قصے پُرنم نہیں رہے اس میں
جب ترے غم نہیں رہے اس میں
آپ کس دل کی بات کرتے ہیں
اب وہ عالم نہیں رہے اس میں
غمِ دوراں سے دل ہے یوں بہلا
تیرے ماتم نہیں رہے اس میں
اب تو کردار داستاں کے کہیں
آپ کچھ جم نہیں رہے اس میں
مانتا ہوں وجود ہے باقی
اب مگر ہم نہیں رہے اس میں
سچ یہ ہے ، جسم بھی ہے تھکنے لگا
ہم بھی تو کم نہیں رہے اس میں
ہر ضرورت کہے نچوڑو اسے
تھوڑا بھی دم نہیں رہے اس میں
آنکھ نے دیکھی ہے حیات ابرک
اشک اب تھم نہیں رہے اس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک
ا چھی آنکھوں کا یہ نہیں مطلب
جس کو چا ہو برباد کرو
کیسے سادہ دل لوگ ہوتے ہیں ۔موبائل فون کی سکرین پہ کوئی تحریر پڑھنے میں دقت ہو تو کہتے ہیں۔
ذرا بتی تو جلانا
تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے
آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے
میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے
منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے
میں اس کے ذرا قریب ہو گیا اور کہا کہ " جوانی اچھی ہوتی ہے یا بڑھاپا "۔
اس نے کہا" جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی " ۔
میں نے کہا وہ کیسے ؟
بولا بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو تو وہ اپنی پہلے والی غلطیاں شاید نہ دہرائیں اور اگر جوان بوڑھوں کو تجربے کے طور پر لیں تو تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گذرے ۔
اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کی تھی کہ بڑے مُفکر اور دانشور ایسی بات نہیں کر سکتے ۔
اشفاق احمد ۔ زاویہ سے اقتباس
اُس نے ابھی کہا ہی تھا فرض کیجیے
ہم نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہن لیے
ہمارے کلچر کی بڑی نفع بخش سی روایت ہوا کرتی تھی ۔پتہ نہیں اب ھے یا نہیں ۔لیکن ہمارے وقتوں میں ہوا کرتی تھی۔کوئی مہمان آتا تو شاپر میں تازہ فروٹس لاتا اور جاتے ہوئے گھر کے بچے کی مٹھی میں ایک دو نوٹ تھما جاتا۔ جو اس وقت تو امی سر پہ دوپٹہ جما کر بڑی سعادتمندی سے
نئیں پائین رہن دو اس کی کیا ضرورت تھی
نئیں ماما جی رہن دو اس کی کیا ضرورت تھی
اور ۔نوٹ وصول کرلینے پہ پائین اور ماما جی کی پشت پیچھے سے آنکھیں بھی دکھائی جاتیں
اور ہوائی مکے بھی
لیکن ۔ ماما جی اور پائن کے جاتے ہی وہ نوٹ فورا سے امی جھپٹ لیتیں۔
بسس یونہی۔ مدتوں پہلے خالو کے دیئے ہوئے دو سو روپے یاد آگئے۔
مدتوں بعد وہی خالو تین سال پہلے آئے تھے ۔اور جاتے ہوئے پانچ ہزار کا نوٹ تھما گئے۔
مگر بسس وہ دو سو روپے
ایک لڑکی دو پاگل
کچھ نفسیات کے طلبا ایک پاگل خانے میں ریسرچ کے لئے گئے۔۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک فرقت زدہ نوجوان ایک ربڑ کی گڑیا کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔۔۔ گاہے بگاہے وہ گڑیا کو چومتا ہے اور کہتا ہے کہ روبی۔۔۔ روبی۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔میری پیاری! تم بن میری دنیا اندھیری ہے۔۔۔۔۔۔ پلیز آ جائو۔۔۔طلبا پر اس المناک منظر کا گہرا اثر پڑا۔۔۔ انہوں نے ڈاکٹر سے اس نوجوان کی کہانی پوچھی۔۔۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ نوجوان ایک روبی نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔۔ وہ بھی اس کی محبت کا دم بھرتی تھی۔۔۔دونوں میں شادی کے عہد و پیمان بھی ہو چکے تھے لیکن اس لڑکی نے اس نوجوان سے بیوفائ کی۔۔۔ اس نے اسے چھوڑ کر دوسرے نوجوان سے شادی کرلی۔۔۔ اس صدمے نے اس نوجوان کا دماغ فیل کر دیا اور اب یہ اس گڑیا کو سینے سے لگا کر کبھی روتا ہے
کبھی آہیں بھرتا ہے۔۔۔۔۔یہ دردناک کہانی سن کر طلبا کا گروہ آگے چل دیا۔۔۔۔دو چار کمرے گزرنے کے بعد ان کو ایک اور نوجوان ایک کوٹھری میں بند نظر آیا، جو دیواروں سے سر ٹکراتا تھا، گریبان پھاڑا ہوا تھا، کبھی اپنے گالوں پر طماچے مارتا تھا، منہ سے غصہ کی شدت میں تھوک نکل رہا تھا،، بار بار چلاتا تھا'' دفع ہو جائو، نکل جائو میری زندگی سے، ر۔۔۔ گیٹ لاسٹ''۔۔۔ ڈاکٹر نے اس نوجوان کی کوٹھری کے سامنے رک کر کہا ۔۔'' اور یہ وہ نوجوان ہے جس سے روبی نے شادی کی تھی۔۔'
” ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ! “
ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ..__
ﮬﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ
ﮬﻮ ﮬﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯽ
ﭼﻠﮯ ﺑﺎﺩﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮐﺮ،
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﻟﮯ ﭼﻠﮯ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ !
ﮬﻮﺍ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻡ ﮬﻮ !_
ﮬﻮﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻡ ﮬﻮ ......
ﮐﺴﯽ ﺁﺑﺸﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﭦ ﻣﯿﮟ !!!
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﮯ ﻣﻮﻡ ﺳﺎ
ﺟﮩﺎﮞ ﺁﮨﭩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺉ ﻧﺎ ﮬﻮﮞ
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﺐ ﯾﻮﮞ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ
ﮐﮧ ﭘﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﮟ
ﻧﮧ ﺷﻤﺎﺭ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ
ﻧﺎ ﮬﻮﮞ ﺳﺎﻝ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ !
ﮬﻤﯿﮟ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮬﻮ .......
ﺗﻮ ﮬﻮ ﮐﺎﺵ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮬﻮ ﮐﺎﺵ ﯾﻮﮞ
ﺳﺒﮭﯽ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﭘﮭﭩﮯ ﮬﻮﮮ
ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﮞ ﻧﺎ ﮬﻮ !!
______ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ
نیٹ ورک 📲 ❤ 📱
جب مواصلاتی رابطوں کےسگنل بجھ جاتے ہیں
تو زندگی بھی بجھنے سی لگتی ھے
مایوسی کا سبز اشارہ جل اٹھتا ھے
اندیشوں کے سائرن بجنے لگتے ہیں
اوہام کا ریڈار مسلسل گردش میں رہتا ھے
کجا ہستی !!!! کی ٹوں ٹوں میں
کچھ بھی اور سنائی نہیں دیتا
تمہاری جلتی ہوئی سبز بتی
زندگی کی لکیر کا زگ زیگ ھے
جب یہ بتی بجھ جاتی ھے
اور مسلسل بجھی ہی رہتی ھے
تو زندگی کی یہ لکیر سیدھی ھے
بہت سیدھی _____________
ایک بار امریکہ میں ایک ہوائی جہاز خراب موسم کی وجہ سے غوطے کھانے لگا
ہوائی جہاز کے پائلٹ نے اپنا سارا تجربہ اور مہارت لگا کے پہاڑوں اور درختوں کے درمیان سے بچتے بچاتے آڑے ترچھی کٹ مار کے طیارے کو بچا کر ائرپورٹ پہ لے آیا
اس کو انعام سے نوازا گیا.
اور پوچھا گیا کی ایسی مہارت اور تجربہ اس نے کہا اور کس طرح حاصل کیا ... ؟؟
وہ بڑی نرمی سے بولا ...
"میں پہلے لاہور میں رکشہ چلاتا تھا
اور پھر ھمارا سامنا ایسے لوگوں سے بھی ھوتا ھے جنہیں ھم جانتے تک نہیں , جو ھم سے بس ایک لفظ , ایک جملہ کہتے ھیں ۔ جو اپنی زندگی کا ایک منٹ یا آدھ گھنٹہ ھمیں سونپ کر ھماری زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیتے ھیں _
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تیرے نیوزی لینڈ بننے کا ڈر بھی نہیں جاتا
شبِ ہِجر وہ دَمبَدَم یاد آئے
بَہُت یاد آکر بھی کَم یاد آئے
اِک ایسا بھی گُزرا ہے فُرقت میں عالم
نہ تُم یاد آئے نہ ہم یاد آئے
کرم پر فِدا دِیدَہ و دِل تھے لیکن
کرم سے زیادہ سِتم یاد آئے
تِری یاد جَب آئی تنہا ہی آئی
خوشی یاد آئی نہ غَم یاد آئے
زمانہ اُنہیں یاد کرتا ہے لیکن
اُنہیں یاد آئے تو ہم یاد آئے
شجیعؔ آج تَنہا چَمَن میں گئے تھے
بَہُت اُن کے نقشِ قدم یاد آئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain