حال اس کا تیرے چہرے پہ لکھا لگتا ہے
وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے تیرا کیا لگتا ہے
یوں تو ہر چیز سلامت ہے میری دنیا میں
ایک تعلق ہے جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے
میں نے سوچا تھا کہ آباد ہوں اک شہر میں میں
یہاں تو ہر شخص کا انداز جدا لگتا ہے
مدتیں بیت گئیں طے نہ ہوئی منزلِ شوق
ایک عالم میرے رستے میں پڑا لگتا ہے
اے میرے جذبۂ دوراں مجھ میں کشش ہے اتنی
جو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ہے
جانے کون سی پستی میں گِرا ہوں شہزاد
سورج بھی اس قدر دور ہے کہ دِیا لگتا ہے
بعض دفعہ ہمارے اردگرد چیزیں , رویے سب کچھ نارمل هوتا ھے سب کچھ ہر طرح کا رشتہ تعلق درست جانب رواں ھوتا ھے بظاہر کچھ بھی روڈ نہیں ھوتا پھر اچانک سے ھر منظر ھر معاملہ خراب دکھائی دینے لگتا ھے رشتوں میں شک نظر آنے لگتا ھے وجہ خود کا اندر کا موسم ٹھیک نہیں ھوتا گرد تو خود کی نگاہ پر آ پڑتی ھے ۔
بات یہ نہیں هوتی باقی بگڑ گئے ہیں بات یہ هوتی خود سے ناراضگی چل رهی هوتی ھے صحیح نہج سے سوچ زگ زیگ راستوں پر چل پرٹی ھے
جب میں نے کوئی چیز چاہی اُسے حاصل کرنا چاہا تو وہ چیز میرے لیے مصیبت بن گئی میرا سکون چھن گیا ۔ ۔ ۔
اور جب میں نے کوئی چیز چاہی اور صبر سے بیٹھ گیا وہ چیز خُود مُجھ تک پہنچی بغیر میری کسی محنت کے۔
تو اِس سے یہ بات سمجھ آئی کہ جِسے میں نے چاہا وہ بھی میری چاہت میں مبتلا ہے اور خُود میری تلاش میں تھی ۔ ۔ ۔
اِس میں ایک باریک نُکتہ ہے جو اِسے سمجھ سکے۔
مولانا جلال الدین رومیؒ
قاصد سن چھوڑ گلے، شکوے یہ بتا،
اس نے پہلے کیا کہا،پھر کیا کہا پھر کیا کہا؟
آغاز یہ تھا کہ:
تم اجنبی تھے اور جب میں تمہیں بتاتا تھا کہ میں اداس ہوں تو پھر میں اداس نہیں رہتا تھا۔
انجام یہ ہے کہ:
تم دوست ہو اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں اور میں خوش نہیں ہوتا ہوں۔
دیکھو! بہت نزدیکیاں بہت دور لے جاتی ہیں۔
بے پردگی اِک پردہ ہے، بے تکلفی اِک تکلف ہے
وہ پُھول اور کسی شاخ پر نہیں کِھلنا ،
وہ زُلف صِرف میرے ہاتھ سے سُنورنی ہے!
