Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

یہاں خوشبوں کی رفاقتیں
نہ تجھے ملیں نہ مجھے ملیں
وہ جو چمن کے جس پہ غرور تھا
نہ تیرا ہوا نہ میرا ہوا
وہ جو خواب تھے میرے ذہن میں
نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا
کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی
قلم ملا تو بکا ہوا

Offline
 

ڈی ڈی پر اگر کوئی لڑکی لڑکوں کو سیدھا رکھے تو لڑکے اُسے جا کر پوچھتے ہیں
اوئے سچ سچ بتا تو لڑکا ہے نا

Offline
 

تیرا خیال ہی یُوں مجھ کو نِکھار دیتا ہے ،
میں تُجھے سوچ کے دِلکش دِکھائی دیتا ہوں

Offline
 

کیا ضروری ہے کہ ہر بات کی تصدیق بھی ہو
وہ جو نزدیک نظر آتا ہے نزدیک بھی ہو
تُم اگر صاحبِ رائے ہو تو لازم تو نہیں
تُم جِسے ٹھیک سمجھتے ہو وہ ٹھیک بھی ہو.....!

Offline
 

کبھی کسی وجہ سے میرا موبائل آف ہوجائے یا میں نیٹورک کی رینج سے نکل جاؤں تو یہ خیال ذہن میں کوددتا ہے کہ جس کے سب سے زیادہ میسجز یا کالز آئے ہوئے میں اُس شخص کو زندگی میں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔
لُطف انگیز بات یہ ہے کہ میری جس شخص سے سب سے کم بات ہوتی ہے وہی میرے غائب ہونے سے سب سے زیادہ فکر مند ہوتا ہے حالانکہ میں سوچ رہی ہوتی ہوں کہ اُسے رابطہ منقطع ہونے کا سب سے آخر میں پتا چلے گا، بہت دیر سے میری ابسنس فیل ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُسے محسوس ہی نہ ہو کہ میں کہیں کھو گئی

Offline
 

ہوں۔ مگر۔۔۔۔۔۔
وہ میری غیر موجودگی میں کملا جاتا ہے، اَن گنت میسجز اور کالز کرتا ہے اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے مُجھے محسوس کراتا ہے کہ میرا ہونا اُس کے لئیے سب سے زیادہ اہم ہے، اور اگر میں یہ سوچتی ہوں کہ اسے میرے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو غلط سوچتی ہوں کیوں کہ میرا چند گھنٹے غائب ہوجانا ہی اُسکی زندگی میں ہیجان برپا کردیتا ہے۔ وہ آج کے دور کا مجنوں ہے جو رسمِ دنیا کے ساتھ ساتھ رسمِ عشق کے بھی سبھی تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔
(حفصہ عمان

Offline
 

دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے اور میسر اسباب کو اپنی صلاحیت کے زور پر استعمال کرتے ہوئے ترقی کرتے ہیں۔ اس گروہ کو دنیا کئی طرح کی مدد کی پیشکش کرتی ہے لیکن یہ خودداری کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ آہستہ چلنا پسند کرتے ہیں لیکن صرف اپنے پاوں پر۔ انکی فطرت میں ہمیشہ بانٹنے کی جھلک نظر آتی یے۔ یعنی دوسروں کو سہارا تو دے دیتے ہیں لیکن لینا پسند نہیں کرتے۔
جبکہ دوسری طرح کے لوگ دوسروں کے کندھوں پر سواری کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں خود کی ذات پر شاید بھروسہ نہیں ہوتا یا یہ اپنے آپکو زیادہ ہوشیار سمجھتے ہیں اور دوسروں کو استعمال کرنا

Offline
 

جانتے ہیں۔ یا پھر منزل پر جلدی پہنچنا چاہتے ہیں، انہیں کسی بھی کام میں اکثر سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، کسی بھی کام کو شروع کرنا ہو تو ایک "لنک" کی تلاش میں رہتے ہیں، حتی کہ ایک داخلہ فارم بھی جمع کروانا ہو تو کاونٹر پر جان پہچان کا بندہ ڈھونڈتے ہیں، عدالت، بینک اور پولیس میں انہیں لازمی ایک واقف کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تر ریسپور ہوتے ہیں یعنی انکی فطرت میں ہمیشہ اپنا فائدہ، اور بانٹنے کی بجائے لینے کی تمنا زیادہ ہوتی ہے۔
آپ اپنے آپکو کس طبقے میں شمار کرتے ہیں؟

Offline
 

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری
دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا
شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری
اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں
وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری
زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری
اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری
زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا
اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے گزری
رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں
ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری
بار ہا چونک سی جاتی ہے مسافت دل کی
کس کی آواز تھی، یہ کس کو بلاتے گزری

Offline
 

*بیوی کی اہمیت*
*ایک صاحب کہتے ہیں کہ دفتر جاتے ہوئے روزانہ ان کی بیگم انہیں کچھ نہ کچھ یاد دلاتی تھی کہ "آپ چابی بھول کر جا رہے ہیں، اپ نے اپنی گھڑی نہیں اٹھائی، آپ کا پرس یہیں رہ گیا ہے " وغیرہ وغیرہ۔*
*کہتے ہیں میں بڑی شرمندگی محسوس کرتا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے میری بیوی مجھے عقل سے پیدل سمجھ کر

Offline
 

یہ چیزیں یاد دلاتی ہے۔*
*ایک رات کو سونے سے پہلے میں نے اپنے ساتھ لیجانے والی ہر چیز کی ایک لِسٹ بنائی، صبح اُٹھ کر لسٹ کی ایک ایک چیز کو نشان لگا کر جیب میں ڈالا اور کار میں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ۔۔
*دروازے پر بیگم نمودار ہوئی اور ایک شان سے اپنے سر کو ہلاتے ہوئے مجھے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔ میں نے بھی وہیں سے بیٹھے بیٹھے اُسے کہہ دیا کہ بس بہت ہو گئی: آج میں کچھ نہیں بھولا اور تمہاری اُن سب گزشتہ یاد دہانیوں کا بہت شکریہ۔*
*بیگم بولی: چلو وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب واپس آ کر دوبارہ سے سو جاؤ کیونکہ آج اتوار ہے.

Offline
 

رات کی تاریکی میں گہری نیند میں دکھائی دینے والے ڈراؤنے سپنے آنکھ کھلنے پہ دن کی روشنی میں احمقانہ اور مزاحقہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔

Offline
 

دِل ہجر کے درد سے بوجھل ہے،
اب چائے پلاؤ تو بہتر ہو

Offline
 

ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﺳﮩﻨﺎ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﻏﻢ ﺳﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺳﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﻧﮧ ﺟﻨﺒﺶ ﺍﺑﺮﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻞ ﺁﮰ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﭘﺮ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺁﮦ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ
ﻧﮧ ﺩﻝ ﮈﻭﺑﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﻧﻤﯽ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﭘﺮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ
ﻟﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﻧﻤﯽ ﮐﻮ ﭘﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﭼﺒﮭﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮑﻦ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﺸﯽ ﺳﮯ ﺟﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ

Offline
 

کبھی کبھی ہم اتنے بکھر چکے ہوتے ہیں اور اذیت کے اس نون پہ پہنچ چکے ہوتے کہ ہمارے ساتھ کوئی مذاق میں بھی دو میٹھے بول بول دے تو ہم اسی کو اپنا ہمدرد سمجھ لیتے ہیں اپنا مسیحا سمجھ لیتے ۔۔ دل کرتا اس کے کندھے پہ سر رکھ کر رو دیں مگر پھر ہمیں اچانک سے یاد آ جاتا پہلے بھی ساتھ چلنے کو اک دنیا تھی بہت سے اپنے لوگ تھے جو ہمیشہ یہ ہی کہتے کہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑیں گے مگر کوڑا سچ کہ کوئی اپنے سوا اپنا نہیں ہوتا اور بس اس خیال کے بعد پھر اچانک سے ہم پہ اک خاموشی چھا جاتی اور ہم پھر اپنی جھوٹی ہنسی لیکر اسی ویران دنیا میں کہیں گم ہو جاتے

Offline
 

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے
کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے
کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے
ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے
لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے
ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے
دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

Offline
 

خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔
دو سال بعد اسی خوبصورت لڑکی کو نئی کار میں ایک ٹریفک سگنل پر دیکھا۔اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے

Offline
 

وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔
اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔
اور ہاں صرف فلموں میں ہی عاشق دو تین سال میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں، اصل زندگی میں دو تین سالوں میں بدلاؤ کچھ زیادہ نہیں
Honda 125 کی جگہ نئی Honda 70
آ جاتی ہے.
براہ مہربانی موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔

Offline
 

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے
اپنے ہی ساۓ سے ہر گام لرز جاتا ہوں
راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے
کتنے ناداں ہیں تجھے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لئے عمر پڑی ہو جیسے
تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
یہ گرہ اب کے مرے دل میں پڑی ہو جیسے
منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں زنجیر پڑی ہو جیسے
آج دل کھول کے روۓ ہیں تو یوں خوش ہیں فراز
چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے

Offline
 

ڈی ڈی فیچر کی سب سے بُری بات یہ ہے کہ آپکو اپنی پوسٹوں پر اپنی اُس جانو کے اچھے اچھے، پیارے پیارے، ہنستے مُسکراتے کمنٹس نظر آتے ہیں جس کی لائف لائن بنتے بنتے آپ بلاک ہو چکے ہیں۔
خیر مجھے اِس سے کیا