Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

دوستو! اگر آپ خُوش رہنا چاہتے ہیں تو ...خُوشی سے رہیں .. ،
کسی نے کوئی منع کیا ہے

Offline
 

انجم نجمہ کو پسند کرتا ہے
اور نجمہ انجم کے بھائی کو
لیکن انجم کے بھائی کو نجمہ
کی بہن اچھی لگتی ہے نجمہ
کی بہن انجم کو پسند کرتی ہے
لیکن انجم پہلے ہی نجمہ کو
چاہتا ہے
اب جبکہ نجمہ کو انجم اچھا
نہیں لگتا اور انجم کا بھائی
نجمہ کے لئے راضی نہیں ہے اور
انجم نجمہ کی بہن سے پیار
نہیں کرتا جبکہ نجمہ کی بہن
کو انجم کا بھائی اچھا نہیں
لگتا۔
تو یہ انکا پرسنل معاملہ ہے آپ
کیوں پڑھ کر اپنا دماغ خراب
کر رہے ہو

Offline
 

کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا، کبھی اْس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جْستجوْ، تْجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوْ بکوْ
کہاں کھل سکا ترے روْ برو ، مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تْجھے دیکھنا ، کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے، ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہیں کوئ ، مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئ تو رو دیا، جو تْو مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں، تْجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے، کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سرِ بام و در تجھے ڈھونڈنا

Offline
 

اس دُنیا میں کوئی خزانہ سانپ کے بغیر، کوئی پُھول کانٹے کے بغیر اور کوئی خُوشی غم کے بغیر نہیں ہے

Offline
 

ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺗﺨﻤﯿﻨﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﻓﻘﻂ اللّٰہ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ، ﮐﺪﻭﺭﺗﯿﮟ، ﻧﻔﺮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﻓﻄﺮﯼ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻣﺒﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻧﺠﺸﻮﮞ، ﮐﺪﻭﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺯﻋﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﮯ۔
از ﻗﺪﺭﺕ اللّٰہ ﺷﮩﺎﺏؒ

Offline
 

آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں مادام
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
نور سرمایہ سے ہے روئے تمدن کی جلا
ہم جہاں ہیں وہاں تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
لوگ کہتے ہیں تو لوگوں پہ تعجب کیسا
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں مگر آپ ابھی تک چُپ ہیں
آپ بھی کہئے غریبوں میں شرافت کیسی

Offline
 

نیک مادام بہت جلد وہ دور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم آپ کی عظمت کی قسم
ہم کو تعظیم کے معیار پرکھنے ہوں گے
ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں کو حنا بخشی ہے
لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میں جہاں ہوں وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے

Offline
 

پہلا عشق مطالعہ تھا ۔ ۔ ۔
پانچواں واک
ساتواں کرکٹ کھیلنا
اٹھارواں عشق ملتان
جو عشق گنتی میں مِسنگ ہیں اُن کو تو آج تک عِلم نہیں ہوسکا

Offline
 

کچھ لوگوں کے ساتھ آپ تمام عُمر گزار دیں مگر آپ اور اُن کے درمیان کوئی جذباتی وابستگی اور ہم آہنگی پیدا نہیں ہو پاتی۔
اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک پل ہی میں اپنے بن جاتے ہیں جن سے ایک بار مل کر بار بار ملنے کو دل چاہنے لگتا ہے۔ جن سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے۔
جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور ساتھ ہوں۔
کھیڈ دِلاں دی

Offline
 

میری ماں کچھ ڈر گئی- بیچاری اَن پڑھ عورت تھی گاؤں کی- میں نے کہا، میں سچ بولا کروں گا اور جس سے ملوں گا، سچ کا پرچار کروں گا اور پہلے والے لکھاری بڑےجھوٹے رائٹر ہیں- مجھے اچھی طرح یاد ہے
اُس وقت ماں کے ہاتھ میں پکڑے چمٹے میں روٹی اور پتیلی (دیگچی) تھی- اُس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی، اگر تو نے یہی بننا ہے، جو تو کہتا ہے اور تو نے سچ ہی بولنا ہے، تو اپنے بارے میں سچ بولنا- لوگوں کے بارے میں سچ بولنا نہ شروع کر دینا- یہ میں آپ کو بالکل اَن پڑھ عورت کی بات بتا رہا ہوں- سچ وہ ہوتا ہے جو اپنے بارے میں بولا جائے، جو دوسروں کے بارے میں بولتے ہیں، وہ سچ نہیں ہوتا- ہماری یہ عادت بن چکی ہے اور ہمیں ایسے ہی بتایا، سکھایا گیا ہے کہ ہم سچ کا پرچار کریں
اشفاق احمد

Offline
 

آج صبح تین انڈوں والے آملیٹ کے ساتھ دو آلو والے پراٹھے کھانے کے بعد لسی کا گلاس پیتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ:
1. ٹریڈ مِل کے موجد 54 سال کی عمر میں چل بسے۔
2. جمناسٹکس کے موجد 57 سال کی عمر میں چل بسے۔
3. ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن کا 41 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا.
4. دنیا کے بہترین فٹ بالر میراڈونا کا 60 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔
5.کنگ آف مارشل آرٹ 32 سال تک جئے

Offline
 

لیکن
6. کے ایف سی کا موجد 94 سال کی عمر میں فوت ہوا تھا۔
7. نوٹیلا برانڈ کا موجد 88 سال کی عمر میں فوت ہوا
8. سگریٹ بنانے والی کمپنی ونسٹن کا 102 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
9.ایم ڈی ایچ مسالے بنانے والی کمپنی کا مالک 97 سال تک زندہ رہا۔
پھر ہم ڈاکٹر کیسے اس نتیجے پر پہنچے کہ ورزش زندگی کو طول دیتی ہے؟
خرگوش ہمیشہ اچھلتا کودتا ہے لیکن وہ صرف 2 سال تک زندہ رہتا ہے اور کچھوا جو 400 سال تک زنده رہتا ہے کبھی ورزش نہیں کرتا ہے لہذا ٹھنڈ پروگرام رکھیں، کھائیں پئیں موجیں ماریں۔ سلامت رہیں

Offline
 

لڑکیاں اپنی سہیلی کے شوہر کو دیکھ کر عموماً یہی کہتی ہیں ...
" میرے والے زیادہ ہینڈسم ہیں "
جبکہ لڑکے اپنے دوست کی بیوی کو دیکھ کر کہتے ہیں ..
" یار اے چنگا رہ گیا ای "

Offline
 

ترے جانے سے بھی جاتی نہیں ہے
تری باتوں پہ ہنسنے کی یہ عادت

Offline
 

مُحبتّوں کے سفر پر نِکل کے دیکھوں گا
یہ پُل صراط اگر ہے تو چَل کے دیکھوں گا
سوال یہ ہے کہ رفتار کِس کی کِتنی ہے
میں آفتاب سے آگے نِکل کے دیکھوں گا
مَذاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے
میں آج شام سے پہلے ہی ڈَھل کے دیکھوں گا
وہ میرے حُکم کو فریاد جان لیتا ہے
اگر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں گا
اُجالے بانٹنے والوں پہ کیا گُزرتی ہے
کِسی چراغ کی مانند جَل کے دیکھوں گا
عجب نہیں کہ وہی روشنی مُجھے مِل جائے
میں اپنے گھر سے کِسی دِن نِکل کے دیکھوں گا

Offline
 

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

Offline
 

وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کِس نے اپنا بنا لیا
مِری آنکھ کِس نے اُجاڑ دی،مِرا خواب کِس نے چُرا لیا
تجھےکیا بتائیں کہ دِلنشیں! تِرے عِشق میں تِری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پُھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا
مِری جنگ کی وہ ہی جیت تھی،مِری فتح کا ، وہی جشن تھا
میں گرا ، تو دَوڑ کےاُس نےجب ، مجھے بازوؤں میں اُٹھا لیا
مِری چاند چُھونے کی حسرتیں،مِری خوشبُو ہونے کی خواہشیں
تُو ملا، تو ایسا لگا صنم! مجھے جو طلب تھی، وہ پا لیا
مِرے دشمنوں کی نظر میں بھی، مرا قد ، بڑا ہی رہا سدا
مِری ماں کی پیاری دعاؤں نے،مجھے ذِلّتوں سے بچا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا مجھے یاد ہے!
کبھی جَل گئیں تِری رَوٹیاں، کبھی ہاتھ تُو نے جلا لیا
مِری ڈائری، مِری شاعری، مِرے افتی ! پڑھ کے وہ رَو پڑی
مِرے پاس آ کے کہا مجھے ! بڑا روگ تُو نے لگا لیا

Offline
 

اگر دیمک کا کیڑا کتاب کے ورق چاٹ لے , تو وہ نکتہ دان نہیں بن جاتا _

Offline
 

۱۹۳۷
میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا میچ ۶۰ ویں منٹ میں شدید دھند کی وجہ سے رک گیا , لیکن چارلٹن کے گول کیپر سام بارترم کھیل کو روکنے کے ۱۵ منٹ بعد بھی گول کے اندر موجود تھے-
کیونکہ اس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہجوم کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی۔ وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کرکے گول پوسٹ پر کھڑا رہا , غور سے آگے دیکھتا رہا ۔ پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اس کے پاس پہنچا اور اسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے , تو سام برترم نے شدید غم کے ساتھ کہا ۔

Offline
 

ساتھ کہا ۔
” کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کے دفاع کے لئے میں کھڑا تھا , وہ مجھے بھول گئے “
زندگی کے میدان میں کتنے ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کے لیے ہم نے اپنا وقت ,صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں ,
دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ہمیشہ انہیں یاد رکھ کر ساتھ لیکر چلنا چاہیے ایک اعلیٰ ظرف انسان کی طرح