بیٹا: بابا۔۔!! میں شادی کرنا چاہتا ہوں
بابا: سوری کہو
بیٹا: کس بات پر۔۔؟
بابا: سوری کہو
بیٹا:کیوں۔۔؟ میں نے کیا کیا ہے۔۔؟
بابا: پہلے اور چیز سے قبل "سوری" کہو
بیٹا: لیکن ایسی کیا خطا سرزد ہوگئی مجھ سے۔۔۔؟
بابا: پہلے سوری کہو۔۔
بیٹا: پلیز مجھے کوئی ایک وجہ تو بتائیں سوری کہنے کی۔۔
بابا:سوری کہو پہلے
بیٹا: ٹھیک ہے ۔۔ سوری
بابا: ہاں اب تم شادی کے لائق ہو،، کیوں کہ جب تم بغیر کسی وجہ کے سوری کہہ سکو تو پھر شادی کرسکتے ہو
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
اب اُسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مُجھے دام میں لانے والا
صبح دم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صُورت
رات کو غنچہء دل میں سمٹ آنے والا
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اِک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دُنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
منتظر کس کا ہوں ٹُوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
تُم تکّلف کو بھی اِخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
پی ٹی وی کا ایک پُرانا ڈرامہ دیکھ رہا تھا۔ اُس میں لیڈ رول کا ایک ڈائیلاگ ہوتا ہے جو وہ اپنی بیوی کو جواباََ کہتا ہے ۔ ۔
" یہ امیر یا غریب کیا ہوتا ہے، یاں تو انسان اچھا ہوتا ہے یا پھر بُرا ہوتا ہے۔"
آپ نے کبھی چیونٹی کے سامنے اُنگلی رکھی ھے تو دیکھا ہوگا کہ وہ فوراََ راستہ بدل لیتی ھے وہ یہ نہیں سوچتی کہ میرے سامنے کتنی بڑی چیز ھے میرا کیا بنے گا لیکن عجیب بات یہ ھے کہ انسان عقل کے ہونے کے باوجود جب اس کے سامنے ایک راستہ بند ہوتا ھے تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ک اب میرا کیا ہوگا۔
ہمیشہ خُدا کی ذات پر توکّل رکھیں اس کی عطاء عقل و فہم استعمال کریں
کبھی ہمت نہ ہاریں اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں
اداس دل کی اداس باتیں
سمجھنے والا کوئی تو ہوتا_____
کہ جس کی باتوں سے دل سبھلتا
کہ جس کی سنگت میں دل بہلتا_____
جس کی ہلکی سی اک جھلک بھی
ہمارے دکھ کو سمیٹ لیتی______
فلک سے خوشیاں انڈیل دیتی
یا اُس کی نازک سی مسکراہٹ_____
دن کی سبھی تھکاوٹ کو دور کرتی
یا پھر چمکتی وُہ آنکھیں اُس کی_____
ہماری ہستی کا راز ہوتیں،،
ہمارے دُکھ کی کتاب ہوتیں،
جو ہم کو چاہتا، ہم کو پڑھتا،
گزرتے لمحوں کی سختیوں میں،
کوئی تو نازک مزاج ہوتا،
کوئی تو ہوتا
میں تیری سبقت پہ یوں اپنی مات کیسے لکھوں
دکھ کے یا درد کے سب جذبات میں کیسے لکھوں
تم جو گۓ تو پھر پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ہمدم
مجھ پر کیا کیا گزری سب آفات میں کیسے لکھوں
بے نام سے رشتے کا بے نام سا تعلق جوڑے رکھا
دل میں آتے تھے کیا کیا خیالات میں کیسے لکھوں
تم کو گر محبت تھی تو بے رخی میں کمی کرتے
بڑےجلتے ہوئے سے ہیں سوالات میں کیسے لکھوں
جب گۓ تھے تو بہاروں کو بھی ساتھ ہی لیتے جاتے
گلابی رُت میں جو سہے صدمات میں کیسے لکھوں
میں نے تقریبََا 2 سال بعد اسے انبلاک کیا تو دیکھا وہ آن لائن تھی۔ میں بار بار اضطراب میں اُسکا آن لائن سٹیٹس دیکھ رہا تھا ۔ اس نے آج بھی بائیو میں میرا پسندیدہ شعر
لکھا ہوا تھا ۔ میرے دماغ میں بہت سے خیالات آ کر چلے گئے ۔ کیا وہ مجھے بھول چکی ہے ۔ اگر نہیں بُھولی تو رات کے اس پہر ایک بجے بھی آن لائن کس کے لیے ہے ۔ کیا میرا انتظار تھا ؟ یا وہ کسی اور کے حصول میں نکل پڑی تھی۔ میری سوچیں بار بار میری ذہن کو جھنجھوڑ رہی تھیں ۔ میں نے میسج ٹائپ کرنا شروع کیا ۔ کیسی ہو؟ اب تک سوئی کیوں نہیں ۔ لیکن ایک خوف بھی تھا کہ وہ آگے سے کہہ دے کہ تُم کون یا تُمہیں اس سے کیا؟ یا تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ۔ ۔ ۔
