یہاں خوشبوں کی رفاقتیں
نہ تجھے ملیں نہ مجھے ملیں
وہ جو چمن کے جس پہ غرور تھا
نہ تیرا ہوا نہ میرا ہوا
وہ جو خواب تھے میرے ذہن میں
نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا
کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی
قلم ملا تو بکا ہوا
ڈی ڈی پر اگر کوئی لڑکی لڑکوں کو سیدھا رکھے تو لڑکے اُسے جا کر پوچھتے ہیں
اوئے سچ سچ بتا تو لڑکا ہے نا
تیرا خیال ہی یُوں مجھ کو نِکھار دیتا ہے ،
میں تُجھے سوچ کے دِلکش دِکھائی دیتا ہوں
کیا ضروری ہے کہ ہر بات کی تصدیق بھی ہو
وہ جو نزدیک نظر آتا ہے نزدیک بھی ہو
تُم اگر صاحبِ رائے ہو تو لازم تو نہیں
تُم جِسے ٹھیک سمجھتے ہو وہ ٹھیک بھی ہو.....!
کبھی کسی وجہ سے میرا موبائل آف ہوجائے یا میں نیٹورک کی رینج سے نکل جاؤں تو یہ خیال ذہن میں کوددتا ہے کہ جس کے سب سے زیادہ میسجز یا کالز آئے ہوئے میں اُس شخص کو زندگی میں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔
لُطف انگیز بات یہ ہے کہ میری جس شخص سے سب سے کم بات ہوتی ہے وہی میرے غائب ہونے سے سب سے زیادہ فکر مند ہوتا ہے حالانکہ میں سوچ رہی ہوتی ہوں کہ اُسے رابطہ منقطع ہونے کا سب سے آخر میں پتا چلے گا، بہت دیر سے میری ابسنس فیل ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُسے محسوس ہی نہ ہو کہ میں کہیں کھو گئی
ہوں۔ مگر۔۔۔۔۔۔
وہ میری غیر موجودگی میں کملا جاتا ہے، اَن گنت میسجز اور کالز کرتا ہے اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے مُجھے محسوس کراتا ہے کہ میرا ہونا اُس کے لئیے سب سے زیادہ اہم ہے، اور اگر میں یہ سوچتی ہوں کہ اسے میرے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو غلط سوچتی ہوں کیوں کہ میرا چند گھنٹے غائب ہوجانا ہی اُسکی زندگی میں ہیجان برپا کردیتا ہے۔ وہ آج کے دور کا مجنوں ہے جو رسمِ دنیا کے ساتھ ساتھ رسمِ عشق کے بھی سبھی تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔
(حفصہ عمان
دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے اور میسر اسباب کو اپنی صلاحیت کے زور پر استعمال کرتے ہوئے ترقی کرتے ہیں۔ اس گروہ کو دنیا کئی طرح کی مدد کی پیشکش کرتی ہے لیکن یہ خودداری کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ آہستہ چلنا پسند کرتے ہیں لیکن صرف اپنے پاوں پر۔ انکی فطرت میں ہمیشہ بانٹنے کی جھلک نظر آتی یے۔ یعنی دوسروں کو سہارا تو دے دیتے ہیں لیکن لینا پسند نہیں کرتے۔
جبکہ دوسری طرح کے لوگ دوسروں کے کندھوں پر سواری کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں خود کی ذات پر شاید بھروسہ نہیں ہوتا یا یہ اپنے آپکو زیادہ ہوشیار سمجھتے ہیں اور دوسروں کو استعمال کرنا
جانتے ہیں۔ یا پھر منزل پر جلدی پہنچنا چاہتے ہیں، انہیں کسی بھی کام میں اکثر سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، کسی بھی کام کو شروع کرنا ہو تو ایک "لنک" کی تلاش میں رہتے ہیں، حتی کہ ایک داخلہ فارم بھی جمع کروانا ہو تو کاونٹر پر جان پہچان کا بندہ ڈھونڈتے ہیں، عدالت، بینک اور پولیس میں انہیں لازمی ایک واقف کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تر ریسپور ہوتے ہیں یعنی انکی فطرت میں ہمیشہ اپنا فائدہ، اور بانٹنے کی بجائے لینے کی تمنا زیادہ ہوتی ہے۔
آپ اپنے آپکو کس طبقے میں شمار کرتے ہیں؟
زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری
دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا
شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری
اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں
وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری
زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری
اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری
زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا
اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے گزری
رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں
ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری
بار ہا چونک سی جاتی ہے مسافت دل کی
کس کی آواز تھی، یہ کس کو بلاتے گزری
*بیوی کی اہمیت*
*ایک صاحب کہتے ہیں کہ دفتر جاتے ہوئے روزانہ ان کی بیگم انہیں کچھ نہ کچھ یاد دلاتی تھی کہ "آپ چابی بھول کر جا رہے ہیں، اپ نے اپنی گھڑی نہیں اٹھائی، آپ کا پرس یہیں رہ گیا ہے " وغیرہ وغیرہ۔*
*کہتے ہیں میں بڑی شرمندگی محسوس کرتا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے میری بیوی مجھے عقل سے پیدل سمجھ کر
یہ چیزیں یاد دلاتی ہے۔*
*ایک رات کو سونے سے پہلے میں نے اپنے ساتھ لیجانے والی ہر چیز کی ایک لِسٹ بنائی، صبح اُٹھ کر لسٹ کی ایک ایک چیز کو نشان لگا کر جیب میں ڈالا اور کار میں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ۔۔
*دروازے پر بیگم نمودار ہوئی اور ایک شان سے اپنے سر کو ہلاتے ہوئے مجھے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔ میں نے بھی وہیں سے بیٹھے بیٹھے اُسے کہہ دیا کہ بس بہت ہو گئی: آج میں کچھ نہیں بھولا اور تمہاری اُن سب گزشتہ یاد دہانیوں کا بہت شکریہ۔*
*بیگم بولی: چلو وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب واپس آ کر دوبارہ سے سو جاؤ کیونکہ آج اتوار ہے.
رات کی تاریکی میں گہری نیند میں دکھائی دینے والے ڈراؤنے سپنے آنکھ کھلنے پہ دن کی روشنی میں احمقانہ اور مزاحقہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔
دِل ہجر کے درد سے بوجھل ہے،
اب چائے پلاؤ تو بہتر ہو
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﺳﮩﻨﺎ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﻏﻢ ﺳﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺳﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﻧﮧ ﺟﻨﺒﺶ ﺍﺑﺮﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻞ ﺁﮰ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﭘﺮ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺁﮦ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ
ﻧﮧ ﺩﻝ ﮈﻭﺑﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﻧﻤﯽ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﭘﺮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ
ﻟﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﻧﻤﯽ ﮐﻮ ﭘﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﭼﺒﮭﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮑﻦ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﺸﯽ ﺳﮯ ﺟﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ
کبھی کبھی ہم اتنے بکھر چکے ہوتے ہیں اور اذیت کے اس نون پہ پہنچ چکے ہوتے کہ ہمارے ساتھ کوئی مذاق میں بھی دو میٹھے بول بول دے تو ہم اسی کو اپنا ہمدرد سمجھ لیتے ہیں اپنا مسیحا سمجھ لیتے ۔۔ دل کرتا اس کے کندھے پہ سر رکھ کر رو دیں مگر پھر ہمیں اچانک سے یاد آ جاتا پہلے بھی ساتھ چلنے کو اک دنیا تھی بہت سے اپنے لوگ تھے جو ہمیشہ یہ ہی کہتے کہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑیں گے مگر کوڑا سچ کہ کوئی اپنے سوا اپنا نہیں ہوتا اور بس اس خیال کے بعد پھر اچانک سے ہم پہ اک خاموشی چھا جاتی اور ہم پھر اپنی جھوٹی ہنسی لیکر اسی ویران دنیا میں کہیں گم ہو جاتے
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے
کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے
کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے
ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے
لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے
ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے
دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے
خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔
دو سال بعد اسی خوبصورت لڑکی کو نئی کار میں ایک ٹریفک سگنل پر دیکھا۔اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے
وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔
اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔
اور ہاں صرف فلموں میں ہی عاشق دو تین سال میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں، اصل زندگی میں دو تین سالوں میں بدلاؤ کچھ زیادہ نہیں
Honda 125 کی جگہ نئی Honda 70
آ جاتی ہے.
براہ مہربانی موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے
اپنے ہی ساۓ سے ہر گام لرز جاتا ہوں
راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے
کتنے ناداں ہیں تجھے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لئے عمر پڑی ہو جیسے
تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
یہ گرہ اب کے مرے دل میں پڑی ہو جیسے
منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں زنجیر پڑی ہو جیسے
آج دل کھول کے روۓ ہیں تو یوں خوش ہیں فراز
چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے
ڈی ڈی فیچر کی سب سے بُری بات یہ ہے کہ آپکو اپنی پوسٹوں پر اپنی اُس جانو کے اچھے اچھے، پیارے پیارے، ہنستے مُسکراتے کمنٹس نظر آتے ہیں جس کی لائف لائن بنتے بنتے آپ بلاک ہو چکے ہیں۔
خیر مجھے اِس سے کیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain