Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

قصے پُرنم نہیں رہے اس میں
جب ترے غم نہیں رہے اس میں
آپ کس دل کی بات کرتے ہیں
اب وہ عالم نہیں رہے اس میں
غمِ دوراں سے دل ہے یوں بہلا
تیرے ماتم نہیں رہے اس میں
اب تو کردار داستاں کے کہیں
آپ کچھ جم نہیں رہے اس میں
مانتا ہوں وجود ہے باقی
اب مگر ہم نہیں رہے اس میں
سچ یہ ہے ، جسم بھی ہے تھکنے لگا
ہم بھی تو کم نہیں رہے اس میں
ہر ضرورت کہے نچوڑو اسے
تھوڑا بھی دم نہیں رہے اس میں
آنکھ نے دیکھی ہے حیات ابرک
اشک اب تھم نہیں رہے اس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

Offline
 

ا چھی آنکھوں کا یہ نہیں مطلب
جس کو چا ہو برباد کرو

Offline
 

کیسے سادہ دل لوگ ہوتے ہیں ۔موبائل فون کی سکرین پہ کوئی تحریر پڑھنے میں دقت ہو تو کہتے ہیں۔
ذرا بتی تو جلانا

Offline
 

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے
آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے
میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے
منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے

Offline
 

میں اس کے ذرا قریب ہو گیا اور کہا کہ " جوانی اچھی ہوتی ہے یا بڑھاپا "۔
اس نے کہا" جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی " ۔
میں نے کہا وہ کیسے ؟
بولا بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو تو وہ اپنی پہلے والی غلطیاں شاید نہ دہرائیں اور اگر جوان بوڑھوں کو تجربے کے طور پر لیں تو تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گذرے ۔
اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کی تھی کہ بڑے مُفکر اور دانشور ایسی بات نہیں کر سکتے ۔
اشفاق احمد ۔ زاویہ سے اقتباس

Offline
 

اُس نے ابھی کہا ہی تھا فرض کیجیے
ہم نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہن لیے

Offline
 

ہمارے کلچر کی بڑی نفع بخش سی روایت ہوا کرتی تھی ۔پتہ نہیں اب ھے یا نہیں ۔لیکن ہمارے وقتوں میں ہوا کرتی تھی۔کوئی مہمان آتا تو شاپر میں تازہ فروٹس لاتا اور جاتے ہوئے گھر کے بچے کی مٹھی میں ایک دو نوٹ تھما جاتا۔ جو اس وقت تو امی سر پہ دوپٹہ جما کر بڑی سعادتمندی سے
نئیں پائین رہن دو اس کی کیا ضرورت تھی
نئیں ماما جی رہن دو اس کی کیا ضرورت تھی
اور ۔نوٹ وصول کرلینے پہ پائین اور ماما جی کی پشت پیچھے سے آنکھیں بھی دکھائی جاتیں
اور ہوائی مکے بھی
لیکن ۔ ماما جی اور پائن کے جاتے ہی وہ نوٹ فورا سے امی جھپٹ لیتیں۔
بسس یونہی۔ مدتوں پہلے خالو کے دیئے ہوئے دو سو روپے یاد آگئے۔
مدتوں بعد وہی خالو تین سال پہلے آئے تھے ۔اور جاتے ہوئے پانچ ہزار کا نوٹ تھما گئے۔
مگر بسس وہ دو سو روپے

Offline
 

ایک لڑکی دو پاگل
کچھ نفسیات کے طلبا ایک پاگل خانے میں ریسرچ کے لئے گئے۔۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک فرقت زدہ نوجوان ایک ربڑ کی گڑیا کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔۔۔ گاہے بگاہے وہ گڑیا کو چومتا ہے اور کہتا ہے کہ روبی۔۔۔ روبی۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔میری پیاری! تم بن میری دنیا اندھیری ہے۔۔۔۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔۔طلبا پر اس المناک منظر کا گہرا اثر پڑا۔۔۔ انہوں نے ڈاکٹر سے اس نوجوان کی کہانی پوچھی۔۔۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ نوجوان ایک روبی نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔۔ وہ بھی اس کی محبت کا دم بھرتی تھی۔۔۔دونوں میں شادی کے عہد و پیمان بھی ہو چکے تھے لیکن اس لڑکی نے اس نوجوان سے بیوفائ کی۔۔۔ اس نے اسے چھوڑ کر دوسرے نوجوان سے شادی کرلی۔۔۔ اس صدمے نے اس نوجوان کا دماغ فیل کر دیا اور اب یہ اس گڑیا کو سینے سے لگا کر کبھی روتا ہے

Offline
 

کبھی آہیں بھرتا ہے۔۔۔۔۔یہ دردناک کہانی سن کر طلبا کا گروہ آگے چل دیا۔۔۔۔دو چار کمرے گزرنے کے بعد ان کو ایک اور نوجوان ایک کوٹھری میں بند نظر آیا، جو دیواروں سے سر ٹکراتا تھا، گریبان پھاڑا ہوا تھا، کبھی اپنے گالوں پر طماچے مارتا تھا، منہ سے غصہ کی شدت میں تھوک نکل رہا تھا،، بار بار چلاتا تھا'' دفع ہو جائو، نکل جائو میری زندگی سے، ر۔۔۔ گیٹ لاسٹ''۔۔۔ ڈاکٹر نے اس نوجوان کی کوٹھری کے سامنے رک کر کہا ۔۔'' اور یہ وہ نوجوان ہے جس سے روبی نے شادی کی تھی۔۔'

Offline
 

” ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ! “
ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ..__
ﮬﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ
ﮬﻮ ﮬﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯽ
ﭼﻠﮯ ﺑﺎﺩﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮐﺮ،
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﻟﮯ ﭼﻠﮯ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ !
ﮬﻮﺍ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻡ ﮬﻮ !_
ﮬﻮﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻡ ﮬﻮ ......
ﮐﺴﯽ ﺁﺑﺸﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﭦ ﻣﯿﮟ !!!

Offline
 

ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﮯ ﻣﻮﻡ ﺳﺎ
ﺟﮩﺎﮞ ﺁﮨﭩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺉ ﻧﺎ ﮬﻮﮞ
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﺐ ﯾﻮﮞ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ
ﮐﮧ ﭘﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﮟ
ﻧﮧ ﺷﻤﺎﺭ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ
ﻧﺎ ﮬﻮﮞ ﺳﺎﻝ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ !
ﮬﻤﯿﮟ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮬﻮ .......
ﺗﻮ ﮬﻮ ﮐﺎﺵ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮬﻮ ﮐﺎﺵ ﯾﻮﮞ
ﺳﺒﮭﯽ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﭘﮭﭩﮯ ﮬﻮﮮ
ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﮞ ﻧﺎ ﮬﻮ !!
______ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ

Offline
 

نیٹ ورک 📲 ❤ 📱
جب مواصلاتی رابطوں کےسگنل بجھ جاتے ہیں
تو زندگی بھی بجھنے سی لگتی ھے
مایوسی کا سبز اشارہ جل اٹھتا ھے
اندیشوں کے سائرن بجنے لگتے ہیں
اوہام کا ریڈار مسلسل گردش میں رہتا ھے
کجا ہستی !!!! کی ٹوں ٹوں میں
کچھ بھی اور سنائی نہیں دیتا
تمہاری جلتی ہوئی سبز بتی
زندگی کی لکیر کا زگ زیگ ھے
جب یہ بتی بجھ جاتی ھے
اور مسلسل بجھی ہی رہتی ھے
تو زندگی کی یہ لکیر سیدھی ھے
بہت سیدھی _____________

Offline
 

ایک بار امریکہ میں ایک ہوائی جہاز خراب موسم کی وجہ سے غوطے کھانے لگا
ہوائی جہاز کے پائلٹ نے اپنا سارا تجربہ اور مہارت لگا کے پہاڑوں اور درختوں کے درمیان سے بچتے بچاتے آڑے ترچھی کٹ مار کے طیارے کو بچا کر ائرپورٹ پہ لے آیا
اس کو انعام سے نوازا گیا.
اور پوچھا گیا کی ایسی مہارت اور تجربہ اس نے کہا اور کس طرح حاصل کیا ... ؟؟
وہ بڑی نرمی سے بولا ...
"میں پہلے لاہور میں رکشہ چلاتا تھا

Offline
 

اور پھر ھمارا سامنا ایسے لوگوں سے بھی ھوتا ھے جنہیں ھم جانتے تک نہیں , جو ھم سے بس ایک لفظ , ایک جملہ کہتے ھیں ۔ جو اپنی زندگی کا ایک منٹ یا آدھ گھنٹہ ھمیں سونپ کر ھماری زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیتے ھیں _

Memes & Satire image
O  : Dead man definitely - 
Beautiful Structures image
O  : Sculpture ... - 
Space Tourism
O  : Space Tourism - 
Beautiful Nature image
O  : Autumn post - 
Offline
 

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تیرے نیوزی لینڈ بننے کا ڈر بھی نہیں جاتا

Offline
 

شبِ ہِجر وہ دَمبَدَم یاد آئے
بَہُت یاد آکر بھی کَم یاد آئے
اِک ایسا بھی گُزرا ہے فُرقت میں عالم
نہ تُم یاد آئے نہ ہم یاد آئے
کرم پر فِدا دِیدَہ و دِل تھے لیکن
کرم سے زیادہ سِتم یاد آئے
تِری یاد جَب آئی تنہا ہی آئی
خوشی یاد آئی نہ غَم یاد آئے
زمانہ اُنہیں یاد کرتا ہے لیکن
اُنہیں یاد آئے تو ہم یاد آئے
شجیعؔ آج تَنہا چَمَن میں گئے تھے
بَہُت اُن کے نقشِ قدم یاد آئے