مرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں
فقط تجھ کو جان وفا چاہتا ہوں
مرے ہو ہمیشہ رہو گے مرے ہی
کہو منہ سے تیرے سُنا چاہتا ہوں
وفا کا ہوں طالب وفا کی ہے عادت
وفا کر رہا ہوں وفا چاہتا ہوں
محبت ہو دونوں طرف ایک جیسی
یہ کیا کہہ رہا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں
رہے اب نہ باقی ذرا اجنبیت
میں تیرا سراپا بنا چاہتا ہوں
ترے پیار کی پیاری دنیا میں کھو کر
ترے پیار کا آسرا چاہتا ہوں
محبت میں دونوں کو ہو بیقراری
میں اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں
تری مست آنکھوں سے آنکھیں ملا کر
میں یوں مست و بے خود بنا چاہتا ہوں
عجب تھا اس کی دلداری کا انداز
وہ برسوں بعد جب مجھ سے مِلا ہے
بَھلا میں پوچھتا اس سے تو کیسے
متاعِ جاں! تمہارا نام کیا ہے؟
دنیا بھر کے جھگڑے, زمانے کے قصے , غم دوراں , غم جاناں سب کچھ بھول کر اپنے من کی سیر کرنا بس خود کے لیے ایسے وقت میں خاموشی کی چاہ ہونا جب لفظ بھی بے اثر بے معنی ہو چکے ہوں ۔
میری زندگی کے کھوئے ہوئے حصے بھی مجھ سے ملنے آ سکتے ہیں , صبح تک لوٹ بھی جائیں گے تو کوئی غم نہیں ۔
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے ہم اپنے کام سے
" اُس نے یہ کہ کے زخم بخشا ہے ،
تُجربے .......... معتبر بناتے ہیں ...
"چند سادہ سے لفظ"
آپ اور آپ کے دوست میں لڑائ ہوجاتی ہے
وہ رُوٹھ کر چلا جاتا ہے
آپ وہیں بیٹھے رہتے ہیں
کچھ دیر گزرتی ہے
وہ لوٹ آتا ہے
پاس بیٹھ جاتا ہے
دونوں خاموش
پھر اُس کی آواز آتی ہے
"چلیں"
آپ کہتے ہیں
"ہممم"
اور دونوں وہاں سے اُٹھ جاتے ہیں
کوئ نئ سی بات لے کر۔
بہت اچھا لگتا ہے
اُسے یقین ہو کہ آپ نہیں اُٹھیں گے
اور آپ کو یقین ہو کہ
وہ لوٹ کر ضرور آئے گا۔
سالوں پہلے یہ ڈی ڈی اکاؤنٹ بنایا تھا تو پتہ نہیں کب ایک محترمہ فالو لِسٹ میں شامل ہوئیں جو کہ اتنی خُوبصورت ہیں جیسے حُسن کے تذکرے مشہور ناولز یا خطہء برصغیر کے معروف شعراء کے رومانوی کلاموں میں مِلتے ہیں۔ انہوں نے میری ایک پُرانی پوسٹ کو نیلے والا لائک دیاہے خُوشی ہے کہ کم نہیں ہورہی... نشہ ہے کہ اُتر نہیں
رہا

جب آپکو معلوم ہو جائے کہ آپ گڑھے کے اندر ہیں تو دانشمندی اس میں ہے کہ مزید کھودنا بند کر دیں , اس سے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ آپ اور نیچے نہیں جائیں گے اور دوسرا یہ کہ بیلچہ ایک طرف رکھ دینے کے بعد اپ اپنی توانائی ٹھیک جگہ پر لگا سکتے ہیں اور باہر نکلنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں,
حقیقت کو تسلیم کر لینا مستقل مزاج ہونے سے زیادہ مفید خاصیت ہے ۔
جو لوگ ہمیں نہیں جانتے، ان کی نظر میں ہم عام ہیں۔
جو ہم سے حسد رکھتے ہیں، ان کی نظر میں ہم مغرور ہیں۔
جو ہمیں سمجھتے ہیں، ان کی نظر میں ہم اچھے ہیں۔
جو ہم سے محبت کرتے ہیں، ان کی نظر میں ہم خاص ہیں۔
جو ہم سے دشمنی رکھتے ہیں، ان کی نظر میں ہم بُرے ہیں۔
ہر شخص کا اپنا ایک الگ نظریہ اور دیکھنے کا طریقہ ھے۔
لہذا دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کے پیچھے، اپنے آپ کو مت تھکائیے۔
اللّہ تعالٰی آپ سے راضی ھو جائے، یہی آپ کے لئے کافی ھے
لوگوں کو راضی کرنا ایسا مقصد ھے، جو کبھی پورا نہیں ھو سکتا۔اللّہ تعالٰی کو راضی کرنا ایسا مقصد ھے، جس کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔تو جو چیز مل نہیں سکتی، اسے چھوڑ کر وہ چیز پکڑیئے، جسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔
My Damadam followers are like my pen collection . I have 118 but only one writes
وہ جنہوں نے پوسٹ پر لائک دے کر خُوشی سے سرشار کیا تھا انہوں نے دُعا دی ہے " آپ جیو ہزاروں سال "
میں نے بھی جواباََ کہہ دیا کہ کیا فائدہ اُن ہزاروں سالوں کا جب ایک بھی دِن آپکے ہاتھ کی بریانی اور چائے میسر نہ ہو۔
دوستو! کیا میں ٹھیک جا رہا ہوں ....؟
جب میں نے سمجھ لیا کہ وہ جبار اور قہار بھی ہے تو میں نے اس سے اس کا انصاف مانگنے کی بجائے، اس کا فضل مانگنا شروع کر دیا
کما ل یہ ہے کہ ایک ہی عمر تھی جسے ھم
نجانے کس کس کے نام کرنے کا سو چتے تھے
دِل کے دام کتنے ہیں، خواب کتنے مہنگے ہیں . . تُم نہ جان پاؤ گے.....!
شہر کے دکاندارو.....!
کاروبارِ اُلفت میں
سُود کیا زیاں کیا ہے
تم نہ جان پاؤ گے.........!
زندگی مُحبت کے بغیر ایسی ہے جیسے ایک پیڑ ہو جِس پہ پُھول ہو نہ پھل۔
تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا
ہاے کیا بات تھی کیا بھول گیا
بھولی بھولی جو وہ صورت دیکھی
شکوۂ جور و جفا بھول گیا
دل میں بیٹھا ہے یہ خوف اس بت کا
ہاتھ اٹھے کہ دعا بھول گیا
خوش ہوں اس وعدہ فراموشی سے
اس نے ہنس کر تو کہا بھول گیا
حال دل سنتے ہی کس لطف سے ہاے
کچھ کہا کچھ جو رہا بھول گیا
واں کس امید پہ پھر جاے کوئی
اے دل اس بات کو کیا بھول گیا
ہوش میں آ کے سنا کچھ قاصد
یاد کیا ہے تجھے کیا بھول گیا
عہد کیا تھا مجھے کچھ یاد نہیں
یہی گر بھول گیا بھول گیا
میں ادھر بھول گیا رنج فراق
وہ ادھر عذر جفا بھول گیا
یاد میں ایک صنم کی ناصح
میں تو سب کچھ بخدا بھول گیا
خیر مجھ پر تو جو گزری گزری
شکر وہ طرز وفا بھول گیا
یاد اس کی ہے مری زیست نظامؔ
موت آئی جو ذرا بھول گیا
خاتون نے اردو زبان اور آداب سیکھنے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کیں۔ استاد نے کئی ماہ کی محنت کے بعد خاتون سے کہا کہ میں نے آپ کو جو تربیت دی ہے، کل اس کا امتحان ہوگا۔ میں نےایک معروف اہل زبان شاعر کو چائے پر بلایا ہے، آپ کل ان کی میزبانی کیجیے گا اور یاد رہے کہ معزز مہمان نہایت خوش گفتار اور شائستہ اطوار کے مالک ہیں، لہٰذا اب میری عزت آپ کے ہاتھ ہے۔ خاتون نے استاد محترم کو یقین دلایا کہ وہ نہایت خوش خلقی اور شائستگی کا مظاہرہ کریں گی۔ اگلے روز مہمان تشریف لائے، استاد محترم نے تعارف کے فرائض انجام دئیے۔ میزبان خاتون نے نہایت تپاک سے استقبال کیا، خیریت دریافت کی۔ مہمان نے استفسار کیا:
محترمہ! آپ کے شوہر نامدار کیا شغل فرماتے ہیں؟
خاتون نے جواب دیا: حضور! ان کی وسیع زمینداری ہے، آج بھی اسی سلسلے میں چند حل طلب امور کی انجام دہی کے لیے گئے
ہیں، ابھی تشریف لاتے ہی ہوں گے۔
مہمان نے مزید استفسار کیا: آپ کے آنگن کے پھول نظر نہیں آرہے۔
خاتون نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے ایک بہت نیک اطوار بٹیا رانی عطا کی ہے۔ میں ابھی اسے آپ کی قدم بوسی کے لیے بلاتی ہوں۔
خاتون نے بیٹی کو آواز دی: گڑیا بیٹا، یہاں آئیے، چچا جان کو آداب کیجیے۔
کچھ دیر گزر گئی، نہ جواب آیا اور نہ گڑیا آئی۔
خاتون نے پھر آواز دی: گڑیا بیٹا! جلدی آئیے، چچا حضور آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
پھر جواب ندارد۔
خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا: گڑیا! فوراً باہر آؤ۔
پھر خاموشی۔
پیمانہ چھلک پڑا: نی گڈو! کتھے مر گئیں ایں؟
باہر آکے مر ۔۔۔ تیرے پیو دا نوکر اڈیکن ڈیا اے
ڈپریشن اور موڈ کے خراب ہونے کی ایک بنیادی وجہ اپنی محرومیوں کے بارے میں زیادہ سوچنا ہوتا ہے جبکہ میسر نعمتوں کو شمار کرنے سے انسان قدرے پرسکون اور متوازن رہتا ہے۔
ہمیشہ شُکر گزار رہیں۔ السلامُ علیکم صبح بخیر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain