اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے،
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
آپ کو کون ‘تُم’ پکارے گا۔۔۔؟
آپ کس کو کہا کریں گے ‘آپ’ ؟
کون سی با ت ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیو ں لگتے ہو؟
مجھے بھی حق ہے نا
کیا میں انسان نہیں...
میں ہیر بولوں گا
میں بے زبان تو نہیں
میں اپنے دِل کی باتیں بہت ہی کم کسی سے کرتا ہوں یا کر پاتا ہوں اور اسکے لیے بھی اکثر مہینے سال لگ جاتے ہیں مگر میں کم ہی اپنی اوریجنل گفتگو اور فیلنگز کا اظہار کر پاتا ہوں۔ یہاں تک اگر میرا کوئی مسئلہ چل رہا ہو حقیقی زندگی میں تو ڈی ڈی پر طنز و مزاح کی پوسٹنگ ہو رہی ہوتی ہے اور سب سے وڈا دُکھ یعنی اگر کوئی پری چہرہ ان فا لو کر جائے تو نواز شریف کی غزلیں پوسٹ کرنے کی بجائے کسی اور ہی ٹاپک پر بالکل نیچرلی بات کررہا ہوتا ہوں۔ یعنی میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ میں اپنے موڈ کے اُلٹ یا بالکل ہی کوئی تیسری چیز ڈسکس کررہا ہوتا ہوں۔ حتٰی کہ اُداس ہوں تو زیادہ پنگے سوجھ رہے ہوتے ہیں
کیا یہاں کوئی ماہر نفسیات ہے
یہ بتائے کہ میں بالکل نارمل انسان ہوں
میں نہیں جانتا کہ کیا غلط اور کیا درست ہے میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ دیوار بہت اونچی اور گیٹ بہت مضبوط ہے۔
ایک قیدی کے جزبات
اب زمانہ رِشتوں کو دِلی جذبات کی بجائے عقل و دانش سے نبھانے کا ہے، اب سادگی اور اخلاص معاشرے میں خاصے غیر مقبول ہوچکے ہیں۔
آپ امتحان کے ہال میں بیٹھے
اپنا پرچہ دے رہے ہیں
جہاں نقل کی کُھلی آزادی ہے
انتخاب آپ کو کرنا ہے
کچھ لوگ ہیں جو خوش دلی سے آپ کے پوچھنے پر بتا بھی رہے ہیں
کچھ ہیں جو آپ کے غلط لکھے پر
محبت سے سمجھا بھی رہے ہیں
کچھ ہیں جنہیں نہ لکھنے سے دلچسپی نہ نقل سے
اور کچھ ایسے بھی ہیں
جنہوں نے شور مچایا ہوا ہے
اپنا پرچہ چھوڑ کر
اُن کی بس یہی گردان جاری ہے
کہ فلاں فلاں نے پکا فیل ہونا ہے
کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں
اور تو
اور کچھ ایسے بھی ہیں
جو آپ کے صحیح لکھے پر سیاہی پھینک کر اُسے مٹانے کی ناکام کوشش میں ہیں
مختصر سا وقت ختم ہوا جاتا ہے
آپ پرچہ دے کر اِس فکر میں اُٹھتے ہیں کہ نا جانے کیسا ہوگا؟
جاتے جاتے آپ کی سب چیخنے والوں پر نظر پڑتی ہے
جو اپنے کام سے فارغ نہیں
لیکن
اُن کے پرچے خالی ہیں
آپ دلی تاسف کے ساتھ ہال سے باہر آجاتے ہیں
کوئ نیا سا منظر ہے
غیب سے آواز آتی ہے
رُکو
کہاں جا رہے ہو؟
اپنی کامیابی کا پروانہ تو ساتھ لیتے جاؤ۔
واللہ آپ کی خوش بختی کے کیا کہنے
بعض اوقات ہم اپنے حقیقی جذبات کا اظہار لطیفوں سے کرتے ہیں۔
فاصلے کبھی بھی رشتے الگ نہیں کرتے اور نزدیکیاں کبھی بھی رشتے نہیں بناتیں، اگر احساس سچّے اور پُرخلوص ھوں تو رشتے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں!
چپکےچپکےرات کو صورت دیکھا کر چل دئیے
بےرخی سےآگ سینےمیں لگا کر چل دئیے
آۓ کیا آکر نہ پوچھا اس دل بسمل کا حال
،اپنی شان حسن کا جلوه دیکھا کر چل دئیے
میں نےجب حسرت بھری نظروں سے حال دل کہا
،اک نۓ انداز سے وه مسکرا کر چل دئیے
دل تڑپتا ره گیا اک مرغ بسمل کی طرح
،وه ادا و ناز سے خنجر چلا کر چل دئیے
جن کی اک نظر کرم پر منحصر تھی زندگی
،دیکھ کر منہ پھیر کر تیور چڑھا کر چل دئیے
بزم جاناں تک رسائی یہ کہاں تقدیر میں
ان کے ہم نقش قدم پر سرجھکا کر چل دئیے
یہ سنا ہے بعد میں وه بھی پریشاں ہوگے
،جب انہیں ہم ماجراۓ دل سنا کر چل دئیے
جان و دل قربان ان پر جو نگاه ناز سے
،دل میں میرے اک نئی دنیا بسا کر چل دئیے
میں تھا مصروف فغاں چپکے سے آکر میرے پاس
،اپنے پاۓ ناز سے ٹھوکر لگا کر چل دئیے
جن کی ہیں مشتاق آنکھیں یہ کرشمہ دیکھ لیں
رنگ میں بے رنگ کی صورت دکھا کر چل دئیے
غالب دہلی اور لکھنؤ کی اردو کے فرق پر گفتگو کر رہے تھے۔۔۔
کسی نے پوچھا؛ حضور میرا قلم صحیح ہے یا میری قلم؟
مرزانے کہا؛ عوررت لکھے تو میری قلم، مرد لکھے تو میرا قلم.
کسی نے پوچھا؛ جوتا صحیح ہے یا جوتی؟
مر زا تو یہی کہیں گے؛ مرد پہنے تو جوتا، عورت پہنے تو جوتی ایک صاحب نے کہا
مرزا نے جواب دیا؛ جی نہیں زور سے پڑے تو جوتا آہستہ پڑے تو جوتی۔
یہ کیسے، کیوں، اگر، مگر کا کیا جواز
کوئی پسند ہے تو بس پسند ہے
سِنگل ہونا بھی آسان نہیں ہوتا، ہم ایک ایسے "انسان" کے بارے بیٹھے سوچ رہے ہوتے ہیں جِس کو کہیں بازار میں گُزرتے ہوئے دیکھا تھا یا محض اتفاقیہ طور پر کسی سےچند ثانیے کیلئے رسمی سی بات ہوئی ہو۔
اور میں اِس وقت اُسی مسکراہٹ کے اثر میں ہوں
میری حالت پہ اِک معالج نے
نبض دیکھی کہا، "مُحبت ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain