دوستو! اگر آپ خُوش رہنا چاہتے ہیں تو ...خُوشی سے رہیں .. ،
کسی نے کوئی منع کیا ہے
انجم نجمہ کو پسند کرتا ہے
اور نجمہ انجم کے بھائی کو
لیکن انجم کے بھائی کو نجمہ
کی بہن اچھی لگتی ہے نجمہ
کی بہن انجم کو پسند کرتی ہے
لیکن انجم پہلے ہی نجمہ کو
چاہتا ہے
اب جبکہ نجمہ کو انجم اچھا
نہیں لگتا اور انجم کا بھائی
نجمہ کے لئے راضی نہیں ہے اور
انجم نجمہ کی بہن سے پیار
نہیں کرتا جبکہ نجمہ کی بہن
کو انجم کا بھائی اچھا نہیں
لگتا۔
تو یہ انکا پرسنل معاملہ ہے آپ
کیوں پڑھ کر اپنا دماغ خراب
کر رہے ہو
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا، کبھی اْس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جْستجوْ، تْجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوْ بکوْ
کہاں کھل سکا ترے روْ برو ، مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تْجھے دیکھنا ، کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے، ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہیں کوئ ، مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئ تو رو دیا، جو تْو مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں، تْجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے، کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سرِ بام و در تجھے ڈھونڈنا
اس دُنیا میں کوئی خزانہ سانپ کے بغیر، کوئی پُھول کانٹے کے بغیر اور کوئی خُوشی غم کے بغیر نہیں ہے
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺗﺨﻤﯿﻨﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﻓﻘﻂ اللّٰہ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ، ﮐﺪﻭﺭﺗﯿﮟ، ﻧﻔﺮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﻓﻄﺮﯼ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻣﺒﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻧﺠﺸﻮﮞ، ﮐﺪﻭﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺯﻋﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﮯ۔
از ﻗﺪﺭﺕ اللّٰہ ﺷﮩﺎﺏؒ
آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں مادام
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
نور سرمایہ سے ہے روئے تمدن کی جلا
ہم جہاں ہیں وہاں تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
لوگ کہتے ہیں تو لوگوں پہ تعجب کیسا
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں مگر آپ ابھی تک چُپ ہیں
آپ بھی کہئے غریبوں میں شرافت کیسی
نیک مادام بہت جلد وہ دور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم آپ کی عظمت کی قسم
ہم کو تعظیم کے معیار پرکھنے ہوں گے
ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں کو حنا بخشی ہے
لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میں جہاں ہوں وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے
پہلا عشق مطالعہ تھا ۔ ۔ ۔
پانچواں واک
ساتواں کرکٹ کھیلنا
اٹھارواں عشق ملتان
جو عشق گنتی میں مِسنگ ہیں اُن کو تو آج تک عِلم نہیں ہوسکا
کچھ لوگوں کے ساتھ آپ تمام عُمر گزار دیں مگر آپ اور اُن کے درمیان کوئی جذباتی وابستگی اور ہم آہنگی پیدا نہیں ہو پاتی۔
اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک پل ہی میں اپنے بن جاتے ہیں جن سے ایک بار مل کر بار بار ملنے کو دل چاہنے لگتا ہے۔ جن سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے۔
جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور ساتھ ہوں۔
کھیڈ دِلاں دی
میری ماں کچھ ڈر گئی- بیچاری اَن پڑھ عورت تھی گاؤں کی- میں نے کہا، میں سچ بولا کروں گا اور جس سے ملوں گا، سچ کا پرچار کروں گا اور پہلے والے لکھاری بڑےجھوٹے رائٹر ہیں- مجھے اچھی طرح یاد ہے
اُس وقت ماں کے ہاتھ میں پکڑے چمٹے میں روٹی اور پتیلی (دیگچی) تھی- اُس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی، اگر تو نے یہی بننا ہے، جو تو کہتا ہے اور تو نے سچ ہی بولنا ہے، تو اپنے بارے میں سچ بولنا- لوگوں کے بارے میں سچ بولنا نہ شروع کر دینا- یہ میں آپ کو بالکل اَن پڑھ عورت کی بات بتا رہا ہوں- سچ وہ ہوتا ہے جو اپنے بارے میں بولا جائے، جو دوسروں کے بارے میں بولتے ہیں، وہ سچ نہیں ہوتا- ہماری یہ عادت بن چکی ہے اور ہمیں ایسے ہی بتایا، سکھایا گیا ہے کہ ہم سچ کا پرچار کریں
اشفاق احمد
آج صبح تین انڈوں والے آملیٹ کے ساتھ دو آلو والے پراٹھے کھانے کے بعد لسی کا گلاس پیتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ:
1. ٹریڈ مِل کے موجد 54 سال کی عمر میں چل بسے۔
2. جمناسٹکس کے موجد 57 سال کی عمر میں چل بسے۔
3. ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن کا 41 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا.
4. دنیا کے بہترین فٹ بالر میراڈونا کا 60 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔
5.کنگ آف مارشل آرٹ 32 سال تک جئے
لیکن
6. کے ایف سی کا موجد 94 سال کی عمر میں فوت ہوا تھا۔
7. نوٹیلا برانڈ کا موجد 88 سال کی عمر میں فوت ہوا
8. سگریٹ بنانے والی کمپنی ونسٹن کا 102 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
9.ایم ڈی ایچ مسالے بنانے والی کمپنی کا مالک 97 سال تک زندہ رہا۔
پھر ہم ڈاکٹر کیسے اس نتیجے پر پہنچے کہ ورزش زندگی کو طول دیتی ہے؟
خرگوش ہمیشہ اچھلتا کودتا ہے لیکن وہ صرف 2 سال تک زندہ رہتا ہے اور کچھوا جو 400 سال تک زنده رہتا ہے کبھی ورزش نہیں کرتا ہے لہذا ٹھنڈ پروگرام رکھیں، کھائیں پئیں موجیں ماریں۔ سلامت رہیں
لڑکیاں اپنی سہیلی کے شوہر کو دیکھ کر عموماً یہی کہتی ہیں ...
" میرے والے زیادہ ہینڈسم ہیں "
جبکہ لڑکے اپنے دوست کی بیوی کو دیکھ کر کہتے ہیں ..
" یار اے چنگا رہ گیا ای "
ترے جانے سے بھی جاتی نہیں ہے
تری باتوں پہ ہنسنے کی یہ عادت
مُحبتّوں کے سفر پر نِکل کے دیکھوں گا
یہ پُل صراط اگر ہے تو چَل کے دیکھوں گا
سوال یہ ہے کہ رفتار کِس کی کِتنی ہے
میں آفتاب سے آگے نِکل کے دیکھوں گا
مَذاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے
میں آج شام سے پہلے ہی ڈَھل کے دیکھوں گا
وہ میرے حُکم کو فریاد جان لیتا ہے
اگر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں گا
اُجالے بانٹنے والوں پہ کیا گُزرتی ہے
کِسی چراغ کی مانند جَل کے دیکھوں گا
عجب نہیں کہ وہی روشنی مُجھے مِل جائے
میں اپنے گھر سے کِسی دِن نِکل کے دیکھوں گا
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کِس نے اپنا بنا لیا
مِری آنکھ کِس نے اُجاڑ دی،مِرا خواب کِس نے چُرا لیا
تجھےکیا بتائیں کہ دِلنشیں! تِرے عِشق میں تِری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پُھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا
مِری جنگ کی وہ ہی جیت تھی،مِری فتح کا ، وہی جشن تھا
میں گرا ، تو دَوڑ کےاُس نےجب ، مجھے بازوؤں میں اُٹھا لیا
مِری چاند چُھونے کی حسرتیں،مِری خوشبُو ہونے کی خواہشیں
تُو ملا، تو ایسا لگا صنم! مجھے جو طلب تھی، وہ پا لیا
مِرے دشمنوں کی نظر میں بھی، مرا قد ، بڑا ہی رہا سدا
مِری ماں کی پیاری دعاؤں نے،مجھے ذِلّتوں سے بچا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا مجھے یاد ہے!
کبھی جَل گئیں تِری رَوٹیاں، کبھی ہاتھ تُو نے جلا لیا
مِری ڈائری، مِری شاعری، مِرے افتی ! پڑھ کے وہ رَو پڑی
مِرے پاس آ کے کہا مجھے ! بڑا روگ تُو نے لگا لیا
اگر دیمک کا کیڑا کتاب کے ورق چاٹ لے , تو وہ نکتہ دان نہیں بن جاتا _
۱۹۳۷
میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا میچ ۶۰ ویں منٹ میں شدید دھند کی وجہ سے رک گیا , لیکن چارلٹن کے گول کیپر سام بارترم کھیل کو روکنے کے ۱۵ منٹ بعد بھی گول کے اندر موجود تھے-
کیونکہ اس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہجوم کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی۔ وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کرکے گول پوسٹ پر کھڑا رہا , غور سے آگے دیکھتا رہا ۔ پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اس کے پاس پہنچا اور اسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے , تو سام برترم نے شدید غم کے ساتھ کہا ۔
ساتھ کہا ۔
” کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کے دفاع کے لئے میں کھڑا تھا , وہ مجھے بھول گئے “
زندگی کے میدان میں کتنے ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کے لیے ہم نے اپنا وقت ,صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں ,
دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ہمیشہ انہیں یاد رکھ کر ساتھ لیکر چلنا چاہیے ایک اعلیٰ ظرف انسان کی طرح
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain