شادی سے واپسی پر ہانیہ بیگم نے حسب معمول ساری روداد بمع تفصیل سنانا شروع کردی مثلاً کس کی میچینگ ٹھیک نہیں تھی کس کا ہئیر سٹائل خراب تھا وغیرہ وغیرہ اور میں ہوں ہاں کرتا رہا۔۔
پھر بیگم بولیں وہاں موجود تمام خواتین نے میرے ڈریس کی تعریف کی اور میرے ہاتھوں پر نظریں گاڑ کر بیٹھی تھیں۔۔بلکہ آنٹی پروین تو چاچی کلثوم کو کہہ رہی تھیں کہ کتنے خوبصورت ہاتھ ہیں شائد دستانے پہن کر برتن دھوتی ہو گی
میں نے ایک طویل آہ بھرتے ہوئے کہا "ظاہر ہے انہوں نے میرے ہاتھ جو نہیں دیکھے
جس رنگ میں بھی دیکھوں اُسے خُوشنما لگے،
اِک شخص دِل کے آسماں پر قوسِ قزح سا ہے
ناکام انسان کی ایک خاص پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں بے انتہا دلچسپی لے گا جن سے اس کی زندگی کا کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ ایسے معاملات میں بہت وقت لگانے والا ہوگا جس سے اس کی دنیا یا آخرت کو کوئی فرق نہیں پڑنا
ان معاملات میں وقت لگانے سے اسے بہت لذت ملتی ہے اور وہ خود کو اس احمقانہ دھوکے میں مبتلا رکھتا ہے کہ اس سے میری لائف پر کوئی فرق پڑنا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے
کامیاب افراد خود میں شروع سے اس بات کی زبردست حس پیدا کرلیتے ہیں کہ کون سے معاملات میری زندگی پر اثر ڈال سکتے ہیں اور کون سے نہیں۔ ان کی یہی پہچان انھیں روزمرہ کی ترجیہات متعین کرنے اور ایک ایک قدم آگے بڑھنے میں زبردست مدد دیتی ہے
آؤ کچھ دیر کے لئے ہمدم ۔۔۔
بھول جائیں وہ جو حقیقت ہے
بھول جائیں کہ زندگی کا سفر
ہم کو تنہا ہی کاٹنا ہو گا
بھول جائیں کہ اپنا دُکھ سُکھ بھی
ہم کو تنہا ہی بانٹنا ہو گا
آؤ کچھ دیر کے لئے ہمدم
اگر آپ نے گولی والی بوتل پی ہوئی ھے . .
ریڑھی سے تازہ لـچھے بنوا کر کھائے ہوئے ہیں . .
کپڑے کا بستہ استعمال کیا ہوا ھے . .
رات کے وقت کالا دھاگہ باندھ کر لوگوں کے گھروں کی کنڈیاں "کھڑکائی" ہوئی ہیں . .
بنٹے کھیلے ہوئے ہیں . .
سائیکل کے ٹائر کو چھڑی کے ساتھ گلیوں میں گھمایا ہوا ھے . .
شب برات پر مصالحہ لگی "چچڑ" سمینٹ والی دیوار سے رگڑی ہوئی ھے . .
دو روپے والا نیلا نوٹ استعمال کیا ہوا ھے . .
استاد سے مار کھائی ہوئی ھے . .
ریاضي کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ھے . .
عاد اعظم نکا لے ہوئے ہیں
پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں . .
سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ھے . .
تختی کو گاچی لگائی ہوئی ھے . .
گھر سے آٹا لے جا کر تنور سے روٹیاں لگوائی ہوئی ہیں . .
سکول کی دیوار پھلانگی ہوئی ھے . .
غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں . .
سہ پہر چار بجے "بولتے ہاتھ" دیکھا ہوا ھے . .
پی ٹی وی پر کشتیاں دیکھی ہوئي ہیں . .
چھت پر چڑھ کر انٹینا ٹھیک کیا ہوا ھے . .
بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا ہوا ھے . .
اپنے لینڈ لائن فون کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ھے . .
میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی ھے . .
کتاب کے لیے ابا جی سے پیسے لیکر عمران سیریز خریدی ہوئی ھے . .
بارات میں پیسے لوٹے ہوئے ہوں
کسی دشمن کی دیوار پر کوئلے سے بھڑاس نکا لی ہو . .
پانی کے ٹب میں موم بتی والی کشتی چلائی ہو . .
سرکاری ہسپتال سے اپنی ذاتی بوتل میں کھانسی والی دوائی بھروائی ہو . .
سردیوں میں رضائی میں گھس کر ڈراؤنے قصے سنے ہوں،
سرکٹے انسان کی افواہیں سنی ہوں . .
کھڑکھڑاتے ریڈیو پر سیلاب کی تازہ صورتحال سنی ہو . .
رسی لپیٹ کر لاٹو چلایا ہو . .
سمیع اللہ کو ہاکی کے میدان میں قومی نشریاتی رابطے پر فتح سے ہمکنار ہوتے دیکھا ہو . .
گھر کی چھت پر مٹی کا لیپ کیا ہو . .
پینٹ پہن کر محلے والوں کی طنزیہ نظروں کا سامنا کیا ہو..
گرمیوں میں چھت پر چھڑکاؤ کیا ہو . .
جون جولائی کی تپتی دوپہر میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو .
پھولوں کی کڑھائی والے تکیے پر سنہرے خواب دیکھے ہوں
گھر کے کسی کونے میں خوش آمدید لکھا ھے . .
ٹی وی پر غلاف چڑھایا ھے . .
لالٹین میں مٹی کا تیل بھروایا ھے . .
ہاتھ والا نلکا چلا کر بالٹیاں بھری ہیں . .
ایک روپے میں کریم کی خالی شیشی ری فل کروائی ھے . .
یسو پنچو کھیلا ھے . .
لڈو کھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک موقع پر تین دفعہ چھ آیا ھے . .
ڈھیلی تیلیوں والی ماچس استعمال کی ھے .
تختی کے لیے بازار سے قلم خرید کر اسکی نوک بلیڈ سے کاٹ کر درمیاں میں ایک کٹ لگایا ھے . .
خوشخطی کے لیے مارکر کی نب کاٹی ھے . .
ہولڈر استعمال کیا ھے . .
زیڈ اور جی کی نب خریدی ھے . .
فلاوری انگلش لکھی ھے . .
گھی کے خالی "پیپے" کو تار سے باندھ کر لوکل گیزر کا لطف لیا ھے . .
سر پر تیل کی تہہ اور سرما لگا کر خوبصورت لگنے کی کوشش کی ھے . .. .
ٹچ بٹن والی شرٹ پہنی ھے . .
اپنے گھر کی سفیدی کی ھے
آگ میں کاغذ جلائے ہیں . .
بالٹی میں آم ٹھنڈے کر کے کھائے ہیں . .
رف کاپی استعمال کی ھے . .
کھلی لائنوں والا دستہ خرید کر اس پر اخبار چڑھایا ھے .
گندھے ہوئے آٹے کی چڑی بنائی ھے . .
الارم والی گھڑی کے خواب دیکھے ہیں . .
بلی مارکہ اگر بتی خریدی ھے . .
مرونڈے کی لذت سے سرشار ہوئے ہیں . .
کلاس میں مرغا بنے ہیں . .
ہمسائیوں کے گھر سے سالن مانگا ھے . .
مہمان کی آمد پر خوشیاں منائي ہیں . .
سائیکل کی قینچی چلائي ھے . .
والد صاحب کی ٹانگیں دبائی ہیں . .
سردیوں میں ماں کے ہاتھ کا بنا سویٹر پہنا ھے . .
چھپ چھپ کر سگرٹوں کے سوٹے لگائے ہیں . .
امتحانوں کی راتوں میں " گیس پیپرز" کے حصول کے لیے دوستوں کے گھروں کے چکر کاٹے ہیں . .
قائد اعظم کے چودہ نکات چھت پر ٹہل ٹہل کر یاد کیے ہیں
چلوسک ملوسک، عمرو عیار، چھن چھنگلو، کالا گلاب اور عنبر ناگ ماریا کی کہانیاں پڑھی ہیں...
فرہاد علی تیمور سے متاثر ہو کر موم بتی کو گھور گھور کر ٹیلی پیتھی حاصل کرنے کی کوشش کی ھے . .
کاغذ کے اوپر کیل اور لوہ چون رکھ کر نیچے مقناطیس گھمانے کا مزا لیا ھے .
محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر پانچ وقت نماز کے منصوبے بنائے ہیں . .
صبح سویرے ڈول پکڑے گوالے سے دودھ لینے جاتے رھے ہیں . .
برفی کا سب سے بڑا ٹکڑا باوجود گھورتی نظروں کے اٹھانے کی جسارت کی ھے،
لاٹری میں کنگھی نکلی ھے . .
سردیوں کی تراویح میں پنکھے چلا کر مسجد سے فرار ہوئے ہیں . .
رات کو آسمان کے تارے گنے ہیں . .
سائیکل پر نئی گھنٹی لگوائی ھے . .
زکام کی صورت میں آستینوں سے ناک پونچھی ھے . .
ڈیموں(بھڑ) کو دھاگا باندھ کر اڑایا ہوا ھے
شہد کی مکھیوں کے چھتے میں پتھر مارا ہوا ھے . .
مالٹے کے چھلکے دبا کر اس سے دوستوں کی آنکھوں پر حملہ کیا ہوا ھے . .
اور صبح سویرے گلی میں کسی کے درود شریف پڑھتے ہوئے گزرنے کی آواز سنی ھے اسکا ایک ہی مطلب ھے کہ اب آپ بوڑھے ہو رھے ہیں۔
کیونکہ یہ ساری چیزیں اسوقت کی ہیں جب زندگیوں میں عجیب طرح کا سکون ہوا کرتا تھا۔ لوگ ہنسنے اور رونے کی لذت سے آشنا تھے۔ لڑائی کبھی جنگ کا روپ نہيں دھارتی تھی۔ رشتے اور تعلقات جھوٹی انا کے مقابل طاقتور تھے۔ تب غریب کوئی بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ سب ہی غریب تھے۔ مجھے فخر ھے کہ میرا تعلق اس دور سے ھے جب نہ کسی کے پاس موبائل تھا نہ کوئی اپنی لوکیشن شیئر کر سکتا تھا لیکن سب رابطے میں ہوتے تھے سب کو پتہ ہوتا تھا کہ اس وقت کون کہاں ھے کیونکہ سب کا نیٹ ورک ایک ہوتا تھا۔
منقولڈ
ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 300 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ صرف ایک کسان انکی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔
اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگے, بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں-"،؟
کسان بولا، صاحب میرے گھر پر بیس گدھے ہیں . . .
اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو
کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں؟ اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟
کسان کا بہترین جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔
تقریر ختم کرنے کے بعد، وہ ڈائس سے اُتر کر سیدھا کسان کے پاس آیا اور بولا:
تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟
کسان بولا: صاحب! اُنیس گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس گدھوں کا چارہ ایک ہی گدھے کے آگے ڈال دِیا جائے۔۔
کبھی واقفِ ہجر میں ہوگیا
, کبھی خوابِ وصل میں کھو گیا
.. میں فقیرِ یاد بنا رہا
.. میں اسیرِ یاد ہوا رہا ..
اچھی زندگی کے اجزاء
مقصد کا احساس
اپنے کام میں مہارت
کبھی کبھار کا چنچل پن
خیالات میں لچک
دوسروں سے تعلق
خود مختاری
اطمینان
تھوڑا تھوڑا غم
منہ سے نکلی بات
کمان سے نکلا تیر
اور
محبت میں کیے ھوۓ ایزی لوڈ کے پیسے کبھی واپس نہیں آتے۔
ہمیں اپنی رائے رکھنے کا حق ہے اگر یہ علم کی بنیاد پر قائم ہے , بغیر تحقیق کے , بغیر پس منظر سے واقف ہوئے , بغیر سمجھے ہوئے رائے نہیں , خالی الفاظ ہیں ۔ جیسے ہوا کی سرنگ میں ماری گئی پھونک
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain