حسن اتفاق کی بہترین مثال ایڑھیوں میں دیکھنے کو ملتی ھے۔ دونوں ایک ساتھ ہی پھٹتی ہیں دانشور ڈی ڈی پر حیرانگی تو ہوتی ہوگی اور میری تعریف کرنے کے با رے میں سوچتے ہی رہتے ہیں کہ کیسے کہیں اور کیا ارے شکریہ کی کوئی بات نہیں یہ تو میرا اخلاقی فرض تھا اب علم کے۔۔۔اس نادر معلومات کو ابھی فریم کروا کر رکھیں تاکہ آنے والی نسلیں اس علم سے مستفید ہو سکیں۔۔شکریہ
مجھے محسوس ھوتا ھے وہ بلکل میرے جیسا ھے کہ جیسے عکس پانی میں یا سایہ روبرو میرے وھی لہجہ، وھی باتیں وھی آنکھوں سے ہنس دینا کبھی جو روٹھنا تو بےرخی کی حد ھی کر جانا کبھی آنکھوں کے رستے سے کہیں دل میں اتر جانا کبھی بےچین رکھنا خود کو
مجھ کو بھی سزا دینا کبھی اک پل میں ہنس دینا میری دنیا سجا دینا کبھی تو برف سا لہجہ نگاہ بھی سرد کر لینا کبھی تتلی کے سارے رنگ میرے دامن میں بھر دینا مجھے اکثر یہ لگتا ھے وہ بلکل میرے جیسا ھے کہ جیسے-----عکس پانی میں یا سایہ روبرو----میرے!
خُوش رہنا شروع کیجئے ایک وقت تھا خُوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔ دوستوں سے ملکر، عزیز رشتہ داروں سے ملکر، نیکی کرکے، کسی کا راستہ صاف کرکے، کسی کی مدد کرکے۔ خربوزہ میٹھا نکل آیا، تربوز لال نکل آیا، آم لیک نہیں ھوا، ٹافی کھا لی، سموسے لے آئے، جلیبیاں کھا لیں،
داخلہ مل گیا، پاس ھوگئے، میٹرک کرلیا، ایف اے کرلیا، بی اے کر لیا، ایم اے کرلیا، کھانا کھالیا، دعوت کرلی، شادی کرلی، عمرہ اور حج کرلیا، چھوٹا سا گھر بنا لیا، امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا، بہن کیلئے جیولری لے لی، بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے، اولاد آگئی اولاد بڑی ھوگئی، انکی شادیاں کردیں- نانے نانیاں بن گئے - دادے دادیاں بن گئے - سب کچھ آسان تھا اور سب خوش تھے. پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی،
بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے، پوزیشن کیا آئے، نمبر کتنے ہیں، جی پی اے کیا ھے، لڑکا کرتا کیا ہے، انڈسٹری بن گئی. ھم سے ھمارے دور ھوگئے شاید ہی ہمارے بچوں کو فوج کے عہدوں کا پتہ ہو پر ان کو ڈی ایچ اے کونسے شہر میں ہیں، سب پتہ ہے، گھر کتنے کنال کا ہو، پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں، گھر اوقات سے بڑے ہو گئے، اور ہم دور دور ہو گئے، ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل سب آگئے، سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے - پھر ان کے بل بجلی کا بل، پانی کا بل، گیس کا بل، موبائل کا بل، سروسز کا بل،
پھر بچوں کی وین، بچوں کی ٹیکسی، بچوں کا ڈرائیور، بچوں کی گاڑی، بچوں کے موبائل، بچوں کے کمپیوٹر، بچوں کے لیپ ٹاپ، بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں، جہاز، فاسٹ فوڈ، باھر کھانے، پارٹیاں، پسند کی شادیاں، دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر، جم، پارک، اس سال کہاں جائیں گے، یہ سب ہم نے اختیار کئے اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں - کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھودیا ہے۔
جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا - اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔ اپنی زندگی کو سادہ بنائیے تعلق بحال کیجئے، دوست بنایئے، دعوت گھر پر کیجئے، بے شک چائے پر بلائیں، یا پھر آلو والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے، دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے، واٹس ایپ فیس بک زرا کم استعمال کیجئے ، آمنے سامنے بیٹھئیے، دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے۔ یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے - بلکہ مفت، اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں، اور پھر حاصل کرتے ھیں۔ خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھوجائے گا۔ بس محسوس کرنے کی بات ہے ،
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے- ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی ۔ ہمسائے کی بیل تو بجائیے - ملئے مسکرائیے، بس مسکراھٹ واپس آجائے گی، دوستوں سے ملئے دوستی کی باتیں کیجئے ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ھرگز مت کیجئے۔ پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دوحصے کرکے کھاتے تھے ،فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی لیتے تھے. ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔ آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ہے ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔ آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ھیں. خوش رہنے کے لئے بچوں جیسے بن کے تو دیکھیں۔ شکریہ
کلام کرتی نہیں میری چشم تر جیسے تمہیں نہیں ہے مرے حال کی خبر جیسے کہیں جہاں میں سُکھ بھی نہیں ہے گھر جیسا کہیں جہاں میں دُکھ بھی نہیں ہیں گھر جیسے چلا ہے اُس کی گلی کو اُسی طرح انورؔ سحر کو لوگ روانہ ہوں کام پر جیسے