یہ سن 1996ء کی بات ہے جب لاہور کے ایک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھے۔ ایک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئے تو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگی۔
خیر سے بچے ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھے۔ وہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئے تو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا ایک بچہ گونگا ہے۔
علاج کیلئے بہت گھومے مگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گا۔
دونوں نے دن رات محنت کی، مگر اتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف ایک ہی بچے کے ساتھ جا سکتا تھا۔ ماں تھی، بیمار بچے کو کیسے خود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھی۔ آخر ماں اور
بچے کا ویزہ لگوایا گیا اور ایک دن وہ امریکہ روانہ ہو گئے۔
خاتون نے ائیرپورٹ سے بچے کو لیکر سنٹرل پارک کے علاقے کی طرف نکلی۔ بچہ خوشی سے آگے آگے بھاگتا جا رہا تھا کہ اسے کہیں سے بیس بال کی گیند سر میں آن لگی۔ بچے نے ادھر اُدھر دیکھ کر مارنے والے کو دیکھا اور روتے ہوئے کہا: "او تینوں لیوے مولا۔"
ماں یہ دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گئی ۔ جلدی سے
خاوند کو فون ملایا:
"بچہ بول پڑا ہے اور تینوں لیوے مولا کہا ہے۔"
خاوند یہ سن کر چپ رہا پھر کہا ایک منٹ ٹھہرو۔ تھوڑی دیر کے بعد خاوند کی آواز آئی: مولا تینوں وی لیوے...
گونگے نُو تے ایتھے ہی چھڈ گئی ایں۔"
رابطے بھی رکھتا ہوں راستے بھی رکھتا ہوں
لوگوں سے بھی مِلتا ہوں فاصلے بھی رکھتا ہوں
غم نہیں ہوں کرتا اب، چھوڑ جانے والوں کا
توڑ کر تعلق میں، دَر کُھلے بھی رکھتا ہوں
موسموں کی گردش سے میں ہوں اب نکل آیا
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا ہوں
خود کو ہے اگر بدلا وقت کے مطابق تو
وقت کو بدلنے کے حوصلے بھی رکھتا ہوں
بھر کے بُھول جاتے ہیں گھاؤ فِکر ہے مُجھ کو
زخم کچھ پُرانے سو اَن سِلے بھی رکھتا ہوں
گو کسی بھی منزل کی اب نہیں طلب مُجھ کو
ہر گھڑی میں پیروں میں، آبلے بھی رکھتا ہوں
مانتا ہوں ابرک میں، بات یار لوگوں کی
سوچ کے مگر اپنے، زاویے بھی رکھتا ہوں
اتباف ابرک
تسلیم کا مقام یہ ہے کہ جہاں بھی آپ نے ، جس انسان سے ، جس مقام پر، آپ نے خلوص شروع کر دیا ، تو باقی کی زندگی مخلص ہو گئی ۔
بلکہ میں کہتا ہوں ماضی کی زندگی بھی ٹھیک ہو گئی ۔
حال میں آپ کلمہ پڑھتے ہیں تو ماضی مومن ہو جاتا ہے ۔ آپ نے سنا ہے اس بات کو؟ کیا کہا؟ کلمہ حال میں پڑھتے ہیں اور مومن ماضی ہو جاتا ہے ۔
کافر کا سارا کُفر ختم ہو جاتا ہے کلمہ پڑھنے سے ۔
اس لیے آپ توبہ کرو تو سارا ماضی معصوم ہو جائے گا ۔
توبہ دل سے کرو تو سارا ماضی معصوم ہو جائے گا ۔
اور ﷲ کی اطاعت رضا مندی کے ساتھ کرو تو سارا مستقبل محفوظ ہو جائے گا ۔
واصف علی واصفؒ
(گفتگو 19 صفحہ نمبر 66، 67)
مجھے ڈر لگتا ہے لوگوں سے، انکے قریب آنے سے، انکے چھوڑ جانے سے، بہت سخت لہجوں سے، نرم مزاجوں سے
جان بن جانے سے انجان ہونے سے
بہت خاص ہونے سے بے حد عام ہونے سے
احسان کرنے سے احسان جتانے سے
پہلے ہنسنے سے پھر خود ہی کے رونے سے
ایک دن چھوڑ جانے سے، کبھی نہ لوٹ آنے سے
مجھے ڈر لگتا ہے لوگوں سے
جو تم نے کبھی کی ہی نہیں
مجھے وہ محبت اُداس رکھتی ہے
لاکھ ضبطِ خواہش کے
بے شمار دعوے ہوں
اُس کو بھُول جانے کے
بے پنہ اِرادے ہوں
اور اس محبت کو
ترک کر کے جینے کا
فیصلہ سُنانے کو
کتنے لفظ سوچے ہوں
دل کو اس کی آہٹ پر
برَملا دھڑکنے سے
کون روک سکتا ہے
پھر وفا کے صحرا میں
اُس کے نرم لہجے اور
سوگوار آنکھوں کی
خُوشبوؤں کو چھُونے کی
جستجو میں رہنے سے
رُوح تک پگھلنے سے
ننگے پاؤں چلنے سے
کون روک سکتا ہے
آنسوؤں کی بارش میں
چاہے دل کے ہاتھوں میں
ہجر کے مُسافر کے
پاؤں تک بھی چھُو آؤ
جِس کو لَوٹ جانا ہو
اس کو دُور جانے سے
راستہ بدلنے سے
دُور جا نکلنے سے
کون روک سکتا ہے
میری زندگی کی ہر بیتی جمعرات کے نام
جمعرات کی سپہریں بھی درگاہ کے کبوتروں کی طرح مجذوب سی ہوتی ہیں۔ جن کی گھٹی گھٹی سی سہمی دھوپ اپنے پر سمیٹے منڈیروں پر اداسی سے پڑی شام کے بجھنے کی منتظر رہتی ھے۔ شام کے جس کی سانسوں میں لنگروں کی مٹھاس سے بھری چکنی باس ہوتی ھے۔ چندے کے سکوں کی جھنکار ہوتی ھے۔ رنگین کپڑوں کے لہلہاتے ترنگے پھولوں کی چادریں دھمالیں اور بجھتے پھڑ پھڑاتے چراغ ہوتے ہیں۔ جس کے نیلے آنچل کے پلو میں بندھےکچھ آنسو ، منتیں، مرادیں اور دعائیں بھی ہوتی ہیں۔ شائد وقت بہت گزر گیا ھے۔اور بہت سی روایتیں اپنی معاشرتی عمر پورا کرکے مر چکی ہیں۔ اب جمعرات کی سپہروں میں پہلے جیسی زردے ، پلاؤ ، اور اگر بتیوں کی مہک میں بجھی خاموشی بھی مر چکی ھے۔ لیکن پھر
بھی ہر جمعرات کی ڈھلتی سپہر میں میری گلی کے کونے سے جب ٹلیوں والے فقیر کے گلے میں لٹکتی گھنٹیوں کی گونج ابھرتی ھے اور کسی خانہ بدوش جیسی مستقل مزاجی سے اپنا سفر طے کرتی گلی کے آخری کونے میں معدوم ہو جاتی ھے۔تو میرا ذہن بہت پیچھے اس دور میں چلا جاتا ھے۔ جب ابھی لاؤڈ اسپیکر کے لبوں پر پابندی کی ٹیپ نہیں لگی تھی۔اور جمعرات کی سپہر کے ڈھلتے سائے میں قریبی مسجد سے ہوک میں ڈوبی آواز میں کوئی نعتیہ یا عارفانہ کلام پڑھتا تھا۔ تو گھر کی نیم تاریک پڑتی سیڑھیوں میں بیٹھے وجود کی روح بھی درگاہ کے کبوتر کی طرح ملول سی ہو جاتی۔ جو جسم کا پنجرہ توڑ کر کسی خانقاہ کی مقدس فضاؤں میں تحلیل ہو جانا چاہتی
تیز ہوا اور شب بھر بارش
اندر چپ اور باہر بارش
ایسے پہلے کب برسی تھیں
آنکھیں اور برابر بارش
صحرا تو پیاسے کا پیاسا
اور بھرے دریا پر بارش
اس سر تال کا اور مزا تھا
کچے گھر کی چھت پر بارش
جھوم رہے ہیں بھیگ رہے ہیں
پیڑ پرندے منظر بارش
میں نے بادل کو بھیجی تھی
اک کاغذ پر لکھ کر بارش
میرے اشکوں سے لکھے کو
وہ پڑھتا ہے اکثر بارش
کون یہ دیکھے دیدۂ پر نم
اک بارش کے اندر بارش
یاد بہت آتے ہیں جاناںؔ
ہاتھ میں ہاتھ اور سر پر بارش
انہیں یہ ضد کہ میں زخموں کا اشتہار بھی دوں
مجھے تو شرم سی آتی ہے آہ بھرتے ہوئے
خربوزوں کے کھیت کے باہر مجھے ایک شخص ملا جو ڈنڈا پکڑ کر کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا , یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ اس شخص نے جواب دیا بہت ایماندار ہیں ۔ مجال ہے جو کبھی کوئی میرے خربوزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے , میں نے کہا بھائی , پھر آپ یہ ڈنڈا لے کر کیوں کھڑے ہیں؟ اس نے جواب دیا
ان لوگوں کو ایماندار رکھنے کے لئے ۔
ابن انشاء
حال اس کا تیرے چہرے پہ لکھا لگتا ہے
وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے تیرا کیا لگتا ہے
یوں تو ہر چیز سلامت ہے میری دنیا میں
ایک تعلق ہے جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے
میں نے سوچا تھا کہ آباد ہوں اک شہر میں میں
یہاں تو ہر شخص کا انداز جدا لگتا ہے
مدتیں بیت گئیں طے نہ ہوئی منزلِ شوق
ایک عالم میرے رستے میں پڑا لگتا ہے
اے میرے جذبۂ دوراں مجھ میں کشش ہے اتنی
جو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ہے
جانے کون سی پستی میں گِرا ہوں شہزاد
سورج بھی اس قدر دور ہے کہ دِیا لگتا ہے
بعض دفعہ ہمارے اردگرد چیزیں , رویے سب کچھ نارمل هوتا ھے سب کچھ ہر طرح کا رشتہ تعلق درست جانب رواں ھوتا ھے بظاہر کچھ بھی روڈ نہیں ھوتا پھر اچانک سے ھر منظر ھر معاملہ خراب دکھائی دینے لگتا ھے رشتوں میں شک نظر آنے لگتا ھے وجہ خود کا اندر کا موسم ٹھیک نہیں ھوتا گرد تو خود کی نگاہ پر آ پڑتی ھے ۔
بات یہ نہیں هوتی باقی بگڑ گئے ہیں بات یہ هوتی خود سے ناراضگی چل رهی هوتی ھے صحیح نہج سے سوچ زگ زیگ راستوں پر چل پرٹی ھے
جب میں نے کوئی چیز چاہی اُسے حاصل کرنا چاہا تو وہ چیز میرے لیے مصیبت بن گئی میرا سکون چھن گیا ۔ ۔ ۔
اور جب میں نے کوئی چیز چاہی اور صبر سے بیٹھ گیا وہ چیز خُود مُجھ تک پہنچی بغیر میری کسی محنت کے۔
تو اِس سے یہ بات سمجھ آئی کہ جِسے میں نے چاہا وہ بھی میری چاہت میں مبتلا ہے اور خُود میری تلاش میں تھی ۔ ۔ ۔
اِس میں ایک باریک نُکتہ ہے جو اِسے سمجھ سکے۔
مولانا جلال الدین رومیؒ
قاصد سن چھوڑ گلے، شکوے یہ بتا،
اس نے پہلے کیا کہا،پھر کیا کہا پھر کیا کہا؟
آغاز یہ تھا کہ:
تم اجنبی تھے اور جب میں تمہیں بتاتا تھا کہ میں اداس ہوں تو پھر میں اداس نہیں رہتا تھا۔
انجام یہ ہے کہ:
تم دوست ہو اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں اور میں خوش نہیں ہوتا ہوں۔
دیکھو! بہت نزدیکیاں بہت دور لے جاتی ہیں۔
بے پردگی اِک پردہ ہے، بے تکلفی اِک تکلف ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain