مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں ۔۔۔۔۔ جو بھی امی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دن تھے ۔۔۔۔۔ چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ۔۔۔۔۔ ہم سے ناطہ توڑ لیا ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں ۔۔۔۔۔ بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دن جب ساری سڑکیں ۔۔۔۔۔ روٹھی روٹھی لگتی ہیں ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ۔۔۔۔۔ ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دن جب جاگی راتیں ۔۔۔۔۔ دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دن جب شاموں کی بھی ۔۔۔۔۔ پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دن جب ذہن میں ساری ۔۔۔۔۔ عیاری کی باتیں ہیں ایک وہ دن ۔۔۔۔۔ جب دل میں ۔۔۔۔ بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں
سو شل میڈیا معاشرے میں بنیادی طور سے تین اقسام کی خواتین پائی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ اول وہ جو اپنے اصل یا کسی اختیاری سوبر سے نام کے ساتھ ہوتی ہیں اور عموماَ بالکل دو ٹوک اور نپے تلے انداز سے سوشل میڈیا پر رہتی ہیں عموماََ دانشور اور فلاسفر قسم کی ہوتی ہیں۔ جن کے خیالات سُن جان کر مجھے مستقبل قریب میں انکی زندگی میں آنے والے شوہر نامدار کی حالت زار پر ہلکا سا افسو س ہوتا ہے۔ ۔ ۔ دوسری وہ جنہوں نے ناولز، سٹوریز یا ڈراموں کی کرداروں پر نام رکھا ہوتا ہے یعنی تالیہ، امرحہ، امیرہ اور سنڈریلا وغیرہ ، انکی والز عشق، محبت، اداسی، دُکھی لائنز یا شاعری سے خاصی مزین ہوتی ہیں۔ یہ بلاوجہ اپنا موڈ خراب کرکے بیٹھی ہوتی ہیں بلکہ ان کو اس کام میں خاص ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ ۔ ۔
لیکن سب سے نیکسٹ لیول کی فیمیلز وہ ہوتی ہیں جنہوں نے آئی ڈیز کے نام اینجل، انا زادی، جھلی، ماسی، سڑیل، ہیر، سردارنی، شیخنی، چڑ چڑی، کوجی، حور پری، پاپا کی پری، ڈول، پینو، انا پرست، نخریلی، گمنام لڑکی، چڑیل، بونگی، نکمی، شہزادی، کملی ، سیانی جٹی، پیا کی دیوانی، پگلی، لاڈلی، ملنگنی ، مصیبت اور آفت وغیرہ وغیرہ رکھے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ اس ذہین طبقے سے میں ہمیشہ بہت انسپائرڈ ہوا ہوں مزید کچھ کہنے کی ضرورت ناہی ۔ ۔ ۔ اچھا سوری
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی ہم وہیں پر بسا لیں خود کو وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی مجھے تنہائیوں کا خوف کیوں ہے وہ مرے پیار کو سمجھے تو سہی وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دل کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسے ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی دل اُسی وقت سنبھل جائے گا دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں میری بستی سے وہ گزرے تو سہی اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی
مجھے روکنے کا کوئی نیا بہانا بنا لینا، میں جانے کی ضد کروں تو تم چائے بنا لینا...... اور شاعر ساتھ کہہ رہا ہےکہ اگر ساتھ گرما گرم شامی ٹکیاں بھی ہوں تو مہربانی ہوگی۔ باقی کیک، بسکٹ، پیسٹریاں اور نمکو آنجناب کی اپنی مرضی ہے۔
سٹوڈنٹ لائف میں ہم کسی پرچے یا کسی ٹیسٹ میں کبھی اگر فیل ہوتے تو فطری طور پر دُکھ ہوتا تھا لیکن جب پتہ چلتا ہے اپنے کئی اور یار دوست بھی اُڑ چکے تو نجانے کیوں دل کو امن و تسّلی کا احساس ہوتا۔ لیکن درحقیقت اس طرح ہماری وہ منفی کیفیت چینلائز ہو جاتی تھی چنانچہ ہم خود کو قدرے نارمل اور مطمئن محسوس کرتے تھے۔ یقین جانیں یہی فارمولا ہماری زندگی کے میدان میں لاگو ہوتا ہے اگر آپ کو کوئی مشکل یا پریشانی درپیش ہے تو آج کے بعد اس چیز کو بڑے ڈومین میں دیکھیں پھر آپ یہ چیز جانیں گے کہ اس سے ملتی جلتی پرابلمز کا
آنا جانا انَ گنت لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے اور آپ اکیلے نہیں ہیں جِسے صحت، روزگار، گھریلو، جاب ، رشتہ، محبت یا کسی اور کاروبارِ دنیا کے حوالے سے کسی پرابلم کا سامنا ہے آپ نظر گھوما کر دیکھیں گے تو بہت سے آپ جیسے یا آپ سے بھی خراب حالت میں انسان مل جائینگے۔ وقت تو بدلتا رہتا ہے اس میں یکسانیت نہیں۔ آپ یہ جان لیں آپ اکیلے نہیں ہیں جسے ایسا مسئلہ ہے اور یہ کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں ساری زندگی نہیں ہیں۔ جو کہ ان شاء ﷲ اپنے وقت پر ﷲ کریم کی مہربانی سے حل ہوتے جائینگے۔ مثبت رہیں، ہمیشہ اچھا سوچیں