میں سارے حق تو کھو چکا تھا ۔ میں اُسے اپنے ہی ہاتھوں تو بےعزت کر کے زندگی سے بےدخل کر چکا تھا ۔ اب کس منہ سے ٹیکسٹ کرتا؟
لیکن پھر دوبارہ ایک بار اس کی آواز سننے کو دل چاہ رہا تھا ۔ میں نے کئی بار یہی فقرہ "تُم کیسی ہو" لکھ کر مٹا دیا ۔ میرے دل میں ماضی کا پچھتاوا تھا ۔ میری ذات میں موجود اکڑ کو آج ٹُوٹے عرصہ گزر گیا تھا ۔
اب انا کی جگہ خوف نے لے لی تھی ۔ جب میرے سے کچھ نا بن پڑا تو میں نے ایک سٹیٹس لگا دیا ۔ جسے ہمیشہ کی طرح اس نے سب سے پہلے سین کیا ۔ میری دھڑکن بے قابو ہو رہی تھی ۔ میری جان حلق میں اٹک چکی تھی ۔ مجھے شدت سے اسکے میسج کا انتظار تھا کہ اسکی جانب سے ایک سٹیٹس لگایا گیا ۔ "میں کسی اور
کی امانت ہوں" ۔ اور میرے سین کرتے ہی وہ سٹیٹس ڈلیٹ ہو چکا تھا ۔ میرا وہم یقیں میں بدل گیا ۔ میں اس سے سوال کرنا چاہتا تھا اسے کہنا چاہتا تھا مگر کیسے؟ اسکی ان 2 سالوں کی اذیت کو میں اب محسوس کر رہا تھا ۔ اسکی حالت زار مجھے اب سمجھ آ رہی تھی ۔ وہ کس کرب سے گزری تھی میں محسوس کر پا رہا تھا ۔ میں نے دوبارہ اسے آن لائن دیکھنا چاہا مگر وہاں فقط سفید دھبہ موجود تھا ۔ اور بائیو بھی غائب ہو چکی تھی ۔ یقینا وہ بلاک کر چکی تھی میرے آنسو میرے ہاتھوں پہ گِر کر خاموش ہو گئے اور درد کی ایک لہر میرے وجود میں اُتر گئی۔ ۔.اور ہاں زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، یہ ایک چوری کی پوسٹ ہے سب کا شکریہ اتنے غور سے پڑھنے پر۔
یہ بھی تو مُمکن ہے تُم جس سے مُحبت کرو وہ تُمہاری فِیلنگز سمجھے ہی نہیں اور پھر یہ بھی تو مُمکن ہے کوئی تُمھاری مُسکراہٹوں پہ مرتا ہو اور تُمہیں خبر ہی نہیں ہو . . .
یہ سب سوچ کر ٹائم پاس کر لیا کرو
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اُس کو شناسائے محبت نہ کروں
رُوح کو اُس کی اسیرِ غمِ اُلفت نہ کروں
اُس کو رُسوا نہ کروں، وقفِ مصیبت نہ کروں
سوچتا ہوں کہ ابھی رنج سے آزاد ہے وہ
واقفِ درد نہیں، خوگرِ آلام نہیں
سحرِ عیش میں اُس کی اثرِ شام نہیں
زندگی اُس کے لیے زہر بھرا جام نہیں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاں
اُس نے دیکھا نہیں دُنیا میں بہاروں کے سوا
نکہت و نُور سے لبریز نظاروں کے سوا
سبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سوا
سوچتا ہوں کہ غمِ دل نہ سناؤں اُس کو
سامنے اُس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروں
خلشِ دل سے اُسے دست و گریباں نہ کروں
اُس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروں
سوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اس کو
وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی
خود تو وہ آتشِ جذبات میں جل جائے گی
اور دُنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گی
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
سوچتا ہوں میں اُسے واقفِ اُلفت نہ کروں
شادی سے واپسی پر ہانیہ بیگم نے حسب معمول ساری روداد بمع تفصیل سنانا شروع کردی مثلاً کس کی میچینگ ٹھیک نہیں تھی کس کا ہئیر سٹائل خراب تھا وغیرہ وغیرہ اور میں ہوں ہاں کرتا رہا۔۔
پھر بیگم بولیں وہاں موجود تمام خواتین نے میرے ڈریس کی تعریف کی اور میرے ہاتھوں پر نظریں گاڑ کر بیٹھی تھیں۔۔بلکہ آنٹی پروین تو چاچی کلثوم کو کہہ رہی تھیں کہ کتنے خوبصورت ہاتھ ہیں شائد دستانے پہن کر برتن دھوتی ہو گی
میں نے ایک طویل آہ بھرتے ہوئے کہا "ظاہر ہے انہوں نے میرے ہاتھ جو نہیں دیکھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain