے مرتے ہیں ،
ورنہ کسی کو آنکھ کسی کو تیرا لہجہ مارتا ہے
اُداسی کے بھی سو چہرے ہیں اور اُن میں سے سب سے زیادہ اُداس چہرہ ایک ایسی جدائی کا ھے جس میں کبھی دوبارہ ملاقات کا امکان کم ہو
سب سے بڑا لوہار ہونڈا۔۔۔سب سے بڑا موچی باٹا۔۔کام وہی طریقہ بڑا ہے۔دنیا کا کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔بس آپکی لگن اور تخلیقی ذہن اسے نیا رنگ دے دیتے ہیں۔۔۔تو بس اپنے کام سے محبت کرنا سیکھیں۔
لفظ بھی لمس رکھتے ہیں کسی بات کو پڑھ کر مسکرا دینا کسی تحریر پر آنکھ نم ہو جا نا اس بات کی دلیل ہے
*گم سم ہوا ، آواز کا دریا تھا جو اک شخص*
*پتھر بھی نہیں اب وہ ،ستارا تھا جو اک شخص*
*شاید وہ کوئی حرف وفا ڈھونڈ رہا تھا*
*چہروں کو بڑے شوق سے پڑھتا تھا جو اک شخص*
*صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید*
*بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو اک شخص*
*اب آخری سطروں میں کہیں نام ہے اس کا*
*احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو اک شخص*
*ہاتھوں میں چھپائے ہوۓ پھرتا ہے کئی زخم*
*شیشے کے کھلونوں سے بہلتا تھا جو اک شخص*
*مڑ مڑ کے اسے دیکھنا چاہیں میری آنکھیں*
*کچھہ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا جو اک شخص*
*ہر ذہن میں کچھہ نقش وفا چھوڑ گیا ہے*
*کہنے کو بھرے شہر میں تنہا تھا جو اک شخص*
میری ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا
کہ ٹرین کبھی پنچر نہیں ہوتی
(اردو کی استانی جی کا اپنے منگیتر کو جوابی خط)
مائی ڈئیر تاج الدین،
سلامِ محبت
تمھارا اِملا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ مِلا، جسے تم بدقسمتی سے "محبت نامہ" کہتے ہو ۔
کوئی مسرت نہیں ہوئی ۔
یہ خط بھی تمھارے پچھلے خطوط کی طرح بےترتیب اور بےڈھنگا تھا۔
اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لِکھوا لیا کرو۔
خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اِس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس!
اور ہاں.... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لِکھا ہے ،
یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے اور تمھارے شاید عِلم میں نہیں کہ فِلم میں یہ گانا ہیرو اپنی ماں کے لئے گاتا ہے ۔
اور سُنو! پان کم کھایا کرو۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ھیں۔
اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت تو ھاتھ دھوکے بیٹھا کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواھِش کا اظہار انتہائی احمقانہ انداز میں کیا ھے۔
یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالِم سوتیلی ماں سے ٹوفی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اِسے نہیں دےگی۔
ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔
یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ھو۔
مخفّف لِکھنا ھی ہے تو صِرف "تاج" لِکھ دو۔
آئندہ خط احتیاط سے لِکھنا۔
اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔
آخر میں تم نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ تو اب رکشہ والوں نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے
"اوہ مائی گاڈ"
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ میری اردو خراب نہ کر دے
بس یہی کہنا تھا۔
فقط
تمہاری بانو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain